اے سالِ رفتہ 2019ء۔۔ایم بلال ایم

اے سالِ رفتہ مجھے تجھ سے کوئی گلہ نہیں۔ مگر جب تک سانسیں ہیں، میں تمہیں کبھی نہ بھولوں گا۔ تیری وہ اک شام بھی نہ بھولوں گا کہ جب میری امی جان اس دنیا سے چلی گئیں اور میں۔۔۔ اس واقعہ نے میری زندگی بدل کر رکھ دی۔ بلکہ میرے لئے زندگی موت اور رشتوں ناتوں کے معنی ہی بدل گئے۔ پینتیس چھتیس بہاریں دیکھنے کے باوجود بھی جو بچے کا بچہ تھا، وہ یک دم بوڑھا ہو گیا۔ اس سب کے باوجود بھی اے سالِ رفتہ(2019ء) مجھے تجھ سے کوئی گلہ نہیں۔ کہتے ہیں کہ وقت سے بہتر کوئی مرہم نہیں۔ ٹھیک ہی کہتے ہوں گے مگر کچھ گھاؤ ایسے ہوتے ہیں کہ جو وقت کے ساتھ ساتھ ظاہری طور پر نظر آئیں نہ آئیں لیکن مرتے دم تک کبھی نہیں بھرتے۔۔۔

سال 2019ء کے آغاز پر بہت کچھ سوچا تھا۔ کئی پروگرام اور بڑے بڑے پلان بنائے تھے مگر۔۔۔ خیر جب تک زندگی ہے تو وہ کسی نہ کسی شکل میں چلتی ہی ہے۔ سیاحت کے حوالے سے بھی کئی پلان تھے لیکن پھر دماغ کے تانے بانے ایسے بکھرے کہ وہ کام جو میں چٹکی بجا کر کر لیا کرتا تھا، وہی مجھے پہاڑ(مشکل) لگنے لگے۔ اس سے ہی اندازہ کریں کہ پورٹر یا گائیڈ کا انتظام کرنے کے لئے ایک فون کال تک نہ ہو پاتی۔ دو تین پروگرام تو ایسے تھے کہ عین وقت پر معمولی سی بات کی وجہ سے دل چھوڑ بیٹھا۔۔۔ آخر دوست احباب کو کہا کہ ہو سکے تو یارو! مجھے معاف رکھو۔ اللہ بھلا کرے، ان ظالموں نے ذرا بھی معاف نہ رکھا۔ پروگرام پر پروگرام بناتے رہے، بلکہ اکثر اوقات مجھ سے بنواتے اور کئی سیاحتی معاملات بھی میرے سپرد کر دیتے۔ معلوم نہیں کہ میری بہتری کے لئے وہ سب انہوں نے شعوری طور پر کیا تھا یا لاشعوری، لیکن اس کا فائدہ یہ ہوا کہ میں ایک خاص کیفیت سے باہر نکلنے اور واپس معاملات کی طرف لوٹنے لگا۔ ایسے تمام دوستوں کے لئے شکریہ بہت چھوٹا لفظ ہے۔ جبکہ اللہ ہی انہیں جزا دے۔ اور ان احباب کا بھی شکریہ کہ جنہوں نے مشکل میں مزید مشکلات بڑھائیں اور خلوص کی واٹ لگائی۔ ان کا شکریہ اس لئے کہ ان کی وجہ سے مجھے زندگی کے کچھ نئے رنگ دیکھنے اور سمجھنے کو ملے۔ اور اپنی مدد آپ کے تحت اور تنہا چلنے کا طریقہ سیکھنا شروع کر دیا۔

گو کہ سالِ رفتہ میں ہم سب دوست احباب اپنے سوچے گئے تمام سیاحتی سفر نہ کر سکے، لیکن مجموعی طور پر 2019ء ہماری سیاحت، تحاریر اور فوٹوگرافی وغیرہ کے لئے زبردست رہا۔ بلکہ اس سال ٹریول ویڈیوز کا جو نیا تجربہ کیا تھا، وہ بھی اچھا رہا۔ مقامات کے لحاظ سے ٹلہ جوگیاں ہم پر چھایا رہا اور اس سال تین دفعہ جانا نصیب ہوا۔ دو دفعہ ٹلہ پر رات گزاری اور تیسری دفعہ ساری رات ٹلہ کے جنگلوں میں ”منگل بدھ، منگل بدھ“ کرتے رہے۔ دراصل اس دفعہ غروبِ آفتاب کا نظارہ کر کے رات کے اندھیرے میں واپسی کا ارادہ تھا مگر ہماری ایک بائیک نے مسلسل پنکچر ہونے کی ٹھان لی اور ہم ہر کلومیٹر بعد پنکچر لگاتے لگاتے صبح دینہ پہنچے۔ تھی تو خجل خرابی مگر یقین کریں ”رُل تے گئے پر چس بڑی آئی“۔ گزرے سال میں ٹلہ جوگیاں کے علاوہ شمال میں نانگاپربت کی قربت رہی اور خاص طور پر دیوسائی میں ریچھ کی تلاش کی دیرنہ خواہش پوری ہوئی اور لگے ہاتھوں دیو کی پہاڑی بھی۔۔۔ اور اپنا چناب؟ اب تک کی زندگی میں اتنا وقت چناب کناروں پر تنہا نہیں گزارہ کہ جتنا اس سال گزارہ۔ آخر دل کی باتیں چناب کے علاوہ کسی اور کو سنا بھی تو نہیں سکتے۔۔۔

بہرحال تصویر میں جو دائیں طرف رات کی تصویر ہے، وہ نانگاپربت کے لاتوبو بیس کیمپ پر چاندنی میں بنائی تھی۔ اس سفر کی ویڈیو میں اسی تصویر کے ساتھ زہرا نگاہ صاحبہ کا شعر بولا تھا ”رات گہری تھی پھر بھی سویرا سا تھا… ایک چہرہ کہ آنکھوں میں ٹھہرا سا تھا“۔۔۔ درمیان میں وہی تصویر ہے کہ جو دیوسائی میں ریچھ ملنے پر بنائی تھی۔۔۔ بائیں طرف ٹلہ جوگیاں کی اک چاندنی رات ہے اور اس رات کا جواب نہیں صاحب۔۔۔ درمیان والی لائن میں انہیں ویڈیوز کے ٹائیٹل ہیں کہ جو راما، تریشنگ، نانگاپربت کے بیس کیمپ، دیوسائی اور بھورے ریچھ کی تلاش پر بنائی تھیں۔ تمام ویڈیوز ہمارے یوٹیوب چینل M Bilal M the ManzarBaz پر موجود ہیں۔۔۔ نیچے دائیں طرف والی تصویر نانگاپربت کی ہے، جو کہ لاتوبوبیس کیمپ سے فجر کے وقت مگر مدہوشی میں بنائی تھی۔۔۔ درمیان والی گھوڑے کی تصویر دیوسائی میں جھیل شاؤسر کنارے بنائی تھی۔ ویسے اس گھوڑے نے مجھے نچا مارا تھا اور بڑی مشکل کے بعد یہ تصویر بنی۔ بائیں طرف والی آخری تصویر پچھلے دنوں ٹلہ جوگیاں پر بنائی تھی۔ یہ تصویر فوٹوگرافی کے لحاظ سے شاید اتنی اچھی نہ ہو مگر مجھے یہ تصویر اچھی لگتی ہے۔ کیونکہ میری نظر میں اس میں ہمارے معاشرے کے متعلق کئی اہم ”سبجیکٹس“ موجود ہیں۔۔۔ ابھی کے لئے اتنا ہی۔ ان شاء اللہ ملتے ہیں نئے سال میں۔

ویسے نیا سال ہو یا سالگرہ کا دن، عیدین ہوں یا دیگر مذہبی و ثقافتی تہوار وغیرہ، ان سب کی خوشیاں اپنی جگہ جبکہ میری نظر میں ایسے دن اپنی پچھلی کارکردگی کا جائزہ لینے اور آئندہ کے لئے پُرعزم ہونے کے دن بھی ہوتے ہیں۔ دعا کرتا ہوں کہ نیا سال 2020ء سب کے لئے ڈھیروں ڈھیر خوشیاں لے کر آئے، کامیابیاں قدم چومیں اور جائز دلی مرادیں پوری ہوں۔ آمین۔۔۔ تمام دوست احباب کو نئے سال کی خوشیاں مبارک۔۔۔

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

Avatar
ایم بلال ایم
ایم بلال ایم ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اردو بلاگنگ کی بنیاد رکھی۔ آپ بیک وقت اک آئی ٹی ماہر، فوٹوگرافر، سیاح، کاروباری، کاشتکار، بلاگر اور ویب ماسٹر ہیں۔ آپ کا بنایا ہوا اردو سافٹ وئیر(پاک اردو انسٹالر) اک تحفہ ثابت ہوا۔ مکالمہ کی موجودہ سائیٹ بھی بلال نے بنائی ہے۔ www.mBILALm.com

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *