ہمارے خواب یکساں ہیں ۔۔۔ہُما جمال

میں بڑا ہوکر فوجی بنوں گا!

یہ الفاظ تھے 6سالہ اسمٰعیل کے، جس سے میں اس کے سکول ،اس کی کلاس اور مستقبل میں اس کے ارادے کے متعلق پوچھ رہی تھی،
معصومیت، شوخی، شرارت، ہکلاہٹ، چمچماتی آنکھیں، اور ان میں موجود خواب ہر بچے کی آنکھ میں یکساں ہیں ۔
اسمعیل چھ سال کی عمر میں ہی فوجی بننے کا ارادہ رکھتا ہے۔

جبکہ اسکی والدہ نے ا س کا داخلہ  سکول پرنسپل کی منتیں کرکے کروایا تھا۔
سکول ٹیچر نے شروع میں رعایت دی لیکن پھر شرط رکھ دی کہ تمہارا شوہر نہیں، وسائل نہیں،بچہ نہیں پال سکتیں تو مجھے دے دو ورنہ فیس دو۔۔۔
اسماعیل کی والدہ جو پہلے ہی بچوں کے لئے زندہ ہے کہتی ہے بچہ کیسے دوں، خود ہی فیس کا  بندوبست کروں گی۔

پاکستان میں اسمٰعیل اور اس جیسے ہزاروں بچے 6سال کی عمر تک تو کسی نہ کسی طرح  سکول پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں لیکن کیا ان کی اکثریت اپنے یا اپنے والدین کے خواب کو پورا کرپاتی ہے؟

جی نہیں !کیونکہ اکثریت غربت کے ہاتھوں مجبور ہوکر اپنی معصومیت ،اپنا بچپن، اپنے خواب چھوڑ کر دس سے بارہ سال کی عمر میں ہی کام کرنے کیلئے جوان ہوجاتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کے مطابق 18 سال سے کم عمر ہر انسان ایک بچہ ہے۔ یہ عالمی طورپر منظور کردہ اصطلاح ہے جواقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق پر کنونشن (1989ء) (UNCCC) سے آئی ہے اور زیادہ تر ممالک کی منظور کردہ اور مستعمل بین الاقوامی قانونی اصطلاح ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں اٹھارہ سال کی عمر تک کے ہر بچے کی تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔پاکستان میں بھی اس حوالے سے قوانین موجود ہیں        کہ” بچے کو تعلیم دینا ریاست کا فرض ہے “۔
پاکستان کے آئینِ کےآرٹیکل 25 -A میں لکھا ہے کہ 5 سے 16 سال تک کے ہر بچے کے لیے مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔۔لیکن کیا ریاست آئین میں درج اپنی اس ذمہ داری کو پورا کررہی ہے؟۔۔

ہمارے ہاں سرکاری  سکولوں کے نام پر جو ادارے کام کررہے ہیں ان میں سے کم و بیش ہی معیاری تعلیم دینے کے اہل ہیں۔لیکن وہ معیاری تعلیم بھی دور جدید کے تقاضوں کو پورا کرتی نظر نہیں آتی
جس کی بناء پر کچھ فہم رکھنے والے والدین بچوں کو انگلش میڈیم  سکولوں میں پڑھانے کے خواہاں ہوتے ہیں۔انگلش  سکولوں کے نام پر بھی ہمارے ہاں کیا کاروبار ہورہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں،
غرض مہنگے، اچھے، معیاری  سکول عام انسان کی دسترس سے باہر ہیں،جب معیاری تعلیم اس قدر مشکل کردی گئی ہے تو کسی غریب کا بچہ اچھی تعلیم حاصل کرکے کچھ بننے کا خواب کیونکر پورا کرسکتا ہے؟

 

پاکستان جس کی آبادی میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ،غربت میں اضافہ ،محرومیت میں اضافہ، احساس کمتری میں اضافہ اور یہ اضافے اس لئے ہیں کہ غریب لوگوں کے بچوں کی معصوم آنکھیں وہی خواب دیکھتی ہیں جو کسی امیر بچے کی آنکھیں، ان کے خواب یکساں   اور ایک ہی جیسےمعصوم احساس سے لبریز ہوتے ہیں۔پھر کبھی سرد موسم میں گرم کپڑے مل جائیں تو ننگے پاؤں کی پرواہ کیے بغیر تصویر بنوانے کی فرمائش کرتے ہیں۔

کبھی اسماعیل کیطرح فوجی بننے کے خواب سجاتے ہیں،اور کبھی اپنا گھر چلانے کیلئے ہاتھوں میں کھلونے، غبارے اٹھائے جگہ جگہ خالی آنکھیں لئے گھومتے ہیں۔ان کی خالی آنکھیں اکثر یہ درد سناتی ہیں کہ ہمارے خواب یکساں تھے۔۔لیکن تم انہیں پورا کرنے میں ناکام رہے اس لئے اپنا بوجھ خود اٹھارہے ہیں،ریاست پاکستان جس کا جب پورا نام لیا جائے تو گونجتا ہے۔”اسلامی نظریاتی فلاحی مملکت پاکستان”لیکن جب حالات حاضرہ کو دیکھا جائے تو سب برعکس نظر آتا ہے۔مملکت خداداد کے ارباب اختیار اس ملک کے آئین کی اپنے مقاصد کے لئے حد درجہ عزت کرتے ہیں،کسی جنرل نے آئین توڑا ہو تو پھانسی پر  اس لیے لٹکوانا چاہتے ہیں کہ ان کے مفادات متاثر ہوئے،کسی جنرل کا دور حکومت بڑھانا ہو تو اسی آئین میں توڑ جوڑ کیلئے سر جوڑ کر بیٹھ جائیں،عدالتیں جو آئین کی نگہبان ہیں سو موٹو ایکشن بھی لیں گی تو ان مسائل پر جن سے غریب اور غریب کے بچے کی کوئی وابستگی نہیں ہوتی ،اہل اختیار آپکی غریب عوام کو کسی آئین کی منسوخی یا معطلی سے دلچسپی نہیں،کسی آمریت یا کسی جمہوریت سے انہیں فرق نہیں پڑتا ،انہیں دلچسپی ہے تو صرف اپنی بھوک، اپنی پیاس، اور اپنی بنیادی ضروریات سے۔

یوں تو عوام کو دئیے گئے تحریر آئینی بنیادی حقوق کی فہرست طویل ہے جن کی ادائیگی میں ریاست ناکام نظر آتی ہے لیکن سب سے اہم نظر انداز حق بچوں کو یکساں معیاری مفت تعلیم نہ فراہم کرنا ہے بچوں کو یکساں تعلیم کے مواقع فراہم نہ کیئے جائیں تو یہی بچے بڑے ہوکر طرح طرح سے ریاست پر بوجھ بنتے ہیں تو ریاست کے وجود پر سینکڑوں بدنما داغ ثبت ہوتے ہیں
آئین تشکیل دینے والی پارلیمان اور آئین کی پاسدار عدلیہ  عوام کو  آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق میں سے صرف بچوں کی حقوق کی پاسداری کرلیں اور ہر بچے کو اس کا ریاستی حق تعلیم ہی مل جائے جو کہ معیاری بھی ہو تو کچھ شک نہیں یہ ریاست خوشحالی کی جانب گامزن ہوجائے ،

 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *