مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک ۔ ملٹری (قسط5) ۔۔وہارا امباکر

SHOPPING

تقسیمِ ہندوستان میں برٹش انڈین آرمی کا بھی بٹوارہ ہوا۔ جنگِ آزادی میں کردار کی وجہ سے بنگالی فوج کا قابلِ ذکر حصہ نہیں تھے۔ برٹش جنرل کی مارشل ریس کی نسل پرست پالیسی کی وجہ سے پاکستان آرمڈ فورسز میں بنگالی مسلمان چھوٹی اقلیت تھے اور رہے۔ یہ مارچ 1971 تک پاکستان آرمی میں اکٹھے رہے۔ انڈیا کے ساتھ جنگوں میں بھی حصہ لیا۔ لیکن ان کا تعداد میں کم ہونے کا مطلب یہ تھا کہ عسکری پالیسی پر ان کا کوئی اثر اور رائے نہیں تھی۔ ہر عسکری برانچ کا ہیڈکوارٹر مغربی پاکستان میں تھا۔ نازک سیکورٹی صورتحال کی وجہ سے دفاعی اخراجات پاکستان کا بجٹ کا سب سے بڑا خرچ رہا۔ ملک سے اکٹھے ہونے والے ٹیکس کا پیسہ سب سے زیادہ دفاع میں جاتا تھا۔ بیرونی ملٹری امداد 1950 اور 1960 کی دہائی میں دفاع میں جاتی تھی۔ فورسز کو کہاں تعینات کرنا ہے؟ ایلوکیشن کی پریکٹس کیا ہونی ہے؟ یہ سب مغربی حصے میں طے ہوتا تھا۔ دفاعی اخراجات کے اکانومک فوائد، جیسا کہ دفاعی ٹھیکے، خریداری، فوج کو سپورٹ کرنے کی ملازمتیں، سب مغربی پاکستان کے پاس تھیں۔ فوج لوگوں کے لئے ملازمت حاصل کرنے کا بڑا ادارہ تھا۔ ان کی تنخواہوں اور الاونس سے فائدہ اٹھانے والے زیادہ تر افراد مغربی پاکستان سے تعلق رکھتے تھے۔

پاکستانی ریکروٹرز کا کہنا تھا کہ مشرقی پاکستان کے لوگ فوج میں آنے کو تیار نہیں ہوتے۔ اور عسکری روایت پٹھانوں اور پنجابیوں میں ہے۔ یہ خیال “مارشل نسل” کے تصور کی یادگار تھا۔ حقییقت یہ تھی کہ فوجی تربیتی ادارے بھی مغربی پاکستان میں تھے۔ مشرقی پاکستان والوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے بھی تحریکِ پاکستان میں اتنا ہی حصہ ڈالا ہے۔ فوج میں ہونا نہ صرف ان کا حق ہے بلکہ ذمہ داری بھی۔ مارشل نسل کا تصور نہ صرف مضحکہ خیز ہے بلکہ تضحیک آمیز بھی۔ اور سیکورٹی کے نکتہ نظر سے مشرقی پاکستان میں اتنی کم فوج رکھی جاتی ہے کہ اپنے حریف انڈیا کے سامنے دفاع کرنے کا طریقہ نہیں اور اس صورتحال کو بدلنے کا سوچا بھی نہیں جا رہا۔

یہ تمام دلائل دئے جاتے رہے اور شدومد سے دئے جاتے رہے لیکن صورتحال ویسے ہی رہی۔ پاکستانی صدر ایوب خان کا کہنا تھا کہ مشرقی پاکستان کا دفاع اس وقت ممکن ہے جبکہ مغربی پاکستان میں مضبوط فورس اور بیس ہو کیونکہ عسکری تجربہ اُس طرف ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فوج کی اس طریقے سے تعیناتی کی وجہ ایک اور بڑا مسئلہ تھا۔ جہاں پر پاکستان نے افرادی قوت کا شدید عدم توازن آزادی کی وراثت میں لیا تھا، وہاں ایک اور سرحدی تنازعہ بھی۔ یہ کشمیر کا مسئلہ تھا۔ چونکہ یہ مغربی پاکستان سے منسلک تھا، اس لئے اس تنازعے کے بارے میں مشرقی پاکستان میں ویسے جذبات نہیں تھے، جو مغربی حصے کے۔ اگرچہ مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والوں نے اس تنازعے پر انڈیا سے ہونے والی جھڑپوں میں حصہ بھی لیا لیکن مشرقی حصے میں اس کو مغربی پاکستان کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا۔ تاثر یہ تھا کہ مغربی حصے کے مسائل کے لئے ان سے ٹیکس بھی اکٹھا کیا جا رہا ہے اور ان سے قربانیاں بھی لی جا رہی ہیں۔ دوسری طرف فوج میں اعلیٰ سطح پر مشرقی پاکستان سے نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے اس بڑھتی خلیج کا احساس بھی نہیں تھا۔ اس مسئلے کی وجہ سے فوج کی تعیناتی بھی زیادہ مغربی حصے میں رہی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فوج میں شرکت بہت زیادہ عدم توازن کا شکار رہی۔ 1956 میں میجر سے اوپر رینک کے 894 افسروں میں سے صرف 14 کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا۔ بحریہ کے افسروں میں 593 میں سے 7 جبکہ فضایہ میں 640 میں سے 40۔

یہ توازن 1965 تک کچھ بہتر ہوا تھا لیکن بنگالی افسروں کی تعداد آرمی میں صرف پانچ فیصد تھی۔ فضایہ اور بحریہ میں اس سے کچھ ہی بہتر لیکن بنگالی عسکری اداروں میں چھوٹی اقلیت تھے۔ پوری فوج میں صرف ایک میجر جنرل ایسے تھے جو بنگال سے ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فروری 1966 میں عوامی لیگ کے سربراہ مجیب نے چھ نکاتی پروگرام کا اعلان کیا جس میں سے چھٹا نکتہ یہ تھا کہ دونوں حصے اپنی اپنی پیراملٹری فورس بنائیں جو قومی سلامتی میں شرکت کر سکے۔ یہ نکتہ بڑھ کر مشرقی پاکستان کی اپنے دفاع میں خودانحصاری میں تبدیل ہو گیا تھا۔ اپنی ملٹری اکیڈمی، آرڈیننس فیکٹری۔ اور ساتھ نیول ہیڈکوارٹر کی مشرقی ونگ میں منتقلی۔

مجیب کا چھ نکاتی پیکج مرکزی حکومت کے لئے قابلِ قبول نہیں تھا لیکن جولائی 1969 میں جنرل آغا محمد یحیٰی خان نے پالیسی کی بڑی تبدیلی کا اعلان کیا۔ فوج میں بنگالیوں کی بھرتی دگنی کر دی جائے گی۔ مشرقی پاکستان میں بھرتی کے مراکز قائم کئے جائیں گے۔ ترقی میں ان کو ترجیح ملے گی۔ قد کی شرط کو کم کیا جائے گا۔ لیکن جب مارچ 1971 کی خانہ جنگی شروع ہوئی تو صورتحال یہی تھی کہ پاکستانی آرمی میں بنگالیوں کی تعداد بہت کم تھی۔ سرحدی فورس ایسٹ پاکستان رائفلز اور آرمی کی ایسٹ بنگال ریجیمنٹ مشرقی پاکستان کی فورسز تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس بڑے عدم توازن کی وجہ سے پاکستان آرمی بنگالیوں کے خیالات سے اس حد تک بے خبر تھی کہ جب اس نے 25 مارچ 1971 کو ڈھاکہ پر حملہ کیا تو ان کے لئے یہ ایک بڑی سرپرائز تھی کہ ایسٹ پاکستان رائفلز اور ایسٹ بنگال ریجیمنٹ پاکستان آرمی کا مقابلہ کرنے دوسری طرف کھڑی تھی۔ اور اس جنگ میں پاکستان کے خلاف نیم منظم فوج کے سربراہ نے کوئٹہ میں اپنا تربیتی کورس جنرل یحییٰ خان، جنرل ٹکا خان اور جنرل اے کے نیازی کے ساتھ ہی کیا تھا۔

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

SHOPPING

ساتھ لگی تصویر میں بنگلہ دیش کی ایسٹ بنگال ریجیمنٹ وکٹری ڈے کی تقریبات میں پریڈ کرتے ہوئے۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *