اچھوت مسلمان۔۔حبیب شیخ

ارے بھئی تم اُدھر بیٹھ کر کھانا کھاؤ۔نوجوان کارندے نے سختی سے کہا۔
اِدھر بھی تو لوگ بیٹھے ہیں میرے اِدھر بیٹھنے ميں کیاحرج ہے۔ بھئی اب تو ميں مسلمان ہوں۔ میں اور میرا بھائی ہندو دھرم چھوڑ کر مسلمان ہو گئے  ہیں ۔ اُس نے ڈرتے ڈرتے ہمت کرکے بات مکمل کی۔۔

تمہیں پتا نہيں کہ تم اِدھر نہيں بیٹھ سکتے! سب ہلا جاتیوں کو الگ بٹھایا ہے۔
میرے کو بھی تو چودھری صاحب نے کھانے کی دعوت دی ہے تم مجھے الگ کیوں بٹھاتے ہو؟
بھئی تم کیامغج ماری کر رہے ہو۔ تم لوگ بھنگی کا کام کرتے ہو ،انسانوں کا گوں اٹھاتے ہو ،تمہارے کپڑے ناپاک اور تمہارا جسم گندا ہے ۔
ميں خدا کی قسم نہا دھو کر صاف کپڑے پہن کر آیا ہوں۔
لیکن تمہاری جات تو ہلا ہے ،باقی لوگ تمہارے پاس بیٹھنا پسند نہيں کرتے۔ اب وکَتَ جائع نہيں کرو جلدی اُدھر چلو۔

مولوی جی نے توَ بتایا تھا کہ اس دھرم ميں کوئی جات پات نہيں ہوتی۔
وہ دیکھو مولوی جی کہاں بیٹھے ہيں۔ ان سے جا کر تو بولو کہ ہلا جاتیوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائیں۔ مسلمان ہونے سے تمہاری جات تو نہیں بدل گئی مسلمان ہو یا ہندو، ہو تو تم ہلا جات کے۔

یہ تو آپن کی سمجھ ميں نہيں آتا۔ جب ميں ہندو دلت تھا تو کوئی دوسری جات کا میرے پاس نہيں بیٹھے اٹھے، کوئی مجھے نہیں چھوئے۔ برابری کے لئے تو ميں نے دھرم بدلا لیکن نقصان ہی نقصان ہوا۔ ہندو دلت کا تو کوٹہ ہے ،ملاجمت کے لئے اسکول کا داکھلے کے لئے۔ ميں نے رجسٹرار کے دفتر جا کر فارم بھر دیا کہ ميں اپنا دھرم بدل رہا ہوں اب تو ميں دلت نہيں ہوں۔ نہ ہمارا ملاجمت میں کوٹا ہے نہ اسکولوں میں اور تم لوگ میرےساتھ ویسا ہی کر رہے ہو جیسے دوسری جات کےہندوکرتےتھے۔

تم مجھے یہ فجول باتیں کیوں بتا رہے ہو؟ چودهری صاحب کا حکم ہے کہ ہلا جات کے لوگ الگ کھانا کھائیں۔

اب توَ میں دلت نہیں ہوں۔ پھر مجھے بھی یہيں اِن سب کے پاس پنڈال میں بیٹھ کر کھانا کھانے دو۔ اُدھر تو سخت دھوپ ہے۔

تُو سنتا کیوں نہيں ہے؟ گوبر کا ٹوکرا سر پر اٹھاتاہے تو لگتا ہے کچھ تیرے دماگ ميں بھی گھس گیا ہے۔ تو اس طرح باتيں کر رہا ہے جیسے دھرم بدل کر کمشنر لگ گیا ہے۔ تجھے کوئی کھاس دعوت دی  گئی تھی ۔۔ پانچ گاؤں ميں سے سب کو بلایا ہے۔ اب اگر اُدھر نہيں کھانا ہے تو چلتے بنو اور ہاں کھيال رکھنا، کبھی چودهری صاحب کی چوپال کے سامنے سے نہيں گجرنا ورنہ ہلا جاتی کو بہت سَکتَ سجا ملتی ہے چاہے مسلمان ہو یا ہندو۔
۔۔۔۔۔۔
کیا کام ہے؟ ‘ نیم مردہ کلرک نے آنکھيں سکیڑ کر اسے دیکھا۔
دھرم بدلنا ہے مسلمان سے ہندو بننا ہے۔
کیوں؟۔۔
مسلما ن بھی ہم کو دلت ہی سمجھے ہیں ، دوبارہ ہندو دلت بن جائيں گے تو کوٹے ميں تو آجائیں گے۔ بچوں کے لئےآسانی ہو جائے گی۔
ابھی تین مہینے  پہلے تو ہندو سے مسلمان ہوا تھا۔ یہ کوئی کرکٹ کا بلّا نہيں ہے کہ جب چاہے بدل لے اب اسی دھرم ميں رہ۔
سرکار جی مہربانی ہو گی، بھگوان آپ پر کرم کرے گا۔ مجھے آپ پر بہت وشواس ہے۔
جا یہاں سے، اچھی طرح جانکاری کرنا تھی دھرم بدلنے سے پہلے۔
بابو جی مجھے لکھنا پڑھنا نہیں آتا جو مولوی جی نے بتایا مان لیا۔۔
اب جا کر مولوی جی کے ساتھ رہ۔
۔۔۔۔۔۔
اے خدا ! اے رام! میرا دھرم کیا ہے؟ یہ مسلمان مجھ کو پسند نہيں کرے ہیں ہندو بھی قبول نہيں کرے ہيں۔ کیا میری جات ہی میرا دھرم ہے؟

Advertisements
julia rana solicitors london

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply