• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک ۔ ترقی کی دہائی (قسط 3)وہاراامباکر

مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک ۔ ترقی کی دہائی (قسط 3)وہاراامباکر

پاکستان میں جمہوری روایات پنپ سکنے میں ناکامی کی ایک وجہ اس کی نازک سیکورٹی صورتحال رہی اور ایک اس کا ثقافتی یا نسلی تنوع۔ لیکن سب سے بڑی وجہ اس کی ابتدائی برسوں کی سیاست تھی جو جمہوری ڈویلپمنٹ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی۔ اس عمل کے لئے سب سے ضروری چیزیں، سیاسی پارٹیوں کا ڈسپلن اور عوام کی شرکت، مفقود رہیں۔ پاکستان بننے کی جدوجہد آل انڈیا مسلم لیگ نے کی تھی لیکن یہ ایک میچور اور مستحکم جمہوری پارٹی بننے میں ناکام رہی۔ ایسی پارٹی جس کی ملک بھر میں حمایت ہو اور ملک کے متنوع نسلی اور ثقافتی گروپس کو اکٹھا رکھ سکے، ملک کے لئے انتہائی ضروری تھی۔ مسلم لیگ ابتدائی برسوں میں یہ کردار ادا کر سکتی تھی، لیکن یہ جلد ہی حریف دھڑوں میں بٹ گئی۔

پاکستان کو تیرہ ماہ بعد جناح کی وفات کا دھچکا اٹھانا پڑا تھا۔ جناح کا کردار پاکستان کی سیاست میں اس قدر غالب تھا کہ کوئی اور لیڈر سامنے نہیں آ سکا۔ ان کے ایک قابل ساتھی لیاقت علی خان تھے، وہ بھی زیادہ عرصہ نہ رہے۔ ان دونوں کے جانے کے بعد پاکستان میں قیادت کا بحران رہا۔ غیرموثر اور ذاتی جھگڑوں میں الجھے سیاستدانوں کے جھرمٹ میں، چند ایک سیاستدان، جو یہ کردار ادا کرنے کی اہلیت رکھتے تھے، وہ علاقائی اور صوبائی کاز بڑھاتے رہے۔ قومی امور پسِ پشت ڈال دئے گئے۔ حکومت کمزور رہی۔ ملک میں جاری فسادات پر قابو نہ پایا جا سکا۔ نسلی جھگڑوں پر توجہ نے مضبوط پارلیمانی اداروں کی تشکیل پر سے توجہ ہٹا دی۔

پارلیمانی جمہوریت سے نالاں، مشرقی پاکستان کی اسمبلی کے واقعات سے پریشان اور بلوچ علیحدگی پسندوں کے دباوٴ کا شکار، سکندر مرزا نے 7 اکتوبر 1958 کو فیصلہ لیا کہ بہت ہو گیا۔ ایک نئی شروعات کی ضرورت ہے۔ سیاسی پارٹیاں تحلیل کر دیں۔ دو سال پہلے بنا ہوا آئین منسوخ کر دیا اور ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ اعلان کیا گیا کہ یہ عارضی ہے اور جیسے ہی نیا آئین تیار ہو گا، مارشل لاء کو اٹھا لیا جائے گا۔ بارہ وزراء کی کابینہ نے حلف اٹھایا ۔ جنرل ایوب خان کو وزیرِاعظم بنا دیا گیا۔ تین اور جنرلوں کو کابینہ ممبران بنایا گیا۔ بقیہ آٹھ ممبران میں ذوالفقار علی بھٹو بھی تھے جو سابق یونیورسٹی لیکچرار اور مستقبل کے سربراہ تھے۔

اسی روز جنرلوں نے سکندر مرزا کو بھی ملک بدر کر دیا “فوج اور عوام ماضی کو مٹا کر ایک نئے دور میں قدم رکھنا چاہتے ہیں”۔ یہ اعلان نئی حکومت نے کیا۔ اگلا آئین 1962 میں بنا۔ ایوب خان نے اس دوران کئی سیاستدانوں اور سول سرونٹس کو برطرف کر کے ان کی جگہ آرمی آفیسر تعینات کئے۔ ایوب خان نے کہا کہ یہ چوربازاری اور کرپشن کو ختم کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے۔

نیا آئین مارچ 1962 کو بنا جس میں تمام ایگزیکٹو اختیارات صدر کے پاس تھے۔ صدر، بغیر کسی کی منظوری کے، کوئی بھی وزیر بنا سکتا تھا۔ وزیرِاعظم کا عہدہ حذف کر دیا گیا۔ ایک قومی اسمبلی تھی اور دو صوبائی اسمبلیاں۔ ان کے ممبران “بنیادی جمہوریت” کے ذریعے چنے جانے تھے۔ عام ووٹر اور صدر کے درمیان پانچ تہوں کا فرق تھا۔ اس آئین میں قومی انٹیگریشن اور مضبوط مرکزی حکومت پر زور تھا۔ بنگالیوں کے لئے اس میں کچھ نہیں تھا۔ مارشل لاء کے لئے قانونی سپورٹ تھی۔ پارلیمانی اداروں کے پاس تقریری مقابلوں اور اخلاقی دباوٴ ڈالنے سے زیادہ کچھ بھی نہیں تھا۔ ان برسوں میں مشرقی اور مغربی پاکستان زیادہ تیزی سے دور ہوتے گئے۔ عوامی لیگ کی سربراہی سہروردی کے بعد کرشماتی لیڈر شیخ مجیب الرحمان کے پاس آئی۔ مجیب، جو تحریکِ پاکستان میں سرگرم رہے تھے، مشرقی پاکستان کی آزادی کی بات 1956 میں کر چکے تھے۔ ان کو 1958 میں مارشل لاء کے وقت جیل میں ڈالا گیا تھا۔ جلد ہی مشرقی حصے کو اختیارات کی تحریک کا معاملہ قومی سیاست میں نمایاں طور پر سامنے پر آ گیا۔

پاکستان میں 1960 سے 1965 کے درمیان ہونے والی فی کس جی ڈی پی کی شرحِ نمو مغربی پاکستان میں 4.4 فیصد جبکہ مشرقی پاکستان میں 2.6 فیصد رہی تھی۔ بنگالی سیاستدانوں کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ترقی مشرقی پاکستان کی چائے اور پٹ سن سے ہو رہی ہے۔ 1960 میں پاکستان کی برآمدات کا 70 فیصد مشرقی پاکستان سے ہوتا تھا۔ پٹ سن کی عالمی مانگ میں کمی کی وجہ سے یہ 1965 میں ساٹھ فیصد سے نیچے گر چکا تھا اور 1971 میں پچاس فیصد تھا۔ لیکن اس نے مجیب کو الگ فارن اکاونٹ اور الگ تجارتی آفس بنانے کے مطالبے سے نہیں روکا۔

ساٹھ کی دہائی کے وسط میں مغربی پاکستان “ترقی کی دہائی” سے فائدہ اٹھا رہا تھا۔ سبز انقلاب میں گندم کی پیداوار میں اضافہ ہوا تھا اور پاکستان کی ٹیکسٹائل کی برآمدات کی مارکیٹ وسیع ہوئی تھی۔ جبکہ مشرقی پاکستان کا معیارِ زندگی مقابلتاً بہت پست تھا۔ حکومتی ادارے اور دارالحکومت مغربی پاکستان میں تھے اور بیرونی امداد بھی وہیں پر آتی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لاہور میں عوامی لیگ کی 1966 کی کانفرنس میں مجیب نے اپنے متنازعہ چھ نکات کا اعلان کیا۔ فیڈرل اور پارلیمانی حکومت کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ مطالبہ کیا گیا کہ انتخابات براہِ راست ہوں۔ اسمبلی میں نشستیں آبادی کی بنیاد پر ہوں۔ فیڈرل حکومت کا کام صرف دفاع اور خارجہ امور پر ہو۔ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کی کرنسی الگ ہو۔ ٹیکس خود اکٹھے کریں اور خود استعمال کریں۔ وفاقی حکومت کو چلانے کے لئے دونوں حصے آئینی طور پر گارنٹی کی گئی گرانٹ دیا کریں۔ زرِمبادلہ دونوں حصے خود کمائیں اور حساب رکھیں۔ پولیس اور پیرا ملٹری فورس بھی صوبوں کے پاس ہوں۔

مجیب کے چھ نکات ایوب کے پلان کی ضد تھے۔ اور جو پریشانی ایوب کو تھی، وہ مغربی پاکستان کی آبادی کے بڑے حصے کو بھی تھی کہ مجیب کا پلان عملاً تقسیمِ پاکستان کا پلان ہے۔ اس سے لسانی اور نسلی تفریق بڑھے گی اور زیادہ آبادی ہونے کی وجہ سے مشرقی پاکستان عملی طور پر زیادہ طاقتور ہو جائے گا۔ اس کو غداری کہا گیا اور جب جنوری 1968 میں مجیب کی پارٹی نے ڈھاکہ میں ہڑتال کے دوران ہنگامہ کیا تو مجیب کو گرفتار کر لیا گیا۔

اس برس ایوب خان کو کئی سیٹ بیک ہوئے۔ اپنی صحت بھی اچھی نہیں تھی اور اپنے اقتدار کی دس سالہ تقریبات کے دوران قتل ہو جانے سے بال بال بچے تھے۔ اس کے بعد ہنگامہ آرائی ہوئی جس پر بھٹو کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ ڈھاکہ میں ایک ٹریبونل مجیب کی کارروائیوں کی تفتیش پر بنایا گیا جس کی وجہ سے ایوب حکومت کے خلاف عوامی مزاحمت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ چار سال کے بعد ملک میں نافذ ایمرجنسی اٹھائی گئی اور اپوزیشن لیڈروں کی کانفرنس کروائی گئی لیکن اس سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ 21 فروری 1969 کو ایوب خان نے اعلان کیا کہ وہ اگلے برس ہونے والا صدارتی انتخاب نہیں لڑیں گے۔ ہڑتالوں اور احتجاجوں کی وجہ سے ملک انارکی کا شکار تھا۔ پولیس اس سب کو قابو کرنے میں ناکام نظر آتی تھی۔ فوج اس سے لاتعلق کھڑی تھی۔ آخر کار، 25 مارچ کو ایوب نے استعفیٰ دیا اور اقتدار فوج کے سربراہ جنرل آغا محمد یحیٰ خان کے سپرد کر دیا۔ ملک میں ایک بار پھر مارشل لاء لگا دیا گیا۔ یحیٰی خان نے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدر کے عہدے سنبھالے۔ اعلان کیا کہ وہ عارضی مدت کے لئے آئے ہیں۔ امن و امان بحال کریں گے۔ آزاد انتخابات کروائیں گے۔ نئی اسمبلی بنے گی جو نیا آئین بنائے گی اور اقتدار ان کو دے دیا جائے گا۔ اگست 1969 میں انہوں نے اپنی کابینہ بنائی اور دسمبر 1970 کو انتخابات کا اعلان کر دیا۔ ون یونٹ کو ختم کر دیا۔ مشرقی پاکستان کے لئے 300 میں سے 162 سیٹیں رکھی گئیں۔

ان انتخابات سے صرف چند ہفتے پہلے ایک بہت بڑا طوفان مشرقی پاکستان سے آ کر ٹکرایا۔ اتنا بڑا طوفان صدیوں بعد آیا تھا۔ بھولا سائیکلون ۔۔۔ جس کو اولسن رچرڈ خانہ جنگی شروع کرنے والی پہلی قدرتی آفت کہتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن پاکستان کی سیاست میں آخر مغربی حصہ ہی کیوں غالب رہا اور مشرقی حصہ کیوں نہیں؟ اس کے لئے ہمیں برٹش انڈین آرمی کے سربراہ لارڈ فریڈرک رابرٹس کی پالیسی تک جانا پڑے گا جس کی وجہ سے بنا ہوا پاور سٹرکچر پاکستان کو وراثت میں ملا۔ مشرقی پاکستان میں اس کو “پنجابی اسٹیبلشمنٹ” کہا جاتا تھا۔

اور اس سے پہلے ایک اہم تاریخی سوال کا جواب دیکھنا پڑے گا اور وہ یہ کہ ۔۔۔
“منگل پانڈے نے 29 مارچ 1857 کو گولی کیوں چلائی؟”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ساتھ لگی تصویر “ترقی کی دہائی” پر جاری کردہ ڈاک کے ٹکٹ جو 1958 سے 1968 میں ہونے والی ترقی کی یاد میں جاری کئے گئے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *