• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • انسان کی بے حرمتی کے نئے اسلوب۔۔ڈاکٹر اختر علی سید

انسان کی بے حرمتی کے نئے اسلوب۔۔ڈاکٹر اختر علی سید

جناب اشعر رحمان ملک کے ایک معروف صحافی ہیں۔ انہوں نے گزشتہ روز لاہور میں وقوع پذیر ہونے والا ایک واقعہ اپنے اخبار میں رپورٹ کیا ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے اس واقعے میں نئی بات انسان کی جان لینے کا ایک نسبتاً نیا اور زیادہ بے رحم طریقے کا ذکر ہے۔ لیکن علامتی اعتبار سے یہ واقعہ معاشرے میں اکھاڑ پچھاڑ کے ایک جاری و ساری عمل کی جانب آپ کی توجہ مبذول کراتا ہے۔۔۔۔۔۔ ایک نابینا شخص کے جسم میں ٹائروں میں ہوا بھرنے والے پمپ کے ذریعے ہوا بھر کر مار دیا گیا۔۔۔۔۔ آپ یقینا اس واقعے کے محرکات کے بارے میں سوچیں گے۔۔ آپ حیران ہوں گے جب آپ کو پتہ چلے گا کہ ایسا صرف مذاق میں کیا گیا۔

ذرا اس واقعے کو اس میں موجود واردات سے الگ کر کے دیکھیے۔ ایک کمزوری (معذوری) کے شکار شخص کو طاقتور (غیر معذور) اشخاص کس طرح کھیل کھیل میں اپنے بے رحمانہ عمل کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہ (طاقتور) افراد معاشرے کی اشرافیہ سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔۔ یہ ٹائروں کی مرمت کا کام کرتے تھے۔ ان کا نشانہ ان سے زیادہ کمزور شخص بنا جس کی کمزوری اس کی معذوری تھی۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا اس واقعے میں انسانی جان لینے کا ایک انوکھا طریقہ اختیار کیا گیا مگر طاقت کے استعمال کے حوالے سے اس میں کچھ نیا نہیں ہے۔ مجھے اجازت دیجئے کہ میں یہ کہوں کہ اس واقعے کی بہیمانہ نوعیت دل دہلا نے والی ہے اور انسانی نفسیات میں در آنے والی سفاکیت اور کٹھور پن کی بڑھتی ہوئی سطح کو نمایاں طور پر بیان کرتی ہے۔ “کٹھور پن کی نفسیات” کے عنوان سے چند گزارشات ایک تحریر میں عرض کر چکا ہوں مگر اس واقعے نے اداسی، مایوسی، اور کھولاؤ پر باندھے گئے ایک پروفیشنل بند کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔ ان کیفیات کا سبب صرف یہ واقعہ نہیں ہے بلکہ معاملات کا ان واقعات تک پہنچنے کا عمل، یہاں تک پہنچانے والوں کی بے رحمی، ان معاملات کو خاموشی سے تکنے والوں کی بے حسی اور ان معاملات کے پس منظر سے واقفیت رکھنے والوں کی بے بسی کا ایک بے پایاں احساس ہے۔

آپ بجا طور پر کہہ سکتے ہیں کہ طاقت کا یہ بہیمانہ کھیل پوری دنیا میں کھیلا جاتا ہے اور کھیلا جارہا ہے۔ سفید جھوٹ بول کر 15 لاکھ عراقیوں کو مار دیا گیا۔ لیبیا، یمن، اور شام میں جان سے ہاتھ دھونے والوں کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ کوئی دن جاتا ہے کہ کشمیر اور فلسطین سے بے گناہوں کے خون کی گرتی ہوئی قیمت کی اطلاع نہ آتی ہو۔ مگر ان تمام جاں گسل تفصیلات کے پیچھے بڑی طاقتوں کے بڑے مقاصد پوشیدہ ہیں۔ ان کے پیچھے بڑی بڑی صنعتوں کے رال بہاتے چیف ایگزیکٹو کھڑے ہیں۔ یہ گدھ صفات لوگ ان معصوم افراد کی زندگی کے زیاں میں اپنے شکم اور حرص کی آسودگی ڈھونڈتے ہیں۔ لیکن ٹائروں کی مرمت کرنے والوں نے نابینا شخص کے پیٹ میں ہوا بھر کے کیا حاصل کیا؟؟ انہیں کونسی ذہنی و نفسیاتی آسودگی میسر آئی؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیے کہ اسی سے ملتا جلتا ایک اور واقعہ کراچی میں بھی ہوا۔ اشعر صاحب کی رپورٹ میں اس واقعے کا ذکر بھی موجود ہے۔

آپ کو یاد ہوگا 2003 میں عراق کی ابو غریب جیل کے واقعات اور ان کی تفصیلات منظر عام پر آئی تھیں۔ عراقی قیدیوں پر امریکی فوجیوں کے بہیمانہ مظالم کی تصاویر نے دنیا کو دہلا دیا تھا۔ بعد ازاں گوانٹاناموبے کے قید خانے اور طالبان کے ہاتھوں قید اور قتل ہو جانے والے انسانوں کی سرگزشت نے ظلم و عدوان کی نئی کہانیوں کو جنم دیا تھا۔ اگرچہ ان واقعات کے پیچھے موجود مقصد کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تاہم انسان پر روا رکھے جانے والے مظالم کے لیے نت نئے طریقوں کا تعارف ان واقعات ہی کے ذریعے سے ہوا تھا۔ ابوغریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کے نت نئے طریقوں کے پیچھے ایک امریکی ماہر بشریات رافیل پٹائی کی عربوں پر کی گئی تحقیقات کا ذکر بھی ہوا۔ عرض یہ کرنا چاہ رہا ہوں کہ یہ سارے کام ایک بڑے (ظالمانہ) مقصد کے حصول کی خاطر انتہائی سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ تھے لیکن ٹائروں کی مرمت کرنے والے کس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے انسانی جان لینے کے لئے ایسے انوکھے طریقے ایجاد کر رہے تھے۔

میں نفسیات کے بڑے علماء کے حوالے سے مسلسل یہ عرض کرتا رہا ہوں کہ طاقتور کا اسلوب حیات، مختلف کاموں کو سرانجام دینے کے اس کے اختیار کردہ طریقے اور اپنی طاقت کے اطلاق سے اسے حاصل ہونے والا حظ بتدریج معاشرے کے ہر طبقے کے لیے لائق تقلید بنتا چلا جاتا ہے۔ طاقتور جب اپنی طاقت کا استعمال کرتا ہے تو وہ مادی، مالی اور عملی منفعت کے ساتھ ایسے حظ سے بھی محظوظ ہوتا ہے جو جنسی لذت سے مشابہت رکھتا ہے۔ جنسی عمل اور اس سے حاصل ہونے والی لذت کے بارے میں میں آپ جانتے ہیں کہ انسان نے کس طرح پرانے طریقوں سے اکتا کر نت نئے طریقے ایجاد کیے ہیں۔ اس سارے عمل کی ایک تاریخ ہے جو اس وقت موضوع گفتگو نہیں ہے۔ لیکن یہ تاریخ ہمیں اتنا ضرور بتاتی ہے کہ جنسی عمل کے پرانے طریقوں سے اکتاہٹ نے نئے طریقوں کو جنم دیا ہے۔ طاقتور گروہوں کے طاقت کے استعمال نے جو ذہنی بیماری پیدا کی اس نے انسانوں پر تشدد میں جنسی تلذز جیسی کشش پیدا کردی ہے۔ نتیجے میں دو سماجی مظاہر آپ کے سامنے ہیں۔ ایک نسبتاً کمزور طبقوں کا تشدد کی طرف مائل ہونا اور اپنے سے بھی کمزور افراد کو نشانہ بنانا۔ اور دوسرے اس تشدد کے لئے نت نئے طریقوں کو اختیار کرنا۔

اب ذرا معاشرے کے مختلف طبقات کا اپنے سے کمزور افراد کو اپنی طاقت کا نشانہ بنانے کے عمل کو دیکھیے اور ملاحظہ فرمائیں کہ کس طرح طاقت کے مختلف اسلوب نئے طریقوں سے استعمال میں آ رہے ہیں۔
لاٹھی گولی کی سرکار، اس کی طاقت اور اس طاقت کے بہیمانہ استعمال اور اس کے نئے نئے طریقوں سے آپ واقف ہیں۔1977 میں لگنے والے مارشل لاء میں شاہی قلعے میں قید افراد پر ہونے والے تشدد کی روئیداد اس طالبعلم نے سنی ہے۔ ہر قیدی نے تشدد کے مختلف طریقے بیان کیے۔ ایسے مریض حکمرانوں کی بابت آپ بھی جانتے ہیں جو تشدد کے شکار مظلوموں کی آہ و بکا فون پر سن کر حظ اٹھاتے تھے۔ نرمبرگ ٹرائل میں نازی مظالم کی تفصیلات بھی آپ کے حافظوں میں ہوں گی۔ لیکن کیا آپ نے طاقتور گروہوں کی باہمی لڑائی اور اس لڑائی میں استعمال ہو جانے والے عام آدمی کے استحصال پر غور کیا ہے؟ میں نے داعش کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہونے والے عام افراد دیکھے ہیں۔ ان کے احوال سنے ہیں اور ان کے دکھوں کا مداوا کرنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش میں شریک بھی رہا ہوں۔ میں شام سے ہجرت کرکے یورپ آنے والوں سے ملا ہوں۔ میں نے کربلا، کوفہ اور بغداد کے ان باسیوں کے احوال سنے ہیں جنہوں نے پہلے صدام حسین اور بعد ازاں قابض امریکی اور برطانوی فوجیوں کے ہاتھوں عراق کی تاراجی اور عراقیوں کا قتل عام دیکھا ہے۔ ان افراد کی اکثریت متحارب طاقتور گروہوں میں سے کسی ایک کے حامی نظر آئے۔ کوئی صدام حسین کو یاد کر کے رو رہا تھا اور کسی نے بشارالاسد کے مظالم کا رونا رویا۔ پاکستان میں آپ کو کہیں فوج کے حمایتی ملیں گے اور کہیں سیاستدانوں کے۔ کیا سبب ہے کہ کمزور طبقے متحارب طاقتور گروہوں کے ہاتھوں ہونے والے اپنے استحصال کو نہیں دیکھ پاتے؟

یہ طبقے کیوں نہیں دیکھ پاتے کہ بالادست گروہ طاقت کے حصول کے لیے ان کی جان، مال، عزت و آبرو کو بے شرمی سے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں؟

ذرا غور فرمائیں وجہ آپ کے سامنے ہے۔ ہر طاقتور گروہ اس کام کے لیے اپنے ساتھ علماء اور دانشوروں کا ایک جمِ غفیر رکھتا ہے۔ پرانے وقتوں میں بادشاہ یہ کام مذہبی پیشواؤں سے لیتا تھا۔۔ نو آبادیاتی استعمار نے اس کام کے لیے تنخواہ دار مفکر ین رکھے۔۔ اور اس دور میں یہ کام پیشہ ور دانشور صحافیوں سے لیا جاتا ہے۔

کمزوروں کا یہ استحصال نیا نہیں ہے۔ لیکن ٹائروں کی مرمت کرنے والوں کی طرح تشدد کا یہ طریقہ نسبتاً نیا ہے۔ ٹائروں کی مرمت کرنے والوں نے نابینا شخص کو اپنے تشدد کے لئے چنا۔ آج کے دانشور صحافی اس کام کے لیے اچھے خاصے بینا لوگوں کو نابینا کرکے کمزور (کم معلومات رکھنے والے افراد) کا استحصال کرتے ہیں۔لوگوں کو اندھا کرنے کا یہ عمل دو سطحوں پر ہوتا ہے۔۔ پہلی سطح پر کچھ معاملات اور معلومات کو چھپایا جاتا ہے اور کچھ کو ہوا دی جاتی ہے۔ اور دوسری سطح پر بینا افراد کو نابینا کرنے کا یہ عمل بصارت اور بصیرت پر تعصب کی عینک پہنا دینے سے عبارت ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ کس طرح مذہبی اصطلاحات استعمال کرکے عام آدمی کے جذبات برانگیختہ کیے جاتے ہیں۔ مفروضہ غیر ملکی قبضے کی داستان سنا کر افواج کی اہمیت اجاگر کی جاتی ہے۔ سول سپرمیسی کا رونا رو کر کس طرح نااہل سیاستدانوں کو سقراط سے ملایا جاتا ہے۔ چند سیاستدانوں کی کرپشن کی مبالغہ آمیز کہانیاں سنا کر کس طرح کٹھ پتلیاں برسرِ اقتدار لائی جاتی ہیں۔۔

ان ساری کہانیوں کا مقصد تعصب پیدا کرکے بینا کو نابینا بنانا ہے۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔۔ کمزور طبقہ بھی یہ نہیں دیکھ پاتا کہ طاقتور گروہ کس طرح اپنی مقصد برآری کے لیے انہیں ایندھن کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح ایک امریکی فوجی یہ نہیں دیکھ پاتا کہ عام عراقی کو قتل کرکے اسے نقصان (دائمی معذوری، ڈپریشن اور خودکشی) کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔ ملک کے عام عوام بھی یہ نہیں دیکھ پاتے کہ فیس بک پر سیاسی قائدین، افواج، ملیشیا اور دیگر ملکوں کی حمایت اور مخالفت سے ان کی زندگیاں سنورنے والی نہیں ہیں۔ کوئی بھی مسیحا مایوسی کے علاؤہ کچھ نہیں لائے گا۔ کسی کو اچھا لگے یا برا مگر وقت نے یہ ثابت کیا ہے کہ اعلیٰ نصب العین، جمہوریت، نظریات، سول سپرمیسی، ملکی دفاع، حب الوطنی اور مذہبی اور فرقہ وارانہ وابستگیاں اب عوام پر تشدد کے نئے طریقے ہیں۔ طاقتور طبقے وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے ہوئے حالات کے مطابق عوام کے استحصال کے نئے نئے طریقے وضع کرتے چلے جاتے ہیں اور ان طریقوں کو ایجاد کرنے میں میں آج کا دانشور صحافی مدد فراہم کرتا ہے۔ ٹائروں کی مرمت کرنے والوں اور دانشور صحافیوں میں فرق یہ ہے کہ ٹائروں کی مرمت کرنے والے نابینا کو نشانہ بناتے ہیں جبکہ یہ دانشور صحافی نابینا بنا کر استحصال کرتے ہیں۔

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

اختر علی سید
اختر علی سید
اپ معروف سائکالوجسٹ اور دانشور ہیں۔ آج کل آئر لینڈ میں مقیم اور معروف ماہرِ نفسیات ہیں ۔آپ ذہنو ں کی مسیحائی مسکان، کلام اور قلم سے کرتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”انسان کی بے حرمتی کے نئے اسلوب۔۔ڈاکٹر اختر علی سید

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *