شناخت کا مسئلہ۔۔کاشف حسین سندھو

دنیا بھر میں شناختیں عموماً ثقافتی منطقوں پہ پرکھی جاتی ہیں، مثلاً آپ بیرون ملک جائیں تو لوگوں کو اگر یہ کہیں کہ میں اردن سے ہوں تو شاید لوگ نہ پہچانیں، لیکن اگر آپ مزید وضاحت کرتے ہوئے بتائیں کہ یہ عرب خطے کا ملک ہے تو لوگ پہچان جاتے ہیں۔

اسی طرح لوگ آپ کا ملک جانیں یا نہ جانیں پر چینی تہذیب، یورپین تہذیب، ترک تہذیب، ایرانی یا فارسی تہذیب ، افریقن تہذیب یا منطقوں سے بہرحال آپ کو جان جاتے ہیں۔
ہمارے ساتھ عجیب معاملہ ہوا۔۔ ہم تہذیبی اعتبار سے ہندوستانی تھے، جیسا کہ ہر فرنچ ،جرمن، انگلش، ہسپانوی، الگ الگ شناختوں کے باوجود بہرحال یورپین ضرور ہوتا ہے، لیکن جب برصغیر تقسیم ہوا تو ہمارے تاریخی شعور سے بے بہرہ رہنماؤ ں نے ملک کا نام رکھتے ہوئے بجائے تاریخ سے رابطہ کرنے کے چار صوبوں کے حروف سے “نیا ملک” بنا ڈالا ،حالانکہ یہ ہندوستان یا برصغیر کی وادیءسندھ کا علاقہ تھا اور اسی مناسبت سے اس کا نام تجویز ہونا چاہیے تھا (پر مذہب کا بخار جب سر چڑھ جائے تو کچھ نہیں سُوجھتا) یہ بالکل ایسا ہی معاملہ ہے جیسے اگر فرض کیجیئے کہ یورپ ہندوستان کی طرح ایک وحدت ہو اور اس میں سے سپین ,فرانس ,پُرتگال و اٹلی ایک وفاق بنا کر الگ ہونا چاہیں تو اسے الگ نام دے کے یہ کہہ دیں کہ ہم یورپین نہیں ہیں ، اب معاملہ یہ ہے کہ ہندوستان یا بھارت تو اپنے تاریخی نام کے ساتھ دنیا کے نقشے پہ موجود ہے لیکن ہم اپنی تاریخ سے نام کی حد تک کٹ چکے ہیں لیکن تاریخ بیان کرتے ہوئے ہمیں اب بھی مجبوراً ہندوستان کے ٹیپو سلطان ،اکبر اورنگزیب، علی گڑھ سرسید وغیرہ کو بیچ میں لانا پڑتا ہے۔

اب شروع شروع میں یہ لطیفہ ہوا کہ لوگ ملک سے باہر جا کر اپنی پہچان کرواتے تھے تو بیرونی دنیا سمجھ نہیں پاتی تھی کہ یہ ملک کہاں ہے، البتہ جب ہندوستان کے ساتھ والا ملک کہا جاتا تھا تو لوگ پہچان جاتے تھے اور بدستور ہمیں انڈین یا ہندوستانی شناخت سے ہی پہچانتے تھے،۔

ایک جگہ دلچسپ بات یہ ہوئی کہ پاکستانی خاتون ایسے ہی کنفیوژن میں خود کو ہندوستانیوں کے متضاد پاکستانی کہلانے پہ بضد مگر میزبان ہندوستانی سمجھنے پہ مُصر ۔یہ معاملہ اب تک جاری ہے ،لیکن اب دنیا کچھ کچھ ہمیں ہماری اپنی تیارکردہ نئی شناخت سے بھی جاننے لگی ہے ،لیکن یہ شناخت کچھ اچھی علامتیں نہیں رکھتی ،ہمیں اسامہ بن لادن، اسلامی ایٹم بم، دہشتگردی وغیرہ کی وجہ سے دنیا پہچانتی ہے ،ہماری تہذیبی قدر کی وجہ سے نہیں۔

آپ لاکھ دنیا کو سمجھائیں کہ ہماری تہذیب ہمارے مذہب سے وابستہ ہے اور ہماری تہذیب مسلم ہے ،دنیا نہیں سمجھے گی کیونکہ وہ علمی بنیادوں پہ بخوبی جانتی ہے کہ انسانی سماج نے بنیادی طور پہ تہذیب سے نشوونما پائی ہے اور جغرافیائی منطقے  اسکی شناخت کا حوالہ ہیں، مذہب ثانوی عامل کے طور پہ کام کرتا ہے تو میں یہ کہنا چاہونگا کہ۔۔۔
میری حقیقی شناخت ہندوستان کی وادیءسندھ کے پنجابی باشندے کی ہے یا مزید گہرا کرنا چاہوں تو کہہ سکتا ہوں ہندوستان کی وادیءسندھ کے علاقے پنجاب کے ملتانی وسیب سے میرا تعلق ہے۔
کچھ دوست پاکستانی ہندوستانی کا فرق بیان کرنے کے لیے بہت زوروشور سے یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ وادیءسندھ ہمیشہ ہندوستان سے الگ خطہ تھی جبکہ یہ غلط بات ہے، یوں دیکھا جائے تو ہندوستان میں جنوبی ہند کی تہذیب بھی وادیء گنگا و جمنا سے الگ ہے لیکن وہ یہ کہتے نہیں پائے جاتے کہ ہم ہندوستانی نہیں ہیں، سو حقیقت یہی ہے کہ ہمارا بڑا جغرافیائی و ثقافتی منطقہ ہندوستان ہی ہے جسکے بہت سے ذیلی ثقافتی منطقے ہیں جن میں ہماری وادیءسندھ بھی شامل ہے جو آگے چل کر مزید ذیلی ثقافتی منطقے تشکیل دیتی ہے۔

دیکھا جائے تو ہمارا بنیادی مسئلہ یہی ہے، ہم شناخت کے بحران میں مبتلا ہیں ہم اپنی تہذیب کو شناخت بنانے کی بجائے مذہب سے جڑے ہیں لیکن اسے ثابت نہیں کر پا رہے، اگرچہ  ہمارے بہت سے دانشور قیام پاکستان ہی سے اس کام پہ جتے ہیں کہ “پاکستانی” و ہندوستانی کا فرق تہذیبی انداز میں بیان کر سکیں ،پر مذہب کی بنیاد پہ یہ ہو نہیں پا رہا، جس کا ایک حوالہ یہ بنا کہ بقول قراۃ العین حیدر جب بنگال ہمارے ساتھ تھا تو اسکے کچھ ثقافتی رقص جو ہندو مذہبی ثقافت سے برآمد ہوئے تھے  کو پاکستانی کہنا ہمارے دانشوروں کے لیے مسئلہ بن گیا تھا اور وہ طے نہیں کر پا رہے تھے کہ یہ معاملہ کیسے حل کیا جائے۔

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *