بابا عنائیت۔۔مہرساجد شاد

وہ دلچسپ آدمی تھا اس کے پاس بتانے کو بہت کچھ تھا، خاص طور پر اس کے سنانے کا انداز ہر واقعہ کو دلچسپ بنا دیتا تھا۔ میں اسے کافی دنوں بعد مل رہا تھا اس کے پاس بیٹھتے ہی میں نے پوچھا ،پاء عظمت کیا سوچ رہے ہو۔
وہ بولا : باؤجی آج میں اداس ہوں مجھے بابا عنائیت یاد آ رہا ہے۔
میں نے حیرت سے پوچھا ! بابا عنائیت ؟
اُس سے یہ نام میں نے پہلے نہیں سنا تھا۔
وہ بولا : بابا عنائیت ہمارے محلے میں فیصل کریانے والے کا ابا تھا۔
میں نے اپنے تجسس کو برقرار رکھتے ہوئے پوچھا بابا عنائیت کیوں یاد آ رہا ہے آج تمہیں؟
پاء عظمت نے میری طرف سنجیدہ چہرے پر اداس آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہا بس اپنے بچپن کی بے وقوفیاں یاد آ رہی تھیں۔
میں نے پھر دریافت کیا : کیا مطلب !کون سی بے وقوفیاں ؟؟
پاء عظمت بولا : باؤ یار تم سوال بہت پوچھتے ہو ، اگر تم چپ رہو گے تو میں تمہیں ساری کہانی سناؤں گا۔
میں نے یہ شرط مان لی اور اسے یقین دلایا : پاء عظمت میں درمیان میں نہیں بولوں گا تم بابا عنائیت کی کہانی سناؤ۔

اس نے غور سے میری طرف دیکھا جیسا کہ وہ میری دلچسپی کو تول رہا ہو، پھر اس نے بولنا شروع کیا:
ہم نے جب ہوش سنبھالی تو بابا عنائیت کو مسجد سنبھالے ہوئے دیکھا، محلے میں اور بھی بزرگ تھے لیکن بابا عنائیت کچھ زیادہ مستعد تھا اور مسجد کے معاملات کو اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے تھا۔ ہم دوستوں کی بابا عنائیت کیساتھ جنگی نوعیت کی دشمنی تھی۔ ہم لوگ مولوی صاحب سے قرآن پاک پڑھنے مسجد جاتے تھے وہاں مولوی صاحب کے ڈر سے ساری نمازیں بھی پڑھنا ہوتی تھیں، ہر نماز کے وقت اپنی شکل دکھانا ضروری تھا ،نہیں تو سبق پڑھتے وقت اس پر جواب طلبی ہو جاتی اور پانی والے نرم پائپ سے آئندہ کیلئے یاداشت کے سبق جسم پر ثبت ہو جاتے۔ سب کیلئے نماز پڑھ کر مولوی صاحب سے ہاتھ ملانا ضروری تھا تاکہ حاضری لگ جائے ، کئی دفعہ نماز پڑھے بغیر بھی ہم میں سے کئی مولوی صاحب سے ہاتھ ملا کر سزا سے بچنے کا انتظام کرتے۔

بابا عنائیت ہر نماز کی اقامت پر اعلان کرتا کہ بچے پچھلی صف میں کھڑے ہو جائیں۔ جب ہم زیادہ چھوٹے تھے تو کبھی اس پر خیال بھی نہیں کیا۔ لیکن ہم لوگ جب ہائی  سکول میں چھٹی ساتویں میں پہنچ گئے اور ہمارے چھوٹے بھائی لوگ بھی مسجد آنا شروع ہو گئے تو پھر ہمیں اگلی صف سے اس طرح بے دخل ہو کر چھوٹوں کیساتھ کھڑا کیا جانا توہین محسوس ہونے لگا۔ کبھی کوئی بغاوت کا سوچ کر پہلی صف میں کھڑا ہو جاتا تو اقامت اور مولوی صاحب کی تکبیر تحریمہ کے قلیل وقفہ میں بابا عنائیت کی عقابی نگاہیں صف کا طائرانہ جائزہ لیتیں اور پھر اس سے بھی تیزی سے وہ عقاب کی طرح لپک کر اس باغی بچے کو  گھسیٹ کر پچھلی صف میں دھکیل دیتا۔

ہم نے اس دہشت گردانہ کاروائی کا حل یہ نکالا کہ پچھلی صف میں ہم معصوم روحوں کی طرح کھڑے ہو جاتے، جونہی مولوی صاحب کے پیچھے بابا عنائیت اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھتا ہم لوگ پہلی صف کے دونوں اطراف لپکتے اور وہاں کھڑے  ہو جاتے۔ اب ساری نماز ہم فاتحانہ شان سے پڑھتے اور دل ہی دل میں بابا عنائیت کی حالت پر خوش ہوتے کیونکہ ہمارا خیال تھا بابا عنائیت کن اکھیوں سے ہمیں دیکھتا ہے لیکن نماز کے دوران ہمیں کچھ کہہ نہیں سکتا۔

اُدھر مولوی صاحب سلام پھیرتے ،ادھر ہم بیٹھے بیٹھے ہی پچھلی صف میں پسپائی اختیار کر لیتے۔ پھر بابا عنائیت کا غصہ بھرا خطاب منہ نیچے کر کے ہنستے ہوئے سنتے جس میں وہ ہمیں نالائق کنجر بے حیا قرار دیتے ہوئے کہتا کہ تم لوگوں کی وجہ سے نمازیوں کی نماز مکروہ ہو جاتی ہے۔ مولوی صاحب کو بھی سناتا کہ ان لونڈں کو کہتے کیوں نہیں ہو یہ پیچھے کھڑے  ہوا کریں۔

ایک دن بابا عنائیت کا پارہ زیادہ ہی چڑھ گیا تو نذیر بٹ جو ہمارا ہم جماعت تھا اسے بابا عنائیت نے سلام پھیرتے ہی ایک جست لگا کر دبوچ لیا اور ٹھکائی کر دی، نیم برہنہ گالیوں کیساتھ اس کو تنبیہ بھی کی کہ اس کی یہ باغیانہ حرکت آئندہ سنگین نتائج دے گی۔ نذیر بٹ ہمارا شرارتی لیڈر تھا اس نے تہیہ کر لیا کہ اب بابا عنائیت کو مزا چکھا کر رہے گا۔

ہمارے محلے میں ایک چار دیواری والے خالی پلاٹ پر ہماری خفیہ میٹنگ ہوئی اور متعدد تجاویز پر غور کیا گیا لیکن ان میں سے بیشتر کو اس لئے رد کر دیا گیا کیونکہ وہ براہ راست جنگی کاروائی تھی جس کے نتیجے میں مولوی صاحب کی طرف سے جوابی متشدد کاروائی ناقابل برداشت ہو سکتی تھی۔ اسکی جگہ گوریلہ وار جیسی کاروئیوں پر اصولی اتفاق کیا گیا۔

بابا عنائیت پر ہماری طرف سے پہلا حملہ اس وقت کیا گیا جب نماز کیلئے اذان ہو چکی تھی اور   ابھی نمازیوں کی آمد شروع نہ ہوئی تھی۔ بابا عنائیت رفع حاجت کیلئے مسجد کی لیٹرین میں گیا تو اندازہ لگایا گیا اس وقت ازاربند کھول کر بابا عنائیت بیٹھ چکا ہے اور اب فوری وہ اٹھ کر باہر نہیں آ سکے گا۔ تین لڑکوں نے کاروائی میں حصہ لیا، وضو کی ٹوٹیوں کے پاس تین چار گھی والے خالی ڈبے اور کنستر رکھے ہوتے تھے جن میں پانی بھرا ہوتا تھا تاکہ بجلی جانے کی صورت میں یہ  ذخیرہ ایمرجنسی میں کام آ سکے۔ انہوں نے ایک ایک ڈبہ اٹھایا اور لیٹرین میں بابا عنائیت پر سب انڈیل دئیے، ڈبے واپس رکھے اور خاموشی سے کھسک گئے۔

بابا عنائیت لیٹرین سے با معنی مکمل برہنہ گالیاں دیتا برآمد ہوا  ازاربند  باندھتے ہوئے اس نے مسجد میں جھانکا وہاں کوئی نہ تھا، باہر نکلا تو باہر بھی اسے دور دور تک کوئی بچہ نظر نہیں آیا۔ اُس سخت سردی میں بابا عنائیت گالیاں دیتے ہوئے اپنے کپڑے نچوڑ رہا تھا اور گھر کی طرف بھاگا جا رہا تھا۔ بابا عنائیت سر سے پیر تک بھیگا ہوا تھا اور ہم اپنے محفوظ ٹھکانوں سے نظارہ دیکھ رہے تھے۔ اس دن سب نے بڑی شرافت سے پچھلی صف میں نماز پڑھی اور بابا عنائیت کی زہر بھری نظروں سے محظوظ ہوئے۔

مولوی صاحب کو شکایت پہنچ چکی تھی اور ان کا جاسوسی نیٹ ورک مجرمان کی تلاش میں سرگرداں تھا لیکن اس مشن میں پوری احتیاط برتی گئی تھی اس لئے سراغ نہ ملنا تھا، نہ ہی ملا۔

دوسری کاروائی کیلئے ایک دن عشاء کی نماز کا انتخاب ہوا کیونکہ اس میں چار رکعتیں ہوتی ہیں اور کچھ لمبی پڑھی جاتی ہیں، جونہی مولوی صاحب نے اللہ اکبر کہا اور نیت باندھی تو فرید پومی نے بابا عنائت کے عین اوپر والا پنکھا چلا دیا ساتھ والے دو بٹن دبا کر ایک بلب ایک ٹیوب لائٹ بھی جلا دی اور آ کر جماعت میں شامل ہو گیا ، نماز ختم ہوئی تو پومی خود اٹھا اور پنکھا بند کر دیا اور یہ بیان دیا کہ بتی جلائی تھی پنکھا غلطی سے چل گیا۔ پومی کا ٹریک ریکارڈ اچھا تھا اس لئے اس کا یہ عذر مان لیا گیا لیکن بابا عنائیت کے دماغ کو خوب ٹھنڈی ہوا لگوا دی گئی۔

تیسری کاروائی سنگین نوعیت کی تھی اس کے لئے مشتاق عرف شاقی نے اپنی خدمات پیش کیں۔ نماز عشاء کا وقت ہی طے پایا کیونکہ اس نماز میں چھوٹے بچے نہیں ہوتے تھے جو مخبری کر سکتے تھے۔
نماز شروع ہوئی تو پچھلی صف میں کوئی نہ رہا، سب پہلی صف میں دائیں بائیں آ گئے، قیام ہوا، رکوع ہوا ،پھر سجدہ، جونہی سجدے کیلئے مولوی صاحب نے اللہ اکبر کہا تو شاقی صف سے پیچھے کھسک گیا اور بابا عنایت کی ایک ٹانگ جا کھینچی، بابا ابھی زمین پر ہاتھ رکھے سجدے میں جانے کی تیاری ہی کر رہا تھا کہ یہ آفت ٹوٹ پڑی بابا عنائیت توازن کھو کر منہ کے بل صف پر گرا لیکن فوراً  ہی سنبھل گیا شاقی اپنی پوزیشن پر واپس آ چکا تھا۔ نماز ختم ہوئی تو بابا کے اردگرد والے نمازی بابا کے یوں گر پڑنے پر پوچھنے لگے کہ کیا چکر آ گیا تھا یا کمزوری کے باعث توازن نہیں رہا جبکہ بابا کہہ رہا تھا میری ٹانگ پیچھے سے کسی نے کھینچی ہے، اب پچھلی صف میں تھا ہی کوئی نہیں۔ ہم سب بڑی خاموشی سے سائیڈوں پر لاتعلق ہو کر بیٹھے ہوئے تھے۔

دو دن تک مسجد میں اجلاس ہوتے رہے اور نتیجہ یہ نکلا کہ تیسرے دن ہم سب کو لائن میں کھڑا کر کے پانی والے پائپ سے تواضع کی گئی کیونکہ مولوی صاحب کی طرف سے ایک موقع  دئیے جانے پر بھی ہمارے گروپ میں سے مجرم کی نشاندہی نہ ہوئی تھی۔

اس مار کٹائی کے بعد ہم لوگوں نے عملی اقدامات ترک کر کے اجتماعی بددعائیں دینے کا اصولی فیصلہ کیا اور پھر بابا عنائیت کی ٹانگ ٹوٹنے، اسے فالج ہونے اسے گھر پر بیمار پڑا رہنے کی بددعائیں دی گئیں لیکن بابا عنائیت کے وظیفے زیادہ طاقتور نکلے۔

ہر دفعہ مسجد میں فوتیدگی کا اعلان ہوتا تو ہم غور سے سنتے کہ ہو سکتا ہے بابا عنائیت ہی مرا ہو لیکن اس کے لئے ہمیں کئی سال انتظار کرنا پڑا، تب تک ہم اتنے بڑے ہو گئے تھے کہ بابا عنائیت کو اب ہمارے پہلی صف میں کھڑا ہونے پر اعتراض نہ تھا اور ہم سے چھوٹے بھائی لوگوں کا گروپ اس مرحلے سے گزر رہا تھا۔

ایک دن ہم فجر کی نماز پڑھ کر گھر واپس پہنچے ہی تھے کہ مولوی صاحب نے بابا عنائت کے فوت ہونے کا اعلان کیا۔
حسب روایت محلے کے ہم نوجوانان قبر کھودنے کیلئے قبرستان گئے بڑے بوڑھے جگہ کی نشاندہی کر کے واپس آ گئے اور ہم لوگ قبر کھودنے کے دوران بابا عنائیت کی زندگی پر ہی بحث کرتے رہے۔ ہمارے ساتھ جنگ کے علاوہ مجموعی طور پر بابا عنائیت کی زندگی کوئی بڑی قابل اعتراض نہ تھی اسے مجموعی طور پر معتدل بے ضرر زندگی کہا جا سکتا تھا۔
ہم لوگ بڑے تو ہو گئے تھے لیکن اس وقت تک اتنے بڑے نہیں ہوئے تھے کہ اپنی جنگ سے دستبردار ہو جاتے، ہم نے اُس قبر کو بھی اپنی جنگ کا آخری معرکہ سمجھا اور فیصلہ کیا کہ بابا عنائیت کی قبر گہری کھودنی ہے تا کہ وہ قیامت والے دن بھی آسانی سے باہر نہ آ سکے۔

قبر اتنی کھلی بنانا ہے کہ فرشتے سکون سے جتنی دیر چاہیں بیٹھ کر تفصیلی حساب لے سکیں، اندر سے دیواروں کو سیدھا صاف اور خوبصورت پلستر جیسی بنانا ہے تاکہ بابا عنائیت انہیں دیکھ کر شرمسار ہوتا رہے کہ جنہیں میں پہلی صف میں کھڑا نہیں ہونے دیتا تھا انہوں نے میری قبر کتنی محنت سے بنائی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *