• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • مشرقِ وسطی جنگ کا ایندھن بن جائے گا؟۔۔اسلم اعوان

مشرقِ وسطی جنگ کا ایندھن بن جائے گا؟۔۔اسلم اعوان

عراق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب ایران کی القدس فورس کے جنرل قاسم سلیمانی کی اپنے متعمد ساتھیوں سمیت امریکی ڈرون حملے  میں ناگہاں ہلاکت نے مڈل ایسٹ کو ایسی ہولناک جنگ کے دہانے پہ لا کھڑا کیا جس کی گونج دوسری عراق جنگ سے زیادہ مہیب سنائی دیتی ہے،ایرانی قیادت کی طرف سے رومانوی شہرت کے حامل میجرجنرل قاسم سلیمانی کی موت کا بدلہ لینے کا عہد اور امریکہ انتظامیہ کی جانب سے مڈل ایسٹ میں اضافی فورسیز کی تعیناتی سے خطہ میں خوف کی سطح بلند ہوئی ہے۔

تاہم اس امر کا اندازہ لگانا دشوار ہو گا کہ ایران امریکہ کے خلاف کب اور کس نوع کی انتقامی کاروائی کرسکتا ہے۔پچھلے چالیس سالوں سے ایران اور امریکہ کے درمیان پروان چڑھنے والی بے اصل کشیدگی کی متغیر صورتیں ہمیشہ التباسات کی دھند میں چھپی رہیں اور ہرامریکی انتظامیہ نے ایک متعین پالیسی کے تحت مشرق وسطی کی اسرائیل مخالف عرب مملکتوں کو ایرانیوں کے ساتھ انگیج رکھنے کی غرض سے شعوری طور پہ کسی ایسی کارروائی سے گریز کیا جو ایران ریاست کو کمزور کرنے کا سبب بنتی،یعنی امریکیوں نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ ایران جیسی کمزور فوجی طاقت کو مڈل ایسٹ کی مہمل ریاستوں میں پراکسی جنگوں کے ذریعے اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کا موقع  دے کر پورے شرق الوسط کو ایران کے امکانی غلبہ کے خوف میں مبتلا کر کے اپنے حفاظتی کنٹرول میں رکھنے کی پالیسی کو کامیاب بنایا۔

جنرل قاسم سلیمانی ایران کی اسی وار ڈاکٹرین پہ عملدرآمد کے ماہر اور خطہ میں پراکسی جنگوں کے ذریعے ایرانی مفادات آگے بڑھانے کے ذمہ دار تھے،انہوں نے انتہائی نفاست کے ساتھ ایک نسبتاً کمزور فوجی قوت کی حامل ایرانی فوج کو براہ ِ راست تصادم سے بچاتے ہوئے اپنے سے بڑی طاقت کے مقابل بقاءکی آزمائش کو بطریق احسن نبھانے کا فرض ادا کیا۔اس امر میں بھی کوئی شبہ باقی نہیں رہا کہ ایرانی قیادت قاسم سلیمانی کی ناگہاں موت کا انتقام ضرور لے گی اور یہ ردِعمل عام لوگوں کو خوش کرنے کی خاطر محض علامتی کارروائی نہیں بلکہ یہ  سٹریٹیجک اٹیک اور منصوبہ بندی سے منظم کی گئی بامعنی کارروائی ہو گی جو لامتناہی سلسلہ ہائے علل کا سبب بن سکتی ہے۔

بلاشبہ ایران مڈل ایسٹ کی ابھرتی ہوئی علاقائی طاقت ہے لیکن اس کا امریکی فوجی قوت سے کوئی موازانہ نہیں۔ایران کے پاس تین لاکھ پچاس ہزار ریزرو فورس کے علاوہ پانچ لاکھ تئیس ہزار جوانوں پہ مشتمل دنیا کی چودھویں بڑی آرمی موجود ہے لیکن انتہائی فرسودہ ہتھیاروں سے لیس یہ روایتی آرمی،عالمی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے جدید وار ٹیکنالوجی سے محروم اور بے نیل و مرام ہے،ایران کا اگرچہ ایٹمی پروگرام جاری ہے لیکن وہ تاحال ایٹمی قوت بن نہیں سکا۔ایران کے پاس بلاسٹک میزائل پروگرام موجود ہے لیکن اسے ایسے دور مار میزائل میسر نہیں جو امریکہ کو ہدف بنا سکیں،ہرچند کہ ایران کے روس اور چین کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں لیکن وہ کسی عالمی طاقت کا دفاعی اتحادی نہیں بن سکا۔

ایران نے ایک عرصہ سے پاسدران انقلاب کی القدس فورس کے ذریعے خود کو نہایت غیر روایتی انداز میں امریکہ کے ساتھ انگیج رکھا۔ایران مڈل ایسٹ کے کمزورممالک کے داخلی تنازعات کے اندر پراکسی جنگوں کے ذریعے اپنے اثر رو رسوخ اور طاقت کو بڑھاتا رہا۔عراق میں شعیہ ملیشیا ،شام میں بشارالاسد حکومت،یمن میں حوثی باغیوں اور لبنان میں حزب اللہ جیسی عسکری تنظیموں  پہ مشتمل موثر نیٹ ورک اس خطہ میں امریکہ اور اسکی اتحادی حکومتوں کو ہدف بنانے کے لئے اس کا مہلک ہتھیار ہے ۔گویا ایرانی اتھارٹی کی اصل طاقت، مڈل ایسٹ کے وسیع و عریض میدان جنگ میں،تیسرے فریق کے ذریعے جنگ لڑنے کی مہارت ہے،جو نا صرف ایران کے خلاف عالمی ردعمل کی تحلیل کرتی رہی بلکہ یہ بغیر کسی بڑے رسک کے خطہ میں ایران کے دائمی مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کا وسیلہ بھی بنی۔

جنرل قاسم سلیمانی کی زندگی ایرانی طاقت کی اسی جہت کی اساطیری تمثیل تھی۔ابھی حال ہی میں امریکہ کی کانگریشنل ریسرچ سروس نے گزشتہ چالیس سالوں کے دوران امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے خلاف ایران کے چالیس خفیہ حملوں کی فہرست مرتب کی،یہ چالیس کاروائیاں حزب اللہ،پاسداران انقلاب گارڈز اور انٹیلی جنس اداروں کی پراکسی کے ذریعے عمل میں لائی گئی تھیں۔سنہ 1996 میں عراق وار کے دوران شعیہ ملیشیا نے سعودی عرب میں امریکی فورسز کی ہاؤسنگ سکیم میں بم پھوڑکے سینکڑوں امریکی فوجیوں کو ہلاک کیا،حملہ آوروں کو ایرانی ریاست کی مبینہ مدد حاصل تھی،ایران کے غیر مختتم پراکسی رجحانات کو جواز بنا کے امریکی صدر ٹرمپ نے مئی 2018 میں اس ایران امریکہ ایٹمی معاہدہ کو یکطرفہ طور پہ منسوخ کر کے ایران پہ عالمی اقتصادی پابندیاں بڑھا دیں،جسے  2015میں بارک  اوباما انتظامیہ نے عملی جامہ پہنایا تھا۔اس ابطال معاہدہ کے ایک سال بعد ایرانی انٹیلی جنس نے گلف آف امان میں امریکی آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے کے علاوہ جون میں نہایت پراسرار انداز میں امریکہ کا بغیر پائلٹ کے چلنے والا ڈر ون طیارہ مار گرایا۔

ستمبر2019   میں ایران کے حمایتی عراقی شعیہ ملیشیا نے سعودی عرب کی آرمکو آئل فیلڈ پہ راکٹ حملے کیے اور دسمبر میں راکٹ حملوں کی زد میں آ کر ایک امریکن کنٹریکٹر بھی ہلاک ہو گیا۔ماہرین کہتے ہیں 1980کی دہائی میں ایران عراق جنگ میں صدام حسین کی کھلی حمایت کے بعد قاسم سلیمانی کا قتل امریکہ کی ایران کے خلاف دوسری براہ راست کاروائی تھی،جس نے دونوں ملکوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔سنہ 1988 میں امریکی فوج نے ایران کے مسافر بردارطیارہ مار گرایا تھا، لیکن بعدازاں ریگن انتظامیہ نے اس کاروائی کو غلطی تسلیم کر کے معافی مانگ لی تھی۔

سنہ 1983 میں جنگ کے دوران عراق کی مدد کرنے کی پاداش میں ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا نے بیروت میں امریکہ کے سفارت خانہ اور امریکی میرین کی بیرکس پہ تباہ کن حملے کیے لیکن مغربی طاقتیں بوجوہ براہ راست تصادم سے ہچکچاتی رہیں۔حیرت انگیز طور پہ اس وقت امریکی فضائیہ کی طرف سے ایرانی ریاست کی دوسری اہم ترین شخصیت کو ہدف بنانے اور اسکی ذمہ داری قبول کرنے جیسے فیصلے  کی مثال پچھلے چالیس سالوں کی کشمکش کے دوران نہیں ملتی۔لگتا ہے سعودیہ سمیت دیگرعرب ریاستیں اب اسرائیل کےلئے خطرہ نہیں رہیں اس لئے خطہ میں ایران کے پراکسی کردار کی افادیت باقی نہیں رہی۔اگرچہ ماضی میں ایران بھی اپنی کمزور فوجی حیثیت کی وجہ سے امریکہ کے ساتھ براہ راست تصادم سے بچتا تھا لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ قاسم سلیمانی کے قتل کے خلاف اس کا ردِ عمل کمزور ہو گا،جس طرح امریکہ کو موقع  ملا تو اس نے سلیمانی کو نشانہ بنایا ،اسی طرح ایران موقع  پاتے ہی امریکی مفادات کو ہدف بنا سکتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے حالات پہ گہری نظر رکھنے والے ماہرین پیش بینی کرتے ہیں کہ اب عراق اور شام میں شدیدترین شورشیں امریکہ کو دونوں مالک سے اپنی فوجیں نکالنے پہ مجبور کر سکتی ہیں اور توقع ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ میں بکھرے ہوئے تراشیدہ تنازعات کو مہمیز دیکرشعیہ ملیشیا کے ذریعے عراق میں امریکی فورسیز،سفارت کاروں اور شہریوں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ حزب اللہ کے ذریعے لبنان اور اسرائیل میں امریکی فورسیز پہ حملوں اور تیل کے عالمی اثاثہ جات پہ راکٹ فائر کر سکتا ہے،ایرانی پراکسیز سعودی عریبیہ اور متحدہ عرب امارات میں امریکی ائربیسز پہ راکٹ حملے  کرنے کے علاوہ اگلے چند مہینوں میں بالقوی امریکہ کے اندر اور دنیا بھر میں امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو ہدف بنا سکتے ہیں۔عراق وار کے برعکس ایران کے خلاف فوجی کاروائی پورے ایشیا کو جنگ کی لپیٹ میں لے لے گی بلکہ پوری دنیا کی ملٹری تنصیبات،اقتصادیات اور تہذیب و تمدن بھی جنگ کا ایندھن بن سکتے ہیں۔

اہم سوال یہ ہے کہ عام طور پہ واشنگٹن ایران کے ساتھ براہ راست تصادم سے ہچکچاتا رہا لیکن اب حیران کن طور پہ امریکہ نے نا صرف سلیمانی کے خلاف  سامنے سے  کارروائی کرکے ایران کو براہ راست مبارزت کی دعوت دے ڈالی بلکہ اس غیر متوقع حملے  کے بعد امریکی ائرفورس نے عراق میں شعیہ ملیشیا کےخلاف فضائی حملے بھی بڑھا دیئے ہیں،جس سے ایران کے خلاف تاریکی میں لڑی جانے والی بے نام جنگ اب دن کی روشنی اورکھلے میدان میں سامنے ابھر آئی ہے۔

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *