جب رقہ فتح ہوا۔۔ (قسط10)وہارا امباکر

SHOPPING

شام کے مشرقی صوبائی دارالحکومت رقہ دریا کنارے آباد ایک تاریخی شہر ہے جہاں بیرونی حملہ آور آ کر قبضہ کرتے رہے ہیں، یونانی، رومی، فارسی، منگول، عثمانی اور دوسرے۔ اب جہادیوں کی باری تھی۔ 2013 کے موسمِ گرما میں داعش کے دستے سفید پک اپ ٹرکوں میں اس شہر میں آتے تھے اور یہاں پر فری سیرین آرمی ہیڈکوارٹر کے جنگجوؤں کا مقابلہ کرتے تھے۔ایک ایک کر کے یہاں سب کو نکال کر داعش شہر پر قابض ہو گئی۔ شہر کی سوا دو لاکھ آبادی کو دولتِ اسلامیہ کے اقتدار میں زندگی کا تلخ تجربہ کرنے والی پہلی آبادی تھی۔

نئے آنے والوں نے شہر پر قبضہ کر کے وقت ضائع نہیں کیا اور شہر کو اپنا بنا لیا۔ داعش کا جھنڈا شہر کے مرکزی گھنٹہ گھر کے گرد لپیٹ دیا۔ یہاں پر کلاک ٹاور سے فہرست نشر ہو رہی تھی کہ کیا کچھ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ داعش کی اس حکمرانی کی تصویریں بنانے والا رقہ شہر کا بہادر نوجوان ابو ابراہیم تھا۔ اپنے دو ساتھیوں سمیت اس نے اگلے اٹھارہ مہینے تک رقہ میں ہونے والی تبدیلیوں کی تصاویر اور ویڈیوز بنائیں اور انٹرنیٹ پر پوسٹ کیا کہ رقہ میں کیا ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :داعش ۔ سیاہ جھنڈوں کی آمد ۔۔ (قسط9)وہارا امباکر

داعش کی فاتحانہ آمد سے ایک ہفتہ پہلے سڑکوں پر خونی لڑائیاں ہوئی تھیں جس نے سڑکوں کو لاشوں سے بھر دیا تھا۔ شہر کی آبادی گھروں میں محصور ہر کر رہ گئی تھی کہ باہر نکلنے پر گولی کا نشانہ نہ بن جائیں۔ خوراک ختم ہونے لگی تھی۔ اور پھر ایک دن غیرملکی جنگجووٴں کی قطاریں آنا شروع ہو گئیں۔ اکثر کا تعلق عراق سے تھا۔ داعش کی اس فوج نے شہر کی بڑی سرکاری عمارات پر سیاہ جھنڈے لہرا دئیے اور دعویٰ کر دیا کہ رقہ اسلامی ریاست کا دارالخلافہ ہے۔ داعش کے جنگجو ہتھیار لے کر شہر میں اعلان کرنا شروع ہو گئے کہ اب سب ٹھیک ہو جائے گا۔ گلیوں اور سڑکوں پر بکھری لاشیں اٹھانے لگے۔

رقہ کے شہریوں کو نہں پتا تھا کہ یہ کیسے لوگ ہوں گے۔ کچھ نے سکون کا سانس لیا کہ لڑائی ختم ہو گئی ہے۔ دکانیں کھل گئی ہیں۔ شہر محفوظ ہو گیا ہے۔
اور پھر قتل شروع ہو گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابو ابراہیم نے سب سے پہلے ایک نوجوان کو دیکھا جسے داعش کے کمانڈر مجرم کہہ رہے تھے۔ اس کا جرم نہیں بتایا گیا لیکن رقہ کے مرکزی پلازے کے آگے اس کو کھڑا کر کے سزا سنائی گئی۔ پھر اس کے سر میں گولی مار دی گئی۔ ایک چھوٹا مجمع یہ دیکھ رہا تھا۔ اس کے بعد اس کی لاش کو ایک تختے کے ساتھ کیلوں سے لگا کر مصلوب کر دیا گیا۔لاش  تین روز تک سب کے سامنے گلتی سڑتی رہی۔

دوسرے شخص کو اس سے کچھ دن بعد مصلوب کیا گیا۔ اس کے بعد ایک گروپ کو موت کی سزا دی گئی جس میں اسی جگہ پر سات ٹین ایجرز کو مارا گیا۔ کچھ مخالف اور ہارنے والی ملیشیا کے ممبر معلوم ہوتے تھے۔ اس بار ان کے سر کاٹ کر شیر کے پارک کی باڑ کے ساتھ لٹکا دئے گئے۔ لوگ اب خوفزدہ تھے۔ نئی فورس اپنے آمد کا اعلان کر چکی تھی۔

شہر میں تین چرچ تھے جن کو تالے لگا دئیے گئے اور صلیب گرا دی گئے۔ نیلے گنبد والی شیعہ مسجد مسمار کر دی گئی۔ سگریٹ اور الکوحل کے ڈھیر لگا کر نذرِ آتش کر دیا گیا۔ داعش نے اب اپنے نشان بنانا شروع کیے۔ پولیس سٹیشن کو سیاہ رنگ میں رنگ دیا گیا اور اس کو شریعت کورٹ قرار دیا گیا۔ حسبہ کے نام سے مذہبی پویس قائم ہو گئی جن کے پاس اختیار تھا کہ جس کو چاہیں قانون قرار دیں۔ نمازوں کے اوقات میں دکان بند کرنا، لباس اور طرزِ عمل کی پابندیاں آ گئیں۔ موسیقی کی دکانوں کے علاوہ مغربی لباس کی دکانیں بھی بند ہو گئیں۔ خواتین کا عبایا ڈھیلا نہ ہونا یا پھر عبائے کا کپڑا باریک   ہونا جرم قرار پایا۔ معیار؟ جو حسبہ والے کے مزاج میں آئے۔

ان قوانین کی خلاف ورزی پر سزا بھی اس پویس کی صوابدید تھی۔ ڈانٹ، مار، جرمانہ، کوڑے یا اس سے زیادہ شدید ہو سکتی تھی۔ سزائے موت دھڑا دھڑ بٹنے لگی۔ بعض اوقات ایک یا دو ہفتے تک کسی کو نہیں۔ بعض اوقات ایک روز میں پانچ۔ جو اس نئی حکومت کا جی کرے۔ عام لوگوں کے لیے جرمانے اور فیس ہر چیز پر تھے۔ دکان چلانے، گاڑی پارک کرنے، کوڑا اٹھانے کی فیس اکٹھی کی جانے لگی۔ اس سے غیرملکی جنگجووٴں کو تنخواہ دی جاتی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن سب سے برا اس شہر کے بچوں کے ساتھ ہوا۔ کئی مہینے سکول بند رہے۔ پرانے نصاب کو “کافروں کی کتابیں” قرار دے دیا گیا۔ جب سکول کھلے تو اس میں اب داعش کا نصاب تھا۔ شہر میں یتیم ہو جانے والے بچے اور ٹین ایجر عسکری کیمپ بھیج دئیے گئے جہاں پر رائفل شوٹ کرنے اور خود کش ٹرک چلانے کی تربیت پانے لگے۔ ان کمسن لڑکوں کے لئے کلاشنکوف میں کشش تھی۔ اس سے عزت ملتی تھی۔ داعش میں جری جنگجو بھرتی ہونے لگے۔

سوشل میڈیا پر ان کیمپوں کے ورچوئل ٹور کروائے جاتے۔ ٹوئٹر پر ان کی فوٹو اور ویڈیو دکھائی جاتیں جہاں بچے ہتھیار استعمال کرنا اور عسکری تربیت لے رہے ہیں۔ تصاویر جن میں ان لڑکوں کو قیدیوں کو قتل کرتے دکھایا جا رہا ہے۔ پہلے سے بھرتی پُرعزم فوج میں نئے وفاداروں کا اضافہ کیا جا رہا تھا۔

دنیا کے کئی ممالک سے ان کے ساتھ شریک ہونے لوگ آ رہے تھے۔ دس ہزار کی فوج داعش کے پاس تھی۔ دوسرے باغی گروپ جس میں جبہت النصرہ جیسی اسلامسٹ تنظیمیں اور سیکولر فری سیرین آرمی تھے اب یہ دیکھ رہے تھے کہ رضاکار بھرتی کرنے کا مقابلہ داعش آسانی سے جیت رہی ہے۔ اس کی دو وجوہات تھیں۔ ایک تو یہ کہ داعش تنخواہ بہتر دیتی تھی اور دوسرا یہ کہ ان کی نظر شام سے آگے تھی۔ ان کے اس پیغام میں دوسرے ممالک سے آنے والوں کے لئے کشش تھی۔

فیس بک اور ٹوئٹر پر داعش کے پیج روزانہ یورپ، شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ سے آنے والوں کے پیغامات دکھاتے تھے۔ جہاد کے دنیاوی اور اخروی فوائد گنوائے جاتے تھے۔ اگست 2013 میں نصر الدین الشامی نے کہا، “میں داعش کے جھنڈے تلے اس لئے ہوں کہ یہاں عرب اور غیرعرب برابر ہیں۔ یہاں شامی بھی ہیں، مصری بھی، جزیرہ نما سے بھی، مغرب سے بھی، ترکی سے بھی، پاکستان سے بھی۔ ہم سب برادر ہیں اور ہم سب اسلام کے نام پر متحد ہیں”۔ ایک برطانوی ریکروٹ نے کہا، “یہاں پر بہت مزا آ رہا ہے۔ آپ نے کال آف ڈیوٹی ویڈیو گیم کھیلی ہو گی۔ یہ اصل دنیا میں ویسی کھیل ہے۔ سب کچھ آپ کے سامنے ہو رہا ہے”۔ برِصغیر سے آنے والے ایک نے اپنے پیغام میں کہا، “خلافت قائم ہونے لگی ہے۔ عالمِ اسلام کے لئے مسرت کا وقت ہے۔ دوست دشمن کی پہچان واضح ہے۔ اس موقع کو چھوڑ کر جو گھر بیٹھ گیا، وہ خسارے میں ہے”۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رقہ کے بازاروں میں مسلح جنگجو اب مقامی آبادی سے زیادہ کی تعداد میں تھے۔ داعش کا قبضہ مستقل لگ رہا تھا۔ فیس اور بھتہ وصول کرنے کے علاوہ ان کے پاس تیل کی آمدنی تھی۔ شام کے صحرا میں ان کے قبضے میں جو کنویں تھے، ان سے چالیس ہزار بیرل تیل روزانہ بیچا جا رہا تھا۔ کبھی کوڑے مارنے اور کسی کو قتل کر دینے کے درمیان یہ جنگجو آپس میں خوش گپیاں لگاتے یا کیفے وغیرہ میں نظر آتے تھے۔

دولتِ اسلامیہ قائم ہو گئی تھی۔ یا کم از کم اس کا ابتدائی چھوٹا ورژن کیونکہ ہر طرح کا نظم و نسق ان کے پاس تھا۔ ابو ابراہیم کے مطابق، “رقہ کے شہریوں کے لئے پسماندگی اور دہشت کا کلچر رہ گیا تھا۔ فکر کی روشنی بجھ چکی تھی”۔

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

SHOPPING

رقہ پر داعش کا قبضہ 2017 تک رہا جب داعش کو یہاں پر سیرین ڈیموکریٹک فرنٹ کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ داعش کے لئے یہ بڑا دھچکا تھا لیکن اس قبضے کو حاصل کرنے جنگ میں فضائی حملوں اور توپخانے کے گولوں نے اس شہر کی اسی فیصد عمارتیں تباہ کر دیں۔ شہر کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔ ساتھ لگی تصویر سیرین ڈیموکریٹک فورس کے فوجی کی 25 ستمبر 2017 کو لی گئی۔ اس وقت رقہ سے داعش کا قبضہ چھڑوانے کا آپریشن آخری مراحل میں ہے۔

A member of the Syrian Democratic Forces (SDF) walks through the debris in the old city centre on the eastern frontline of Raqa on September 25, 2017.Syrian fighters, backed by US special forces, are battling to clear the last remaining Islamic State (IS) group fighters holed up in their crumbling stronghold of Raqa. / AFP PHOTO / BULENT KILIC (Photo credit should read BULENT KILIC/AFP/Getty Images)
SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *