ہاں ! میں بے وفا تھا ۔۔۔(قسط2)عثمان ہاشمی

خیر ! ساتھ ہی اس نے کمال ہمدردی و نرمی کے ساتھ مجھ سے پوچھا ۔۔۔ “? Was Passiert ” یعنی کہ کیا ہوا ہے ؟

میں جو کہ حالت حال سنانے کو بے تاب بیٹھا تھا جھٹ سے شروع تا آخر ساری ہی آپ بیتی اس کے گوش گزار کر دی ، وہ میری بات تفصیل سے سنے جاتی تھی اور اس کے چہرے کے تاثرات سے لگتا تھا کہ جیسے یہ سب اس کے ساتھ بیتا ہو اور قریب پون گھنٹے سے وہ سردی میں جم رہی ہو۔۔۔

یہ بھی پڑھیں : ہاں ! میں بے وفا تھا ۔۔۔(قسط1)عثمان ہاشمی

جیسے ہی میری بات  مکمل  ہوئی وہ ہلکی سی مسکرائی اور گویا ہوئی کہ کوئی بات نہیں پریشان نہ ہوں کوئی حل نکالتے ہیں ، یہ تو آپ کی خوش قسمتی ہے کہ سامنے والی عمارت میں میرا فلیٹ ہے ،کچھ دیر قبل میں سگریٹ پینے کی غرض سے اپنے ” ٹیرس ” پر نکلی تو نیچے نظر پڑی ،پہلے تو میں نے نظر انداز کیا لیکن جب کافی دیر تک آپ کو پریشانی میں ٹہلتے دیکھا تو مجھے اندازہ ہوا کہ یا تو آپ کی گاڑی خراب ہو گئی  ہے یا ہو نہ ہو کوئی اور مسئلہ ہے، تب ہی میں نیچے چلی آئی ۔۔۔

اور پھر استفسار کیا کہ ” اب ہم کیا کر سکتے ہیں ؟ ”
میرا مطلب میں آپ کی اس صورتحال میں کیا مدد کر سکتی ہوں ؟
میں نے فوراً  کہا سب سے پہلے تو مجھے کوئی فون چاہیے تاکہ میں یا تو گاڑی کھولوانے کے لیے کسی کو بلا سکوں یا پھر کم از کم کسی دوست کے ذریعے اپنے گھر سے اضافی چابی منگوا سکوں ۔

ہاں ! کیوں نہیں ۔۔۔ آپ میرا فون استعمال کر سکتے ہیں ۔۔یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی جیکٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا مگر ساتھ ہی اوہ۔۔۔۔۔ کہتے ہوئے واپس باہر نکال لیا ، میں فون اوپر ہی بھول آئی ، دو منٹ دیجیے ، میں فوراً لے کر آتی ہوں ۔۔۔ یہ کہہ  کر وہ پلٹی اور تیز قدموں سے سامنے کی جانب چل دی ، وہ کچھ قدم بڑھی اور واپس لوٹ آئی ، اور آتے آتے اپنی جیکٹ بھی اتار لی ۔۔۔ میں  اسے ہکا بکا دیکھے جا رہا تھا کہ شاید وہ اپنی جیکٹ اتار کر مجھے احساس دلانا چاہ رہی ہے کہ بندہ سردی میں ” مر ” نہیں جاتا ۔۔۔ وہ بالکل میرے سامنے آئی اور اپنی جیکٹ میری جانب بڑھاتے ہوئے کہنے لگی جلدی سے یہ پہن لیں ۔۔۔ سوری میں کب سے یہاں کھڑی ہوں اور خیال ہی نہیں آیا کہ آپ سردی سے بے حال ہیں ۔

میں  حیرت و استعجاب کے عالم میں ایک نظر اس کے ہاتھ میں پکڑی جیکٹ پر ڈال رہا تھا تو دوسری نظر اس کے جسم کو ڈھانپے ہوئی واحد ” ٹی شرٹ ” پر ، میں نے فوراً کہا ۔۔۔ارے نہیں نہیں ۔۔۔ یہاں بہت سردی ہے اور آپ اپنی جیکٹ مجھے تھما رہی ہیں اور اوپر سے آپ کی شرٹ مجھ سے بھی چھوٹی ہے ۔۔۔ میری بات کو سنی اَن سنی کرتے ہوئے اس نے ہلکا سا قہقہہ لگایا ، اور جیکٹ زبردستی میرے ہاتھ میں تھماتے ہوئے بولی جلدی سے  پہن  لیجیے ۔ میں اوپر سے دوسری پہن کر آتی ہوں ۔۔۔ گو کہ میں سردی سے بے حال تھا مگر اتنی بری حالت بھی نہ تھی کہ اپنی مہربان کو ٹھٹھرنے دیتا ۔۔۔ میں نے  زبردستی جیکٹ اسے لوٹانا چاہی تو اس نے ہونٹ بھینچتے ہوئے اپنی سبز خوبصورت آنکھوں کو پوری طرح سے کھولا اور مقامی زبان میں بولی ” پلیز ” لیجیے یہاں واقعی سردی ہے ۔

میں نے چار و نا چار جیکٹ پکڑی اور ایسے ہی اپنے کاندھوں پر ڈال لی ۔۔۔

وہ فورا ًپلٹی اور پہلے سے بھی زیادہ تیز قدموں سے سامنے کی جانب چل دی ۔۔۔

اس نے سڑک پار کی اور دوسری جانب سے عمارت میں داخل ہونے سے پہلے اونچی آواز میں تقریباً چلائی ۔۔۔ ” Keine Sorge , ich bin gleich da ”
(پریشان نہیں ہونا میں ابھی آئی )

میں نے بھی تقریباً چلاتے ہوئے ہی جواب دیا کہ جب تک آپ لوٹیں گی میں آپ کی جیکٹ لے کر فرار ہو چکا ہوں گا ، اب اس کا چہرہ میں نہیں دیکھ سکتا تھا کیونکہ وہ عمارت مجھے سے تھوڑا دور ہی تھی مجھے صرف قہقہوں کے بیچ اس کی دور سے  آتی ہلکی سی آواز سنائی دی ۔۔۔ ” Ja gerne ”
یعنی شوق سے لے جائیے ۔۔۔

میں واپس پیچھے کو پلٹا اور پچھلے دو گھنٹوں میں اپنی گاڑی پر پہلی دفعہ پیار کی نظر ڈالی ۔۔۔۔ کہ اچھا ہوا تو رُکی ۔۔۔۔ نہ تُو رُکتی نہ ۔۔۔۔

جاری ہے۔۔

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

عثمان ہاشمی
عثمان ہاشمی
عثمان ھاشمی "علوم اسلامیہ" کے طالب علم رھے ھیں لیکن "مولوی" نھیں ھیں ،"قانون" پڑھے ھیں مگر "وکیل" نھیں ھیں صحافت کرتے ھیں مگر "صحافی" نھیں ھیں جسمانی لحاظ سے تو "جرمنی" میں پاۓ جاتے ھیں جبکہ روحانی طور پر "پاکستان" کی ھی گلیوں میں ھوتے ھیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *