اے شوہر ہٹاں تے نئیں وِکدے۔۔گل نوخیز اختر

یقیناً  آپ نے ایسے شوہر ضرور دیکھے ہوں گے جو دوسروں کی بیویوں کی حد سے زیادہ عزت کرتے ہیں۔ان کی اپنی بیوی پوچھ لے کہ پاکستان کیسے بنا؟ تویوں ’گھوری‘ ڈالتے ہیں گویا ایسے بنا۔پرائی بیوی یہی سوال پوچھ لے تو انتہائی خوشگوار موڈ میں 1857 کی جنگ آزادی سے شروع کرتے ہیں۔اِن کو زکام ہو تو دو قدم اٹھ کر ٹشو پیپر لینے کی بجائے بیوی کے دوپٹے سے ہی کام چلا لیتے ہیں۔گھر میں اِن کی گھن گرج سے پورا محلہ آشنا ہوتاہے تاہم شادی بیاہ میں خواتین سے یوں نفاست اورنپی تلی آوازمیں بات کرتے ہیں گویا خود بھی کوئی خاتون ہیں۔گھر میں بیوی سے لڑائی کے دوران یہ زیادہ غصے میں آجائیں تو دانت پیستے ہوئے باہر نکل جاتے ہیں اور دروازے میں کھڑے ہوکرایک جملہ ضرور کہتے ہیں۔’ہن میری لاش ای واپس آئے گی‘۔چار دن بعد جب ان کا موڈ صلح کا بنتا ہے تو حیلے بہانوں سے کوشش کرتے ہیں کہ بیوی اِن کی طرف متوجہ ہو۔خاتون خانہ لاپرواہی برتے تو باتھ روم میں جاکر ایسی آوازیں نکالتے ہیں گویا قے کر رہے ہوں ۔یہ ہمیشہ کھانے کے وقت بھوک نہ ہونے کا اعلان کرتے ہیں اور عین اُس وقت جب بیوی سونے کے لیے لیٹتی ہے فرمائش کردیتے ہیں ’شکیلہ مینوں بھک لگی اے‘۔یہ موبائل سرہانے رکھ کر سوتے ہیں اس کے باوجود صبح اٹھنے کے لیے الارم لگانے کی زحمت گورا نہیں کرتے بلکہ یہ ذمہ داری بھی شکیلہ کے سر ڈال کر سوتے ہیں۔اِن کا اُٹھنا بھی قسطوں میں ہوتاہے۔ بیوی پہلے آواز دے کر اٹھاتی ہے۔یہ اوں کرکے پھر سو جاتے ہیں۔ دوسری دفعہ وہ اِن کے پاؤں ہلاتی ہے اور ٹائم بتاتی ہے۔ یہ پھر کروٹ بدل کر کسمساتے ہیں۔ البتہ تیسری دفعہ یہ جھٹ سے اٹھ جاتے ہیں کیونکہ موبائل کی بیٹری Low ہونے کی  آواز بجتی  ہے۔

گھر میں مہمانوں کی آمد کے موقع پر ٹرے میں تھوڑا تھوڑا ڈرائی فروٹ رکھ کر پیش کیا جائے تو آدھے سے زیادہ یہ خود چٹ کرجاتے ہیں۔ہر دوسرے روز نہاتے ہوئے اِن کے ہاتھ سے صابن پھسل کر کموڈ میں جاگرتا ہے۔ان کی بیوی کوہمیشہ یہی شکایت رہتی ہے کہ کروٹ بدلتے ہوئے موصوف ساری رضائی اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔تاریخ شاہد ہے کہ ایسے شوہروں نے جب بھی انڈا بنایا، تیل زیادہ ڈالا اور پھوہڑ پن کے طعنے سنے۔

انہیں کبھی کبھی دانشور بننے کا بھی خیال آتا ہے سو کئی دفعہ بچوں کو لے کر بیٹھ جاتے ہیں اور نہایت فلسفیانہ انداز میں آنکھیں بندکیے اُنہیں زندگی کی مشکل گتھیاں سمجھانے لگتے ہیں تاہم بچے اس دوران اطمینان سے ’پب جی‘ کھیلنے میں مصروف رہتے ہیں۔یہ بچوں کو ہمیشہ باپ کی عزت کا درس دیتے ہیں۔کئی دفعہ جب یہ بچوں کو’والد کی اہمیت‘ پر طویل لیکچر دے کر فارغ ہوتے ہیں تو پوچھ لیتے ہیں کہ کوئی سوال؟ اور اکثر کوئی بچہ فوراً پوچھ لیتاہے’ابو ہمارا انٹرنیٹ اتنا آہستہ کیوں چلتاہے؟‘۔

ایسے شوہر خاندان میں ہونے والے ہر جھگڑے کو مدبرانہ طریقے سے حل کرانے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور عموماً خواتین کے حق میں کھڑے نظر آتے ہیں۔یہ جمعہ بھی پڑھنے جائیں تو ایسی گلی سے جاتے ہیں جہاں زیادہ سے زیادہ محلے والے اِن کو دیکھ سکیں۔محلے میں اگر کسی کے گھر چوری ہوجائے تو یہ سب سے پہلے وہاں جائزہ لینے پہنچتے ہیں اور اسی دوران اِن کا موبائل بھی نکل جاتا ہے۔یہ بیوی کو فون کریں اور آگے سے موبائل بند ملے تو پہلا شک یہی گزرتا ہے کہ بھاگ گئی ہے۔یہ بیوی کو ہمیشہ درس دیتے ہیں کہ کبھی کسی غیر مرد پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے تاہم خود فیس بک پر ہر لڑکی کو حوصلہ دیتے نظر آتے ہیں کہ ’آپ مجھ پر پورا اعتماد کر سکتی ہیں‘۔

فیملی میں ہونے والی ہر شادی کے موقع پر انہیں یہی فکر کھائے جاتی ہے کہ شادی کارڈ پراِن کا نام شامل کیا گیا ہے یا نہیں۔اِنہیں ہر اُس لڑکی سے نفرت ہوتی ہے جو اِنہیں انکل کہہ کر  پکارے۔سسرال جاتے ہوئے اگر یہ کسی دوست کی گاڑی لے جائیں اور سسرال والے پوچھیں کہ کس کی گاڑی ہے تو بے نیازی سے کہہ دیتے ہیں ’اپنی ہی سمجھیں‘۔اِن کی بیویاں ساری زندگی چیختی رہتی ہیں کہ خدا کے لیے ٹوتھ پیسٹ کرنے کے بعد برش کو دھو کر رکھا کریں۔ایسے شوہر محفلوں میں بیوی سے اٹھکیلیاں کرتے نظر آتے ہیں۔کوئی فلم دیکھتے ہوئے اگر ان کی بیوی شاہ رخ کی خوبصورتی کی تعریف کردے تو   یہ جھٹ سے موبائل اٹھاتے ہیں اور انٹرنیٹ سے اُس کی بغیر میک اپ گنجی تصویر نکال کر سامنے رکھ دیتے ہیں۔

اِنہیں الیکٹرانک کے کام کرنے کا بھی بہت شوق ہوتاہے اسی لیے جب بھی گھر میں کوئی سوئچ بورڈ خراب ہوتاہے تو فوراً کھول کر بیٹھ جاتے ہیں تاہم کچھ دیر بعد جب ان کی کربناک چیخ گونجتی ہے تو بیوی سمجھ جاتی ہے کہ الیکٹریشن کو بلانے کا وقت آگیا ہے۔ان کو مجبوراً کسی شادی میں ٹائی پہننا پڑجائے تو واپسی پر ساری ٹائی قورمے سے بھری ہوئی ملتی ہے۔یہ بیوی کے لیے کون آئسکریم خرید کرلائیں تو درمیان میں ہی فرمائش کردیتے ہیں ’کپ مینوں دے دئیں‘۔یہ کبھی کبھار خوشگوار موڈ میں بھی ہوتے ہیں لہذا بڑے پیار سے کہتے ہیں ’شکیلہ آج تو بڑی پیاری لگ رہی ہو‘ اور شکیلہ منہ بنا کر کہہ دیتی ہے’پہلے گیزر ٹھیک کراؤ‘۔ایسے شوہر بیوی کی چھوٹی چھوٹی بات سے کیڑے نکالنے کے عادی ہوتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ پائے۔

بیوی اگر نیا سوٹ پہن کر داد طلب نظروں سے دیکھے تو منہ بنا کر کہتے ہیں۔’شکیلہ تمہارا قد کتنا چھوٹا ہے‘۔شکیلہ بھی جل بھن کر جواب میں کوئی چھوٹے پن والا جملہ کہنا چاہتی ہے لیکن قصداً دانت بھینچ لیتی ہے۔ایسے ہی ایک شوہرصاحب کی عادت تھی کہ روزانہ دفتر جاتے وقت گھر کے دروازے پر پہنچ کر طنزیہ انداز میں بیوی کی طرف منہ کرکے بلند آواز میں  فرماتے ’اچھا بھئی خدا حافظ پانچ بچوں کی ماں‘۔ وہ بیچاری کڑھ کر رہ جاتی لیکن چپ رہتی۔ ایک دن حسب معمول قبلہ نے یہی جملہ کہا اور دروازے سے باہر نکلنے ہی لگے تھے کہ پیچھے سے بیوی کی آواز آئی’خدا حافظ تین بچوں کے ابا۔۔۔“

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *