اور وہ اپنی ہی سانسوں میں جل گئے۔۔ایم بلال ایم

حرارت زندگی ہے مگر حرارت کی بے احتیاطی موت ہے۔ بے شک ہم سیانے نہ سہی، مگر سیانوں کے پاس بیٹھتے رہتے ہیں۔ مگر ہوتا کیا ہے کہ جب سیانے احتیاطی تدابیر بتائیں تو عموماً لوگ ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتے ہیں یا پھر کہتے ہیں کہ اتنی احتیاطیں بھی اچھی نہیں ہوتیں اور بندے کو اتنا ڈرپوک بھی نہیں ہونا چاہیے۔ کر لو گل۔۔۔

خود سوچیں! اس معاشرے کا کیا ہو گا، جہاں احتیاط کو بزدلی اور بیوقوفی کو بہادری سمجھا جاتا ہو۔ خیر کوئی جو بھی سمجھے، ہمارا کام ہے کہ سیانوں کی کہی اور آزمائی باتیں آگے کہہ دینا۔ بے شک میں خود کئی معاملات میں ضرورت سے زیادہ احتیاطی تدابیر کا قائل نہیں مگر جو نہایت ضروری ہیں اور سائنس سے ثابت شدہ ہیں، ان کا سختی سے قائل ہوں۔ مثلاً ایک دفعہ دور دراز پہاڑوں میں کیمپ سائیٹ پر ایک بندے کو چھوٹے سے خیمے کے اندر چولہا جلائے، کھانا گرم کرتے دیکھا تو اسے منع کیا۔ سیدھی سی بات تھی مگر وہ آگے سے اپنے دلائل دینے لگا کہ کچھ نہیں ہوتا، باہر بہت سردی اور ہوا بھی چل رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔ لاکھ سمجھانے کے باوجود بھی وہ ماننے پر ہی نہیں آ رہا تھا۔ آخر میں نے تنگ آ کر کہا کہ بھائی بھوکے سو جاؤ مگر خیمہ میں چولہا نہ جلاؤ۔ ورنہ ہمیں بتا دو کہ جب تمہیں آگ لگے تو ہم کیا کریں؟ آیا جلتے ہوئے کو اٹھا کر نیچے کھائی میں بہتے دریا میں پھینک دیں یا پھر جب تم کوئلہ اور پھر راکھ بن جاؤ تو تب تمہیں دریا میں بہائیں۔۔۔

اکثر اوقات لوگوں کو معلوم بھی ہوتا ہے مگر پھر بھی سستی کے ہاتھوں بے احتیاطی کر جاتے ہیں، یا پھر عموماً لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ تو کوئی اور لوگ تھے جن کے ساتھ فلاں فلاں   حادثہ ہوا، بھلا ہمارے ساتھ ایسا تھوڑی ہو گا۔ حالانکہ جن کے ساتھ ہوا ہوتا ہے، اپنے تئیں وہ بھی کچھ ایسا ہی سوچتے تھے کہ ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہو گا۔۔۔ آئے روز اخبارات میں پڑھتے ہیں کہ بند کمرے میں آگ جلانے یا دھکتے کوئلے رکھنے سے دم گھٹ کر اتنے لوگ مر گئے۔ کئی دفعہ خبر ہوتی ہے کہ گیس لیکیج سے دم گھٹا۔ گیس لیکیج خطرناک تو ہوتی ہے مگر دم گھٹنے کا معاملہ یوں ہے کہ جب کوئلے دہکتے یا آگ جلتی ہے تو وہ آکسیجن کھاتی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ساتھ ساتھ دیگر گیسیں بناتی ہے۔ انسان کو سانس لینے کے لئے آکسیجن کی ضرورت ہے اور جب کمرے میں آکسیجن کم ہوتی ہے تو ظاہر ہے کہ انسانی دماغ کو کم آکسیجن ملنے سے وہ کام کرنا چھوڑنے لگتا ہے۔ اگر انسان سو رہا ہو تو اسے پتہ بھی نہیں چلتا اور وہ سویا ہی ہمیشہ کے لئے سو جاتا ہے۔ بند کمرے میں آگ جلنے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آگ کاربن مونو آکسائیڈ گیس بھی بناتی ہے اور یہ زہریلی گیس ہے۔ اس کی تھوڑی سی مقدار جاگتے انسان کو بھی اکثر اوقات دروازہ کھولنے کی مہلت تک نہیں دیتی۔ آکسیجن کی کمی سے بیہوش ہونے والا بندہ پھر بھی کچھ وقت زندگی موت کی کشمکش میں رہتا ہے مگر کاربن مونو آکسائیڈ جلد ہی کام تمام کر دیتی ہے۔

کوئی لمبا چوڑا لیکچر نہیں جھاڑوں گا۔ بس اتنی سی عرض ہے کہ گیس اور آگ کے حوالے سے احتیاطی تدابیر پر ضرور عمل کریں۔ اس معاملے میں آج کل ایک اور موت کا سوداگر حرکت میں ہے اور وہ ہے گیس والا انسٹنٹ گیزر(Instant Geyser)، جس سے پانی فوری گرم ہو جاتا ہے۔ حالانکہ کمپنیوں نے اس کے اوپر یا ساتھ ملنے والے کاغذات پر واضح لکھا ہوتا ہے کہ اسے بند جگہ پر نہ لگائیں بلکہ ہوا دار جگہ پر لگائیں۔ مگر وہی کہ ہمارے ہاں لوگ ایسی باتوں پر کب کان دھرتے ہیں۔ اوپر سے اکثر کاریگروں(پلمبرز) کو بھی علم نہیں اور وہ انسٹنٹ گیزر عموماً غسل خانے(واش روم) کے اندر ہی لگا دیتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ کوئی احتیاط کرے تو گیس سورس(سلنڈر وغیرہ) باہر رکھ دیتا ہے۔ حالانکہ گیس لیکیج کی احتیاط کے ساتھ ساتھ یہ نہایت اہم نکتہ بھی سمجھنے والا ہے کہ جب گیزر میں آگ جلتی ہے تو وہ آکسیجن کی کمی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی زیادتی یا کاربن مونو آکسائیڈ کا باعث بنتی ہے۔ یوں غسل خانے میں نہانے والے کو پتہ بھی نہیں چلتا اور وہ بیہوش یا پھر اللہ نہ کرے کہ مر جاتا ہے۔۔۔

پچھلے دنوں ایک مختصر سا سروے کیا اور اس میں یہ بات سامنے آئی کہ اکثر لوگوں نے انسٹینٹ گیزر غسل خانے کے اندر ہی لگا رکھے ہیں۔ جب کئی لوگوں کا تفصیلی انٹرویو لیا تو ہر دوسرے شخص نے کہا کہ ہاں ہاں ہمارے غسل خانے میں نہاتے ہوئے فلاں کو چکر آئے تھے۔ فلاں نیم بیہوش ہو گیا۔ فلاں کا سانس اکھڑنے لگا مگر وہ جلدی سے باہر آ گیا۔ اور سبھی کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ ایسا کیونکر ہوا۔ اکثر تو اسے معمولی بات سمجھ کر نظرانداز کر گئے۔ ایک تو اس قدر خطرناک معاملہ اور اوپر سے معلومات کا فقدان، گویا اس بارے زبردست آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ میرے جاننے والوں میں انسٹنٹ گیزر کے ایک دو حادثات ایسے بھی ہو چکے ہیں کہ جن میں بندہ مر گیا۔ اور ہفتہ بھر پہلے جس کو اپنے ہاتھوں قبر میں اتارا، غالب امکان یہی ہے کہ وہ بھی انسٹنٹ گیزر کا شکار ہوا۔۔۔ یہ تحریر پڑھنے والے یقیناً کئی لوگ ایسے بھی ہوں گے، جو کہیں گے ”لو جی! ہمارے تو غسل خانے میں ہی گیس والا انسٹینٹ گیزر لگا ہے مگر ہمیں تو کچھ نہیں ہوا“۔ اللہ کرے کہ آپ کو کبھی کچھ نہ ہو۔ لیکن سچ یہی ہے کہ آپ نے موت کی تلوار اپنے سر پر لٹکا رکھی ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ آج تک اتفاق سے گیزر اتنی دیر مسلسل جلا نہیں ہو گا جس سے جان لیوا حد تک آکسیجن کم اور دیگر گیسیں بنتیں۔ یا پھر غسل خانے میں ہوا کی آمدورفت ایسی ہو گی کہ گیس باہر نکل جاتی ہو گی۔ لیکن اگر کسی دن کسی وجہ سے ہوا کی آمدورفت ٹھیک طرح نہ ہو پائی تو۔۔۔ بات سیدھی سی ہے کہ عموماً غسل خانے چھوٹے ہوتے ہیں اور جب ان کے اندر ہی انسٹینٹ گیزر وغیرہ لگا ہو اور ہوا کی آمدورفت بھی نہ ہونے کے برابر ہو یا گیزر تھوڑی زیادہ دیر جلے تو پھر انتہائی خطرناک اور جان لیوا حادثہ بھی ہو سکتا ہے۔

ربِ کریم سب پر اپنا فضل رکھے۔ بس گزارش اتنی سی ہے کہ خطرہ مول لینا ضروری تو نہیں۔ آگ وہاں جلائیں جہاں تازہ ہوا کی آمدورفت ہو اور دوسری کسی چیز کو آگ لگنے کا خطرہ بھی نہ ہو۔ ویسے اک عرصے سے بند کمروں، پرانے کھنڈرات، غاروں اور کنویں کی گہرائیوں میں بھی کاربن مونو آکسائیڈ یا اس جیسی زہریلی گیس ہو سکتی ہے۔ لہٰذا ایسی جگہوں میں داخل ہونے کے لئے بھی احتیاط کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ کبھی بھی گاڑی کو مکمل بند کر کے اس میں سونے کی کوشش نہ کریں۔ کیونکہ گاڑی میں آکسیجن کی کمی ہونے سے بھی بندہ سویا سویا ہمیشہ کے لئے سو جاتا ہے۔ اور گیس سے چلنے والے گیزر کو تو ہمیشہ غسل خانے سے باہر لگائیں۔ اور اگر کسی کا پہلے سے ہی غسل خانے کے اندر لگا ہے تو فوراً سے پہلے ہنگامی بنیادوں پر اسے باہر منتقل کریں۔ اگر ابھی بھی کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی تو یاد رہے کہ آگ کے اس خطرناک کھیل میں جلتے ہوئے کو بہتے دریا میں پھینکنے جیسا بھی کوئی معاملہ نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کی مہلت ملتی ہے کیونکہ اس میں ظاہری طور پر کوئی آگ نہیں لگتی بلکہ انسان اندر ہی اندر اپنی ہی سانسوں میں جل کر چپ چاپ مر جاتا ہے۔
دعا ہے کہ خدا سب پر اپنا فضل رکھے اور ضروری احتیاطی تدابیر اپنانے کی توفیق دے۔ آمین۔۔۔

Avatar
ایم بلال ایم
ایم بلال ایم ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اردو بلاگنگ کی بنیاد رکھی۔ آپ بیک وقت اک آئی ٹی ماہر، فوٹوگرافر، سیاح، کاروباری، کاشتکار، بلاگر اور ویب ماسٹر ہیں۔ آپ کا بنایا ہوا اردو سافٹ وئیر(پاک اردو انسٹالر) اک تحفہ ثابت ہوا۔ مکالمہ کی موجودہ سائیٹ بھی بلال نے بنائی ہے۔ www.mBILALm.com

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *