نیند کبھی رہتی تھی آنکھوں میں۔۔محمد اقبال دیوان

SHOPPING

سکردو میں رہتی ہیں ۔وہان ان دنوں پارہ پاکستانی سیاست دانوں کی غیرت کی طرح نقطہ انجماد سے نیچے ہی گرا رہتا ہے۔کل رات شکوہ سنج تھیں کہ کروٹ بدلتے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے گویا برف کے گھر میں غلطی سے پاؤں پڑ گیا ہو۔

ہم نے بتایا کہ یہاں کراچی میں بھی جاڑہ دھوم مچاتا آیا ہے، مگر ہم یادوں کی چادر تان لیں تو گزارہ ہوجاتا ہے۔۔ کہنے لگیں، ہانیا ہڑتالی بیروت والی سے پوچھو جو  لبنان میں ان دنوں حزب  اللہ کے پبلسٹی ونگ میں گھسی ہوئی ہے۔ہم نے کہا وہ آج کل اپنی اماں کی تیمارداری میں لگی ہے، ممکن ہے انتقام کی آگ کی وجہ سے ائیر پورٹ کے ہلاک شدگان کی باوردی تصویر ساتھ رکھ لیتی ہو۔اعتراض ہوا وہ تو ایک سے زائد تھے ۔ہم نے کہا ہم دوسروں کی بستر میں تعداد کا شمار نہیں کرتے۔۔

اگلا مطالبہ تھا کامیا پٹیل سے نیویارک میں پوچھو۔۔ کامیا گھر ہی پر تھی، بستر میں  جانے کی تیاریوں میں مصروف ۔کہنے لگی جس صبح طلاق کے مقدمے میں کلائنٹ سے  فیس ملنی ہو وہ گن پتی بپا کی مورتی ساتھ رکھ لیتی ہے۔۔
مگر وہ تو بھگوان کو نہیں مانتی۔۔سکردو سے نکتہ اٹھایا گیا۔

ہم نے کہا وہ اوراس کی گجراتی ماں اس بات پر متفق ہے ،دھندے سے بڑا کوئی دھرم نہیں۔گنپتی بپا کی وجہ سے ضرور دولت ملتی ہے۔۔

ہم نے کامیا کو کہاہمارے ہاں بھی ایک فخر ِ سادات ہے، حریم شاہ۔۔ اس کی ماں نے بھی دعا دی تھی کہ وہ صبح اٹھے تو بستر پر پانچ لاکھ روپے پڑے ہوں۔۔
کامیا کے قانونی دماغ نے ایک دم پینترا بدلا’’بستر اس کا اپنا ہوتا ہے؟’’
ہم نے کہا ‘’ہم کسی کے بستر کی ملکیت کا لیبل بھی نہیں پڑھتے۔۔

کہنے لگی تمہارا مسئلہ زچگی سے فارغ عورتوں جیسا ہے،
انہیں بھی مارننگ بلیوز ہوتے ہیں ۔کسی کام کا دل نہیں کرتا۔بچے کو دودھ پلانے کا بھی۔

ویسے کامیا کی جو دوست اس کے ہاں ٹھہری ہے وہ برابر صلیب رکھ لیتی ہے۔۔
سکردو میں یہ خیال شدت پکڑگیا کہ ہم سیریس نہیں، زچ ہوکرفرمایا ‘’آئی ۔ڈی یادوں کی چادر دھوبی میں چلی جاۓ تو ساتھ میں طاہر اشرفی کی تصویر رکھ لینا۔تمہارا سنیوں ،وہابیوں،تکفیریوں کااہمReligious-iconہے،ہم نے کہا وہ برابر لیٹا تو بستر پر جگہ کہاں رہے گی۔۔تم تو ہمیں اس سردی میں زمین بوس کرنا چاہتی ہو۔

کہنے لگی اس بکواس کو سن کر میرا خون کھول رہا ہے ۔i am now hot enough.let me sleep.

SHOPPING

اب کوئی باتوں ہی سے گرم ہوجاۓ تو گزارا ہم فقیروں کا بھلے کیسے ہو!

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *