فیض و جالب کی آواز کو،تم میں ہمت نہیں روک لو۔۔مشرف عالم ذوقی

ڈکٹیٹروں کے پاس طاقت اس لئے ہوتی ہے کہ عوام کو خوفزدہ کیا جا سکے . لیکن جب عوام خوف کا مقابلہ کرنا سیکھ جاتے ہیں تو یہی حکمران حبیب جالب اور فیض کی نظموں سے بھی ڈرنے لگتے ہیں . یہی آج اس ملک میں ہو رہا ہے . ملک کے ہر خطّے میں ، ہر چوراہے سے فیض و جالب کی نظمیں نئے سویرے کو آواز دے رہی ہیں ، اور حزب اختلاف کو پاکستان کا لالی پاپ تھمانے والی حکومت پریشان کہ ان نعروں کی موجودگی ، تیور اور گونجتی آواز انکے ہدف کو ناکام کر رہی ہے . یہ آوازیں جمہوریت اور آئین اور ملک کی سلامتی کا درس دے رہی ہیں .ان آوازوں میں اتنی طاقت ہے کہ فسطائیت کے قلعے ڈھے جائیں . آج اردو نغمے ، اردوکی انقلابی شاعری نے وہی کام کیا ہے جو اردو زبان نے ملک کی غلامی کے دوران کیا تھا اور فرنگی زنجیریں اس حد تک کمزور ہو گئیں کہ انگریزوں کو اس ملک سے جانا پڑا . فرنگیوں کے بعد اب ان شر پسندوں کی باری ہے ، کہ ظلم و ستم نے صبر کے پیمانے چھلکا دیے . اور جب پیمانہ چھلک گیا اور چھلکے ہوئے پیمانے سے اردو کی انقلابی شاعری کے ساتھ فیض و جالب کا جن سامنے آگیا . اور کمال حقیقت کہ کیا ہندو مسلم ، انقلاب کو گھر گھر پہنچانے میں پورا ملک ایک پلیٹ فارم پر کھڑا ہے ۔
منظر : پس منظر
سیاسی پس منظر یا جنگ کا ماحول تیار کرو اور مسلمانوں کو بے دخل  کرو۔ امیت شاہ ہزاروں بار ان چھ برسوں میں مسلمانوں کے خلاف نہ صرف بیان دیتے آئے ہیں بلکہ مہم بھی چلاتے  آئے ہیں .
ہم اس سیاست سے واقف ہیں کہ جنگوں کو بہانہ کیوں بنایا جاتا ہے ؟دوستی اور محبت بھری باتوں کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے ۔یہ کام ہم مل کر بخوبی انجام دے سکتے ہیں- ملک ایک نئی صورتحال سے گزررہا ہے۔ فسطائیت کا غلبہ ہے ۔ مسلم مخالف رنگ شدید ہوچکا ہے ۔ ان کے منصوبے خطرناک ہیں۔ ملک ہندوستان کو شام بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے . اب یہ ملک زعفران ہے مگر ان کی نظر میں۔ہم اس ملک کو زعفرانی  نہیں ہونے دیں گے۔ ہندوؤں کا ایک بڑا طبقہ جمہوری قدروں پر یقین رکھتا ہے لیکن پہلے وہ بھی خوف زدہ تھا اب سڑکوں پر آ کر فیض کی نظمیں گا رہا ہے ۔۔ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے . پھر یہ آواز جالب کی آواز میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔۔ایسے دستور کو ، صبح بے نور کو میں نہیں جانتا ، میں نہیں مانتا . انقلابی نظموں نے ثابت کیا کہ انقلاب کو سرحدوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا . جو نغمہ جالب نے پاکستان کی ضیا الحق حکومت کے لئے لکھا ، آج وہی نغمہ مودی اور امیت شاہ کی مخالفت میں گونج رہا ہے .
مسلمان ، مسلمان ، اور پورا ملک ایک زبان۔۔
میری سب سے بڑی فکر یہ تھی کہ مسلمانوں کا کیا ہوگا؟ نوٹ بندی ہو یا جی ایس ٹی ، جس کی کمر سب سے زیادہ ٹوٹے گی ، وہ مسلمان ہوں گے۔ معاشی اعتبار سے جو سب سے زیادہ ذبح کیاجائے گا، وہ بھی مسلمان ہوں گے۔ اس ملک میں آر ایس ایس کی سوچ کی پہلی منزل مسلمان ہیں۔ اور اسی لئے آر ایس ایس بار بار یہ بیان دیتی آئی ہے کہ اس ملک کے تمام مسلمان کنور ٹڈ ہیں۔ اور یہ بیان بھی برسوں سے دیتی آئی ہے کہ اس کی دشمنی مسلمانوں سے نہیں ، اسلامی فکر رکھنے والوں سے ہے۔ کیونکہ ایک دن مسلمانوں کی گھر واپسی ہوکر رہے گی۔
2014کے بعد کے سیاسی منظر نامہ پر غور کریں تو مسلمانوں کے لئے ہر دوسرا دن ، پہلے دن سے زیادہ بھیانک ثابت ہوا ۔ ان چھ برسوں میں مسلمانوں کو ہلاک کرنے والے ، فرضی انکاؤنٹر کرنے والے ، مسجدیں شہید کرنے والے ، کریمنل ریکارڈ والے تمام مجرم جیل سے بری کردیے گئے۔ اور معصوم مسلمانوں پر جیل کی سلاخیں سخت ہوگئیں۔ آسمان میں ناچتے گدھ شکاری بن گئے کہ کیسے مسلمانوں کا شکار کیاجائے۔ نئے نئے طریقے ایجاد کیے جانے لگے۔
مسلمان سبز اسلامی پرچم لہرائے تو وہ پاکستان کا ترنگا ہوجاتا ہے۔ہر دوسرے دن ایک بیان آر ایس ایس کے کسی نہ کسی لیڈر کی طرف سے آجاتا ہے ، جس میں صاف صاف اور کھل کر یہ بات کہی گئی ہوتی ہے کہ مسلمان ملک دشمن ہیں۔
بار بار مسلمانوں سے یہ صفائی مانگی جاتی ہے کہ وہ حب الوطن ہونے کا ثبوت پیش کریں۔ اور ثبوت کے طورپر دادری میں رہنے والے محمد اخلاق کی فریج کا مٹن ، بیف بن جاتا ہے۔ المیہ ۔۔ المیہ کہ اپنی حد میں رہنے والے ، قانون کا پاس رکھنے والے محمد اخلاق کی فریج میں رکھے مٹن کو عدلیہ بھی بیف ثابت کرنے پر تل جاتی ہے۔
اور اخلاق اپنے گھر میں بے دردی اور بے رحمی سے ذبح کردئیے جاتے ہیں۔ اور اب شہریت کے نام پر ڈیٹینشن کیمپ کا کھلا دروازہ ہے . ووٹنگ کے حق سے محروم کرنے کی سازش ہے . مگر درمیاں میں فیض و جالب آ گئے .
یوگی ، امیت شاہ اور مودی کا کھیل بہت حد تک بگڑ گیا . اب انھیں ملک کا اعتماد حاصل کرنے میں صدیاں لگیں گی . فسطائیت کا ہمنوا کوئی نہیں ہوتا .
میڈیا ، میڈیا اور میڈیا ۔۔
گزشتہ  برس ایسا بہت کچھ ہوا ، جسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔لیکن یہ سب کس نے کیا ؟ ان ہلاکتوں کے پیچھے کون ہے ؟ کیا مرکزی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانا صحیح ہوگا ؟ کیا کانگریس اور کمزور اپوزیشن کو ان الزامات سے بری کیا جا سکتا ہے ؟ اصل مجرم کون ہے 2019 کا اصل مجرم ہے ہندوستانی میڈیا ۔
پہلے ہماری نہ ختم ہونے والی خاموشی میڈیا کے خلاف مورچہ لینے سے گھبراتی تھی .اب عوام سڑکوں پر ہیں .شاہین باغ سے لے کر پورے ہندوستان میں .ہندوستان کی ہربربادی ، ہر قتل و غارت کے پیچھے میڈیا ہے۔ہندوستانی جمہوریت اور آزادی کا خون اسی میڈیا نے کیا۔ .یہ بھی حقیقت ہے کہ اس ملک میں دلت ،عیسائیوں سے زیادہ بڑا خطرہ مسلمانوں کو ہے ۔آزادی کے بعد سکھ ،جین ،عیسائی مذہب کے پیروکار بہت حد تک ہندو مذہب میں ضم ہو چکے ہیں۔آر ایس ایس لابی بار بار مسلمانوں کی دھرم واپسی کا اعلان کر رہی ہے۔میڈیا ایسے نعروں کو فروغ دے رہا ہے۔ آج ہندی اور انگریزی کے ننانوے فیصد اخبارات حکومت کی اشتعال انگیزی کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔انڈیا ٹوڈے جیسے  نیشنل میگزین نے اپنا وقار کھو دیا .تمام چینلز حکومت کی زبان بولنے لگے۔نیوز اینکر سڑکوں چوراہوں پر انٹرویو لیتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف اشتہار بازی کی مہم میں جُت  گئے–پرائم ٹائم کے تمام نیوز پروگراموں میں مسلمانوں کے خلاف عام اکثریت کے جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی گئی ہے۔یہ پہلے نہیں ہوا۔دنیا کے کسی بھی میڈیا نے کسی بھی ملک میں غدارانہ اور دہشت گردانہ تیور نہیں اپنائے۔امر یکہ اور برٹین میں بھی میڈیا کی آزادی فروخت نہیں ہوئی۔ میڈیا کا کام حکومت پر تنقیدکرنا ہے ۔ملک میں توازن پیدا کرنا ہے ۔ اس ملک میں مسلمانوں کی جو بھی بربادی ہوئی ، جو بھی ہلاکتیں سامنے آئی ہیں ،انکے پیچھے یہی میڈیا ہے -لیکن میڈیا اب بھی اپنی دہشت گردیوں میں مصروف ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ نفسیاتی سطح پر بھی اب میڈیا خوف کے انجکشن لگا رہا ہے۔ میڈیا آہستہ آہستہ ایسے خوفناک راکشس میں تبدیل ہو چکا ہے کہ ٹی وی چینلز کے سامنے خبریں سنتے ہوئے دل کی دھڑکنیں بڑھ جاتی ہیں۔اس ملک میں اب اصل بغاوت  میڈیا کے خلاف ہونی چاہیے۔ اور یہ شروعات بھی ہو چکی ہے .جھارکھنڈ شکست کے بعد میڈیا کی خاموشی بہت کچھ کہتی نظر آتی ہے . حقیقت کہ ابھی 2023 تک میڈیا میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی . لیکن یہ بھی عام تبدیلی نہیں کہ اس وقت ہندوستان جاگ چکا ہے ..فیض و جالب کے نغموں کا طوفان ابل رہا ہے .. اور حکومت حیران کہ پانسہ تو صحیح چلا تھا .نشانہ کیوں نہیں لگا .
عوام بیدار ہوں تو شر پسندوں کا ہر نشانہ ناکام ثابت ہوتا ہے .

گوشہ ہند
گوشہ ہند
ہند کے اردو دان دوست آپ کیلیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *