بنگلہ دیش ۔ جنگ (قسط 7) ۔۔وہارا امباکر

SHOPPING

مشرقی پاکستان میں 1970 میں اپوزیشن کی طاقتور تحریک ابھری۔ 1971 کی خانہ جنگی میں کئی پیراملٹری گروپ ایک دوسرے سے بھی لڑتے رہے اور دہشتگردی میں بھی ملوث رہے۔ اس میں دیہی علاقوں سے ماوٴاسٹ گروپ بھی تھے۔ ان نئی نجی ملیشیا میں سب سے طاقتور اور سب سے زیادہ اثر رکھنے والی عوامی لیگ کی تنظیم تھی۔ اس کو منظم کرنے والی کمیٹی کی سربراہی کرنل ایم اے جی عثمانی کر رہے تھے جو پاکستان آرمی کی ریٹائرڈ افسر تھے۔ یہ مجیب کی بنائی گئی سیکورٹی فورس تھی۔ جب سیاسی کشمکش گرم ہوئی تو عوامی لیگ کی اس فورس نے باقاعدہ فوج کا روپ دھار لیا۔

کرنل عثمانی نے تین ذرائع سے لوگ بھرتی کئے۔ ایسٹ پاکستان سٹوڈنٹس لیگ (یہ عوامی لیگ کی یوتھ برانچ تھی)۔ سیکورٹی ملیشیا جس کا نام “انصار” تھا اور تیسری فورس “مجاہد” جس میں وہ لوگ تھے جن کو برِصغیر میں غنڈے کہا جاتا ہے۔ عثمانی کے گروپ کو سیوک باہنی کہا جاتا تھا۔ جب یہ وسیع ہوئی تو اس کا نام مکتی فوج ہو گیا اور پھر مکتی باہنی (آزادی کی فورس)۔ اس انڈرگراونڈ فورس کی موجودگی، جو عوامی لیگ کے کنٹرول میں ہو، مغربی پاکستان کے لیڈروں کو یہ قائل کرنے کے لئے کافی تھی کہ مجیب کا ارادہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک ۔ طوفان (قسط6) ۔۔وہاراامباکر

پاکستان کی مشرقی حصے میں مزاحمت کو کچلنے کا بڑا آپریشن 25 مارچ 1971 کو ڈھاکہ سے شروع ہوا۔ اگلے مہینے میں یہ پورے مشرقی پاکستان تک پھیل چکا تھا۔ ایسٹ پاکستان رائفلز، ایسٹ بنگال ریجیمنٹ اور ایسٹ پاکستان پولیس کا پاکستان آرمی کے خلاف باغیوں کے ساتھ لڑنا جنگِ آزادی کے لئے اہم موڑ رہا۔ انہوں نے مغربی پاکستان کے افسروں کو پکڑا بھی تھا اور مارا بھی تھا۔ جنگ کے ابتدائی ہفتوں میں بنگالی یونٹس رفتہ رفتہ مکتی باہنی کے ساتھ جذب ہوتے گئے جس کی وجہ سے مکتی باہنی کو لیڈرشپ اور پروفیشنل فوج کی تنظیمی بنیاد مل گئی۔ کرنل عثمانی مکتی باہنی کے کمانڈر انچیف باقاعدہ طور پر 14 اپریل کو بنا دئے گئے۔ مکتی باہنی کے پاس اپنے عروج کے وقت ایک لاکھ لڑنے والے تھے جن کی وفاداری عوامی لیگ اور مجیب کے ساتھ تھی۔ مکتی باہنی کی ہائی کمان نے ملک کو آٹھ سیکٹرز میں تقسیم کیا۔ ہر ایک کی کمانڈ پاکستان آرمی سے آنے والے ایک میجر کے سپرد تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مارچ کے واقعات کے بعد انڈیا نے بآوازِ بلند پاکستان کی مذمت شروع کی۔ اس جنگ کے نتیجے میں اندازے کے مطابق اسی لاکھ سے ایک کروڑ کے درمیان پناہ گزین انڈیا میں مغربی بنگال میں پہنچے۔ اپریل میں انڈین پارلیمنٹ نے قرارداد منظور کی جس میں اندرا گاندھی کو کہا گیا تھا کہ بنگلہ دیش کی حکومت کو تسلیم کیا جائے اور یہاں پر باغیوں کی مدد کی جائے۔ اندرا گاندھی نے اس وقت اسے الگ ملک تسلیم کرنے سے انکار کر دیا لیکن انڈیا مکتی باہنی کو بیس، تربیت اور ساز و سامان فراہم کر رہا تھا۔ سفارتی محاذ پر پاکستان کو دباوٗ کا سامنا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بنگلہ دیش کی جلاوطن حکومت اور اندرا گاندھی سفارتی محاذ پر متحرک رہے۔ سوویت یونین نے بنگلہ دیش کو اور انڈیا کو سپورٹ کیا۔ (اس کی وجہ سرد جنگ کی صف بندی تھی)۔ اعلان کیا کہ اگر امریکہ یا چین نے پاکستان کا ساتھ دینے کے لئے کوئی عملی قدم اٹھایا تو سوویت یونین جواباً عملی اقدام لے گا۔ اپنی نیوکلئیر آبدوز بھیجی تا کہ کسی بھی بیرونی مدد کو روکا جا سکے۔ سوویت فوج بنگلہ دیش میں 1975 تک رہی۔ سوویت بلاک کے ممالک بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے والے پہلے ممالک میں سے تھے۔

امریکہ نے اس میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ اس جنگ کو پاکستان کا “اندرونی معاملہ” قرار دیا۔ (اس کی وجہ بھی سرد جنگ کی صف بندی تھی)۔ ڈھاکہ میں امریکی قونصل خانے میں سفیر آرچر بلڈ نے امریکی پالیسی سے شدید اختلاف کرتے ہوئے سفارتی عملے کی طرف پیغام بھیج کر اس پالیسی پر کڑی تنقید کی اور اس حمایت کو شرمناک اور امریکہ کا اخلاقی دیوالیہ پن قرار دیا۔ قونصلیٹ کے بیس ممبران کے دستخط سے بھیجا گیا یہ ٹیلی گرام امریکی فارن سروس کی تاریخ کا سب سے سخت الفاظ میں لکھا گیا اختلاف کہا جاتا ہے۔ “بلڈ ٹیلی گرام” بھیجنے پر امریکی صدر نکسن نے آرچر بلڈ کو اس عہدے سے برخواست کر دیا گیا۔

سری لنکا نے اس جنگ میں پاکستان کی حمایت کی۔ انڈیا کی طرف سے فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے پاکستانی طیارے کولمبو کے فضائی اڈے کو استعمال کرتے رہے۔

شاہِ ایران سیاسی اور سفارتی لحاظ سے پاکستان کے ساتھ رہا۔ ایران کی طرف سے پاکستان کو جنگ کے لئے ایندھن مفت سپلائی کیا گیا۔ اس کی ایک وجہ بلوچستان پر پاکستان اور ایران کا اتحاد تھا۔ ایران کو یہ خدشہ بھی تھا کہ اس جنگ کے نتیجے میں پاکستان پارہ پارہ ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں شاہِ ایران نے ایرانی فوج کو بلوچستان میں فوج کشی کے لئے تیار رہنے کا کہا تھا۔

چین نے پاکستان کو سپورٹ کیا۔ انڈیا نے چین سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے اس سرحد پر اپنے آٹھ ڈویژن لگا دئے تھے۔ چین آخری ممالک میں سے تھا جس نے بنگلہ دیش کو آزاد ملک تسلیم کیا۔ یہ 1975 میں کیا گیا تھا۔ لیبیا، سعودی عرب اور اردن نے مغربی پاکستان کے دفاع کے لئے عسکری امداد بھیجی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان آرمی کو شروع میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا لیکن مئی 1971 کے آخر تک پاکستانی فوج نے اتھارٹی قائم کر لی تھی اور باغی فورس کو بڑے حصے سے باہر دھکیل دیا تھا۔ پاکستانی فورسز کو مدد ایک اور نجی فورس سے ملی جو “رضاکار” تھی۔ پاکستان فوج نے بنگالیوں کا قتلِ عام کیا تھا۔ بنگالیوں نے اردو بولنے والے بہار سے آئے مہاجروں کا قتلِ عام کیا تھا۔ “رضاکار” میں زیادہ تر لوگ بہار سے تعلق رکھنے والے اردو بولنے والے تھے جو پاکستان فوج کا ساتھ دے رہے تھے۔ جولائی کے مون سون تک مکتی باہنی کی پیش قدمی روک دی گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان پراپگینڈہ جنگ چلتی رہی۔ یحیٰی خان نے دھمکی دی کہ اگر انڈیا نے پاکستان میں کسی جگہ پر بھی اپنی فوج استعمال کی تو اسے جنگ کا اعلان سمجھا جائے گا اور اس کا جواب پوری قوت سے دیا جائے گا۔ یحیٰی کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ اس صورت میں امریکہ اور چین اس جنگ میں پاکستان کا ساتھ دیں گے۔ پاکستان کو عوامی مخالفت کم کرنے میں کوئی کامیابی نہیں ہو رہی تھی۔ اس کے لئے پاکستان نے کئی اصلاحات کیں۔ ٹکا خان کو ہٹا دیا گیا۔ ان کے جنگی طریقوں نے بہت بھاری جانی نقصان کیا تھا۔ ان کی جگہ تحمل مزاج لیفٹیننٹ جرنل اے اے کے نیازی کا تقرر کیا گیا۔ ایک متعدل بنگالی عبدالمالک کو سویلین گورنر بنا دیا گیا۔ لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ نہ ہی اس سے نتائج پر فرق پڑا اور نہ ہی عالمی رائے پر۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مکتی باہنی ابتدائی مہینوں کی شکستوں کے بعد زیادہ تجربہ لے کر واپس آئی۔ ان کو افرادی قوت اکٹھی کرنے کا مسئلہ نہیں تھا۔ مقامی آبادی ان کے ساتھ لڑنے کو تیار تھی۔ مرنے والوں کو بآسانی ری پلیس کر دیا جاتا تھا۔ انڈیا نے امداد بڑھا دی۔ جنگ کا ٹیمپو اکتوبر میں زیادہ تیز ہو گیا۔ پاکستان نے مزید فوج بھیج دی۔ اب پاکستان آرمی کی تعداد اسی ہزار سے تجاور کر چکی تھی۔ انڈیا اور پاکستان آرمی کی سرحدی جھڑپوں میں تیزی آ گئی۔

نومبر کے آخر میں انڈیا کی سرحدی دخل اندازی کا جواب دینے کے لئے پاکستان فضائیہ نے 3 دسمبر 1971 کو انڈیا کے اندر جا کر فضائی اڈوں پر سٹرائیک کرنے کی ایک سیریز شروع کر دی۔ انڈیا کی وزیرِاعظم اندرا گاندھی نے بڑے پیمانے پر فورسز کو حرکت میں آ جانے کا حکم جاری کر دیا۔ انڈین آرمی نے 4 دسمبر 1971 کو تین جگہ سے حملہ کیا۔ مغربی بنگال، آسام اور تری پورہ سے انڈین فوج داخل ہوئی۔ انڈیا نے فضائی برتری چوبیس گھنٹے میں ہی حاصل کر لی۔ ائیر فیلڈ، تنصیبات، مواصلاتی مراکز اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انڈین نیوی فورس نے مشرقی پاکستان کی بندرگاہ کو بند کر دیا۔ برما سے رابطہ منقطع کر دیا۔ ساتھ ہی انڈیا کی ٹاسک فورس نے پاکستان کے بیڑے کو کراچی میں نشانہ بنایا اور بندرگاہ کی تنصیبات پر بمباری کی۔

زمینی جنگ میں مشرقی پاکستان کو پہلی ترجیح بنایا جبکہ مغربی پاکستان کی سرحد پر دفاعی حکمتِ عملی رکھی۔ نو ڈویژن فوج سے مشرقی پاکستان پر حملہ کیا۔ پانچ کالمز میں انڈیا کی فوج تیزی سے پیشقدمی کرتی گئی۔ درمیان کی شہر اور رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے ڈھاکہ کی طرف بڑھتی گئی۔ اسی کے ساتھ مکتی باہنی کی گوریلا جنگ میں شدت آ گئی۔ تین بریگییڈ روایتی جنگ میں انڈیا کے ساتھ مل گئے۔ اس پیشقدمی کی پاور اور رفتار سے مغلوب ہو کر پاکستان کے چار ڈویژن اور چھوٹے الگ یونٹس نے کئی سخت ایکشن کئے لیکن ان کے کہیں بھی جانے کے راستے مسدود تھے۔ فضائی سپورٹ حاصل نہیں تھی۔ پاکستانی آرمی جو کمزور پڑ چکی تھی اور رسد کی کمی کا شکار تھی، صرف بارہ روز میں شکست کھا گئی۔ مغربی ونگ میں بھی پاکستان انڈیا پر دباوٴ نہیں ڈال سکا۔ 16 دسمبر کو لیفٹیننٹ جنرل اے اے کے نیازی نے 75000 فوجیوں سمیت جنرل اورورا کے آگے ہتھیار ڈال دئے۔

(جاری ہے)

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

SHOPPING

ساتھ لگی تصویر میں مکتی باہنی کے فوجی چاول کے کھیت میں سے جا رہے ہیں۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *