محبت کے گھونسلے۔۔عنبر عابر

آسمان میں جابجا گھونسلے بن گئے تھے اور ننھے رنگین پرندے جب اپنے آشیانوں سے نکلتے تو کبھی لوٹ کے نہ آتے۔مشہور تھا کہ یہ گھونسلے محبت کی آماجگاہیں ہیں اور شوخ و شنگ پرندے محبت کے ڈر سے وہاں واپس نہ جاتے۔
“کیا تم میرے لئے محبت کا ایک گھونسلا لا سکتے ہو؟“
جل پری نے، جو کہ حال ہی میں گہرے پانیوں سے نکلی تھی، اس سے پوچھا۔
وہ مسکرایا۔جل پری اپنے آپ میں سمٹ گئی۔اس کی مسکراہٹ جل پری کا آبی شفاف جسم جلانے لگتی تھی۔وہ اس کے قریب گیا اور جل پری کی چھوٹی ناک اپنی دو انگلیوں سے دھیرے دھیرے سہلانے لگا۔وہ بے ساختگی سے بولی۔
“اوہو۔۔ناک جلا دی میری۔پتا نہیں تیرے ہاتھوں میں کیا ہے۔اب چلو نا میرے لئے ایک گھونسلا لاؤ۔مجھے بھوک لگی ہے“ جل پری سبز گھاس پر لیٹ گئی اور دائیں طرف زمین میں بنے گڑھے سے پانی نکال کر اپنی ناک پر چھینٹے مارنے لگی۔ہر قطرہ جو اس کے چہرے سے ٹکراتا، اچھل کر تتلی کا روپ دھار لیتا۔فضا تتلیوں سے بھر گئی تھی، جو قوس قزح بناتی اڑتی پھر رہی تھیں۔
یہ محبت کا جزیرہ تھا اور یہاں وہی ہوتا،وہی عکس دکھتا جو دل کے شیشے میں نمودار ہوتا۔
وہ جل پری کے قریب گیا اور اپنی نگاہیں اس کی نگاہوں میں گاڑ دیں۔۔آنکھوں کا ٹکرانا تھا کہ جل پری کی آنکھوں سے شفاف پانی بہنے لگا۔یوں جیسے شدید گرمی میں جسم سے پسینہ بہتا ہے۔شاید مرد کی نگاہوں نے اس کی آنکھیں جلا دی تھیں۔اس نے اپنا رخ دوسری طرف کرلیا۔
“وہ اوپر دیکھو۔میں کونسا گھونسلا لاؤں تیرے لئے؟ سرخ، سفید یا نیلا؟“ مرد کا لہجہ مخمور تھا۔
جل پری آسمان کی طرف دیکھنے لگی۔گھونسلوں سے پرندے اڑ رہے تھے اور کائنات میں ہلچل مچی ہوئی تھی۔جل پری سوچنے لگی۔”کیا کوئی بھی محبت کو نہیں سہار سکتا؟“ اس کی دوسری سوچ نے جواب دیا۔”میں سہار سکتی ہوں“ گھونسلے خالی ہونے والے تھے۔محبت سے سب ڈر رہے تھے۔
“مجھے ہر رنگ کا گھونسلا چاہیے،بھوک لگی ہے۔“ جل پری بولی۔
وہ اس کے قریب بیٹھ گیا۔جل پری کا جسم سلگنے لگا اور پانی قطرہ قطرہ اس کے جسم سے رسنے لگا۔
اس نے جل پری کا چہرہ ہتھیلیوں کے پیالے میں بھر کر اپنی طرف کیا اور اس کی خوشبو دار سانسیں سونگھنے لگا۔وہ نہیں جانتا تھا کہ انہی لمحات میں اس کی سانسیں بھی جل پری تک پہنچ رہی ہیں۔جل پری کا چہرہ پسینہ پسینہ ہوگیا۔اس کی سانسیں تیز چلنے لگی تھیں۔اس نے سامنے دیکھا۔تتلیاں قوس قزع  بنا رہی تھیں، مٹا رہی تھیں۔دائیں طرف وہ دریا تھا جو ہمیشہ خاموش رہتا لیکن اس کی جولانی کے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکتا تھا۔وہ سوچنے لگی۔
“کیا یہ مرد بھی اس دریا کی طرح ہے؟ خاموش، ساکن لیکن اپنی پُرزور لہروں میں سب کچھ بہا لے جانے والا؟“
وہ بولا۔”تم جو گھونسلا مانگو گی میں لے آؤنگا لیکن ایک شرط ہے؟“
“وہ کیا؟“ جل پری کی سانسیں رکنے لگی تھیں۔مرد کا لہجہ نہایت مضبوط تھا۔وہ اس آہنگ سے ڈرنے لگی تھی۔جب وہ گہرے پانیوں میں تھی تب اس نے وہاں ایک مضبوط چٹان دیکھی تھی، جو سالہا سال سے موجود تھی۔وہ سوچنے لگی۔
“کیا اس مرد کا خمیر بھی اسی چٹان سے اٹھایا گیا ہے؟“
مرد نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھا۔جل پری کی سانسیں اٹکنے لگیں۔وہ اس ہاتھ کی تپش برداشت نہ کرسکی۔گھونسلے سارے گرنے لگے۔اس پر محبت کی برسات ہونے لگی۔اتنی ڈھیر ساری محبت۔اس کا سینہ پھٹنے لگا۔
مرد مسکراتے ہوئے بولا۔”شرط یہ ہے کہ مجھے یہاں ایک گھونسلا بنانے کی اجازت ہوگی“
جل پری ٹوٹ گئی تھی۔تتلیاں قوس قزح بنانا بھول گئی تھیں۔شاید وہ بھی محبت کی برسات سے مدہوش ہونے لگی تھیں۔جل پری نے آس پاس دیکھا۔پھر اس کی نظر خاموش دریا پر پڑ گئی۔اس سے پہلے کہ کوئی کچھ سمجھتا وہ گہرے پانیوں میں اتر گئی۔وہ اس مرد کو یہ بھی نہ بتا سکی کہ۔
“واقعی محبت کو کوئی نہیں سہار سکتا“۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *