ہاں!میں بیوفا تھا۔۔قسط3/عثمان ہاشمی

وہ بات و زبان کے ساتھ وقت کی بھی پابند نکلی ، تین سے پانچ منٹ میں  واپس آ گئی  ، ایک ہاتھ میں فون تھا اور دوسرے ہاتھ میں ایک کپ ، مجھے اس کے جاتے ہی اندازہ ہو چکا تھا کہ سردی کی شدت اپنا کام دکھا چکی ہے ، یعنی میرا وجود تیز بخار میں تپنے لگا تھا ، گو کہ میں سرد ہواؤں اور جاڑے کی موسمی تلخیوں کا عاشق ہوں مگر عجب یہ ہے کہ اس معاملے میں میرا وجود غیر معمولی حد تک حساس ہے ، اسلام آباد   ہو یا جرمنی ، یہاں میں نے سردی کی لطافت حاصل کرنے کیلئے لباس ہلکا کیا اور وہاں بخار کا حملہ ہو گیا ۔یہ کئی سالوں سے معمول ہے مگر وہ کون سا عاشق ہوا جو درد و تکلیف کے شائبوں سے گھبرا کر “آوارگی عشق” ترک کرے ، مگر اب تو جو ہو رہا تھا وہ غیر ارادی تھا ، منفی چھ گریڈ اور صرف ایک معمولی باریک سی شرٹ میں گھنٹوں ہواؤں کا مقابلہ کرتے وجود ہار مان گیا تھا اور نتیجہ تیز بخار اور “شدت ِسر درد” کی صورت میں سامنے آ چکا تھا ۔۔۔

خیر ! وہ میرے قریب آ چکی تھی ، اس نے آتے ہی پہلے مجھے کافی کا کپ پکڑایا اور کہنے لگی آپ پہلے کافی پی لیجیے اور پھر فون کیجیے جسے بھی کرنا چاہ رہے ہیں ۔۔۔

شاید میں اتنا بے حال ہو چکا تھا کہ اسے یہ بھی نہ پوچھا کہ وہ کافی کیوں لائی یا اس تکلف میں کیوں پڑی ، میں نے فوراً اس کے ہاتھ سے کپ تھاما اور ایک بڑا گھونٹ لیا ، کافی اس قدر گرم تھی کی مجھے اس کی گرمائش معدے تک اترتی محسوس ہوئی ، میں اسے یہ نہیں بتانا چاہ رہا تھا کہ میں کس حالت سے گزر رہا ہوں لیکن بارہ گھنٹے سے بنا نیند کیے لگاتار گاڑی چلاتے اور پھر اس مسئلے میں پھنسنے، اور اوپر سے بخار و جسم درد نے مجھے اس قدر بے حواس کر دیا تھا کہ میں اس کو شکریہ کہنے ، یا اس کی کسی بات کا  جواب دینے  کی بجائے نڈھال ہو کر گاڑی کے اوپر کمر کے بل تقریبا ً گر سا گیا ، اور کافی کا کپ دونوں ہاتھوں میں اس طرح پکڑ لیا کہ جیسے اس کا واسطہ دے کر کوئی دعا مانگ رہا ہوں ، کپ کی گرماہٹ جو اب تک کچھ کم ہی بچی تھی مجھے قدرے بہتر محسوس کروا رہی تھی ، اس نے مجھے اس طرح بے حال ہوتے دیکھا تو فوراً آگے بڑھی اور پریشانی و تفکر سے تقریبا ًچلاتے ہوئے بولی ۔۔۔۔ آپ ٹھیک ہیں ؟ مجھے لگ رہا ے کہ آپ کی طبیعت خراب ہو رہی ہے ۔۔۔ ۔۔۔۔ میں نے خود کو کسی حد تک سنبھالتے اور زبردستی مسکراتے ہوئی کہا ارے نہیں میں بالکل ٹھیک ہوں، بس ہلکا سا بخار آ گیا ہے اور میں بخار سے گھبراتا زیادہ ہوں ۔۔۔۔ اس نے میری بات کو ایسا ان سنا کر دیا کہ جیسے اسے آواز ہی نہیں آئی ۔ وہ بلا کی تیزی سے میرے قریب آئی اور اپنا ہاتھ میری پیشانی پر رکھا اور آن کی آن میں واپس اٹھا لیا ۔۔۔۔ وہ اچھی خاصی بلند آواز میں چلائی ۔۔۔۔ ” تمہیں ” سخت بخار ہے ۔ اس کے چہرے پر چھائے فکر و پریشانی کے احساسات ، یوں بے تکلفی و اپنائیت سے میری پیشانی کو چھونا اور پھر یک دم ” آپ ” سے ” تم ” پر آ جانا ۔۔۔ میں اچھے سے محسوس کر رہا تھا ، میں اس سے بے خبر تھا کہ وہ کیا کہے جا رہی ہے ، اور کیا کیے جا رہی ہے میں گم تھا تو صرف اس کے چہرے پر پھیلی اس پریشانی میں کہ جو کسی بہت ہی اپنے کی تکلیف میں دکھائی دیتی ہے ۔

وہ پھر سے آگے بڑھی اور تقریباً کھینچنے کے انداز میں مجھ سے کافی کا کپ پکڑا ، اور کہنے لگی اوپر چلو ۔۔۔ میں ہسپتال کال کرتی ہوں ، تمہاری گاڑی یہاں ہی ہے پہلے تمہیں دوا کی ضرورت ہے ، لیکن اس سے بھی پہلے تم میرے ساتھ اوپر چلو گے ، کیونکہ اس موسم میں تو کوئی بھی انسان بیمار پڑ سکتا ہے جب کہ تمہاری حالت تو پہلے ہی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔۔۔ میں اسے انکار کر دیتا ، لیکن کچھ ہی لمحے قبل شروع ہونے والی بارش اور میری مزید بگڑتی حالت نے مجھے انکار بھی نہ کرنے دیا ۔۔۔۔

میں نے صرف اوکے کہا ، اور اس کے ساتھ چل پڑا ، اس نے کچھ قدم چلتے ہی مجھ سے پوچھا کہ مجھے چلنے میں ” مدد ” درکار ہے تو میں نے فوراً ہنستے ہوئے کہا ارے نہیں میں بالکل ٹھیک ہوں، صرف ہلکا سا بخار ہے ، وہ تقریباً غصیلے لہجے میں بولی ۔۔۔ ہاں ! میں دیکھ ہی رہی ہوں کہ کس قدر ” ہلکا ” بخار ہے ۔۔۔ اس کا یوں ا پنائیت سے غصہ کرنا جہاں میرے لیے بہت عجیب تھا وہیں بہت اچھا بھی لگ رہا تھا ۔۔

تقریباً پانچ سے چھ منٹ لگے ہوں گے، اس کی رہائشی عمارت کے مرکزی دروازے سے لفٹ کے ذریعے تیسری یا چوتھی منزل پر واقع اس کے فلیٹ تک پہنچنے میں ۔۔۔

وہ فوراً آگے بڑھی اور جلدی جلدی دروازہ کھولنے لگی ، اسی دوران میری نظر دروازے کے دائیں جانب لگی اس کے نام کی تختی پر پڑی جہاں جلی حروف میں ” اندریاس ” لکھا تھا ۔۔۔ یقینا ًیہ اس کا فیملی نام تھا ۔ ۔

دروازہ کھلتے ہی تقریباً گرم ہوا کے جھونکے کی مانند گرمی میرے چہرے سے ٹکرائی ۔۔۔ ایسا لگا کہ شاید میں سالوں بعد کسی برفانی علاقے سے عام دنیا میں واپس لوٹا ہوں ۔۔۔ ایسی ہی کچھ صورتحال تقریبا پندرہ برس  پہلے ایک دفعہ تب ہوئی تھی جب برف کی وجہ سے راستوں کی بندش کے باعث مجھے کچھ دوستوں کے ہمراہ پاکستان کے شمالی   جانب  ایک علاقے ” چھتر پلین ” سے ” بٹل ” تک پیدل چل کر واپس آنا پڑا تھا ، اور موسم کے مطابق جوتے نہ ہونے کی وجہ سے دو فٹ تک پڑی برف جوتوں میں سے داخل ہو کر پاؤں ” شل ” کر چکی تھی ، مگر چلتے رہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ۔۔۔ کئی گھنٹے چل چل کر جب نیم مردہ حالت میں ” بٹل ” سے آگے پہنچے اور بس میں بیٹھتے ہی میں نے پاؤں سے جوتے اتار کر پاؤں بس کی سیٹ پر ٹکائے تو کچھ ایسی ہی کیفیت تھی جو آج ۔۔۔ اس انجان لڑکی کے گرم گھر میں داخل ہوتے ہی محسوس ہوئی تھی ۔

یہ  چھوٹا سا ایک کمرے کا فلیٹ تھا ، ایک ڈرائنگ روم تھا جہاں بائیں جانب دیوار کے ساتھ پڑے ایک میز پر ٹی وی چل رہا تھا ۔۔۔۔ شاید کوئی سپورٹس  چینل تھا ۔ جبکہ دائیں جانب ” اوپن کچن ” تھا ، سامنے ایک ادھ کھلا دروازہ دِکھ رہا تھا جو اس کا بیڈ روم تھا اور اس کے ہی پچھلی جانب وہ ” ٹیرس ” تھا جہاں اس ” مظلوم ” نے کھڑے ہو کر سگریٹ پینے کا جرم کیا تھا اور اب اس سارے ” پھڈے ” میں پڑ چکی تھی ۔ ۔۔

اس نے  تیزی سےاپنے جوتے اتارے اور مجھے کہنے لگی جیکٹ مجھے دو اور سامنے لگے صوفے کی جانب اشارہ کر کے کہنے لگی وہاں بیٹھ جاؤ ۔۔۔۔ میں کسی روبوٹ کی طرح اس کی باتیں مان رہا تھا ، اس کے بات کرنے اور امر کے انداز میں اس درجہ اپنائیت اور بے تکلفی تھی کہ مجھے لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ پہلی ملاقات ہے ، یا وہ کوئی غیر ہے ، یا پھر اس کا یہ سب کرنا زمرہ احسان میں شمار ہو رہا ہے کہ جس سے بچنے کی میں زندگی میں حتی الوسع کوشش کرتا ہوں ۔

میں نے بھی فوراً جوتے اتارے ، جیکٹ اسے تھمائی اور صوفے پر تقریباً گر سا گیا ۔۔۔۔ شاید ہی زندگی میں کبھی خود کو اس قدر نڈھال محسوس کیا ہو جس قدر میں اس دن تھا ، ایک جانب شرم سے “چُور  ” بھی تھا کہ میں مرد ہو کر اس قدر بے ہمتی دکھا رہا ہوں اور وہ ” خاتون ” ہو کر کمال ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نا صرف میری مدد کیے جا رہی ہے بلکہ میری ڈھارس بھی بندھا رہی ہے ۔

میں جوتے اتارتے ہوئے ” موزے ” بھی اتار آیا تھا لیکن پاؤں سے اٹھنے والی ” خوشبو ” بتا رہی تھی کہ چودہ گھنٹوں سے انھیں ہوا نہیں نصیب ہوئی ۔۔۔

میں نے گردن گھما کر دیکھا تو وہ جلدی جلدی کچن میں بکھرے اور ان دھلے برتن کمال تیزی سے ” ڈش واشر ” میں لگا رہی تھی ، اور ساتھ ہی مجھے ” واٹر کوکر ” کی بیپ بھی سنائی دی جس کا مطلب تھا کہ وہ پانی گرم ہونے کیلئے چڑھا چکی ہے ۔۔۔۔ اس کی کمر میری جانب تھی، میں پہلی دفعہ کسی جرمنی لڑکی کے  اتنے لمبے بال دیکھ رہا تھا کہ جو کمر سے بھی نیچے آ رہے تھے ، میں نے اس کو Entschuldigung (ایکسکیوز می ) کہہ کر آہستہ سے مخاطب کیا تو وہ جھٹکے سے پلٹی اور کہنی لگی سوری ،سوری میں بس “آپ” کے لئے ” جنجر ٹی ” بنا رہی ہوں مجھے جب بھی بخار ہوا تو میرے والد نے ہمیشہ ” Hausmittel ” یعنی بطور ” دیسی ٹوٹکا ” یہ ہی دی ہے ۔۔

میں قبل اس کے کہ کچھ کہتا وہ تیزی سے کپ میں پانی ڈالنے لگی اور ساتھ ہی ایک پیکٹ میں سے ” انسٹنٹ ٹی ” اس میں انڈیلی اور میری جانب لے آئی ۔۔

کپ میری دائیں جانب پڑی میز ، جس پر پہلے سے ایک خالی کپ ، ٹی وی ریمورٹ ، کچھ بکھرے ہوئے کاغذات ، اور ایک بڑے سائز کا ہیڈ فون پڑا تھا ۔۔۔ پر رکھ دیا ۔

وہ پھر پہلے کی طرح سوری ، سوری کہتے ہوئی پوچھنے لگی کہ  تم نے مجھے مخاطب کیا تھا کیا کہنا تھا ؟ میں پوچھنے کی  بجائے اپنی بات میں لگ گئی ۔۔۔

میں نے جب اسے ” آپ ” اور ” تم ” کے درمیان ” کنفیوز ” دیکھا تو خود ہی کہہ  دیا کہ ” تم ” مجھے ” تم ” کہہ سکتی ہے ۔۔۔ شاید مجھے اسے ” تم ” بلانے کیلئے اجازت کی ضرورت بھی محسوس نہ ہوئی اور اس میں قصور اسی کا تھا کہ ” پہل ” اس نے کی تھی ۔۔۔

وہ میری بات سن کر کھل کر ہنسی، میں نے اسے پہلی مرتبہ اس قدر قریب سے ایسے ہنستے دیکھا ، وہ شاید جرمن لڑکیوں کے اس ” گروہ قلیل ” میں سے ایک تھی کہ جن کے دانت ” بھی ” خوبصورت ہوتے ہیں  ۔۔۔ وہ بلا کی خوبصورت تھی ، میں شاید اسے دیکھنا چاہ رہا تھا مگر فوراً نظریں اس کے چہرے سے ہٹا کر دائیں جانب ٹی وی پر ٹکا دیں ۔۔۔ کہ نظروں کو اس ” حسن مجسم ” کو دیکھنے کا یارا نہیں تھا ۔۔۔ میں نے ٹی وی کی جانب دیکھتے دیکھتے ہی پوچھا کہ مجھے ایک منٹ ” واش روم ” جانا ہے تاکہ ہاتھ پاؤں دھو لوں ۔۔۔ نہیں تو بدبو سونگھ سونگھ کر تم بھی بیمار پڑ جاؤ گی ۔۔۔۔ وہ اب کی دفعہ قہقہے کے ساتھ  بے  اختیار ہنسنے لگی اور ۔۔۔ ہنستے ہنستے تقریباً دوہری ہوگئی ” Du bist echt lustig ” تم واقعی بہت مزاحیہ ہو ، تم واقعی بہت مزاحیہ ہو ، وہ کہے جاتی تھی اور ہنسے جاتی تھی ، مجھے اس کا یوں ایک بالکل معمولی سی بات پر اس قدر ہنسنا بالکل بھی معمولی نہیں لگا ۔۔۔ لیکن مجھے یہ اندازہ کرنے میں بالکل بھی وقت نہیں لگا کہ اس کے قہقہوں میں دبیز چیخیں کتنی تکلیف دہ ہیں ۔۔

اس نے مجھے اشارے سے واش روم کا راستہ دکھایا ، میں اٹھ کر اس جانب چل دیا ۔۔۔ مگر جاتے جاتے میں سوچنے لگا
کہ یہ معمولی معمولی بات پر بہت ہنسنے والے ، قہقہوں کے بہانے ڈھونڈنے والے در اصل اند سے بہت زخمی ہوتے ہیں ، بہت رنجیدہ ہوتے ہیں ، اور شاید کچھ اسی طرح کی دل شکستگی تھی کہ جس نے اس کو ” سراپا مہربانی ” بنا دیا تھا ۔۔۔۔۔

مجھے پانج سے چھ منٹ لگے ہوں گے شاید واپس باہر آنے میں ، جب میں باہر نکلا تو وہ صوفے کے سامنے بچھے قالین پر پڑے کتابوں کے ڈھیر کو سمیٹنے میں مصروف تھی ، شاید پچیس تیس کتابیں ہوں گی کہ جو بکھری پڑی تھیں اور وہ انھیں ویسے ہی ایک کے اوپر ایک ، ٹی وی کے  دائیں جانب رکھ رہی تھی ، مجھے آتا دیکھ کر وہ ایک دم کھڑی ہوئی ، اور کہنے لگی پہلے جلدی سے چائے لو اس کو گرم پینا ہی ٹھیک ہوتا ہے ۔۔۔۔ میں صوفے پر بیٹھ گیا اور چائے کے گھونٹ بھرنا شروع کر دیے ، مجھے واش روم میں داخل ہوتے ہی پے در پے آنے والی چھینکوں اور گلے میں ہوتی جلن سے اندازہ ہو چکا تھا کہ  ۔۔۔ ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں ۔۔۔ یعنی کہ “نزلہ زکام ” بھی بخار کی تنہائی مٹانے کو اپنے تمام تر لوازمات سمیت وارد ہو چکا تھا ۔۔۔

ادرک ملی چائے ۔۔۔ شاید ہی اس  سے قبل کبھی پی ہو لیکن وہ مجھے بے حد سکون دے رہی تھی ، میں نے آخری گھونٹ بھرتے ہی آنکھیں تقریباً موند لیں ۔

دو سے تین منٹ کے وقفے کے بعد پھر سے چھینکوں کے ” برسٹ ” فائر ہونے لگے ، میں عجیب شرمندگی سے اسے دیکھنے لگا کہ اپنی یہ عادت ہے کہ چھینکیں لیتے بندے سے دس میٹر دور بھاگ جاتا ہوں اور وہ بیچاری ایک چلتی پھرتی جراثیموں کی دوکان اپنے چھوٹے سے گھر میں لے آئی تھی مجھے لگا اب نہ تو وہ بھاگنے کی ہے اور نہ مجھے بھگانے کی ، میں ندامت سے اسے دیکھنے سے بھی کترا رہا تھا ، لیکن جیسے ہی میری نظر اس پر پڑی تو وہ کچن کے سامنے دونوں ہاتھ باندھے کھڑی مجھے کچھ ایسی محبت و مہربانی سے دیکھ اور مسکرا رہی تھی کہ مثال میں لانے کو کوئی مثل نہیں ۔۔۔

جیسے ہی میری نظریں اس کی نظروں سے ملیں تو وہ بھی تھوڑی گڑبڑا سی گئی اور فورا ًپیچھے کو پلٹی اور کچن سے ایک ” پاکیٹ پیک ” ٹشو اٹھایا اور مجھے تھماتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔
پریشان مت ہو ۔۔۔۔ تم ایک ” میڈیکل سٹوڈنٹ ” کے ہاتھ لگ چکے ہو ، جتنا بیمار ہونا ہو لو، میرے پاس سب علاج ہیں ۔

میں اس کے جواب میں سوائے ۔۔۔ wow اور Good کہنے کے کچھ نہ کہہ سکا ، کہ اس کمال کی مہربانی اور محبت بھرے انداز کے جواب میں کہتا بھی تو کیا کہتا ۔۔۔

وہ تھوڑی ہی دیر میں دوبارہ ” ادرک چائے ” مجھے تھماتی ہوئی شرارتی سے لہجے میں بولی ۔۔۔ میرے پاس انگریزی دوائیاں بھی ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ میرے فادر کے ٹوٹکے سے تم زیادہ اور جلدی بہتر محسوس کرو گے ۔۔۔

میں نے فورا ًہی شکریہ کے ساتھ کپ پکڑتے ہوئے کہا کہ میں آخری حد تک دوائی سے بچتا ہوں  اور نزلہ زکام میں تو کوشش کرتا ہوں کہ نہ ہی لوں ۔۔۔

ساتھ میں نے اسے پھر سے مخاطب کرنے کے لیے جیسے ہی ” ا یکسکیوز می ” کہا وہ فوراً بولی ۔۔۔ Ich heise Sandra … میرا نام ساندرا ہے ۔۔۔۔ میں نے بھی فوراً معذرت کرتے ہوئے کہا کہ دیکھو پچھلے دو ،تین گھنٹے سے ہم ساتھ ہیں اور ابھی تک نام نہیں  پوچھا ، نہ بتایا ۔۔۔ میں عثمان ہوں ۔۔۔۔ Schön sehr بہت خوبصورت وہ صرف اتنا ہی بولی ۔۔ اور مسکرا دی ۔۔۔ اور یہاں میری وہ ہی ” کنفوزن ” والی عادت آڑے آگئی اور میں اتنا بھی نہ کہہ سکا ۔۔

تمہارے والد کہاں ہوتے ہیں ؟
اس کا پچھلی تھوڑی سی دیر میں بارہا اپنے والد کا ذکر کرنا مجھے نہ چاہتے ہوئے بھی اس بات پر مجبور کر گیا تھا کہ میں اس سے یہ سوال کروں ۔۔۔
شاید اسے مجھ سے اس سوال کی کوئی امید نہ تھی اس نے ایک دم مجھے دیکھا اور خاموش سی ہو گئی ۔۔۔ ۔مجھے ساتھ ہی اندازہ ہو گیا کہ میں بلا وجہ ہی اس کی ذاتی زندگی بارے سوال کر بیٹھا ہوں ۔ میں نے فورًا بات گھمائی اور کہا۔۔۔۔ اب میں کافی بہتر محسوس کرنے لگا ہوں اور وقت بھی کافی ہو چکا ہے اگر مجھے تمہارا فون مل جائے تو میں  اپنے دوست کے ذریعے اپنی گاڑی کی چابی منگوا لوں ۔۔۔ یہ کہتے ہوئے میرے ذہن میں اپنا واحد دوست ” ڈاکٹر ناصر ” تھا کہ جس کے پاس ہمیشہ میری گاڑی کی ایک اضافی چابی رہتی ہے اور میرے پاس ہمیشہ اس کی گاڑی کی اضافی چابی ۔۔۔ جب اسے کبھی بڑی گاڑی چاہیے ہو تو وہ صرف ایک میسج کر کے میرے گیراج سے میری گاڑی نکال لے جاتا ہے اور اپنی کھڑی کر جاتا ہے اور جب مجھے اس کی گاڑی کی ضرورت محسوس ہو تو میں بھی اایسا ہی کرتا ہوں ۔۔۔

میں صوفے پر بیٹھا تھا اور وہ سامنے والی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے ایک کشن اپنی گود میں رکھے ٹیک لگائے بیٹھی تھی ، وہ فورا ًاٹھی اور کچن میں چارجنگ پر لگا فون اتار لائی اور مجھے تھما دیا میں نے فون لے لیا مگر اس کے چہرے کی جانب دیکھنے سے بالکل اجتناب کیا کیونکہ میں اب تک اپنے کیے گئے سوال پر پشیمان  سا تھا ۔۔

اس نے فون کا ” ڈائیل پیڈ ” آن کر دیا تھا ۔۔۔ مگر اب نئی آفت سامنے کھڑی تھی کہ ناصر کا نمبر تبدیل ہو چکا تھا اور مجھے زبانی اس کا صرف پرانا نمبر یاد تھا ۔۔۔ فون ہاتھ میں لینے کے بعد مجھے یاد آیا تھا کہ اس نے کل ہی اپنے نئے نمبر سے میسج کیا تھا اور بتایا تھا کہ اب سے اس کا یہ نمبر فعال ہو گا ۔

لیکن میں نے پھر بھی اس کا پرانا نمبر ملا ہی دیا کہ  شاید مل جائے ۔۔۔۔۔ خیر نمبر نہ ملنا تھا نہ ملا ، ساندرا واپس پہلے والی جگہ پر بیٹھ چکی تھی ، اور شاید مجھے ہی تکے جا رہی تھی ، جب اسے میرے چہرے پر پھیلی نا امیدی اور پریشانی کا اندازہ ہوا تو خود سے پوچھنے لگی کہ ۔۔۔ کیا ہوا ؟ نمبر نہیں مل رہا ؟ یا کال اٹھائی نہیں جا رہی ؟ ۔۔۔ میں ،جو اپنے سوال پر پہلے ہی شرمندہ سا تھا اب نمبر نہ ملنے پر مزید ہی شرمندہ ہو رہا تھا ۔۔۔۔

میں نے اسے بتادیا کہ میں کسے فون کر رہا تھا ، اور نمبر کیوں نہیں مل رہا ۔۔۔۔ وہ میری بات پر اپنی عادت مطابق پھر سے مسکرائی اور کہنے لگی ” اوثمان ” !!

عموماً جرمن میرے نام کا تلفظ کچھ ایسے ہی ادا کرتے ہیں ، مگر ساندرا کی زبان سے یوں پہلی دفعہ اپنا نام سن کر ایسا محسوس ہوا کہ جیسے مجھے زندگی میں پہلی دفعہ میرے نام سے پکارا گیا ہو ۔۔۔

اوثمان ! تمہارا دوست ” فیس بک ” یا ” انسٹا گرام ” پر ہے ؟؟
اس نے اپنی عادت مطابق دھیمے اور پیار بھرے لہجے میں پوچھا ۔۔۔ وہ مجھ سے بالکل ایسے بات کر رہی تھی جیسے یہ سب اس کی وجہ سے ہو رہا ہو ۔۔۔ یا اس سب پریشانی کی جو مجھے اٹھانی پڑ رہی اس کی وجہ وہ ہو ۔۔۔

ہاں ۔۔۔وہ فیس بک پر ہے میں نے فوراً  جواب دیا ۔۔۔۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھی ، میری جانب بڑھی اور میرے  ہاتھ میں تھامے اس کے فون پر پوری طرح سے جھک گئی ۔۔۔ فون میرے ہاتھ میں تھا سو اس نے میرے ہاتھ میں ہی رہنے دیا ، اس نے اپنے ایک ہاتھ سے اپنا گھٹنا پکڑ رکھا تھا اور دوسرے ہاتھ کی انگلی سے بالکل میرے مقابل میں جھکی فون کی ٹچ پیڈ کو استعمال کرتے ہوئے فیس بک میسنجر آن کر کے دے رہی تھی ۔۔۔۔

میں   نزلے کی وجہ سے کچھ بھی ” سونگھنے ” سے محروم ہوجاتا ہوں ۔۔۔مگر اس کی زلفوں کی خوشبو پوری طرح محسوس کر رہا تھا ۔۔۔۔ وہ یا تو بے خبر تھی یا جان بوجھ کر مجھے اس ” آزمائش یوسفی ” میں ڈالنا چاہ رہی تھی ۔۔۔

میسنجر آن ہوتے ہی اس نے اپنا سر واپس اوپر کو اٹھایا تو اس کا چہرہ کچھ اس انداز سے اوپر کو اٹھا کہ میرے چہرے کے عین برابر آ کر جیسے رک سا گیا ، اب کیفیت یہ تھی کہ اس  کی آنکھیں میری آنکھوں کے برابر ، ناک ناک کے سامنے ، اور لب لبوں کے مقابل تھے ۔۔۔۔ یوں اس قدر قریب سے اس کی آنکھوں میں جھانکنا واقعی دل گردے کا کام تھا ، وہ بھی جیسے پلک چھپکنا بھول گئی تھی یا جان بوجھ کر میری آنکھوں کے سامنے   اپنی آنکھیں رکھ کر میرا کوئی امتحان لینا چاہتی تھی ۔۔۔

وہ آنکھیں تھوڑا ہی تھیں ، وہ تو سرور و مستی کا اک بحرِ بے کراں تھا کہ جس کی اک چھینٹ بھی اگر ” واعظ شہر ” پر پڑ جائے تو وعظ و فتوی کی مسندوں کو چشم زدن میں خدا حافظ کہے اور رندان شہر کے ہمراہ جھومتا پھرے ۔۔۔ اور میں تو ویسے ہی ” میں ” تھا ۔۔۔۔

لگا کہ وقت کچھ تھم سا گیا ہے ۔۔۔۔ میں جو صوفے پر اکڑوں بیٹھا تھا ۔۔۔ایک دم پیچھے کو ہو لیا اور سر صوفے کی پشت کے ساتھ ٹکا لیا ۔۔۔ مگر نظریں اس کی نظروں سے آزاد نہ کروا پایا ۔۔۔۔ وہ ایسے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھے جا رہی تھی کہ جیسے کچھ ڈھونڈ رہی ہو ۔۔۔ میں نے اس کے نچلے ہونٹ میں جنبش محسوس کی جیسے کچھ کہنے لگی ہے ۔۔۔ اس نے اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھایا اور میری ” عینک ” درمیاں سے پکڑ کر اتار لی ۔۔۔۔۔

چوتھا اور آخری حصہ آئندہ ۔۔۔۔۔

عثمان ہاشمی
عثمان ہاشمی
عثمان ھاشمی "علوم اسلامیہ" کے طالب علم رھے ھیں لیکن "مولوی" نھیں ھیں ،"قانون" پڑھے ھیں مگر "وکیل" نھیں ھیں صحافت کرتے ھیں مگر "صحافی" نھیں ھیں جسمانی لحاظ سے تو "جرمنی" میں پاۓ جاتے ھیں جبکہ روحانی طور پر "پاکستان" کی ھی گلیوں میں ھوتے ھیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *