دشمن،دروازے پر۔۔محمد اقبال دیوان/10،آخری قسط

SHOPPING

بھارت سے آنے والی ایک مہمان سے مکالمہ۔ہمارے محترم محمد اقبال دیوان نے یہ طویل مضمون کچھ دوستوں کے اصرار پر لکھا ہے۔ یہ در اصل چند گھنٹوں کا ایک طویل مکالمہ ہے جو مصنف اور بھارت نژاد، امریکہ میں مقیم ایک گجراتی خاتون کی بے لاگ اور بے باک سوچ پر مبنی تبادلہء خیالات سے کشید کیا گیا ہے ۔ اس سلسلے کا تفصیلی تعارف اسی مضمون کی پہلی قسط میں موجود ہے۔ انعام رانا۔(ایڈیٹر ان چیف)

نویں قسط کا آخری حصہ

ہم نے پوچھ لیا کہ یہ آدی واسی لوگ کیا ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں کامیا کہنے لگی جس ملک کے بیس کروڑ دلت لوگ جس میں اسی پری ست ہمارے دھرم کے ہیں ان کو ہندو ماننے میں آر ایس ایس اور آریہ سماج کو سن۔ کوچ(ہچکچاہٹ) ہو وہاں آدی واسی جیسے Marginal Groups (حاشیہ برداروں) کو کون ہندو مانے گا۔ ویسے اگر ویدک حساب سے مانو تو نہیں ان کے ہاں چاند سورج جانے کس کس کو پوجا جاتا ہے۔ان لوگ میں ہمارا ہندو ذات پات کا نظام نہیں۔ان میں شادی بھی بہت چھوٹی عمر میں ہوتی ہے۔لڑکا لڑکی کو بولتا ہے چلو ساتھ رہتے ہیں۔ لو شادی ہوگئی۔دیٹ سمپل۔سو۔ لونگ۔ تامل ناڈو میں جو نل گری ہلز ہیں اودھر میں ٹوداس میں لڑکی لوگ کم ہے۔ سوچتی ہوں اودھر میں بھی چلی جاؤں۔ عنبر کہنے لگی اس میں کیا خاص بات ہے۔ بتانے لگی ہر ایک عورت کے کئی ہسبینڈز ہوتے ہیں۔ آلوئیز ان ڈیمانڈ۔
کہنے لگی میرے آنے سے کچھ دن بعد ایک مظاہرہ تھا دہلی میں آدی واسی لوگ کا نعرہ ہے جل۔جنگل۔ زمین(پانی جنگل اور زمین)۔
ہم نے کہا بس اب ایک آخری موضوع سائیں شردھی والوں کا رہ گیا ہے۔کہنے لگی میں دس منٹ کا بریک مانگتی ہوں میڈی ٹیٹ (مراقبہ) کرکے آتی ہوں۔۔
دسویں اور آخری قسط کا آغاز( سائیں بابا شردھی والے)

بخور
ویکیوم کلینر
کامیا جیسے لوگ
باؤنسرز

کامیا پٹیل کے جاتے ہی عنبر صدیقی آگئی۔ سراپا عجز بن کر کہنے لگی کامیا پوچھ رہی تھی کہ دیوان صاحب دیوبندی، سلفی، تکفیری جانے کیا کیا ہیں۔سعودی برانڈ کے مومن ِ مبتلا۔
جانے شردھی بابا کے بارے میں ٹھیک سے بات ہوپائے گی کہ نہیں۔۔
میں نے تسلی دی کہ پورے پاکستان میں اگر کوئی تم سے لڑے بغیر تمہاری بات ڈھنگ سے سنے گا تو وہ ہمارے یہ دوست ہیں۔تمہارے لیے تمہارے دین کا جواب میرے لیے میرے دین کا حساب۔ She is very emotional about Saints.

ہم نے چھیڑا کہ ہمیں بھی Saint ہی سمجھے چاہے تو ہجےScent والے کرلے۔ کوئی اعتراض نہیں

عنبر چلی گئی تو کامیا پاٹل کی آمد سے کچھ دیر پہلے ایک ملازم بخور بھی جلاکر چلاگیا اور ہم سے پوچھے بغیر اس کی وہسکی کا گلاس، بوتل اور ہمارا شیشہ بھی اٹھاکے لے گیا۔اتنا ہی کافی نہ تھا۔ ایک ہینڈ۔ ہیلڈ ویکیوم کلینر سے صوفے کرسیوں کی دھول بھی سمیٹ کر لے گیا۔

کامیا پٹیل دس بارہ منٹ بعد جب واپس آئی تو شانتی اور پوترتا کی ایک تصویر لگ رہی تھی۔لباس بھی تبدیل۔سفید اور سر پر دوپٹہ بھی پورا۔

جوڑا جو لوٹ آیا
ناسخ

ہمیں حیرت ہوئی مگر اتنی بھی نہیں۔اہل ِ دل کے ہم نے کئی رنگ دیکھے ہیں۔کامیا کا جان لیں کہ وہ بڑی صاحب ِ دل اور روشن ضمیر عورت ہے۔وہ اگر agnostic ہ یعنی دہریہ ہے تو وہ ایک احتجاجی پردہ ہے۔ایک طرح کی رکاوٹ۔ اس کا یہ اعلان شبینہ تفریح گاہوں کے باہر کے باؤنسرز جیسا ہے کہ Riff- Raff پاس نہ پھٹکیں۔بالکل ہمارے دیوبندی سلفی، تکفیری خارجی کے اعلامیے جیسا۔ ورنہ اللہ جانتا ہے کہ ہماری تو کوئی نماز التحیات پڑھتے ہوئے عباد الصالحین پر سلام بھیجے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔یہ عباد الصالحین کون ہیں؟ ان کا علم صرف اللہ کو ہے۔ ہمارے فرائض میں یہ شامل نہیں کہ ہم کسی کی درجہ بندی کریں۔ہمارا کام تو اللہ کا حکم مان کر ان کی تکریم کرنا اور سلام بھیجنا ہے۔

کئپشن یہ اجمیر اور دہلی میں اولیا ء کے مزار ات پر
سائیں بابا شردھی والے،قبر سمادھی اور خود
مندر کے اندر قبر اور سمادھی
مندر کا راستہ
مودی جی بھی شردھی پہنچ گئے
داتا تیریا تین مورتی
تین مورتی بھون
ملا ہیبت اللہ آخوندزادہ

کامیا کا یہ احترام دیکھ کر ہمیں محسوس ہوا کہ وہ بہت دور جاکر یہ جانتی ہے کہ یہ بزرگان جن کا وہ آج اور آئندہ کبھی کہیں ذکر چھیڑے گی وہ اس بیج سے پھوٹے ہوئے پھول اور پھل ہیں جس کا تنا اور شاخیں دین اور اطیع اللہ و اطیع الرسول(اللہ واحد کی بندگی اور رسول آخرالزماں کی پیروی) کا مظہر ہیں۔کامیا کے بارے میں ہمیں آغاز میں ہی علم ہوگیا تھا کہ وہ ایک کامیاب کاروباری گھرانے کی فرد ہونے کے باوجود زندگی کی کسی ناآسودہ کھوج میں لگی ہے۔ ابتدائی عمر سے ہی امریکہ سے مانوس ہونے کے باوجود  بھارت لوٹ کر آنا چاہتی ہے۔ سامنے ایک اور گجراتی جوڑے وویک شاہ اور اس کی بیوی برنڈا کی مثال ہے جو امریکہ میں سلی کون ویلی میں کامیاب زندگی گزارنے کے باوجود ایک کامیاب کیئریر سے اکتا گئے اور جمع شدہ پونجی لے کر بھارت آگئے۔ اب احمد آباد میں نڈیاڈ کے پاس دس ایکڑ پر آرگینک فارمنگ کرتے ہیں ۔ فطرت سے جڑی اس دیہاتی زندگی کے حوالے سے پیچھے ترک شدہ مادی زندگی کی نسبت زیادہ خوش ہیں۔ کامیا کے والدین کی بھی اپنی زمینیں ممبئی سے ذرا دور ناسخ میں ہیں۔وہ اپنے بھائی کے ساتھ  وال  سٹریٹ میں  کچھ انویسٹمنٹ کرکے واپس بھارت یوں آنا چاہتی ہے کہ ایک Foot-Loose (آوارہ گرد) سی زندگی گزارے۔ امریکی پاسپورٹ پر کرغزستان سمیت 174 ملکوں کی ویزہ کی پابندی سے بے نیاز سیر کرے ۔ آرگینک فارمنگ کرکے اشیا ء بھارت سے اپنے چچا کے پٹیل  سٹور نیوجرسی پر فروخت کے لیے بھیج دے گی۔شادی کا ارادہ نہیں مگر کہتی ہے بچہ شاید پیدا کروں یا گود لے لوں۔کامیا کہتی ہے اجمیر ہو یا دہلی ناسخ ہو یا کلئیر وہ جمعرات کو قوالی سننے ضرور مزار پر جاتی ہے۔There I am no more western educated.
I am just a plain girl in the woods of spirituality listening to rapture of my soul
(ان مقامات پر میں کوئی مغربی تعلیم یافتہ انسان نہیں ہوتی۔ میں تو وہ سادہ سی لڑکی ہوتی ہوں جو روحانیت کے جنگل میں گھومتی ہے جہاں اس کی روح جذب کی منزلوں پر بھٹکتی ہے۔)

کامیا کا ناسخ ممبئی سے اکثر جانا ہوجاتا ہے۔نوے کلو میٹر دور ہی شردھی کا گاؤں ہے۔یہ احمد نگر کا جو تعلقہ رہاتا کی بستی شردھی یا سائیں نگر کہلاتاہے ۔ناسخ جائے تو شردھی لازماً جاتی ہے۔جمعرات کو وہاں گو کہ قوالی نہیں ہوتی مگرناسخ میں کئی درگاہیں یا پڑوس میں گجرات پونااور گلبرگہ۔تلنگانہ میں خواجہ بندہ نواز گیس دراز کی درگاہ پر چلی جاتی ہے۔طے ہے کہ بھارت میں اگر وہ ہوگی تو جمعرات کو گھر پر نہیں سوئے گی۔

کامیا بتانے لگی کہ وہاں ایک پراسرار مندر ہے جو پہلے کبھی خانقاہ ہوتا تھا۔یہاں ایک قبر ہےاس کے ساتھ ایک سمادھی ہے۔مندر اس لیے بن گیا کہ یہاں دلت بہت آتے تھے۔اب یہاں تصاویر لینا ممنوع ہے۔سیل فونز اور کیمرے رکھوالیے جاتے ہیں۔اس وقت آمدنی کے حساب سے یہ بھارت کے ہاٹ اسپاٹ مندروں میں سے ہے۔ شکر ہے تم لوگ کا ٹوٹا پھوٹا لولا لنگڑا کنگلا میلا پاکستان بیچ میں ہے۔ہم بھارتی تم لوگ کی آرمی سے بالکل نہیں ڈرتے۔ہمارے پاس اس کو ہرا نے کے بہت طریقے ہیں ۔بنگلہ دیش میں ہم نے گیم کیا تھا۔ ۔ تم لوگ کو کراچی میں کیسا تگنی کا ناچ نچایا۔ہمارے لوگ تھے کراچی ان کی مٹھی میں تھا۔ تمہارا مشرف ان کا ماموں بن کر بیٹھا تھا۔ دیکھو نا کشمیر میں تم پاکستانی کیسے اچھے بچے بن کے تیل شیل لگا ،سرمہ ڈال  ،چڈی پہن جوتے موذے چڑھا کے اسکول بوائز کی طرح بیٹھے ہیں۔مودی امریکہ کو کان میں کچھ بولتا ہے تو تم لوگ کا عمران سعودی بادشاہ کو جواب میں گڈ مارننگ ٹیچر ،تھینک یو ٹیچر بولتا ہے مگر وہ سالے طالبان غزنوی لوگ سے ہم کو ڈر لگتا ہے ۔پنڈت لوگ کی دھوتی گرم ہوجاتی ہے ۔ inherited fear ہے کہ ملا لوگ سالے ڈبل کیبن پر بندوقیں لے کرممبئی کے جوہو بیچ آگئے تو رنبیر کپور کی ختنہ کا مسئلہ ہوجاۓ گا۔سوناکشی دشا پٹنی کو عبایاپہننا پڑے گا۔قطرینہ کو قندھاری برقعے میں چھپا کے کوئی ملا لے جاۓ گا ہم تمہاری سینا سے نہیں ملا آخوند زادہ جس کو ہم Mulla Mountain بولتے ہیں اس سے ڈرتے ہیں کہ شردھی پہنچ جاٰئیں گے اب ان کا داخلہ تقریبا ً ممنوع ہے۔۔قبر اور خانقاہ اس لیے پس منظر میں چلے گئے کہ شری سائیں بابا سمادھی مندر کا انتظام اب برہمن پجاریوں کے ہاتھ میں ہے۔ ویسے تو برہمنوں پروہتوں اور اچاریوں کو۔نرم روئی، دھرم میں پوترتا(پاکیزگی)رسومات کی پابندی، دنیا داری سے دوری،وید جاپ،کسی ذی روح کو کسی بہانے سے تکلیف نہ پہنچانے، آزاد اور من موجی ہونے کے ساتھ سیلف کنٹرول اور ناری سے دوری کی تعلیمات کی تلقین ہے مگر ان کے برہمن بھی ہمارے مولوی صاحبان کیتھولک پادریوں جیسے ہوگئے ہیں۔ ہر وہ کام کریں گے جس سے دین یا دھرم روکے۔ سارا زور حلیے اور جسمانی عبادتوں پر ہے کردار اور انکار۔ ذات پر نہیں۔بچوں سے جنسی بدفعلی میں تینوں دھرم کے پنڈت،مُلا، پادری پیش پیش ہیں۔

اب یہ شر ی سائیں بابا شردھی سن استھان ٹرسٹ اس کا نگران ہے۔اس کے چیئرمین کرشن ناتھ ہوارے ہیں اور اس کے چیف ایگزیکٹیو ایک ریٹائرڈ آئی۔ اے۔ ایس افسر شری دیپک مادوکر موگلی کر۔

روزانہ یہاں پچیس ہزار یاتری آتے ہیں اور تہوار والے دنوں میں یہ تعداد لاکھ ڈیڑھ لاکھ تک جاپہنچتی ہے۔ جتنا فکشن آپ کو ہندو مذہبی کتابوں میں ملتا ہے شاید ہی کہیں اور ملے۔ہمارا دل کیا کہ کامیا کو کہیں کہ وہ کوشش کرے اور بالی ووڈ چاہے تو ہم ان کی کتابوں پر ایسادھارمک فکشن لکھ سکتے ہیں کہ اوتار اور فروزن ٹو ہلکی لگے گی مگر من پسند معاوضے کے علاوہ ہماری شرط ہوگی کہ اس کی ہیروئن سوناکشی سنہا، ہما قریشی یا کیارا آڈوانی ہوں کوئی اور نہیں۔دل کو ہم نے سمجھایا کہ ع زیست مشکل ہے اسے اور بھی مشکل نہ بنا۔

ہنومان
مہاراج اکال کوٹ

ہندو دھرم کے آئیکن ۔ز میں تین مورتی کا  مجسمہ آپ کو اکثر دیکھنے کو ملتا ہے۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی سرکاری رہائش گاہ کا نام بھی تین مورتی تھا۔داتا تیریا یا تین بھگوان جسے تین مورتی بھی کہا جاتا ہے یہ بڑا ہی مقدس تصور ہے جس میں بھگوان شیو، برہما اور وشنو ایک جگہ جمع ہوگئے تھے۔دل چسپ بات یہ ہے کہ بھگوان کا یہ داتا تیریا تصور صرف مغربی اورجنوبی ہندوستان کے علاقوں جیسے گجرات، کرناٹک مہاراشٹرا اور آندھرا پردیش میں پایا جاتا ہے۔ تامل ناڈو کیرالہ، مدھیا پردیش اترا کھنڈ۔ آسام، یوپی میں اس تصور کو زیادہ قبولیت حاصل نہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندو ازم بہت مقامی ہے۔مسلمانوں میں رب کی وحدانیت، سیدالانبیا محمد مصطفےﷺ کے آخری نبی ہونے، قرآن العظیم کے آخری کتاب الہی پر کوئی نفاق نہیں۔ہندو مذہب ایسا نہیں۔ یہ بہت مقامی اورپرسنل ہے۔
ہندو مذہب میں آواگون یا re-incarnation کا بھی بہت مضبوط تصور پایا جاتا ہے۔
مثلاً اگر کوئی برہمن کسی شودر کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کھالے تو وہ اگلے جنم میں سور پیدا ہوگا۔ داتا تیریا یا تین بھگوان نے سب سے پہلے ایک گرو سری پاڈا۔سری والا بھا کو اپنا روپ ایک انسان کی
صورت میں دیا۔ یہ پتھا پورم۔آندھرا پردیش میں پیدا ہوئے۔ وہیں رہتے تھے۔آج کا دور جسے ہندو کالی یوگ (عرصہء محشر جس میں کالی دیوی کا راج ہوگا جو بربادی اور بگاڑ کی علامت ہے)۔یہ اس کے پہلے اوتار تھے۔

فکشن کا نمونہ ملاحظہ ہو۔ہندو وں کا ایک مذہبی گروہ کہتا ہے کہ ان سری پاڈا۔سری والا بھا کی ملاقات ہمالہ کی کسی چوٹی پر ہنومان سے ہوئی جو بندروں کے بھگوان ہیں۔رام کی حسین بیوی سیتا کو جب سری لنکا کا راجہ راون اٹھاکر لے گیا تو ہندومان نے اپنی بے پناہ طاقت کے استعمال کرکے چودہ سال بعد سیتا کو بازیاب کیا تھا(یہ عرصہء بازیابی گمشدہ اور اغواء شدہ پنجاب پولیس کی کارکردگی کا ہم پلہ ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ  بازیاب خاتون جوان عمر ہو تو متعلقہ تھانہ موقع  تلاشی اور فرد بازیابی کی تیاری کے لیے دو تین ہفتے اپنے پاس رکھتا ہے)۔ان حضرت نے راجہ راون بدمعاش کو سبق سکھانے کے لیے اپنی دم کو لمبا کیا اس میں پھلجڑی باندھ کر راون کے محل میں دے مار  ساڑھے چار مچا دی۔ہر طرف آگ لگ گئی۔ایسا لگا جیسے آگ کی دیواروں نے راون کو گھیر لیا ہے۔ اس طرح ساری لنکا ڈھادی۔ آپ نے نوٹ فرمایا دہلی کے تین محاورے آپ نے ہنستے کھیلتے سیکھ لیے دم میں پھلجڑی باندھنا، (تنگ کرنا) دے مار ساڑھے چار(بے دریغ بربادی) اور لنکا ڈھانا(مکمل تباہی)

مزید فکشن:سری پاڈا۔سری والا بھا کی ملاقات جب ہمالہ کی کسی چوٹی پر ہنومان سے ہوئی تو ہنومان جی نے پاڈا جی کو حکم دیا کہ وہ دنیامیں بطور ایک مسلمان فقیر واپس جائیں۔نعرہ تکبیر بلند کریں اور اپنے آپ کو سائیں  بابا کے نام سے پکارے جانے پر اصرار کریں۔دنیا میں وہ تمام افراد کو ایک نکتے پر جمع کریں۔یہ سلسلہ مختلف گرو صاحبان کی صورت میں جب اکال کوٹ مہاراج تک پہنچا تو انہوں نے سن1892 میں اس آتما کو سائیں بابا کو منتقل کردیا۔
سائیں  بابا کا شمار ہندو دھرم کے سب سے زیادہ مانے جانے والی محترم اوتاروں میں ہوتا ہے۔ گمان کیا جاتا ہے کہ وہ ر داتا تیریا کا انسانی روپ تھے۔۔ سائیں  بابا کے ماننے والے اس لحاظ سے انہیں ایک بھگوان، ولی اور فقیر کہہ کر ایک ہی وجود میں سمولیتے ہیں۔

آپ نے کبھی سوچا کہ ہمارا دیوبندی سلفی انداز دعوت دین کے حوالے سے ان ہندوؤں کو بہت ہی Frontal Attack لگتا ہے۔کسی دیوبندی مولوی کو بھارت میں ہندو کو مسلمان کرنے بھیجیں تو ممکن ہے اس کی بیویوں اور کنیزوں کی تعداد میں اضافہ ہو مگر اس کے ہاتھ پر کسی ہندو کا مسلمان ہونا ممکن نہیں۔
اس کی نسبت چشتیوں کا طریقہ بہت پسند کیا جاتا ہے۔چشتیوں کے ایک بزرگ جن کے مزار پر وزیر اعظم کے سسرال والے مانیکا قابض ہوگئے ہیں انہیں یعنی بابا فرید کو چھوڑ کر سب چشتی اولیا کرام بھارت میں ہی مدفون ہیں جیسے سیدنا معین الدین چشتی، ان کے خلیفہ سیدنا بختیار کاکی۔نظام الدین اولیا، علاالدین صابر پیا کلیئر شریف جو حیرت انگیز طور پر ہندوؤں کے  اس مقدس ترین مقام ہردوار ضلع میں مدفون ہیں۔ بابری مسجد کے دنوں میں بھی کہیں یہ صدا بلند نہیں ہوئی کہ یہ جو مہرولی۔دہلی میں پھول والوں کا میلہ ہوتا ہے جہاں سیدنا بختیار کاکی ؒ (جن کے بارے میں ایک صاحبہ کشف کا انکشاف تھا کہ یہ آپ کی ذات مبارکہ تھی جس کو بطور نائنٹی قدرت اللہ شہاب نے اپنی معرکۃالارا کتاب شہاب نامہ میں بیان کیا ہے۔ یہ سب کیفیت کی باتیں ہیں جو محسوسات کی دنیا ہے۔ محسوسات کی دنیا کو براہ راست عام کرنا مناسب نہیں۔ای سعادت بہ زور دانش نیست۔ قدرت اللہ شہاب نے ایسا کیا تو ممکن ہے وہ رسائی اور اجازت کے اس مقام تک پہنچ گئے ہوں گے یا ان کے خیال میں نو واردان شوق کو یہ راستہ بھی دکھادیا جائے۔ ہم اس کی دل سے قدر کرتے ہیں) کا مزار کا علاقہ ہے اور سب مذاہب کے لوگ شریک ہوتے ہیں ان کی جانب کوئی میلی نظر سے دیکھے۔

خواجہ بندہ نواز کی کمال کتاب
جھانسی کی رانی
کتاب اور مصنفہ
سکندر علی وجد اور اُن کی شاعری

کامیا کا بیان جاری تھا۔ ایک عجب سا کیف جیسے پاکیزگی کی ایک چادر، کوئی نیلی دھند، کوئی خوشبو کا جھونکا اس پر چھاگیا ہو۔ ویسا عالم تھا کہنے لگی، شردھی عجب کیفیت کی جگہ ہے۔ میں ایک چکر لگا کر تنہا کہیں کونے میں بیٹھ جاتی ہوں۔ من کو بہت شانتی ملتی ہے۔ان کے بارے میں میری سوچ اور معلومات یہ ہے کہ وہ اس فکشن سے ہٹ کر ایک مجذوب تھے۔
پہلے میں کچھ مقامی اور ہندو خیال بتادوں۔ وہ ستمبر کے مہینے میں سن 1835 میں ایک ہندو جوڑے کے ہاں پیدا ہوئے۔یہ لوگ تو ان کی پیدائش کی تاریخ اور ماں باپ کا نام بھی بتاتے ہیں کہ وہ ستائیس ستمبر کو دیواگری اما اور گنگا بھا ودیا کے گھر پیدا ہوئے۔وہ انہیں جنگل میں چھوڑ کر بھاگ گئے تو انہیں ایک مسلمان فقیر نے پال لیا۔ اس کے اور بیوی کے ہاں اولاد نہ تھی۔چار سال کی عمر سے ہی سائیں
بابا کچھ عجیب حرکتیں کرتے تھے۔ مندروں میں آذان دیتے تھے اور مسجدوں میں رام نام کے بھجن گاتے تھے۔ مسلمان فقیر مرگیا تو بیوہ ماں نے انہیں ایک گرو گوپال و ینکا ویدھواتا کے حوالے کردیا۔ اس کا دیہانت ہوا تو یہ بھی کہیں چلے گئے۔جنگ آزادی کے چند برس پہلے وہ شردھی گاؤں میں سولہ برس کی عمر اچانک نمودار ہوئے۔وہاں دو ماہ تک انہوں نے اپنے گرو کی سمادھی کے چبوترے پر نیم کے درخت کے نیچے تپسیا کی اور پھر غائب ہوگئے۔1858 میں وہ دوبارہ شردھی ایک بارات جو چندو پٹیل کی تھی اس کے ساتھ اورنگ آباد سے واپس آگئے۔یہاں قیام کے دوران ان کی ملاقات ایک افسر ساتھے سے ہوئی جو اپنی بیوی کے انتقال پر دل شکستہ تھا۔ بابا کو وہ بہت اچھا لگا اور انہوں نے اسے اپنا ہم نشین و جلیس بنالیا۔اس کی وجہ سے حاسدوں کو بہت موقع ملا۔اس سے پہلے کہ وہ اپنے ارادوں میں کامیاب ہوتے کچھ بڑے ہندو گرو ایک کے بعد ایک دنیا سے رخصت ہوئے مگر وہ سب ایک بات پر متفق دکھائی دیے کہشردھی کے سائیں بابا ہی ان کا اوتار ہیں۔یہ ہی وہ عرصہ ہے جب ان سے کئی کرامات موسوم ہیں۔جس نے ہندو معتقدین میں انہیں سب سے بڑے انسان کا درجہ دے دیا ہے ۔

کامیا پٹیل بتانے لگی کہ وہ مانتی ہے کہ شردھی والے بابا ایک مجذوب تھے۔ یہ ان اسی پٹھان سرداروں میں سے کسی ایک کے خاندان سے تھے جو آخر تک رانی جھانسی کے ساتھ رہے۔جھانسی (موجودہ ضلع جھانسی یو۔پی بھارت) کی رانی مہا لکشمی بائی نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر انگریزوں کے خلاف سن 1857 علم بغاوت بلند کیا تھا۔ گھڑ سواری کی بہت شوقین تھی۔ جنگ میں شکست پر
فرار ہوتے ہوئے جس گھوڑے پر سوار تھی اس کا نام بادل تھا۔مہا لکشمی کا تعلق مرہٹوں سے تھا۔ جب برطانوی فوج نے جھانسی پر قبضہ کرنا چاہا تو وہ انکار کربیٹھی یہ جنگ کا آغاز تھا۔ جھانسی کی رانی فرار ہوکر گوالیار آگئی مگر سال بھر بعد یہاں برطانوی فوج سے جنگ ہوئی اور وہ ماری گئی۔کامیا کو ایک کتاب کی اشاعت کے حوالے سے دکھ ہے۔ ایک کتاب جو مشہور ادیبہ جے شری مشرا نے لکھی ہے اس میں بیان کیا گیا ہے کہ رانی آف جھانسی کا برطانوی افسر  Robert Ellis سے افئیر تھا۔ اسے نامناسب حالت میں باغ میں کئی دفعہ دیکھا گیا۔ اس کا میاں نامرد تھا۔۔ وہ مہالکشمی رانی آف جھانسی کو آزادی کی علامت سمجھتی ہے۔ کہنے لگی رانی کے فوجی ساتھیوں میں کچھ پٹھان فوجی کمانڈر جان بچا کر ادھر اُدھر بھاگ نکلے تھے ایک عبداللہ صاحب تھے جو ناندید۔ خان دیش سے یہا ں آئے تھے۔ وہ بڑے جاگیر دار تھے اور مشہور شاعر سکندر علی وجد کے دادا  تھے۔کامیا کا کہنا ہے کہ عبداللہ صاحب نے بطور مجذوب سائیں بابا کو سنبھالا تھا مگر وہ کہا کرتے تھے ہماری وجہ سے تو بہت مشکل میں رہے گا۔ بطور جاگیر دار ان پر جسمانی تشدد تو نہ ہوا مگر ان کے دشمن انہیں تنگ کرتے رہے۔

کامیا پٹیل کا یہ پہلو کچھ لوگوں کو عجیب لگے مگر عقیدت ایک طرح کی برین پروگرامنگ ہوتی ہے۔ پاکستان کے مشہور ترین پیروں کے نام لیں جو سیاست میں بھی تاحال بڑا نام ہیں تو انہیں دیکھ کر دو کوڑی کی روحانیت یا پاکیزگی کا تصور نہیں جاگتا۔مسلمانوں کے اہم فرقوں کے امام اور داعی حضرات کا سوچیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ان کو معتقدین انہیں کس عقیدت سے دیکھتے ہیں۔پاکستان سے باہر موجود ان بڑے ناموں پر غور کریں تو ان کے ماننے والوں میں کیا کیا پڑھا لکھا شخص موجود نہیں مگر جب بات عقیدت کی ہو تو حیرت ہوتی ہے کہ ایسی اندھی عقیدت۔ ایک فرقے کے داعی مطلق کا جھگڑا گجرات اور ممبئی کی ہائی کورٹس میں چل رہا ہے بہوئیں بھی پوتے لے کر امریکہ فرار ہوچکی ہیں۔
گھڑی پر نگاہ ڈالی تو تین بج رہے  تھے تو مہمان رخصت ہورہے تھے۔ایک عدد پراڈو کا رخ ہمارے علاقے کی طرف تھا ،کامیا کی دعوت تھی آئندہ ملنے کی۔تعلقات جنگل کی آگ جیسے ہوتے ہیں۔ایک دفعہ بھڑک اٹھیں تو بہت کچھ بھسم کردیتے ہیں۔عورتوں اور ڈکیتی کا ایک ہی اصول ہے کہ آپ کو یہ شعور ہونا چاہیے کہ کس گھر میں نہیں گھسنا۔۔کبھی امریکہ میں ہوئے تو مل لیں گے۔

SHOPPING

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *