2019 سے ’’ٹوینٹی ٹوینٹی‘‘ تک۔۔حسن نثار

قارئین!چند ایسے جملے پیش کر رہا ہوں جن کے بغیر ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت گفتگو کرنے کے قابل ہی نہیں۔ چند رٹے رٹائے، بونگے، بے بنیاد اور کھوکھلے جملے ہی ان کی کل اوقات ہے۔ کمال یہ کہ کبھی سوچتے بھی نہیں کہ ڈھیٹوں کی طرح کب سے انہیں دہرائے جا رہے ہیں۔

عوام بھی ماشاء اللہ نہلے پہ دہلے ہیں جو اتنے اہتمام، خشوع و خضوع سے انہیں اس طرح سنتے ہیں جیسے پہلی بار سن یا پڑھ رہے ہوں۔شیر دھاڑتا ہے، سانپ شوکریں مارتا ہے، کوئل کوکتی ہے، کتا بھونکتا ہے، گھوڑا ہنہناتا ہے، کبوتر غٹرغوں کرتا ہے، تیتر ’’سبحان تیری قدرت‘‘ کا ورد کرتا ہے،

tripako tours pakistan

طوطا ٹیں ٹیں کرتا ہے، بلیاں خرخراتی یا میائوں میائوں کرتی ہیں، چڑیا چہچہاتی ہے، گدھا رینکتا ہے یا ڈھینچوں ڈھینچوں کرتا ہے، بھیڑیا ’’اوووو‘‘ کرتا ہے، کوا کائیں کائیں کرتا ہے، مینڈک ٹراتا ہے، ہاتھی چنگھاڑتا ہے، بندر کھیچی کھیچی کرتا ہے،

چیل چیں ں ںں چیں کرتی ہے وغیرہ وغیرہ جبکہ انسان صرف اشرف المخلوقات بولتا ہے یعنی صرف آواز ہی نہیں نکالتا، ’’بولتا‘‘ ہے اور اسی لئے اسے حیوان ناطق کہتا جاتا ہے کہ اس کے بولنے میں کوئی ’’بات‘‘ ہوتی ہے ۔

ورنہ تو بولنے، بھونکنے، ہنہنانے، دھاڑنے اور چنگھاڑنے میں فرق ہی کوئی نہیں۔ بالخصوص سیاستدان ’’بولے‘‘ تو اس کا کوئی مقصد کوئی ہدف، کوئی مطلب، کوئی پیغام وغیرہ ہونا چاہئے ورنہ تو کبوتر کی غڑغوں اس سے بہتر ہے۔

اک اور بات ہے ریپی ٹیشن (Repetition) یعنی خود کو دہرانا تو دہرانے اور ری انفورسٹمنٹ میں بہت ہی باریک سا فرق ہے جس کا شعور عام نہیں۔ عام لوگ انہیں آپس میں گڈمڈ اور کنفیوژ کر دیتے ہیں لیکن شاید میں اصل موضوع سے تھوڑا بہک گیا کہ اصل مقصد تو آپ کے ساتھ وہ چند جملے شیئر کرنا تھا جنہیں سن سن دیکھ دیکھ کر کان سنسنانے لگے اور آنکھیں دکھنے لگی ہیں۔

اس سے پہلے کہ میں پھر ادھر ادھر بھٹک یا بہک جائوں، جملے پڑھئے’’ملک تاریخ کے نازک ترین دور سے گز ررہا ہے‘‘’’خزانہ خالی ہے‘‘’’کوئی ہمیں میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا‘‘

’’تھانہ کلچر تبدیل کر دیں گے‘‘’’کرپشن ’’ثابت‘‘ ہو جائے تو سیاست چھوڑ دیں گے‘‘’’ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں‘‘’’سارے وسائل عوام کے قدموں پر نچھاور کر دیں گے‘‘’’کشکول توڑ کے رکھ دیں گے‘‘’’مہنگائی مافیا کے خلاف کریک ڈائون ہو گا‘‘

’’میرٹ کلچر کو یقینی بنایا جائے گا‘‘’’معیشت بہتر ہو رہی ہے ‘‘’’22 کروڑ عوام ہمارے ساتھ ہیں‘‘’’جمہوریت کا استحکام خطرے میں ہے‘‘’’ہم سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں‘‘

’’قبضہ مافیا کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے‘‘’’ملک دشمن عناصر پر زمین تنگ کر دیں گے‘‘’’مسلم امہ کا اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے‘‘’’قدرت نے پاکستان کو بے پناہ وسائل سے نوازا ہے‘‘’’ملک لوٹنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچا کر دم لیں گے‘‘

’’فوری انصاف عوام کو گھر کی دہلیز پر ملے گا‘‘’’تعلیمی انقلاب لائے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے‘‘’’پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنا کر دم لیں گے‘‘’’اداروں کی مضبوطی کو ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے‘‘

قارئین!آپ چاہیں تو ان تاریخ ساز اور تاریخ شکن جملوں میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں لیکن میرا سوال بہت بنیادی اور سادہ ہے کہ کیا ان میں سے کسی ایک جملے کا بھی کوئی مطلب ہے؟

سکول سے کالج، کالج سے یونیورسٹی اور عملی زندگی تک یا یوں کہہ لیجئے کہ ٹین ایج سے بڑھاپے تک ایک ایک جملہ سو سو بار سنا…. سنانے والے تبدیل ہو گئے لیکن حالات تبدیل نہ ہو سکے اور اگر کوئی تبدیلی آئی تو بد سے بد تر……

ستیاناس سے سوا ستیاناس تک کی تبدیلیآج کا یہ کالم لکھتے ہوئے سال کا آخری دن ہے۔ آپ پڑھیں گے تو نئے سال کا پہلا دن ہو گا اور مجھے اپنا ہی اک پرانا شعر یاد آ رہا ہےرستے پہ عمر کی مرا پائوں پھسل گیااک اور سال پھر مرے ہاتھوں نکل گیا72 سال ہم نے دائرے کے سفر میں گزار دیئے۔

کوئی فرق پڑا تو صرف اتنا کہ یہ شیطانی دائرہ ضرور پھیلتا چلا گیا اسی کا نتیجہ تھا کہ شاعر کو لکھنا پڑا’’حالات حاضرہ کو بڑی دیر ہو گئی‘‘گزشتہ سال کے آخری دن کی اس خبر پر غور فرمائیں کہ 2019 میں تین ہزار خواتین کو خلع کی ڈگریاں جاری ہوئیں جو اس تلخ حقیقت کی نقاب کشائی ہے کہ پاکستان میں خاندانی نظام بھی بتدریج درہم برہم ہوتا چلا جا رہا ہے۔

خلع کی 6000 درخواستیں زیر سماعت ہیں اور میرا خیال ہے کہ اگر تحقیق کی جائے تو معلوم یہی ہو گا کہ طلاقوں کی شرح میں اضافہ کی ایک اہم وجہ مہنگائی، بے روزگاری یا یوں کہہ لیجئے اقتصادی حالات کی ابتری ہے۔

جہاں بھوک ناچے گی وہاں ناچاقی بھی اس رقص ابلیس میں شریک ہو جائے گی۔اللہ کرے 2019کے بعد ’’ٹوینٹی ٹوینٹی ‘‘ (2020) مبارک ثابت ہو۔

’’ اک نجومی نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے‘‘

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

Advertisements
merkit.pk

جنگ

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply