اذیت پسندی ،میں اور چھٹکی۔۔عارف خٹک

SHOPPING

2014 سے ایک کتاب لکھنے کی کوشش کررہا ہوں۔لیکن مکمل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ جو بھی لکھتا ہوں۔ دو ماہ بعد اپنا لکھا ہوا بُرا لگنےلگتا ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں اب تک پندرہ ابواب سے آگے نہیں بڑھا۔ سو نئے سرے سے لکھ کر پھر دو ماہ بعد بقول کرنل محمد خان کے، کہ دھمڑیاں نکالتا رہتا ہوں۔ جو پندرہ ابواب چار سال پہلے لکھ ڈالے تھے۔وہ اب تک جُوں کے تُوں پڑے ہوئے ہیں۔ بس اب تھک گیاہوں۔سمجھ نہیں آرہی کہ یہ تھکن بیزاری کی ہے۔یا پھر اپنے احساسات کو صفحوں پر اُسی طرح سے نہ بیان کرسکنے کی جھنجھلاہٹ۔معلوم نہیں عمر کے کسی حصے میں چھپنے کی قابل ہوگی بھی یا نہیں۔

ایک ماہ قبل دوسری کتاب پر کام شروع کرلیا۔ پہلے پہل تو بہت آسان لگا۔کہانی ہی تو تھی۔ ایک سادہ سی داستان۔ کچھ خواب تھے جو ادھورے تھے۔کچھ حادثے تھے جن کی یادیں آج بھی عذاب سے ہمکنار کررہی ہیں۔ اور جن کی اذیت شاید ہی کبھی کم ہو۔سوچا،لکھنا ہی تو ہے۔ سو قلم کاغذ اٹھا کر صفحات کے صفحات کالے کرتا چلا گیا۔ شروع شروع میں روزانہ بیس صفحات تک آرام سے لکھنے لگا۔مگر جوں جوں لکھتا گیا، ہاتھ پیر پُھولنے شروع ہوگئے۔

کرک کے ایک پسماندہ گاؤں سے شروع ہونے والی یہ کہانی۔غربت، احساسِ محرومی، بےنام اندیشے، دس سالہ بچے کے معصومانہ جذبات، لاحاصل خواہشات،اور سخت گیر والد کے ساتھ ایک عجیب اور نا سمجھ میں آنے والا باپ بیٹے کا رشتہ۔ پھٹے پُرانےآنچل والی ایک غریب ماں،اُس کی بےلوث محبت،جو قدم قدم پر بیٹے کی راہ سے کانٹے چُنتی رہی۔اور دس سالہ بچے کا انداز بیاں۔یہاں تک سب ٹھیک چل رہا تھا۔جب اُس بچے کو چھوٹی سی عُمر میں قدم قدم پر زندگی تلخیوں کا مزا چکھا  دیتی ہے۔
لیکن کہانی جب پاکستان سے نکل کر روس کی سر زمین پر جا پہنچتی ہے۔تو مشکل سے مشکل ہوتی جاتی ہے۔ریڈ سکوائر کے بینچ پر وہی دس سالہ معصوم بچہ، جو گُل روس کی سر زمین پر کھلا رہا ہے۔ واللہ قلم کےساتھ ساتھ روزانہ میں بھی پسینے میں شرابور ہورہا ہوں۔سو صفحات صرف روس پر لکھ لئے۔کہانی بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی،کہ اچانک پھر سے یکسانیت کا شکار ہوگیا۔
مسودہ اُٹھا کر دوبارہ پڑھنا شروع کیا۔تو اندازہ ہوا کہ اب جوؤں کیساتھ ساتھ بالوں سے لیکھیں بھی نکالنی ہوں گی۔ مسودہ جوں کا توں آرام سے رکھ دیا۔اور پہلی فرصت میں ماسکو کا ویزہ اپلائی کیا۔ پیر کو ویزہ بھی آجائےگا۔
پندرہ سال کے بعد پھر ماسکو جارہا ہوں۔ وہیں جاکر اس دس سالہ غریب،معصوم اور حساس بچے کو لومونسوف سٹیٹ یونیورسٹی کے مرکزی دروازے پر جا پکڑوں گا۔ پھر اس بچے کو “میخائیل لومونسوف” کے مجسمے کے نیچے بٹھا کر یہ پوچھوں گا،کہ اس نے کیا کھویا اور کیا پایا ؟
پھر ماسکاوا دریا کے کنارے تھرڈ رنگ روڈ پر اس لڑکی “چھٹکی” سے گفتگو کروں گا۔جس نے ماسکو جیسے رنگین شہر میں ایک بھی نماز قضاء نہیں کی،لیکن عشق کی نماز قضاء کر گئی۔
اُس سے اجازت لےکر خان مسجد میں،میں نے بھی عشق کی کُچھ قضاء نمازیں پڑھنی ہیں۔
ریڈ سکوائر پر بیٹھ کر اپنے افغانی دوست سید گل کے آنسو پونچھوں گا۔ جو 9/11 کے بعد افغانستان پر امریکی ممکنہ حملے میں، اپنے خاندان کو بچانے کابل بھاگا۔اپنے دوست سے دو ہزار روبل اس وعدے پر اُدھار لےکر،کہ واپس آکر چُکا دوں گا۔ مگر آج تک سید گُل کا پتہ نہیں چلا۔ آج بھی کرک کا غریب کلاس فیلو اُس کا انتظار کررہا ہے۔پتہ نہیں سید گل کون سے قبر کا مکین ہے۔ورنہ جلال آباد جاکر اس کی قبر پر بیٹھ کر اس پر بیتےحالات ضرور سُنتا۔
ماسکو کریملین کے سامنے اس نمازی لڑکی “چھٹکی” کو بٹھا کر کمیونزم پر جھوٹی داستانیں سناتے سُناتے اپنا نام “خان صاب” رکھوانے والا بےضرر سا لڑکا۔ مجھے اُس کے بچگانہ جھوٹ ایک دفعہ پھر کریملین کے سامنے والی سڑک پر سُننے ہیں۔
مجھے ایک دفعہ پھر کونکوف ڈسٹرکٹ کے اس سستے ریسٹورانٹ میں جانا ہے۔ جہاں اس اداس لڑکے نے تین ماہ تک مسلسل انجانے میں سؤر کا برگر کھایا،کہ سستا ہوتا ہے۔

میں ٹرانس میں جاچُکا ہوں۔ ڈپریشن کی انتہاؤں کو چُھو رہا ہوں۔ شاید اب دوبارہ کچھ کرنے کے قابل نہ رہوں۔ کیونکہ یہ کتاب شاید آپ کے لئے پانچ چھ سو صفحات کا پلندہ ہو۔ مگر میرے لئے ایک عذاب ہے۔ جو مُسلسل سہہ رہا ہوں۔
سوچتا ہوں۔۔ بانو قدسیہ نے “راجہ گدھ” کیسے لکھی ہوگی؟ اپنے آپ کو کتنی بار مارا ہوگا۔ مُمتاز مُفتی نے “علی پور کا ایلی” میں اپنے ضمیر کو کتنی بار تھپکیاں دے دے کر سُلایا ہوگا۔ کتنی بار وہ لفظ لکھتے لکھتے رویا ہوگا۔اور روتے روتے پھر ہنسا ہوگا۔
کتاب لکھنا ایک عذاب ہے۔ ایک سزا ہوتی ہے۔ جو خود کو دینے میں مصنف کو مزہ آتا ہے۔ اس لئے تو لکھنے والوں کو لوگ اذیت پسند کہتے ہیں۔اور بالکل صحیح کہتے ہیں۔

SHOPPING

شکریہ  چھٹکی،اگر تم نہ ہوتیں تو کرک سے ماسکو، ماسکو سے کینیڈا اور کینیڈا سے کابل تک پھیلی یہ داستاں تا قیامت نظروں سے اوجھل ہی رہتی۔ کاش میں آپ کو ماسکو کی ہڈیاں جما دینے والی سردی میں ان چار کرداروں سے بنفس نفیس ملوا سکتا۔ کاش!

SHOPPING

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *