ہوس بنام محبت۔۔عارف خٹک

محبت کی جب بات آتی ہے۔تو ذہن میں مجنوں کی شبیہہ  اُبھرنے لگتی ہے۔کہ بے غرض اور پاک محبت مجنوں اور لیلی کی ہی تھی۔ ایسی محبت ہر کسی کو کہاں نصیب ہوتی ہے۔ جس میں دونوں ایک دوسرے کی محبت میں اتنے پاگل ہوجاتے ہیں،کہ مجنوں نماز پڑھنے کے دوران نمازیوں کے سامنے سے گُزر جاتا ہے۔ اور تو اور لیلی کے کُتے کو دیکھ کر اُس کی آنکھیں چُومنے لگتا ہے۔کہ ان آنکھوں سے اس کتے نے لیلی کو دیکھا ہوگا۔ واقعی عشق کا مفہوم ابھی تک نامکمل ہے،کہ اصل عشق کے معنی کیا ہیں؟

عشق دراصل خالق کی ثناء ہے۔ اگر خالق کی تخلیق اتنی جاندار ہے۔تو پتہ نہیں خالق کیسے کیسےکمالات کا مالک ہوگا۔
ہمارے ہندوستان کی مٹی جو محبت اور عشق کے لازوال داستانوں کی امین ہے۔ شیریں فرہاد، سسی پُنوں، سوہنی مہینوال، مرزا صاحباں، یوسف خان شیربانو اور نُوری جام تماچی کو گہرائی میں جا کر دیکھیں۔ سارے کردار وحدانیت کے گرد گھومتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہندوستان کی سرزمین محبت میں وحدت کی قائل ہے۔اس میں کسی دوسرے کو شریک کیے جانے کا تصور بھی محال ہے۔ یہاں کا فلسفۂ محبت بھی وحدانیت کا ہی شکار ہے۔ یہی فلسفہ ہماری روزمرہ کی زندگی میں بڑا عمل  دخل رکھتا ہے۔
یوسف خان اور شیر بانو کی داستان دیکھ لیں۔جہاں المیے، بے بسی اور ظالم سماج کی دیواروں نے دونوں کو ایک نہیں ہونے دیا۔ بالآخر زندگی کی آخری سسکی لیکر ہمیشہ کے لئے دونوں ایک دوسرے کے ہوگئے۔ سسی پُنوں کو ظالم سماج نے ایک نہیں ہونے دیا۔بالآخر قدرت کو ان پر رحم آگیا،اور منوں ریت تلے زندہ درگور ہوگئے۔ سوہنی کچے گھڑے پر سوار محبوب سے وصل مانگ رہی تھی اور دریا بُرد ہوگئی۔ صدیاں گُزر گئیں،مگر آج بھی ان کی دُکھ بھری داستانیں سُن کر ہم اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں رکھ پاتے۔سوچتی ہوں ان کی اپنی حالت کیا ہوئی ہوگی۔۔ ”


یہ کہتے ہوئے میری شیربانو سسک پڑی۔ اور سرخ آنکھوں سے مجھے دیکھنے لگی۔ میری اپنی آنکھوں میں بھی سرخ ڈورے تیر رہے تھے،جو تیراہ کی چرس کے مرہونِ منت تھے۔ میں نے اپنا سر ہلایا۔اپنی زرخیز شیربانو کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا “جانِ من کیا تم مجھ سے اتنا پیار کرتی ہو؟جو لیلی نے مجنوں سے کیا تھا؟”
مسکراتے ہوئے بولی۔
“اپنی شکل دیکھی ہے آئینے میں؟”

“تم سے تو ہزار گُنا اچھی ہے۔”
کہنا چاہا مگر کہہ نہیں سکا کیونکہ آج ویک اینڈ تھا۔اور بڑی مشکل سے جگہ ارینج کی تھی۔ میں نے دوبارہ موضوع پر آتے ہوئے بات بڑھائی “شیربانو ایک بات پر تم نے غور کیا ہے؟”
سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئی پوچھنےلگی۔
“کیا؟”
میں بولا۔۔
“تمھارے جتنے بھی عاشق ہیں آئی مین ہماری لوک لو سٹوریز ہیں۔ ان کے ہیرو بھرپور اور مکمل مرد ہیں۔اور محبوبائیں بھرپور عورتیں۔ اگر ان کہانیوں کی کسی ایک بھی محبوبہ کو شک ہوتا کہ مجنوں، فرہاد، یوسف خان، مہینوال اور مرزا کے پاس مردانہ “اوصاف” کا وجود ہی نہیں۔تو کیا وہ اُن سے عشق چلانا پسند کرتیں؟۔” وہ جُزبُز ہوتے ہوئے بولی
“خان صاحب ہر وقت تیرے ذہن پر یہی ہوس ہی کیوں سوار ہوتی ہے؟”
میں نے سگریٹ کی راکھ جھاڑی۔مگر چرس کے کچھ جلتے ہوئے انگارے میرے دامن کو تار تار کرگئے۔ میں نے آگے جُھک کر قدرے فلسفیانہ انداز میں پوچھا۔ “اگر آپ کے ان ناکام عاشقوں کو معلوم ہوجاتا کہ یہ ساری محبوبائیں زنانہ خواص کی حامل نہیں ہیں۔۔تو کیا وہ ان کے لئے دُودھ کی نہر بہا پاتے؟”
شیربانو نے ہاتھ میں پکڑی بابا بُھلے شاہ کی کتاب ایک طرف  پٹخ دی۔اور تیز لہجے میں مجھ پر چڑھ دوڑی۔ “تم کہنا کیا چاہ رہے ہو؟”
میں نے ایک گہرا کش لگا کر اس کی طرف مخمور نگاہوں سے دیکھا
“جان من تیرے سارے عاشق خصی تھے۔ اُن کو ادراک ہی نہیں تھا، کہ ان کی محبوباؤں کو کیا چاہیے۔ آپ کے ہندوستان کی ساری داستانوں میں مُجھے صرف ایک ہیرو مرد کا بچہ نظر آتا ہے۔اور وہ ہے مرزا۔مرزا نے صاحباں کےساتھ پہلی فرصت میں ہمبستری کی۔ اس کا حق پہلی فرصت میں ادا کیا۔ورنہ باقی تو اپنا سٹریس ہرن کو تیروں سے چھلنی کرتے ہوئے، رُباب بجاتے ہوئے، دودھ کی نہریں نکالتے ہوئے، کُتوں کو چُومتے ہوئے اور بھٹیارا بن کر تندور پر روٹیاں بنا کر ڈالتے نکالتے ہوئے مردانگی کو ایک گالی بنا کر چلے گئے۔” شیربانو کی آنکھوں میں ایک شریر سی مسکراہٹ چمک رہی تھی۔
بولی،”آپ تو اتنے ظالم ہو کہ منٹو کو بھی نہیں بخشا۔”
میں نے نیم وا آنکھوں سے اس کو گُھورتےہوئے جواب دیا۔ “منٹو کا ٹھنڈا گوشت پانچ فی صد تعلیم یافتہ لوگوں نے نہیں پڑھا ہوگا۔ جنہوں نے پڑھا ہوگا وہ تعلیم یافتہ نہیں ہوں گے۔ میری طرح تعلیم شدہ ہوں گے۔ باقی پچانوے فی صد انڈر میٹرک اور بہشتی زیور جیسی مذہبی کتاب پڑھنے والوں نے رات کو کمبل میں یہی افسانہ چُھپ چُھپ کر پڑھا ہے۔ جس سے ان کے اپنے ٹھنڈے گوشت گرم ہوئے ہیں۔اور یہ جو منٹویات پر بات کرتے ہیں۔وہ صرف اپنی تعلیمی قابلیت جھاڑتے ہیں۔ورنہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پر میں نے کسی دانشور کو بات کرتے نہیں دیکھا ہے۔ کیونکہ وہاں ان کی ذہنی پرواز ختم ہوجاتی ہے۔”
یہ کہہ کر میں نے شیربانو کو بانہوں میں سمیٹ کر اس کے ہونٹوں کے قریب اپنے ہونٹ لے جاتے ہوئے کہا۔۔
“گولی مارو منٹو کو۔ شیربانو آپ کو کیسا ہیرو چاہیے؟۔۔ مخمور آوازمیں ناگن کی طرح پُھنکارتے ہوئے بولی۔
“آپ جیسا مرد چاہیے۔۔”

اور میں نے سگریٹ پھینکتے ہوئے شیربانو کو گود میں اُٹھا کر سامنے والی چارپائی پر لا پٹخا۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *