وفا جن کی وراثت ہو (باب دوئم قسط 3)۔۔سید شازل شاہ گیلانی

امی نے نماز فجر ادا کرنے کے  بعد ابھی تلاوت قرآن شروع کی تھی ، “ان کا فون بج اٹھا ”
“یا اللہ خیر ، اتنی صبح صبح کس کی کال آگئی” وہ پریشان ہو کر لپکیں ۔
“احمد کا نمبر دیکھ کر سکون کا سانس لیا ، ایک تو یہ لڑکا  بھی نا ” اک پل چین نہیں اس کو اب ایسا بھی کیا ہوگیا اس وقت کال کر رہا ہے”
کال لیتے ہی اس کی چہکتی ہوئی آواز کانوں سے ٹکرائی ۔
“السلام علیکم ! امی کیسی ہیں آپ ؟؟”
“ماں کی جان ،ماں صدقے جائے میرا بچہ میں بالکل ٹھیک ہوں۔”
“تم سناؤ اور اتنی جلدی کال کرلی ماں کو سب خیریت ہے نا ؟ ” ماں نے فکر مند لہجے میں پوچھا۔
احمد :”جی امی میں نے آپ کو بتایا تھا سر زین کے بارے میں ۔۔۔”
“ہاں بیٹا ”  کیا ہوا ان کو ؟”
“ارے امی ان کو کچھ نہیں ہوا ، میں ان کی ٹیم میں سلیکٹ ہو گیا ہوں پتہ ہے امی میں کتنا خوش ہوں ان کی ٹیم میں شامل ہونا میرے لئے اعزاز کی بات ہے”
“ماشاءاللہ ،ایسے ہی خوش رہو ہمیشہ میرا بیٹا”
” ویسے ان کی ٹیم میں ایسی کیا خاص بات ہے جو تم خوشی سے جھوم رہے ؟”
“امی ان کی ٹیم میں آرمی کے بہترین شارپ  شوٹرز اور ان میں سلیکٹ ہونا خوش قسمتی ہے ، وہ ایسے لوگ ہیں جو اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کرتے وطن کے لئے ، میرے سب کو لیگز مجھے مبارک باد دے رہے ہیں، تم قسمت والے ہو بھئی جو اس ٹیم میں جا رہے ہو” خوشی کے مارے احمد چہکتا چلا جا رہا تھا اور ماں کے کلیجے میں ٹھنڈ پڑ رہی تھی ، رہ رہ کے دل سے ہزاروں دعائیں نکل رہی تھیں “میرے مالک ،میرے احمد اور ساری ٹیم کو اپنی پناہ میں رکھنا وہ سب بھی میرے احمد جیسے ہیں کیا ہوا وہ اگر میرے سگے بیٹے نہیں تو ،مگر بیٹے تو ہیں جہاں رہیں سدا سلامت رہیں کسی کی بُری نظر نہ لگے ۔
اماں  ! کہاں گم ہوگئی ہیں مجھے سن رہی ہیں نا ؟”
احمد کی آواز انہیں خیالوں کی دنیا سے واپس کھینچ لائی ۔
“جی بیٹا سن رہی ہوں ، اللہ تعالی سب کو ایسے ہی خوش رکھے ، “آمین”
“امی جان : بس دعا کر دیا کریں آپ”
“ماں تو ہر پل تمہارے لیے دعا کرتی ہے میرا بچہ میرا چاند
اچھا امی میں پھر کال کروں گا ، ابو کو میرا سلام کہنا اور ان دونوں چڑیلوں کو بتا دینا میری اک خواہش تو پوری ہوگئی ہے دوسری بھی ان شاءاللہ بہت جلد پوری ہوجائے گی “احمد دبے دبے جوش سے کہہ رہا تھا۔
“ٹھیک ہے بیٹا میں بتادوں گی
اپنا بہت خیال رکھنا اور کوئی لاپروائی نہیں کرنا آئی سمجھ ؟”
“جی امی آپ بھی خیال رکھنا پھر بات ہوگی تب تک کےلئے۔۔۔اللہ حافظ۔”
۔۔۔۔۔
احمد اپنے آفس پہنچا اور ٹی بار پہ ناشتے کا آرڈر دے کر فائل دیکھنے لگا اچانک سی او سر کی کال آگئی ”
” احمد فارغ ہو تو میرے آفس آؤ ذرا ”
“جی سر آ رہا ہوں”
کچھ دیر میں وہ سی او سر کے آفس میں موجود تھا ۔
“بچے میں نے تمہیں اس لئے بلایا تھا،
کل زین نے بتایا تم ٹیم میں جانا چاہتے ہو ؟”
“جی سر میری خواہش ہے کہ میں ان کے ساتھ کام کروں”
“وہ تو ٹھیک ہے مگر پھر سوچ لو ایک بار ،یہ کام اتنا آسان نہیں ہے جتنا تم سمجھ رہے ہو ، یہ آگ کا دریا ہے کر لو گے عبور اسے ؟”
“سر کوئی بھی کام اس وقت تک مشکل ہوتا ہے جب تک ہم اسے کر نہیں لیتے اور سر میں نے کہیں پڑھا تھا جب تم کسی کام کو کرنے کی ٹھان لیتے ہو تو سمجھو تم نے  آدھا کر لیا”
“کوئی ایشو نہیں ہوگا سر آپ مایوس نہیں ہونگے میرے کام سے”
اس نے متانت سے جواب دیا ۔
“میں نے سنا ہے تم نے رات ٹریٹ دی ہے زین لوگوں کو ؟”
سی او سر نے دریافت کیا ۔
“سر آپ کو کیسے پتہ ؟”
“بچے میں تمہارا سی او ہوں اور جانتے ہو نا سی او باپ کی جگہ ہوتا ، اس کے بچے کیا کرتے پھرتے ہیں اسے سب علم ہوتا ہے”
سی او سر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔
“جی سر یہ تو ہے، وہ کل انہوں نے ایسے ہی کہا  مجھے ،سلیکشن کی خوشی میں پارٹی تو بنتی ہے اسی لئے ہم چلے گئے ”
“بہت اچھی بات ہے احمد مجھے بہت خوشی ہوتی ہے جب میرے سارے بچے ایسے ہی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہتے ہیں _بیٹا ہمیشہ یاد رکھنا ،اکیلا انسان کچھ نہیں کر سکتا جب سب لوگ مل کر کسی کام کو انجام دیتے ہیں تو وہ کام بہت آسان ہوجاتا ہے۔۔۔۔
آج اگر ہائی کمانڈ کی نظر میں ہماری عزت ہے تو اس کی وجہ صرف میں ہی نہیں ہوں بلکہ اس کے پیچھے تم سب لوگوں کی محنت ہے یہ سارا کریڈٹ تم سب کو جاتا ہے تم لوگوں نے کبھی میرا سر نہیں جھکنے دیا کسی بھی جگہ پر ۔
تم میں قابلیت ہے سیکھنے کی صلاحیت ہے اور مجھے امید ہے تم زین سے بہت کچھ سیکھو گے ، کسی بات کی اگر سمجھ نہیں آتی تو  ہزار بار پوچھو اسے اور تسلی سے سمجھو تاکہ کوئی دقت نہ رہے ۔۔بور تو نہیں ہورہے میری باتوں سے ؟؟”
“نہیں۔۔۔ نہیں سر مجھے فخر ہے میں اس یونٹ میں ہوں جہاں مجھے اتنا پیار ملا ”
“چلو باتیں تو ہوتی رہیں گی میرے خیال میں تم نے ابھی ناشتہ بھی نہیں کیا ہوگامنگواؤں کیا ؟”
“نہیں سر، ٹی بار پہ بتا آیا تھا میں جاکر کرلیتا ہوں۔”
“ٹھیک ہے ، تم جا کر ناشتہ کرو اور ہاں منصور کو بھیج دینا میرے پاس۔”
“اوکے سر” وہ سلام کرکے اٹھا اور اپنے آفس آگیا جہاں زین اور بلال ناشتے پہ اسکا انتظار کر رہے تھے
۔۔۔۔۔۔
سر زین “۔۔آپ کو قصائی کیوں کہا جاتا ہے ؟”
احمد نے ناشتہ کرتے ہوئے سوال کیا،
” بیٹا آپریشن میں تجھے پتہ لگ جائے گا تجھے ابھی ہاتھ نہیں لگے زین کے ”
بلال نے ہنستے ہوئے کہا ۔
” نہیں نا سر ، مذاق نہیں سچی بتائیں ناں ! ایسا کیوں کہتے ہیں سب؟”احمد نے اصرار کیا
“یار وہ جب میں سوات میں تھا تو ان لوگوں نے میرا نام قصائی رکھا تھا اس لیے کہ رحم نام کی کوئی چیز نہیں ہے مجھ میں، تم ناشتہ ختم کرو جلدی، بہت کام کرنے والے پڑے ہیں”
“یہ بتاؤکون کون سا ہتھیار اچھے سے چلا لیتے ہو ؟”
“سر نارملی وہ تمام ہتھیار جن کی ٹریننگ اکیڈمی میں دی جاتی ہے وہ چلا سکتا ہوں “۔
“ٹھیک ہے اپنا رنر بلاؤ ذرا”
احمد نے بیل پریس کی تو اسکا رنر آگیا ۔
یار ایسا کرو نور گل صاحب کو تو بلا کے لے آؤ ۔
“نور صاحب، احمد اب آپ کے حوالے ہیں، تین دن ہیں اب آپ کے  پاس ،اسے اب سنائپر رائفلز کی تربیت دینی ہے آپ نے اور کوئی معافی نہیں ہوگی ، اس معاملے میں کوئی لحاظ نہیں کرنا کہ آفیسر ہے ہاتھ نرم رکھا جائے۔”
” میری طرف سے شکایت کا موقع نہیں ملے گا سر_ انشاء اللہ”
۔۔۔۔۔۔۔
گھر میں آج ہر طرف خوشیوں کا راج تھا کیونکہ احمد جو آگیا تھا۔ پورے گھر میں چہکتا پھر رہا تھا وہ۔
امی اپنے لاڈلے کی بلائیں لیتے نہیں تھک رہی تھی تو  بہنیں صدقے واری جا رہی تھیں ۔
“بھائی کتنے کمزور لگ رہے نا اسماء ؟”
“کوئی نہیں یہ دیکھو میرے مسلز ” احمد نے اپنے مسلز نمایاں کیے۔
“ارے بیٹا آرام سے مسلز دکھاتے دکھاتے کہیں اکڑ ہی نہ جانا ” بابا نے لقمہ دیا ۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔نہیں بابا وہ تو بس ایسے ہی”
“چلو بچو کھانا تیار ہے آجاؤ سب کھانے کےلئے ” کچن سے امی نے آواز لگائی ،
دونوں بہنیں کھانا میز پہ سجانے لگیں اور سب وہیں جمع ہوگئے ۔
“بھائی کتنے دن رکو گے ؟”
اسماء نے پوچھا ۔
“آپی کنفرم نہیں کتنے دن رہوں گا بس انہوں نےکہا کسی وقت بھی بلا سکتے ہیں ”
“امی پتہ ہے ٹیم میں شامل ہونا کتنا مشکل ہے اور میں بہت خوش ہوں مجھے یہ سعادت ملی اب میں آپریشنل لائف میں اپنی خدمات سر انجام دوں گا”
” ماں قربان جائے بیٹا ، اللہ تعالی دونوں جہانوں کی تمام سعادتوں سے تمہیں سرفراز کرے آمین ”
امی نے دل سے دعا دی ۔
بیٹا تم آئے ہو میں بتاتا چلوں میرے ایک بہت اچھے دوست ہیں طارق ، انہوں نے اپنے بیٹے کےلئے ردا کا رشتہ مانگا ہے ، لڑکا اپنا بزنس کرتا ہے اور میرا دیکھا بھالا ہے بتاؤ کیا کریں ؟”
ابو نے احمد سے پوچھا ۔
“ابو کرنا کیا ہے ۔آپ کی تسلی ہے تو ہامی بھر لیں دونوں گھرانے ایک دوسرے سے مل لیں اور بات فائنل کریں ۔ اچھا ہے ایک چڑیل تو کم ہوگی” گھر سے اس نے ردا کو چھیڑا ۔
“ارے لڑکی تم کیا دیدے پھاڑ پھاڑ کے ایسے دیکھ رہی ہو ؟”تمہارے رشتے کی بات ہو رہی ہے بندہ تھوڑا شرما ہی لیتا ہے ” احمد نے ردا کو چھیڑا۔
“بھائی قسم سے میں بہت ماروں گی آپ کو” اس نے جھینپ کر چپل کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔
“ٹھیک ہے کل ان کو انوائٹ کرلیتا ہوں کھانے پہ تم سب مل لینا پھر سارے معاملات ڈسکس کرلیں گے ”
” جی ابو  ،ان شاءاللہ ”
اگلے دن انکل طارق اور ان کی فیملی ان کے گھر پہ تھے ، لڑکا واقعی ہر لحاظ سے پرفیکٹ تھا ۔انہوں نے ہنسی خوشی ہاں کر دی ۔
دو دن بعد اک سادہ سی تقریب میں ردا اور فیصل کی منگنی ہوگئی
آخر کار کال آگئی چھٹی ختم ہو رہی ہے سب کل شام تک یونٹ رپورٹ کریں ۔ احمد نے جب بتایا وہ کل واپس جارہا ہے تو سب اداس ہونے لگے ۔ “بھائی یہ کیا بس اتنے دن کےلئے ہی آئے تھے آپ ؟”
اسماء روہانسی ہوگئی ۔
” آپی اب جانا تو ہے نا دیکھ لو اتنے بزی شیڈول سے بھی انہوں نے ہمیں بھیجا گھر سے ہو آؤ ، اچھا ہوا ردا کی منگنی ہوگئی میں نے بھی شرکت کرلی اور اتنے دن آپ سب کے ساتھ بھی رہ لیا”
“اگلی بار زیادہ دن کےلئے آؤں گا ،آپ اداس مت ہوں ”
“بیٹا احمد سے پوچھ لو کیا کیا چیز لے کے جانی ہے اس نے کوئی چیز رہ نہ جائے ”
امی نے ردا سے کہا۔ “جی امی آپ پریشان نہ ہوں ہم کردیں گے ”
اسی شام اسجد بھی گھر آگیا تو رونق اور بڑھ گئی ”
“ماشاءاللہ میرے تمام بچے آج گھر پہ ہیں کل احمد چلا جائے گا کیوں نا آج تھوڑی آؤٹنگ ہوجائے ؟؟
بابا نے مشورہ مانگا ۔
“جی بابا شام کو باہر چلتے ہیں گھوم پھر آئیں گئے اور کھانا بھی باہر سے کھالیں گے”
وہ شام ان سب نے بہت خوبصورت طریقے سے انجوائے کی ۔
بھائیوں کی شرارتیں بہنوں کا ہلہ گلہ دیکھنے والا تھا ۔ سب بے انتہا خوش تھے اپنے بچوں کو ایسے انجوائے کرتا دیکھ کر ماں بابا انکی نظر اتار رہے تھے ۔
“احمد کی ماں،دیکھو، آج کتنی رونق ہے ؟”
“ٹھیک کہتے ہیں آپ اللہ انکی خوشیوں کو کسی کی نظر نہ لگائے  ہمارے بچے ایسے ہی ہنستے مسکراتے رہیں  اللہ ان کو ایسے ہی پیار و محبت سے رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ”
امی نے اللہ کی بارگاہ میں اپنی اولاد کےلئے دعا مانگی

جاری ہے…..

سید شازل شاہ گیلانی
سید شازل شاہ گیلانی
پاسبان وطن سے تعلق , وطن سے محبت کا جذبہ اور شہادت کی تڑپ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *