ایک سہانی شام۔۔سید عارف مصطفیٰ

کراچی میں آج  کل موسم اس قدر سہانا ہے کہ ایسے ایسے لوگ بھی اچھے لگ رہے ہیں کہ جن کو دیکھتے ہی صرف لاحول پڑھنے کا جی چاہتا تھا ۔۔
ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں میں عجیب سا کیف اور سرور ہے اور ہم جیسے نہ پینے والے بھی بن پیے  ہی لہرا رہے ہیں ۔۔۔ اس قدر حسین موسم بالعموم بہبود آبادی کے منصوبوں کو تہس نہس کرڈالتا ہے اور اس ہی لیے اکثرہوشیار و خبردار بیگمات اس قاتل موسم میں بھی شوہروں کو دھنیا و دہی لانے کے کام میں لگائے رکھتی ہیں ۔۔
35-40 کلو کے منحنی سے باریک سے نوجوان بھی 50 کلو والی جیکٹوں میں پناہ گزین دکھائی دے رہے ہیں ورنہ خدشہ ہے کہ ظالم تیز ہوا انہیں آن کی آن  میں اُڑا کے رقیب  کے آنگن میں  نہ پھینک دے۔۔۔

اس موسم میں زیادہ تر موٹر سائیکل سوار بھی خود بخود قانون کو بصورت ہیلمٹ سر پہ لادے پھر رہے ہیں، قانون کی ایسی تکریم پہلے کبھی نہ دیکھی تھی ۔

یقین جانیے کچھ لوگوں کو تو آج کل اتنی ٹھنڈ لگ رہی ہے کہ ان کے تاثرات بھی جیسے جم سے گئے ہیں ۔۔ کاش کوئی لحاف کمبل کچھ سکڑی سکڑائی اور ٹھٹھرائی ہوئی سوچوں پہ بھی ڈالا جاسکتا ۔۔

کل اسی موسم کو انجوائے کرنے کے لیے بھائی نجم حسن نے ہم چار دوستوں کو “احباب ظرافت”کی بیٹھک کے تحت پویلین اینڈ کلب کی مدھر فضاؤں میں ڈنر پہ مدعو کیا تھا اور بھائی ظل حسنین ، فہیم برنی اور شفیق اللہ اسماعیل کی پربہار گفتگو اورکھلکھلاتےجملوں اور رس دار چٹکلوں نے موسم کو اور بھی دلکش بنادیا تھا ۔۔۔ ہنسی مذاق کے علاوہ اس دوران ہونے والی زیادہ تر گفتگو پاکستان میں ٹورازم کے مقامات کے بارے میں تھی یا پھر کچھ گفتگو درد ِکمر اور مہروں کے کھسک جانے کے حیرت انگیز مگر مفت کے معالج بابا ابوالحسن کے بارے میں ہوئی اور اس موقع پہ ہمارے 3 بار کے شادی شدہ دوست فہیم برنی نے شد و مد سے عرق النساء کا معاملہ بھی اٹھایا جس پہ میں نے انہیں ترنت یہ تشخیص کیا کہ بھائی آپکا کیس عرق النساء کا نہیں ‘غرق النساء’ کا ہے ۔۔۔ جس پہ وہ شاید کافی جزبز ہوئے اور شاید اسی لیے واپسی پہ فہیم برنی نے کار چلاتے ہوئے گلوکار محمد رفیع کے دردیلے گانے سنا کے اور انہیں قبرمیں تڑپاکے کسی حد تک اپنی بے سکونی کا ازالہ کرکے ہی دم لیا ۔

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *