محنت کشوں کا استحصال اور سیاسی اقدار۔۔اعجاز احمد بلوچ

سیاست تدبیرِ سماج كا نام ہے۔ سماج کی تدبیر امن ومحبت کے ماحول میں ہی ممکن ہے،سو، سیاست دان کا کام نفرت کے ماحول کا خاتمہ ہونا چاہیے۔لیکن اس سرمایہ دارانہ سیاست میں سیاست دان کا مقصد صرف اور صرف ووٹ حاصل کرکے اقتدار تک پہنچنا ہوتا ہے۔ چاہے اسے ووٹ کے حصول کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے،نفرت کو ابھارنا پڑے ، اقدار کو پامال کرنا پڑے یا انسانیت کو پامال کرنا پڑے، وہ اس کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ بڑی سیاسی پارٹیاں کالعدم اور تکفیری جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے ان کے  مقصد کی ڈھکے چھپے انداز میں حمایت کرتی ہیں۔ اور بسا اوقات ان کو محفوظ چھتری فراہم کرتی ہیں۔

یہ نظامِ  سیاست اپنی بنیاد کے لحاظ سے اقتدار کا  محور ہے۔ اس کا مقصد اقتدار کا حصول ہے،اقدار کا نہیں۔ اور اسی لئے ہمیں اس سیاست کے بازار میں اقدار کے پابند سیاست دان بہت کم نظر آتے ہیں۔

ایسے ماحول میں ہمیں بعض اوقات کسی ایک امیدوار کا ساتھ دینا پڑتا ہے۔ اور بڑی اور چھوٹی دو برائیوں میں سے چھوٹی برائی کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔لیکن ہمارا یہ سوچا سمجھا نظریہ ہے کہ اس موجودہ نظام سیاست میں انسانیت کی فلاح کا کوئی حقیقی پروگرام موجود نہیں۔
یہاں انسانوں کے انسانی حقوق کی کوئی گنجائش نہیں۔ اور ہماری جدوجہد کا مرکز و محور حقیقی سیاست کا فروغ ہونا چاہیے،اور حقیقی انسانی سیاست اسی وقت رائج ہوسکتی ہے جب محنت کش عوام کو اقتدار میں  شریک کیا جائے گا۔،اور اس کے لئے ضروری ہے کہ کیپٹلزم کے موجودہ نظام کو ہی تبدیل کردیا جائے۔

جب تک سرمایہ محور سیاست جاری رہے گی،محنت کش عوام کی اکثریت کا استحصال ہوتا رہے گا۔ انسانیت کو پامال کیا جاتا رہے گا۔

عراق کی جنگ (قسط 3)۔۔وہارا امباکر

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *