کیا بنک ملازمین ، سودخور شمار ہونگے ؟۔۔سلیم جاوید

تبلیغی جماعت کے ساتھ بھلوال شہر تشکیل ہوئی تو اقبال صاحب نامی ایک بنک منیجر نے شام کے کھانے کی ضیافت فرمائی، جو امیر صاحب نے قبول کرلی۔ عصر تک جماعت کے ایک متقی ساتھی نے کہرام برپا کردیا کہ ایک سودخور کے گھر کی روٹی نہیں کھائی جائے گی۔ خاکسار نے عرض کیا کہ دین اگرچہ وقفہ وقفہ سے مکمل ہوا، مگر خدا کے رسول پرشروع دن سے ہی حلال وحرام کے احکام نافذ تھے اوریہ کہ رسول خدا ، مکہ کے سودخوروں کے ہاں جاکرکھانا کھا لیا کرتے تھے۔ موصوف مگرغیرت ایمانی سے سرشار تھے، چنانچہ دال کی ہنڈیا چڑھالی گئی۔فیصلہ یہ ہوا کہ منیجر صاحب کوبہلا پھسلا کرکوئی بہانہ بنادیا جائےگا۔ یہ بات اخلاقاً بھی اچھی نہیں تھی ،تو میں نے اور بھائی اعظم نے امیرصاحب سے عرض کردیا کہ ہم دونوں بہرحال، ان کا لایا ہوا کھانا ، ان کے سامنے بیٹھ کرکھائیں گے۔اس سارے وقوعے سے بےخبر، شام کومنیجر صاحب بڑی محبت سے سالن کا دیگچہ لیکر آئے ۔ دوسرے چولہے پراس سالن کو گرم کرنے رکھا تو میں نے دال والا چمچہ اٹھا کراس سالن میں پھیرا اور واپس دال کے سالن میں ڈالا توہمارے متقی ساتھی، باز کی طرح جھپٹ کرآئے کہ دال والا سالن بھی حرام ہوگیا۔۔یہ بتانا مناسب ہوگا کہ جس ساتھی کو تقوی کا ہیضہ لگا ہوا تھا، وہ خود سرکاری ملازم تھے جن کا پروایڈنٹ فنڈ ہی نہیں، ماہانہ تنخواہ بھی بنکاری نظام سے دھل کرآیا کرتی ہے۔

وضاحتاً عرض کردوں کہ تبلیغی خروج کا زمانہ، واقعی تقوی کی پریکٹس کا زمانہ ہوا کرتا ہے۔ مشتبہ ومکروہ اشیاء توچھوڑ، بعض حلال امور سے بھی دوررہنے کی مشق کرنے کیلئے ہی آدمی گھربار چھوڑ کرتبلیغ میں نکلتا ہے۔ چنانچہ، ہمارے مذکورہ بالا بھائی صاحب نے بات ٹھیک ہی کہی تھی۔ میری گزارش یہ ہے کہ تبلیغی جماعت ایک سیکولر جماعت ہوا کرتی تھی جہاں ” فضائل” تو سب کو سنائے جاتے تھے تاہم “مسائل “خود اپنے پرلاگو کرنے کیلئے ہی ہوا کرتے تھے۔ ان بھائی  صاحب کوچاہیے تھا کہ کھانے کے وقت پرطبیعت خراب ہونے وغیرہ کا شرعی بہانہ بنا کربذات خودایک وقت فاقہ کی سنت زندہ کرلیتے مگرکسی دوسرے بندےکی دلاآزاری نہ کرتے۔ اقبال صاحب، اس دن کے بعد ہماری جماعت کی نصرت کیلئے دوبارہ نہیں آئے۔

دیکھیے، مروجہ بنکاری کے سودی نظام کے متبادل، عالم ِ اسلام کے معروف علماء نے اسلامی بنکاری کا نظام تجویز فرمایا ہواہے۔ اس سلسلے میں ایک لطیفہ بھی سوشل میڈیا پرگردش میں ہے کہ کسی والدہ نے بیٹے سے کہا کہ تمہاری گرل فرینڈ جمیلہ سے شادی نہیں ہوسکتی بلکہ وحیدہ سے ہی شادی ہوگی۔فرمانبردار بیٹے نے جمیلہ کا نام بدل کروحیدہ کرلیا اورشادی کرلی۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایسے لطیفے مارکیٹ میں نہ آتے اگر یہ سمجھ آجاتی کہ مسئلہ نام کا نہیں بلکہ ذات کا ہوتاہے۔تیونس ولیبیا میں بھی عربی بولی جاتی ہے۔ وہاں کے باسیوں کو “عرب” سمجھنے والے، دراصل زبان اور نسل کے ایشو کو ایک دوسرے میں گڈمڈ کردیا کرتے ہیں۔ بعینہ، موجودہ بنکاری نظام کوپندرہ صدی قبل کے سودی نظام پرمنطبق کرنا بھی ایک غلط مبحث ہے۔(برسبیل تذکرہ، “اسلامی بنکنگ” کانعرہ مستانہ بلند کرنے والے، “اسلامک سیکولرزم “کی اصطلاح برتنے پرپیچ وتاب کھایا کرتے ہیں حالانکہ بنکنگ کی اصطلاح، سٹرکچر وغیرہ، یہود کی ایجاد ہے جسکی بنیاد ہی سودی قرض پہ تھی)۔

آمدم برسر موضوع!
مولوی صاحبان فرماتے ہیں کہ موجودہ بنکاری سسٹم ، دراصل سودی نظام ہے۔ اور یہ کہ سود ، شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے – اور یہ کہ سود ، خدا کے ساتھ اعلانِ جنگ ہے۔ اور یہ کہ سود کا کمتر درجہ بھی کراہت میں سگی ماں سے زنا برابر ہے۔ اور یہ کہ سود لینے دینے والے کے علاوہ ، اسکے لکھنے والے اور اس پر گواہ بننے والے بھی اس وعید میں داخل ہیں۔
اب ایشو یہ ہے کہ اپنے بچوں کیلئے روزی روٹی کمانے والے لاکھوں بنک ملازمین ، اسی وجہ سے مستقل احساس گناہ کا شکار رہتے ہیں ۔ اس ذہنی دباؤ کے نتیجے میں انکا ایک حصہ تو نوکری چھوڑ دیتا ہے جبکہ ایک حصہ ، مزید گناہوں پہ جری ہو جاتا ہے ( کہ پاتے نہیں جب راہ ، تو چڑھ جاتے ہیں نالے ) ۔ باقی ماندہ ملازمین ، سودخوری کے طعنے سنتے جیتے رہتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا واقعی پاکستان کا بنکاری نظام ، وہی سودی نظام ہے جس بارے قرآن وحدیث میں وعید آئی  ہے ؟۔ کہیں ملتے جلتے نام وشکل کی وجہ سے ہم کسی خلطِ مبحث کا شکار تو نہیں ہیں ؟۔
مثال کے طور پرنبی کریم کے زمانے میں گھروں میں لونڈی غلام ہوا کرتے تھے اور آج کی طرح ماہانہ تنخواہ پر گھریلو نوکررکھنے کا رواج نہیں تھا ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم ” غلام ” بارے احکام کو” نوکر” پر منطبق کر رہے ہوں ؟۔ ( خیال رہے کہ ” لونڈی ” بارے احکام کو ” گھر کی ماسی ” پرلاگوکرنے سے ناگوار صورتحال درپیش ہوسکتی ہے ) ۔
باقی ساری دنیا کی طرح ، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی گزشتہ ستر سال سے وہی معاشی نظام رائج ہے جسکو سودی نظام قراردے کر مولوی صاحبان ، اس گناہ کبیرہ کے خلاف مسلسل احتجاج کرتے رہتے ہیں۔ دوسری طرف زمینی صورتحال یہ ہے کہ اسی معاشی نظام سے ہی پبلک کو تنخواہیں اداکی جاتی ہیں۔ ( ان علماء کو بھی جو پارلیمنٹ ، اوقاف یا سرکاری کمیٹیوں کےارکان ہیں)۔ عوام بھی مروج ” سودی نظام ” سے کمائی  کرکے ، خیرات وچندہ دیتے ہیں جس سے مدراس اسلامیہ چلتے ہیں ( اور اسلام زندہ ہوتا ہے )۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے امیر، سراج الحق صاحب نے بطور صوبائی  وزیرخزانہ ، سود کی شرح مزید بڑھائی  تھی ( انکے حالیہ اتحادی اوراس وقت کے اپوزیشن ایم پی اے ، مفتی فضل ٖغفور صاحب نے ہی یہ انکشاف فرمایا تھا )۔
درایں حالات ، اس سوال پہ غورکرنا بہت اہم ہے کہ کیا پاکستان کا بنکاری نظام ، واقعی سودی نظام ہے ؟ ۔

پہلے یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ سود کیا چیزہے اور اس قدر بڑا گناہ کیوں ہے ؟۔
جناب نبی کریم کے زمانہ میں ( اس سے قبل بھی ) ایک معاشی نظام رائج تھا کہ کسی مجبور آدمی کو قرض درکار ہوتا تو وہ کسی دولت مند شخص سے ( سیٹھ یا مہاجن کہہ لیں) ، ایک خاص معیاد کیلئے ، اس شرط پہ ادھار لیتا تھا کہ اصل سے زائد رقم واپس کرے گا ، چاہے اسکی ضرورت پوری ہو یا نہ ہو۔ ( آج بھی پاکستان کے بعض علاقوں ، اسی ہیت کے ساتھ یہ رائج ہے ) ۔
(مزید یہ کہ عہد نبوی میں تجارت یا قرض سونے اور چاندی کے سکوں میں کی جاتی تھی، یعنی بنا سود کے بھی قرض اگر سالوں بعد واپس کیا جا تا تو اس کی وہلیو وہی پرانی ہوتی۔. مگرفرض کریں فی زمانہ اگر کسی نے دس سال پہلے کسی کو ١٠ لاکھ قرض دیا تو کیا وہ آج بھی ١٠ لاکھ ہی واپس کرے گا؟، جبکہ دس سال پہلے فی تولہ سونا تقریباً ١٠ ہزار تھا جو آج ٩٠ ہزار تولہ ہے۔ مزید براں عالمی تجارت ڈالر پر کی جاتی ہے اور پاکستان میں ڈالر کے ایکسچینج ریٹ میں بہت اتار چڑھاؤ رہتا ہے۔ اب اگر آپ پاکستانی معاشرے میں کسی سے قرض واپس لیتے ہوے سونے کے مطابق روپے واپس لیں گے تو وہ آپ کو سود خور کہے گا۔)
بہرحال، دین اسلام ، سوسائٹی کے ہرفرد کو، اس لحاظ سے فعال دیکھنا چاہتا ہے کہ اپنی صلاحیتیں ، کائنات کی تسخیر میں صرف کرے ( جس کا اصل مقصد ، انسانیت کی فلاح ہو) ۔ کوئی  فرد بھی کام کیے بغیر ، گھر بیٹھ کرنہ کھائے کیونکہ اسکی یہ مفت خوری ، سوسائٹی کے لئے مزید قباحتوں کا سبب بنتی ہے ۔ ( اسلام کو امیروں سے خواہ مخواہ کا بیرنہیں مگروہ کسی فرد کو بھی گردن کا پسینہ نکالے بغیر، امیرسے امیر تر ہوتا نہیں دیکھنا چاہتا )۔

قرآن یہ چاہتا ہے کہ سوسائٹی میں دولت کی گردش رک نہ جائے اوردولت ، صرف ایک امیر طبقے میں ہی جمع ہوکرنہ رہ جائے ۔ یہاں ” دولت کی گردش ” سے مراد ” پازیٹیو گردش ” ہے یعنی بزنس وغیرہ ، جس کی وجہ سے کمزور طبقات کو ابھرنے کا چانس ملتا رہے ( یا کم ازکم ضمنی طور پر سماج کو فائدہ پہنچتا رہے ) ۔ یہ وضاحت اس لئے عرض کردی کہ ” عیاشی ” میں بھی دولت کی گردش تو ہوتی ہے مگر وہ ” نگیٹیو گردش ” ہے کیونکہ سوسائٹی ” تسخیر کائینات ” برائے ” فلاح انسانیت ” کے قرآنی آدرش سے محروم ہو جاتی ہے ۔
مگر سود کا نظام ایسا ہوتا ہے کہ امیر آدمی کو بزنس کا رسک لینے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی اور وہ گھربیٹھ کر صرف پیسہ پرہی پیسہ بناتا رہتا ہے جسکی بنیاد پر سوسائٹی میں ایک مفت خور، کاہل مگر دولت مند طبقہ وجود میں آتا چلا جاتا ہے جو عموماً  عیاش اور ظالم ہوتے ہیں ۔
پھربات عیاشی تک نہیں ہے بلکہ یہ مفت خور مافیا ، صرف پیسے کی بنیاد پر، عالمی بزنس کو کنٹرول کرلیتی ہے اوراپنی مرضی سے منڈیوں کے بھا ؤ طے کرتی ہے – پھر ساری انسانیت ، اپنی بنیادی ضروریات کے لئے بھی ، انکے رحم و کرم پہ آ جاتی ہے جبکہ خدا اپنی مخلوق کو اس عیاش اور ظالم طبقہ کے حوالے نہیں کرنا چاہتا ۔ سود چونکہ عالمی ننگ وفقر کا بنیادی سبب ہے ، اسی وجہ سے یہ بہت بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔

مگر آپ غور کیجئے گا کہ موجودہ بنکاری نظام ، اس سودی نظام سے مختلف ہے جو فتح مکہ سے لےکر، گزشتہ صدی تک اس دنیا میں رائج رہا ہے۔ (اور اب بھی فردی شکل میں باقی ہے ) – اس لئے کہ اس بنکاری نظام میں دو بنیادی سٹیک ہولڈر ہی اپنی حقیقت میں ان سے مختلف ہیں جو زمانہ نبوی میں موجود تھے ۔ یعنی سود پررقم دینے والا مہاجن ( یا سیٹھ ) اورقرض لینے والا ضرورت مند ( یا محتاج )۔ اسکی وضاحت آگے آئے گی۔
بنک میں قرض خواہ اور قرض دہندہ کا سٹیٹس بدلتا رہتا ہے۔ کبھی تو عام لوگ ، بنک کو قرض دیتے ہیں( یعنی اکاونٹ کھولتے ہیں ) اس شرط پرکہ مقررہ میعاد بعد زیادہ پیسہ واپس لے سکیں ۔ اور کبھی عام لوگ بنک سے قرض لیتے ہیں اس شرط پر کہ ایک میعاد بعد زیادہ پیسہ واپس کریں گے ۔ بادی النظر میں یہ سود ہی لگتا ہے مگر ” علت ” پر غور کرنے سے شاید نتیجہ مختلف نکلے گا۔ ( بنیادی بات یہ کہ فی زمانہ، بنک اور کسٹمر، ہر دوفریق میں کوئی  مجبور وبے کس نہیں ہوتا جسکی بنا پر کہا جائے کہ اسکا خون چوسا جارہا ہے )۔
چونکہ پاکستان کے معاشی سسٹم میں دو طرح کا بنکاری نظام مروج ہے (سرکاری اور پرائیوٹ) تو آگے ان دونوں بارے الگ الگ بات کرتے ہیں۔
موجودہ سرکاری بنکاری میں ، نہ صرف یہ کہ زمانہ جاہلیت والے ” سیٹھ ” کا وجود نہیں ہے بلکہ دولت کا یک فردی ارتکاز بھی نہیں ہوتا۔
عوام جس سرکاری بنک سے ” سود ” پہ قرض لیتے ہیں ، وہ دراصل خود عوام سے ہی قرض لے رہے ہوتے ہیں ( پبلک بنک عوام کے ٹیکسوں سے وجود میں آتے ہیں )۔ یہ تقریباً  ایسی صورت ہے جیسا کہ محلے میں کمیٹی ڈالی جاتی ہے ۔ فرق یہ ہے کہ بنک کو اصل قرض سے زیادہ پیسہ واپس کیا جاتا ہے ( جسے وہ منافع کہتے ہیں) مگر وہ بھی ایک ” سیٹھ ” کی جیب میں نہیں جاتا بلکہ اس منافع کا ایک حصہ ، بنک کے ملازمین کی معاشی بہتری میں صرف ہوتا ہے ۔ (یہ صورتحال، دورنبوی والی نہیں)۔
یہ بنک ملازمین کسی سیٹھ کے گھر کے خاندانی منشی نہیں ہوتے بلکہ عوام میں سے ہی میرٹ پہ سلیکٹ کیے جاتے ہیں ۔ پھر یہ کہ انکی تاحیات ملازمت نہیں ہواکرتی بلکہ بنکوں کے سربراہ بھی ریٹائر ہوجایا کرتے ہیں جس کا مطلب یہ کہ یہ ایک مافیا نہیں بن جاتا۔ (یہ صورتحال بھی ، دورنبوی والی نہیں)۔
البتہ اس منافع ( یا انٹرسٹ) کا ایک حصہ حکومت کوجاتا ہے جو ظاہر ہے کہ کسی خاص فرد کو امیر سے امیر ترنہیں بناتا بلکہ عوام ہی کی فلاح کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ (یہ صورتحال بھی، دورنبوی والی نہیں)۔
بنک کے کسٹمرز کو بھی جو ” سود ” ملتا ہے ، وہ بھی سیٹھ یا مافیا نہیں ہوتے بلکہ عوام ہی ہوتے ہیں اور دوسرے یہ ایک ڈکلئرڈ پیسہ ہوتا اور متمدن ریاست اس پہ بھی ٹیکس کٹوتی کیا کرتی ہے۔ (یہ صورتحال بھی، دورنبوی والی نہیں ) ۔
مختصر یہ کہ سرکاری بنک کے سسٹم میں نہ توایک سیٹھ ہوتا ہے ، نہ کوئی  امیر طبقہ بنتا ہے اور نہ ہی دولت کی گردش ، ایک خاص طبقہ میں جاکر رک جاتی ہے۔ (جیسا کہ دور نبوی میں ہوتا تھا ) ۔
اب ذرا نجی بنکاری کا کیس بھی دیکھ لیجئے جسکا مالک ایک سیٹھ ( یا ایک گروپ) ہوتا ہے۔
بظاہر یہ وہی ” مکہ کے سیٹھ ” والا کیس لگتا ہے کیونکہ یہاں بھی سارا منافع سیٹھ کو ہی جاتا ہے مگرواضح ہو کہ مکہ والے سیٹھ پر سوسائٹی کو ریٹرن کرنے کی کوئی پابندی نہیں ہوا کرتی تھی۔ جبکہ موجودہ سیٹھ (یا گروپ) کومارکیٹ میں مسابقت کا بھی سامنا ہے اور اپنی آمدن پر، ریاست کوانکم ٹیکس بھی دینا پڑتا ہے ۔ جتنی زیادہ آمدن ہوگی ، اتنا ہی زیادہ ، اپنے حصے کا انکم ٹیکس سوسائٹی کی فلاح کیلئے واپس کرے گا۔ (چنانچہ یہ بھی مکہ والے سودخوروں سے الگ نوعیت کا کیس ہے جو الگ سٹڈی مانگتا ہے )۔

خاکسار کی رائے یہ ہے کہ چونکہ موجودہ بنک سسٹم کا اصل ٹارگٹ ، عالمی پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کرنا ہے جسکی بنا پر عوام میں روزگار کے مواقع بڑھتے ہیں لہذا یہ اپنی اصل میں وہ سودی نظام نہیں ہے جسکے بارے میں قرآنی وعید آئی  ہے ۔ یہ ہوسکتا ہے کہ اس میں ذیلی طور پر کوئی  ایسا شعبہ بھی موجود ہو جس میں روایتی سود کی شکل پائی  جاتی ہو تو ” ذیلی وجہ ” ہونے کی بنا پر بھی ملازمین کے رزق حلال پہ اثر نہیں پڑتا ۔ آج کل بڑے شا پنگ مالز میں تجارت بڑھانے کیلئے لاٹری کا سسٹم استعمال کیا جاتا ہے جو تقریباً  جوے کی شکل ہے ( اور جوا بھی سود کی طرح ہی حرام ہے )۔ اس ذیلی لاٹری سسٹم کی وجہ سے ، شاپنگ مال کی ملازمت حرام نہیں ہو جاتی ۔ لہذا ، بنک ملازمین کوبھی کسی احساس گناہ کا شکار نہیں ہونا چاہیے –

ظاہر ہے کہ خاکسار کی رائے فتوی کی حیثیت نہیں رکھتی۔ اگر کوئی  مولوی صاحب مصر ہیں کہ موجودہ معاشی نظام وہی پرانا سودی نظام ہے تو فقط یہ کہہ دینے سے اسکی ذمہ داری ختم نہیں ہوجاتی – کیونکہ “عالم دین” کہتے ہی اس آدمی کو ہیں جو نا صرف اپنے زمانے کے مسائل کو سمجھتا ہو بلکہ انکا حل یا متبادل پیش کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔
پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ یہاں مفتی تقی عثمانی جیسے علماء موجود ہیں جنہوں نے جدید معاشیات میں نا صرف ڈگری لی ہوئی  ہے بلکہ موجودہ معاشی ایشوز پر اسلامی نکتہ نظر سے تصنیف وتالیف بھی کی ہے اور میزان بنک کی صورت میں ایک متبادل اسلامی معاشی سسٹم بھی پیش کیا ہے ۔
حیرت کی بات یہ کہ مفتی تقی عثمانی پرانکے ہی ہم مسلک چند ٹھیٹھ مولوی صاحبان معترض ہیں۔( ایسے ملاؤں نے خود ایک ہی معاشی کارنامہ انجام دیا ہے کہ مضاربہ کے نام پر معصوم عوام کے اربوں روپے لوٹ لے گئے ہیں )۔

میزان بنک کے ریفرنس سے مفتی صاحب پہ یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ انہوں نے “حیلے بہانے” سے سودی نظام کوہی اسلامی نظام کا نام دے رکھا ہے۔
چلیں یہی فرض کرلیں کہ عثمانی صاحب نے عالمی معاشی نظام کے متبادل صرف ایک حیلہ اپنایا ہے تو کیا حیلہ بنانا شرعاً  گناہ ہے ؟ ۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ کسی عوامی مسئلہ کے حل کی خاطر حیلہ جوئی  کرنا ، عیب نہیں بلکہ مستحسن کاوش ہوتی ہے کہ اسی کو فقہ کہتے ہیں ۔ ( خود قرآن نے ایوب ( ع ) کو حیلہ بتایا کہ 100 لکڑی مارنے کی قسم ، ایک ایسی جھاڑو کی ایک ضرب سے پوری کر لو ، جس میں لکڑی سے بنے 100 ریشے ہوں ) ۔
البتہ ، اچھی حیلہ سازی کی طرح ، بُری حیلہ سازی بھی ہوا کرتی ہے۔
کسی زمانے میں ہمارے علاقے کے سود خور مشہور ہوا کرتے تھے ۔ مثلاً کسی مجبور کو ایک لاکھ روپے قرض درکار ہے تو اس شرط پہ ملے گا کہ سال بعد ، 25 ہزار سود بھی ساتھ دینا پڑے گا۔
جب یہ لوگ تبلیغ میں لگ گئے تو مولوی صاحبان نے ان کو کاروبار حلال کرنے کا حیلہ سمجھایا ۔ اب ایک موصوف نے ” علماء ” کے مشورہ سے ایک موٹر سائیکل شوروم کھول لیا ہے جس میں موٹر سائیکل کی قیمت ، نقد میں ایک لاکھ اور سال کی قسط ( یا لیز) پہ 1لاکھ 25 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے – جس مجبور کو قرض درکار ہے وہ شوروم پر آتا ہے ۔ ایک موٹر سائیکل پر ہاتھ رکھتا ہے کہ یہ میں نے قسطوں پر خرید لی ہے اور سال بعد اسکی قیمت مبلغ سوا لاکھ روپے ادا کردوں گا ۔ اب شوروم کا مالک ، اسکو ایک لاکھ روپے دیکر، واپس وہی موٹر سائیکل اس ” نئے مالک ” سے نقد پرخرید لیتا ہے – یعنی موٹرسائیکل بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلتی ، قرض خواہ کو نقد ایک لاکھ بھی مل جاتا ہے ، اسے سال بعد 25ہزار زیادہ واپس بھی کرنا ہے مگرسود کا ” گناہ ” بھی نہیں ہوتا ( رند کے رند رہے ، ہاتھ سے جنت نہ گئی )۔

بہرحال ، مفتی عثمانی صاحب سے ذاتی عقید ت باوجود ، خاکسار کا موقف ہے کہ اجتماعی مسائل بارے ( چاہے سماجی ہوں یا معاشی ) ، کسی فراد واحد کوفیصلے کا حق نہیں دینا چاہیے ۔ اجتماعی امور بارے ، صرف اسلامی نظریاتی کونسل کو ہی دینی موقف دینا چاہیے –
دیکھیے، دنیا کا معاشی و سماجی و سیاسی نظام بہت پیچیدہ ہوچکا ہے ۔ اب ایسے موضوعات پرصرف کتابی موقف نہیں چل سکتا بلکہ گراونڈ ریالٹی کو بھی دیکھنا پڑتا ہے جو دین اسلام کا خاصہ ہے اوراسی کو تفقہ فی الدین کہتے ہیں۔ پیغمبر اسلام نے ، عرب میں رائج طاقتور سودی معیشت پراس وقت ضرب لگائی تھی جب مملکتِ اسلامی ، اس سودخور مافیا سے زیادہ طاقتور ہو چکی تھی ۔ ( اس سے اسلام کی معاملہ فہمی واضح ہوتی ہے )۔
سود کے مسئلہ پر ہمہ وقت حکومت کو ” تڑیاں ” لگانے والے اور عوام کو ٹنشن میں رکھنے والے جملہ مشتعل مومنین کرام سے ہم یہ گذارش کرتے ہیں کہ اپنی توانائیاں ، قوم کی معاشی ترقی کیلئے استعمال کیجئے ۔ جب آپکو یہ قوت حاصل ہوجائے گی تو دنیا ، بغیرکہے بھی آپکو فالو کیا کرے گی۔
والسلام

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *