• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • وفا جن کی وراثت ہو (باب دوئم ,پانچویں ،آخری قسط)۔۔سید شازل شاہ گیلانی

وفا جن کی وراثت ہو (باب دوئم ,پانچویں ،آخری قسط)۔۔سید شازل شاہ گیلانی

کانوائے کی تمام گاڑیاں بیک کورڈ ہونگی, صرف ایک ڈرائیور ہوگا جو گاڑی چلا رہا ہو ،اس کے علاوہ گاڑی میں کوئی  آدمی نہ ہو۔ ہر دو گاڑیوں کے درمیاں کم از کم دو میٹر کا فاصلہ ہونا چاہیے۔ اگر حملہ ہوتا ہے تو ڈرائیور گاڑی چھوڑ کر محفوظ جگہ پہ پوزیشن لے گا اور کوشش کی جائے گی کہ وہ جگہ فائررز کے ٹارگٹ میں نہ آئے۔ نور گل صاحب نے کانوائے ڈرائیورز کو ہدایات دیں

احمد تم اپنا گروپ لیکر فورٹ پہنچو ہم یہاں اپنی پوزیشنز سنبھالتے ہیں۔ جیسے ہی میں تمہیں کہوں تم نے ہیلی لے کر نکلنا ہے۔

” رائٹ سر اللہ کے حوالے ”

لوگ اپنی پوزیشنز سنبھال چکے تھے۔ پلان کے تحت پانچ پوزیشنز بنائی  گئیں ۔ ہر پوزیشن پر ایک شارپ شوٹر, ایک اسسٹنٹ , دو جوان بیک اپ اور کور فائر دینے کے لیے موجود تھے ۔

اگلے دن صبح سات بجے کانوائے کی پہلی گاڑی اس راستے پہ نمودار ہوئی ۔ وہ سب دم سادھے کانوائے کو آتا دیکھ رہے تھے۔ گاڑیاں نارمل رفتار سے گزر رہی تھی کہ اچانک فضا ایک زوردار دھماکے سے لرز اٹھی۔ گاڑی نمبر پانچ کو نشانہ بنایا گیا تھا ۔ دھماکے کے بعد اگلی گاڑیاں تیزی سے دوڑتی ہوئیں  اس رینج سے باہر کی طرف جانے لگیں۔

تمام پوزیشنز پہ موجود وائرلیس سیٹ سے زین کی آواز ابھری۔ ” جوانو اپنی اپنی رینج چیک کرو جہاں پہ بھی کوئی  موومنٹ دکھائی  دیتی ہے اسے نشانہ بنایا جائے, کوئی  کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ۔
اسکے ساتھ ہی ماحول مختلف ہتھیاروں کے فائر سے گونج اٹھا۔ تین نمبر پہ موجود رضا نے سامنے پہاڑ کے دامن میں حرکت ہوتی محسوس کی تو اس نے پانچ نمبر پہ موجود ارشد کو پاس کر دیا۔ ” ارشد ٹارگٹ میری رینج سے باہر ہے مگر تم اسکو انگیج کر سکتے ہو ۔ دو آدمی ہیں جانے نہ پائیں ”
اوکے برادر میں سنبھالتا ہوں۔ اس نے ٹیلی سکوپ کو زوم ان کرتے ہوئے ٹارگٹ کو جا لیا جو چھوٹے ہتھیاروں کے ساتھ گاڑیوں پہ فائر کر رہے تھے۔ ہیڈ شاٹ سلیکٹ کیا اور انگلی کو حرکت دے دی, ان میں سے ایک کا سر چیتھڑوں میں تبدیل ہو گیا, دوسرا اپنے ساتھی کو گرتے دیکھ کر بھاگا تو رضا کی رینج میں آگیا جس نے اسے آسانی سے مار گرایا۔

وہ لوگ اپنے ساتھیوں کو گرتا دیکھ چکے تھے ۔ اب انکی توجہ کانوائے کی بجائے فائررز کو تلاش کرنے کی طرف ہوگئی ۔ ایک دوسرے کو چیخ چیخ کر ہدایات کرتے  ہوئے وہ لوگ ادھر ادھر بھاگنے لگے اور یوں رینج میں آتے گئے جہاں شارپ شوٹرز ان کے استقبال کے لیے بیٹھے تھے۔

بیک اپ فائررز اپنی پوزیشنز چھوڑ کر بھاگنے والوں کو گھیرے میں لینے کی کوشش کریں جلد از جلد, کوئی  بچ کے نہیں جانا چاہیے۔ وائرلیس سیٹ پہ زین کی آواز گونجی۔ اپنے آپ کو بچاتے ہوئے ٹارگٹ انگیج کریں اور فٹافٹ یہ کام ختم کیا جائے۔

شارپ شوٹررز نے اپنی مہارت کا ثبوت دینا شروع کر دیا۔ جو سامنے آیا وہ آسانی سے اسے گراتے گئے, ساتھ ہی دوسرے لڑکوں نے اپنا گھیرا تنگ کر لیا۔ دشمن ایک ایسے جال میں پھنس چکا تھا جہاں سے نکلنا بہت محال ہو چکا تھا۔ ٹیم ممبرز فائر کرتے ہوئے بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے ۔

چند لمحوں میں میدان بالکل صاف ہو چکا تھا۔ زین نے تمام ممبرز کو کلوز ہونے کا حکم دیا اور نقصانات کی تفصیل پوچھی۔ سر الحمداللہ سب بخیریت ہیں ہمارا کوئی  جانی نقصان نہیں ہوا , صرف ایک گاڑی کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔

” یا اللہ تیرا شکر ہے کہ ہم نے اپنا کام بخیروخوبی سر انجام دیا, مگر کام ابھی ختم نہیں ہوا اب ہم نے آپریشن کرنا ہے تمام لوگ دوبدو لڑائی  کے لیے ذہنی طور پر تیار رہیں, اس علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کیے بغیر ہم سکون کا سانس نہیں لے سکتے۔ آج کی کاروائی  کے لیے ویلڈن شیرو۔۔۔

ویری گڈ زین میری سوچ سے بڑھ کر کام کیا ہے آپ نے اور آپکی ٹیم نے, بہت مبارک ہو۔ کمانڈنٹ صاحب نے زین کو شاباش دی اور اگلے پلان کا پوچھا۔ سر اب ہمیں آپکی فورس چاہیے ہوگی کیونکہ اب محاذ مختلف جگہ پر کھولا جائے گا, یہ لوگ اپنا نقصان اٹھانے کے بعد سکون سے نہیں بیٹھیں گے اس لیے بہتر ہے کہ ان کے سنبھلنے سے پہلے ہم انہیں جا لیں۔ ” ٹھیک ہے جتنے لوگ آپکو چاہیے مل جائیں گے ” شکریہ سر آج رات سے ہم اپنی کاروائی  کا آغاز کریں گے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہاڑ کے دامن میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں تھیں اور ان کا مرکزی کمانڈر وہیں سے تمام سرگرمیاں کنٹرول کرتا تھا۔ صبح ہونے والے واقعے کے بعد تمام کمانڈرز ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہرا رہے تھے۔
مجھے سمجھ نہیں آرہا ایسے کیسے اچانک ہو گیا سب ؟؟ یہ جال کیسے بنایا گیا تھا, ایک آواز ابھری ۔ ہمارا پلان کیسے لیک آؤٹ ہو گیا ؟ ان لوگوں نے سنبھلنے کا موقعی ہی نہیں دیا کسی کو اسکا مطلب وہ سب جانتے تھے کہ کانوائے پہ حملہ ہوگا۔

ان کو چھوڑو۔ کمانڈر شادن کا کام تھا تمام جگہ کا جائزہ لینا اور کسی بھی خطرے کی صورت میں آگاہ کرنا۔ اسی سے پوچھا جائے ایسا کیونکر ہوا ؟ جانتے ہو ہمارے کتنے آدمی مارے گئے ہیں۔ کسی ایک کو بھی زندہ نہیں چھوڑا گیا۔ سب کو کتے کی طرح بھگا بھگا کر مارا آرمی والوں نے ۔

” میرا کوئی  قصور نہیں ہے میں نے  پورا راستہ دیکھ لیا تھا وہاں کوئی  بھی نہیں تھا ” , شادن بولا ۔ جب دیکھ لیا تھا تو کیا آسمان سے نازل ہوئے تھے وہ۔ ایک کمانڈر بہت غصے سے بولا
ابھی اسکی بات مکمل نہیں ہوئی  تھی کہ باہر سے تیز فائرنگ کی آواز ابھری۔ ایک آدمی دوڑتا ہوا اندر آیا اور بولا, حملہ ہو گیا ہے وہ بہت زیادہ تعداد میں ہیں۔
مرکزی کمانڈر نے اپنا ہتھیار اٹھایا اور چیخ کر بولا, یہاں سے نکلنے کی کوشش کرو ورنہ سب مارے جائیں گے۔ ٹکڑیوں میں پھیل جاؤ اور ان کا راستہ روکو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد میں اپنی ٹیم لیکر مرکزی دروازے کی طرف بڑھتا ہوں تم لوگ پچھلی طرف سے گھیرا ڈالو۔ یہ لوگ بھاگنے کی کوشش کریں گے, بہت مزاحمت ہوگی۔ کسی کو نکلنے مت دینا جو سامنے آتا ہے بلادریغ اڑاتے چلے جاؤ۔ کوئی  ہجوم نہیں بنائے گا, اپنے گروپ کو پھیلا دینا جتنا پھیلا سکتے ہو, اگر ہمارا کوئی  آدمی گرتا ہے تو فوری طور پر اس کی جگہ دوسرا آدمی وہاں موجود ہونا چاہیے
اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہوئے انہوں نے کمین گاہ پر حملہ کر دیا تھا۔ ماحول گولیوں کی تڑتراہٹ سے گونج رہا تھا۔ “دیکھو مرکزی دروازے سے بہت کم لوگ نکلیں گے مگر ہمیں اندر جانے کے لیے آگ کا دریا پار کرنا ہوگا۔ جوش کی بجائے ہوش سے کام لینا ہے , دو دو آدمی ایک ساتھ اندر جانے کی کوشش کریں گے, ایک دوسرے کو کور فائر فراہم کرنا ہے اور خیال رکھنا ہے۔ ہو سکتا ہے اردگرد بھاری ہتھیار بھی موجود ہوں کیونکہ لائٹ مشین گن کا فائر ہو رہا ہے چار آدمی اس طرف جائیں اور اسے خاموش کروائیں, شاباش جلدی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد بہت پُرجوش تھا, آج پہلی بار اسے یہ موقع  ملا تھا کہ وہ وطن کے لیے اہنے جذبات کو سچا ثابت کر سکے اور وہ یہ موقع  کسی صورت نہیں کھونا چاہتا تھا۔ تمام لوگ پوزیشنز لے لیں, اتنا فاصلہ رکھنا ہے کہ ایک دوسرے کو نظر آتے رہو, میں اندر جاؤں گا , میرے ساتھ دو آدمی آئیں جنہیں اپنی زندگی عزیز نہیں ہے۔ ” سر پلیز آپ اندر نہیں جائیں, پہلا گروپ سامنے کی طرف سے ان پہ دباؤ بڑھائے گا, وہ لوگ یہیں کہیں سے نکلیں گے اور ہم ادھر ہی ان کا شکار کریں گے اس لیے بہتر ہے ہم یہاں انتظار کریں ان کا ” , گروپ ممبر نے اسے روکنا چاہا۔
نہیں دو طرفہ دباؤ سے ہم کام جلدی ختم کر سکتے ہیں اور کیا گارنٹی ہے کہ وہ یہاں سے نکلیں گے ؟ اگر انہوں نے کوئی  سرنگ بنائی  ہوئی  ہو اور وہ وہاں سے نکل گئے تو پھر کوئی  فائدہ نہیں ہے اس لیے میرا اندر جانا ضروری ہے وہ ابھی سامنے والوں کو روک رہے ہیں میں دیوار عبور کر کے اندر جاتا ہے, دو آدمی آئیں میرے ساتھ۔ دو کی بجائے پانج جوان اس کے ساتھ چل پڑے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کمیں  گاہ ایک بڑی حویلی میں قائم کی گئی  تھی جس میں کافی زیادہ کمرے تھے۔ اندر داخل ہونے کے لیے بہت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا, زین کی آنکھوں کے سامنے چار جوان اندر داخل ہونے کی کوشش میں شہید ہو چکے تھے۔ دروازے پہ اپنا دباؤ بنا کے رکھو , کچھ لڑکے میرے ساتھ آئیں , پیچھے احمد موجود ہے ہم سائیڈ سے داخلے کی کوشش کریں گے
احمد کو اندر داخل ہونے کے لیے زیادہ تردد نہیں کرنا پڑا وہ آسانی سے حویلی کے اندر کود گیا, دشمن کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کوئی  پیچھے سے بھی آ سکتا ہے انکی پوری توجہ مرکزی دروازے پہ تھی۔ احمد کے ساتھی بھی ایک ایک کر کے اندر پہنچ گئے اور ایک دوسرے کو کور کرتے ہوئے انہوں نے فائر کھول دیا

اندر بھگڈر مچی ہوئی  تھی کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ کرنا کیا ہے وہ بس اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے پیچھے کی طرف نکلنے کا پلان کیے ہوئے تھے۔ اسے جیسے ہی کچھ لوگ اپنی طرف آتے دکھائی  دئیے اس نے ساتھیوں کو اشارہ کرتے ہوئے انہیں گولیوں کی باڑھ پہ رکھ لیا۔ ایک شخص شور مچاتا ایک کمرے کی طرف بھاگا ” وہ لوگ اندر داخل ہو چکے ہیں” , زیادہ دور نہیں گیا تھا کہ مار گرایا گیا۔ زندگی اور موت کا کھیل اپنے عروج پہ تھا , اسے ایک کمرے سے فائر ہونے کی آواز سنائی  دی, تیزی سے ادھر لپکا۔۔

دوسری طرف سے زین اور اس کے ساتھی بھی اندر داخل ہو چکے تھے اور اپنے سامنے آنے والوں کو شکار کر رہے تھے , کافی دہشت گرد مارے جا چکے تھے یا شدید زخمی تھے ,انکی طرف سے فائرنگ کا سلسلہ اب کمزور پڑ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جیسے ہی اس کمرے کی طرف بڑھا کمرے میں موجود دہشت گردوں میں سے ایک کی نظر اس پہ پڑ گئی , اس کی رائفل گرجی اور احمد نے اپنے جسم میں آگ اترتی محسوس کی, ساتھیوں نے اسے جھٹکا کھاتے دیکھا تو بھاگ کر اسے کور کرنے آئے ۔ سر آپ زخمی ہیں آپ باہر چلیں پلیز, سب کچھ کنٹرول میں ہو رہا ہے, جو چند لوگ رہ گئے ہیں ان سے نمٹ لیں گے ہم اور سر زین بھی اندر پہنچ چکے ہیں ۔ آپ کو اب باہر نکلنا ہے ۔

نہیں جب تک جسم میں جان ہے میں اب پیچھے نہیں ہٹوں گا یہ کہتے ہوئے وہ ایک بار پھر آگے بڑھا ۔ اس کمرے میں چار لوگ موجود تھے اور بے تحاشا فائرنگ کر رہے تھے, اس نے ہتھیار سیدھا کیا اور ایک کو مار گرایا, دوسرے نے فائر کیا جو سیدھا اسکی گردن میں لگا, خون کی ایک تیز دھار نکلی جو اسے بھگوتی چلی گئی , جھٹکا کھا کر وہ زمین پہ گرا ۔
اس کے ساتھیوں نے باقی دہشت گردوں کو مار گرایا اور آواز لگائی  سر احمد کو گولی لگ گئی  ہے ۔ اتنا سننا تھا کہ گروپ نے حویلی پہ ایک ساتھ ہلہ بول دیا, چند لمحوں میں ہر جگہ دشمنوں کی لاشیں بچھی پڑی تھیں۔ زین بھاگ کر احمد کے پاس پہنچا مگر وہ تو کب کا راہیِ مُلکِ عدم ہو چکا تھا , ایک ملکوتی مسکراہٹ اس کے لبوں پہ پھیلی ہوئی  تھی جو اس بات کا اعلان کر رہی تھی کہ دیکھو میں کسی سے پیچھے رہنا کبھی بھی پسند نہیں کیا تو اللہ کی راہ میں جانے والوں سے پیچھے کیسے رہ سکتا ہوں بھلا ۔
’اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ‘ کہتے ہوئے زین نے اسکی آنکھوں کو بند کیا, تمام لوگ آنکھوں میں آنسو لیے اپنے عظیم ساتھی کو شہادت کا جام پینے پر مبارک باد دینے لگے!

سید شازل شاہ گیلانی
سید شازل شاہ گیلانی
پاسبان وطن سے تعلق , وطن سے محبت کا جذبہ اور شہادت کی تڑپ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *