• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • استنبول!تجھے بُھلا نہ سکوں گا(سفرنامہ)۔۔۔قسط1/پروفیسر حکیم سید صابر علی

استنبول!تجھے بُھلا نہ سکوں گا(سفرنامہ)۔۔۔قسط1/پروفیسر حکیم سید صابر علی

SHOPPING

تاریخ اور سیاسیات کا طالبعلم ہونے کی وجہ سے جب بھی ترکی کے بارے پڑھاتو اشتیاق پیدا ہوتا کہ مسلمانوں کے اس ملک کو اپنی آنکھوں سے دیکھوں،جس کی محبت میں ہندوستان کے مسلمانوں نے “تحریکِ خلافت”کا آغاز کیا،جیلیں بھر دیں،جائدادیں فروخت کرکے تحریک ہجرت کا آغاز کرکے سب کچھ لُٹا دیا۔۔

وہ ترکی جس کی وسیع و عریض سلطنت عراق،سعودیہ،وسطی یورپ تک پھیلی ہوئی تھی،جس کے تعمیر کردہ قلعے آج بھی یورپ میں اس کی بالادستی کی یاد دلاتے ہیں،حرمین شریفین میں اس کی تعمیرات کے نقش موجود ہیں،جس ترکی نے نبی رحمت ﷺ کے جہاں جہاں قدم مبارک رکھتے،یادگار مساجد تعمیر کردیں،جو اس کی اسلام کے لیے خدمات،اور اللہ کے نبیﷺ سے محبت کی آئینہ دار ہیں،اس ترکی کو دیکھنے کے لیے دل کئی دفعہ بیتاب ہوا۔۔۔۔اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ٹرکش ائیرلائین نے اپنے ملک میں سیاحت کو فروغ دینے اور ہم جیسے مشتاق لوگوں کے لیے ترکی دیکھنے کا موقع اس طرح پیدا کیا کہ اعلان ہوا کہ جو لوگ ٹرکش ائیر لائن کے ذریعے عمرے کے سفر پر روانہ ہوں گے،ان کو پانچ دن استنبول کے گردو نواح کی سیرکرائی جائے گی۔۔اور طعام و قیام ٹرکش ائیرلائن کے ذمہ ہوگا،اور پانچ دن مکہ مکرمہ اور پانچ دن مدینہ المنورہ میں قیام کے ساتھ عمرہ کی سہولت دی جائے گی۔۔

عام حالات میں پاکستان سے پندرہ یوم کے لیے عمرے کے لیے روانہ ہوں تواخراجات تقریباً وہی تھے جو ٹرکش ائیرلائن کی پیش کش میں اداکرنا تھے۔
سید انجم جو کہ ایک انتہائی قابلِ احترام گھرانے کے سماجی کارکن ہیں،جب انہوں نے بتایا کہ وہ خود بھی جارہے ہیں تو دل آمادہ ہوا کہ ایک ایسے آدمی کے ساتھ سفر خوب رہے گا،پاسپورٹ فوراً ان کے حوالے کردیا۔۔

اگرچہ بعد ازاں وہ خود اس لیے نہ جاسکے،کہ انہی ایّام میں ان کی بیٹی کا میڈیکل کالج میں داخلے کا وقت آگیا۔۔اور ان کی پوری توجہ اس اہم کام کے لیے درکار تھی۔۔پاسوپورٹ دینے کے کچھ یوم بعد متعلقہ ٹریول ایجنسی نے اطلاع دی کہ جن لوگوں کو عمرہ کیے دوسال نہیں ہوئے،ان لوگوں کے لیے حکومت سعودیہ نے یہ شرط عائد کی ہے کہ وہ دوسوریال اضافی جرمانہ یا ٹیکس اداکریں،تب عمرے کا ویزہ ملے گا۔

2018میں یہ رقم پاکستانی کرنسی میں ستر ہزار کے قریب بنتی تھی،جبکہ ریال 28روپے کا تھا۔۔دل کی آواز آئی کہ اتنا جانائز ٹیکس ادا نہ کیاجائے،یہ سعودہہ جیسی امیر ریاست کی زیادتی ہے،لیکن عشق نے کہا کہ “آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے”۔۔۔۔اس بلاوے کو در کرنا کفرانِ نعمت ہے۔عشقِ مصطفیٰﷺ غالب آیا،اور اس بلاوے پر لبیک کہتے ہوئے مزید 70ہزار وپے ادا کردیے۔۔
جاری ہے

SHOPPING

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *