عبادت اور نیکی۔۔سلمان امین

ہمارے گاؤں کے ایک بزرگ ہیں اُن کا گھر جس گلی میں ہے وہی گلی مسجد کی طرف جاتی ہے۔ عشاء کے وقت اندهیرا ہوتا ہے جس کی وجہ سے نمازی حضرات کو گزرنے میں مشکل درپیش ہوتی ہے ۔ تو ہمارے محلے کے ایک شخص نے اُن برزگ صاحب سے کہا کہ گلی سے گزرنے میں لوگوں کو مشکل  ہوتی ہے تو آپ ایک بلب لگادیں تاکہ گزرنے میں آسانی ہوجائے۔ ساتھ اُن صاحب نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ آپ بھی کبھی نیکی کا کام کرلیا کریں۔ مگر اُن بزرگ صاحب نے اس بات کو سنجیدہ لے لیا اور  غصیلے   انداز میں کہا کہ میں نے کبھی نیکی نہیں کی تو پھر کی کس نے ہے۔ میں جو عمرہ کرکے آیا ہوں وہ نیکی نہیں اور جو میں پانچوں نمازیں وقت پہ پڑھ رہا ہوں وہ نیکی نہیں ۔ تو اُس شخص نے کہا کہ’ ہاں یہ نیکی نہیں عبادت ہے یہ تم پہ بھی اور ہم پہ  بھی فرض ہے یہ سب کرکے تم کسی کے لیے نہیں اپنے لیے آسانی پیدا کررہے ہو۔

میں نے اُن صاحب کا یہ جملہ سُنا تو مجھے حیرانی بھی ہوئی،عبادت اور نیکی کا فرق بھی واضح ہوا، کہ عبادت تو ہم پہ فرض ہے یہ تو ہماری ڈیوٹی ہے اس کے بغیر نجات ممکن نہیں اور ہمارے عبد یعنی بندہ ہونے کی نشانی ہے جبکہ رہی بات نیکی کی ،تو نیکی کرنا ہمارا انسان ہونا اور انسانیت کے منصب پہ فائض ہونے کی نشاندہی ہے ۔ اس جملے سے نیکی کی جو تعبیر مجھ پر  واضح ہوئی ،وہ یہ ہے کہ انسانوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنا، اُن کی مدد کرنا،کسی کو دکھ نہ دینا۔ لوگوں کے حق میں آواز اُٹھانا۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے ہمارے دین نے بھی حقوق العباد پہ کتنا زور دیا ہے۔

یہاں پہ تصورِ نیکی یا  عبادت کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے تاکہ مطلب ذرا  تفصیل سے واضح  ہوسکے۔ اگر میں اپنے معاشرے کا بغور جائزہ لوں تو دو مختلف قسم کے لوگ نظر آتے ہیں جن کے ہاں تصورِ نیکی کے فہم میں تضاد ہے۔

پہلے نمبر پہ مذہبی(علماء، دینی مدارس میں پڑھنے والے یا جو نماز روزے کے پابند ہیں) لوگ ہیں جن کے ہاں نماز روزہ ہی نیکی و عبادت ہے ،کئی دفعہ ایسا دیکھنے کو ملا ہے کہ مذہبی  لوگ سائلین کو دھتکار رہے ہوتے ہیں، اُن کی مدد کرنے کی بجائے اُن کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ اپناتے ہیں اور وہ لوگ جو ہیں تو مسلمان پر مذہبی روایات سے کچھ دور ہیں اُن کو بجائے دعوتِ فکر دینے کے اُن سے کنارہ کشی اختیار کرلیتے ہیں اور شدت پسندی سے بھی کام لیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کسی بھی انسان کے متعلق یہ فیصلہ بھی سُنا دیتے ہیں کہ یہ تو پکا دوزخی ہے۔ جبکہ یہ فیصلے کا حق اللہ تعالی نے اپنے پاس ہی رکھا ہے۔

دوسرے وہ لوگ ہیں جن کو لبرل(آزاد خیال، آزادی پسند) بھی کہا جاسکتا ہے اُن کے ہاں تصورِ نیکی یہ ہے کہ لوگوں کی مدد کی جائے ۔ لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے معاملہ کیا جائے۔ ایسے لوگ فلاحِ انسانیت کے مراکز بھی چلاتے ہوئے ملتے ہیں۔ جہاں تک تعلق ہے نماز روزے یعنی عبادات کا تو اُس کا کیا ہے وہ تو میرا اور میرے اللہ کا معاملہ ہے، میں جانوں اور وہ جانے۔

کچھ لوگوں کو تو میں نے یہ  تک کہتے سُنا ہے کہ ان نمازیوں سے تو ہم بے نمازی ہی اچھے ہیں وہ کونسا بہت شریف ہیں بہت بھلے ہیں۔ ساتھ میں یہ حوالے دیتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اُس نے اپنے بھائی کے ساتھ یہ زیادتی کی ہے فلاں نے اپنے ہمسائے کے ساتھ ایسے کیا ہے بھلا ایسی نمازوں کا کیا فائدہ۔ ارے بھائی وہ نماز ادا کررہے ہیں اور انسانیت کے ساتھ اُن کا رویہ درست نہیں ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ نماز ہی ادا نہ کریں۔؟

کچھ اس طرح کی صورتِ حال ہی دیکھنے کو ملتی ہے کہ جب  مذہبی حضرات  دیگر لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں اور لبرل لوگ خدا کے ساتھ معاملے میں کمزور ہیں جبکہ قرآن کو پڑھیں تو وہ نماز اور زکوٰۃ کی ایک ساتھ بات کرتا ہے( نماز یعنی حقوق اللہ اور زکوٰۃ یعنی حقوق العباد)

سورۃ البقرۃ آیت نمبر 3 ترجمہ: جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور ادب کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے اُن کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

سلمان امین
سلمان امین
اقبال و فیض کا ہمسایہ ہونے کے ناطے ہلکا پھلکا ادب سے لگاؤ رکھتا ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *