• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • جاتے جاتے 2019 ایک ولی ء کامل کو بھی ساتھ لے گیا۔۔محمد غزالی خان

جاتے جاتے 2019 ایک ولی ء کامل کو بھی ساتھ لے گیا۔۔محمد غزالی خان

SHOPPING

30 دسمبر 2019 کو سال کے اختتام کے ساتھ ساتھ برطانیہ میں ایک گوشہ نشین عالم دین، عابد، زاہد اور ولی کامل اپنے کنبے اورچاہنے والوں کو اشکبار چھوڑ کر خالق حقیقی سے جاملا۔

74 سالہ ہندوستانی نژاد عالم دین مولانا اظہار احمدقاسمی صاحب کا تعلق دیوبند سے تھا ۔ وہ ان چنیدہ علماء میں سے ایک تھے جنہوں نے ہرقسم کی تفرقہ بازی،ذاتی نموداوردنیاداری سے دوررہ کر محض دین کی خدمت کیلئے اپنے آپ کو وقف کردیا تھا۔

1970 میں کینیا میں آباد ہندوستانی مسلمانوں نے اس وقت کے مشہور عالم دین اور دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا قاری طیب صاحبؒ سے درخواست کی تھی کہ وہ ان کی دینی تربیت اور رہنمائی کیلئے کسی عالم کو کینیا بھیجیں۔ اس کام کیلئے قاری صاحب نے مولانا اظہار صاحب کا انتخاب کیا اور کینیا جانے کیلئے انہیں راضی کیا۔

مولانا اظہار صاحب نے 1970 سے 1983 تک کینیا کی پینگیا مسجد میں امامت کے فرائض اور دینی خدمات انجام دیں۔ کینیا کے سیاسی حالات خراب ہونے کے بعد بہت سے دیگر ایشیائیوں کی طرح مولانا اظہار صاحب کو بھی 1983 برطانیہ کا رخ کرنا پڑا۔

برطانیہ آنے کے بعد مولانا نے جنوبی لندن کے علاقے کرائیڈن کی سب سے پہلی مسجد کی بنیاد ڈالی اور امامت کے فرائض انجام دئیے۔ اس مسجد میں جمعہ کے روز دو سے تین ہزار افراد نماز ادا کرتے ہیں ۔ 90 کی دہائی میں دماغ میں السر تشخیص کیے جانے کے بعد مولانا کوآپریشن کروانا پڑا، جس کی وجہ سے ان کو  سٹروک ہوا اور بدن کا ایک حصہ مفلوج ہوگیا تھا۔ آپریشن کے بعد وہ بڑی حد تک معذور ہوگئے تھے اور آہستہ آہستہ تقریباً صاحب ِ فراش ہوتے چلے گئے تھے۔ زندگی کے آخری چند سال انہوں نے اسی حالت میں گزارے۔

ڈاکٹروں نے اس وقت بتایا تھا کہ مولانا بس چند دن کے مہمان ہیں۔ مگر اﷲ تعالیٰ کو ان کے درجات میں مزید اضافہ کرنا تھا اور ان سے اپنے دین کی مزید خدمت لینا منظور تھا۔ اس معذوری کے عالم میں بھی مولانا نے ’اظہارالقرآن‘ کے نام سے دس جلدوں پر مشتمل قرآن کے ترجمے اور تفسیر کا کام مکمل کیا اور درس قرآن کا کام جاری رکھا۔ اقرا ء ٹی وی پر نشر ہونے والے ان کے درس قرآن کو دیکھ کر ناظرین کو اندازہ نہیں ہوپاتا تھا کہ نورانی چہرے اور نرم گفتار والا  سکرین پر نظرآنے والا یہ شخص مفلوج ہی نہیں بلکہ صاحب ِ فراش ہے۔

معذوری میں بھی مولانا کے عزم اور استقامت کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے جو میرے فیس بک دوست اور دیوبند میں مولانا کے والدین کے پڑوسی ڈاکٹر عاطف سہیل صاحب (یونیورسٹی آف ییل) نے فیس بک پر میری پوسٹ کے جواب میں تحریر کیا ہے ۔ لکھتے ہیں:

’ ان کے ایک بہت خاص وصف کی طرف آپ نے متوجہ نہیں فرمایا۔ مولانا نے کل 64 حج کیے   ،جو کہ لگاتار کیے ہیں ۔ اور ہر سال حج کرکے وہ حجاز سے اپنے والدین کی خدمت میں حاضری دینے اپنے وطن دیوبند تشریف لاتے تھے۔ ایک دفعہ حج کے بعد وہ دیوبند آئے تو راقم نے خود دیکھا کہ انکا  کندھا  پھولا ہوا ہے۔ دراصل دیوبند میں انکا اور راقم کا مکان بالکل ملا ہوا تھا۔ جب بھی آتے یا جاتے تو ملاقات ضرور ہوتی۔ بہرحال ان کے اہل خانہ ان کے پھولے ہوئے  کندھے کو دیکھ کر متحیر ہوگئے۔ فوراً  ایک ڈاکٹر کو بلایا گیا۔ تو ڈاکٹر نے کسی ہڈی کے ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا مشورہ دیا۔ ہڈی کے ڈاکٹر نے ایکسرے کرنے کے بعد کہا کہ  ان کے تو  کندھے  کی ہڈی ٹوٹی ہوئی ہے۔ معلوم ہوا کہ دوران حج طواف کے وقت ایک جم غفیر نے انہیں بہت زور سے دھکیل دیا تھا جس کے باعث وہ گرے اور اس سے ان کے کندھے  کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ یعنی جسم کا وہ حصہ اتنا بے حس ہوچکا تھا کہ انہیں اس جگہ ہڈی کے ٹوٹنے کا احساس بھی نہ ہوا اور وہ اسی کیفیت میں تمام ارکان حج ادا کرکے دیوبند بھی آ گئے۔ اللہ تعالی انہیں غریق رحمت کرے۔ اور ان کے درجات بلند فرمائے ۔ آمین۔‘

اپنی اس سخت معذوری کے باوجود مولانا کو کسی سے معمولی مدد لینا بھی گوارا نہیں تھا۔ شکاگو میں میرے دوسرے فیس بک دوست، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور یوٹیوبر، مفتی یاسر ندی الواجدی صاحب ، جنہوں نے مولانا کو دوران عمرہ وہیل چیئر یا کسی کی مدد کے بغیر طواف اور سعی کرتے دیکھا ہے، کا کہنا ہے کہ ’مولانا اپنے آپ کو گھسیٹ رہے تھے۔‘ مفتی صاحب نے میری پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’ مولانا اظہار صاحب نے ایک موقع پر یہ فرمایا کہ میری بیماری میرے لیے نعمت بن گئی ہے۔ صاحب فراش ہونے کی وجہ سے روزانہ ایک قرآن ختم کرلیتا ہوں۔ مولانا کی اسی خصوصیت کی وجہ سے ان کا ایک عیسائی ڈاکٹر مسلمان ہوگیا تھا۔

مولانا کے لواحقین میں ان کے بیٹے اور برطانیہ کے معروف عالم دین امام قاسم رشید صاحب شامل ہیں جو خود ایک ادارہ سازشخصیت ہیں۔ ادارہ سازی سے بہت سے احباب شاید مدارس اورمساجد کا قیام سمجھیں اس لئے مختصراً بتادوں کہ  امام قاسم صاحب برطانیہ کے بڑے خیراتی اورفلاحی ادارے الخیرفاؤنڈیشن کے بانی اورچئرمین ہیں جس نے افریقہ، بنگلہ دیش، شام، فلسطین، پاکستان وغیرہ میں مصیبت زدگان کیلئے طبی، تعلیمی اوردیگر سہولیات کا ہی بندوبست نہیں کیا ،برطانیہ میں دہ سیکنڈری  سکول اور دو ٹی وی چینلز قائم کرنے کا سہرا بھی ان کے سر ہے نیز غزہ میں مکمل اورتمام سہولیات والے ہسپتال کا قیام ہے۔ رمضان میں غازہ پر اسرائیلی بمباری کے وقت امام قاسم صاحب اس جگہ سے تھوڑے ہی فاصلے پر تھے اور بال بال بچے تھے ۔انشاءﷲ اس غیرمعمولی مولوی کی غیرمعمولی خدمات کا تفصیلی ذکر پھر کبھی۔

ﷲ تعالیٰ مولانا اظہار صاحب کے درجات بلند فرمائے، امام قاسم صاحب اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

SHOPPING

عراق کی جنگ (قسط 3)۔۔وہارا امباکر

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *