دشمن،دروازے پر۔۔محمد اقبال دیوان/9

SHOPPING

بھارت سے آنے والی ایک مہمان سے مکالمہ۔ہمارے محترم محمد اقبال دیوان نے یہ طویل مضمون کچھ دوستوں کے اصرار پر لکھا ہے۔ یہ در اصل چند گھنٹوں کا ایک طویل مکالمہ ہے جو مصنف اور بھارت نژاد، امریکہ میں مقیم ایک گجراتی خاتون کی بے لاگ اور بے باک سوچ پر مبنی تبادلہء خیالات سے کشید کیا گیا ہے ۔ اس سلسلے کا تفصیلی تعارف اسی مضمون کی پہلی قسط میں موجود ہے۔ انعام رانا۔(ایڈیٹر ان چیف)

آٹھویں قسط کا آخری حصہ
اس ہنستی بستی کھلواڑ میں کامیا کی جانب سے ہم سے ایک سوال ہوا کہ آپ کے نزدیک بابری مسجد کا مدعا کیا ہے؟
ہم نے کہا ہم تو تکفیری، سلفی،دیوبندی، غزنوی ہیں۔عنبر کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگی
We will hug you in the end for admitting all these so brazenly and fearlessly
(ہم اس بے خوف اور جرات مند اعتراف پر تمہیں آخرکار گلے لگائیں گے)
سو ہم نے وضاحت کی کہ ہمارے نزدیک بھارت سے نمٹنے کا ایک محمود غرنوی،شہاب الدین غوری اور بابر کی فوج کشی علاج ہے۔کچھ اور نہیں۔ایسی ہر مسجد کو ہمارے نزدیک ٹوٹ جانا چاہیے جسے بابر جیسا Gay اور شراب و افیم کا رسیا۔ کابل سے پندرہ سو کلومیٹر دور فیض آباد میں 1524 بھارت فتح کر کے ایک برگیڈ سے بھی کم فوج کی مدد سے تعمیر کرے اور جسے دنیا کا دو سو کروڑ اور بھارت کا پچیس کروڑ مسلمان ٹی وی پر ٹوٹتا دیکھے۔ اس کے بعد سے مسلسل مظالم سہے اور کچھ نہ کرے۔

جنرل ابو بکر عثمان(مٹھا مرحوم)
انٹیلا،امبانی جی کا گھر
سوناکشی منیش کی ساڑھی میں
منیش

 

وائلڈ لائف فرسٹ

مسلمانوں کے لیے سبق سیکھنے کا باب سکھوں نے آٹھ برس پہلے کھولا تھا جب بھارت کے ڈھائی کروڑ سکھوں نے اپنے مقدس ترین مقام گردوارہ ہرمندر صاحب کی توہین کا جی کھول کر بدلہ لیا۔ آپریشن بلیو اسٹار جون 1984 اندرا گاندھی کے حکم پر ہوا اس کے انتقام میں نہ صرف چار مہینے بعد سکھوں نے اندرا گاندھی کو اڑا دیا بلکہ بھارتی فوج کے چیف ارون کمار ودیاجنہوں نے اس آپریشن کو پلانا اور لیڈ کیا تھا اس کو بھی پونا میں دو سال بعد سکھا اور جندا نامی دو خالصتان کمانڈوز نے گولی مار کر ہلاک کردیا۔ ہمیں افسوس ہے کہ نرسما راؤ کی لاش کتوں نے خود کیوں کھائی۔ہمیں یہ بھی
افسوس ہے کہ آڈوانی اور دیگر زندہ کیوں ہیں۔ ان کو نشان عبرت کیوں نہیں بنایا۔ ہم ان گجراتیوں میں سے ہیں جو مانتے ہیں کہ بدلہ کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ جرم کتنا بھی پرانا ہو سزا لازماً ملنی چاہیے۔ہم یہودیوں کی اس بات کو بہت پسند کرتے ہیں کہ نازیوں کو سپورٹ کرنے والیReimann family سے انہوں نے ایک کروڑ تیرہ لاکھ ڈالر جرمانے کے وصول کیے جو مملکت اسرائیل میں کار خیر میں استعمال ہوں گے۔ہمیں اس بات کا بھی بہت دکھ ہے کہ وہ احتجاجی مظاہرے جو جان بوجھ کر عرب ممالک میں ”را“نے کرائے اس میں بھی سب سے زیادہ  نقصان پاکستانی مسلمان مزدوروں کو ہوا جو جذباتی پن میں عربوں کی نازک مزاجی کی پرواہ کیے بغیر اس جال میں آگئے تھے۔
کامیا نے یہ سب کچھ سن کر بے بسی کی دھند سے جھانک کر صرف اتناکہا۔۔ہائے پیار میں جو آری چلوائے ایسے گجراتی سے ڈریو!
نویں قسط ۔ بھارتی سپریم کورٹ کی زیادتی

عنبر صدیقی کہنے لگی کہ اللہ ہم نے تو سوچا بھی نہ تھا کہ گجراتی اتنے لڑاکے ہیں۔ہم تو ان کو فاروق بھائی اور رشید گوڈیل(ایم کیو ایم کے رہنما ) اور سیلانی ،ایدھی ٹرسٹ والے، پلپلے قسم کے Do-Gooders سمجھتے تھے۔ہم نے کہا تم کو یہ نہیں پتہ کہ یہ جو فوج کا کمانڈو گروپ ہے نا  سپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی)۔اس کو بنانے والے ہمارے جنرل ابوبکر عثمان مٹھا تھے وہ میمن تھے۔ ہمارے داؤد بھائی (داؤد ابرہیم) بھی گجراتی ہیں۔یہ اس کے لیے بہت حیرت کی بات تھی وہ سمجھتی تھی کہ نعیم شری،جاوید چشمو، صولت مرزا اور یوسف ٹھیلے والے پر بہادری ختم ہوگئی ہے۔

عنبر صدیقی بڑی دنیا دار عورت ہے۔گفتگو کا سلیقہ کمال اور دلداری کی ادا کامل۔اسے لگا کہ ہمارا بیانیہ شاید کامیا پٹیل پر بطور مہمان گراں گزرے گا۔گو یہ قصے اب ہزار برس سے اوپر کے ہیں۔بھارت میں ہندو ؤں کی ناراضگی محمود غزنوی، معیز الدین غوری، بابر اور اورنگ زیب کی وجہ سے تاریخی نفرت ہے ورنہ شرمیلا ٹیگور، گوری، کرینہ کپور بھی تو ہندو ہیں انہوں نے تو مسلمانوں کے بچے بھی پیدا کیے ہیں۔ ہندو کو شاہ رخ، سسلمان، اور عامر خان سے قطعا” کوئی شکایت نہیں ۔وہ اے آر رحمان پر فخر بھی کرتے   ہیں کہ پہلا میوزک ڈائیریکٹر ہے جو آسکر لے کر آیا۔ پرانے بادشاہوں کے یہ قصے یہ نام مقامی ہندو آبادی کے لیے یہsore- points(دکھتی رگ) ہیں۔کہنے لگی بھئی ہمارے دو سوال ہیں:اب یہ تو بتائیے نا کہ ا ٹھرہ برس کی اس کنواری کلی کو جو محمود غزنوی اور بابر بادشاہ کا نام لے کر ڈرادیا ہے تو اگر یہ ممبئی میں ہوئی اور زید حامد جیسے کسی محمود غزنوی نے آپ کو مہاراشٹررا کا حاکم اعلی ٰ بنادیا تو اس کا کیا کریں گے۔مجھے تو بس امبانی کا گھر اور فلم سٹی کی ملکیت دے دیجیے  گا ،میرا گزارا ہوجائے گا۔۔یاد رہے کہ انٹیلا جو بھارت کے مالدار ترین مکیش امبانی کا 27 منزلہ گھر ہے اس کا شمار دنیا کی سب  سے ہائی رائز فیملی ہاؤس میں ہوتا ہے جس کی مالیت دو سو کروڑ ڈالر ہے ۔دادا بھائی پھالکے چتر نگری وہ سٹوڈیوز ہیں جہاں بالی ووڈ کی فلمیں بنتی ہیں ۔اس کا کیا کرو گے۔ ہم نے کہا اسے کامیا اور سوناکشی سنہا کو گھوڑوں والی بگھی بھیج کر بلائیں گے  ۔منیش ملہوترا سمیت ان دونوں کو داخل حرم کرکے ہم واپس کراچی لوٹ آئیں گے۔اس حوالے سے مزید گفتگو چونکہ محض کھلواڑ ہے لہذا س سے سر دست گریز۔

ہم نے پوچھ لیا کہ کیا جسٹس گوگوئی کا جو فی میل سٹاف ممبر والا  سکینڈل آیا اس سے گوگوئی ڈر گیا تھا۔ کہنے لگی ڈر۔۔سالا جیسے مرغی کا بچہ ،بڑے بلے کو دیکھ کر ڈرتا ہے۔چھوکری نے آروپ(الزام)اکتوبر2018 میں لگایا۔ مئی2019 میں جونیئر جج لوگ کی کمیٹی نے گوگوئی کو کلین چٹ دے دی۔اس سے پہلے جب یہ مارا ماری چل رہی تھی گوگوئی کی کورٹ نے 16 ریاستوں میں دس لاکھ قبائیلی اور آدی واسیوں کو بولا جمین کھالی کرو۔یہ تقریباً پچاس فیصد ہمارے بھارت کا معاملہ ہواہم لوگ کے بڑے کارپوریٹ گروپس نے پہلے تو یہ جو سالی موم بتی این جی اوز ہوتی ہیں۔ ان کو کھڑا کیا کہ یہ سالے لوگ این وارنمنٹ خراب کرتے ہیں۔جنگل کاٹتے ہیں۔ اس میں سب سے آگے Wildlife First تھی۔ اس نے یاچکا (درخواست) ڈالی کہ سن 2006 والا Forest Rights Act اسن ویدھناک(غیر آئینی) ہے بلکہ یہ “anti-conservation”بھی ہے۔
ہم نے بہت آہستہ سے جتایا کہ جس بنچ نے فیصلہ دیا تھا وہ تو جسٹس ارون مشرا، نوین سنہا اور اندرا بینر جی کو کورٹ تھی۔اس میں جسٹس گوگوئی کہاں سے آگیا۔

کہنے لگی کہ جب بڑے کا یہ حال ہوگا تو سب ڈریں گے۔ہمارے ہندی میں بولتے ہیں کہ بیٹی پر جوتی اٹھاؤ گے تو بہو خود ہی ڈر جائے گی۔

آدی واسی
آدی واسیوں کا گراف
بھوری بائی بھیل

اب آپ کے ہمارے دیش میں کتنے ایسے مائی کے لال ہوں گے جن کو پچاس، سو کروڑ روپے کی گھوس (رشوت) دو تو وہ بڑے کی بات نہیں مانیں گے۔جج بھی انسان ہیں۔ تمہارے ہاں بھی تو نواز شریف کا کیش کا تھیلا لے کر ایک جج نے سپریم کورٹ میں ودھ۔رو (بغاوت ہندی میں مذکر ہے)کرایا تھا۔ہم نے کہا خالی بغاوت نہیں اس نے تو حملہ بھی کرایا تھا۔ پھر تم لوگ کچھ نہیں بولے۔ تمہاری راجدھانی میں سینا نہیں ہوتی کیا۔ہم نے کہا ہوتی ہے۔ کہنے لگی ہمارا دِلّی ہوتا تو ان لوگ کو کورٹ میں بند کرکے جج، سٹاف کو باہر نکال کر سب کو زندہ جلا دیتے۔ بلڈنگ نئی بن سکتی ہے مگر ایک دفعہ انصاف کا کھنڈن کوئی کرے تو اس کو جلا ڈالو۔ہم نے کہا جلایا تو مگر بلدیہ فیکٹری میں مگر ابھی کیا مزدور لوگ تھے۔عنبر کی پارٹی تھی تو ہماری کورٹ، پولیس سب سالے ڈر گئے۔ شکر ہے اس وقت عنبر وہاں نہیں   تھی ورنہ بہت دنگا ہوتا۔

ہم نے واضح کیا سن 70کے بعد ہماری اعلی عدلیہ میں بھی اکثر ایسے افراد چیف جسٹس بن گئے جن کو پاکستانی عوام نگاہ میں بہت قدر اور تعریف کی نگاہ سے  نہیں دیکھا جاتا مگر ان میں بھی کچھ اچھے جج صاحبان بھی تھے۔ جیسے حمود الرحمن، دوراب پٹیل، رانا بھگوان داس۔ ہم نے مزید سمجھایا کہ پاکستان میں جن کو بڑا آدمی سمجھا جاتا ہے ان کی بہت بڑدویدا( Dilemma) یہ ہے کہ انہیں Position of Privilege اور Position of Convenienceکا فرق نہیں پتہ۔اللہ جب آپ کو عزت دے تو مال کے پیچھے نہیں بھاگتے۔پچاس سال کے بعد تو یوں بھی کھانا پینا، سیکس،کپڑے پہننے کا شوق بہت دوسری قسم کا ہوجاتا ہے۔مال خرچنے کا چانس بہت کم رہتا ہے۔ ساری آگ اولاد کے لیے جمع کرتے ہیں۔خود بھی نرگ (جہنم)میں جلیں گے گھروالوں کو بھی سلگائیں گے۔ سالے اتنے مرد کے بچے ہیں تو اپنے نام سے محمد، احمد،حسین نکال دیں۔ بول دیں کہ ہمارا دین بس ایک Accident of Birth (پیدائش کا حادثہ) ہے۔ ہمارے بڑے اس دھرم کو مانتے تھے تو ہم بھی مانتے ہیں یہ ہے کوئی Conscious Choice (شعوری انتخاب ) نہیں اللہ نے جو بولا وہ ایک دور کی بات ہے جب ملاقات ہوگی قیامت آئے گی تو اللہ سے بھی نمٹ لیں گے۔

کامیا ہنس کر کہنے لگی ڈارلنگ تو میرے کو مسلمان کرنا چاہتا ہے کہ آڈی واسیوں  اور سپریم کورٹ پر بات کرنا چاہتا ہے؟ ہم نے پوچھا پہلے تو یہ سمجھا کہ یہ آدی واسی کیا ہوتے ہیں۔ارے نیٹیو۔وہ لوگ جو جنم جنم سے بھارت میں آباد ہیں۔۔آدی کا مطلب ہے ابتدا اور واسی کا مطلب ہے باشندہ۔یہ ٹرم ہمارے ہاں بہت عام ہے۔کورٹ بھی مانتی ہے۔ہمارے لاء میں Scheduled Tribesکو نہیں مانا جاتا ۔یہ لوگ ہمالہ کی گود میں جموں کشمیر سے شروع ہوتے ہیں پھر اتراکھنڈ، ہماچل پردیش،آسام، میگھیالا،میزورام، تری پورہ، منی پور،سکم، تک چلے جاتے ہیں مگر ہمارے بھارت میں،مہاراشٹرا، گجرات اور مدھیا پردیش،راجھستان کے بھیل بھی آدی واسی مانے جاتے ہیں۔ایک آدی واسی عورت بھوری بائی نے بہت نام کمایا۔ اس کاآرٹ یورپ کی گیلریوں میں لگے لا ہے۔
یہ بھارت میں کوئی نیا کھیل نہیں۔سن دوہزار سے دوہزار چار میں بھی ہماری گھیلی سپریم کورٹ نے یہ ہی گیم کیا تھا تب تین لاکھ فیملی کو برباد کیا۔دہلی سے بھی بڑا علاقہ خالی کرایا گیا۔

برازیل میں زمین خالی کرانے والے
بھارت کا خونی کاریڈور
ٹاٹا سٹیل
ماؤنکسل باڑی تحریک کے مراکز

سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ فیصلہ سپریم کورٹ نے اس گیم پلان میں ٹریپ ہوکر کیوں دیا۔ بات سیدھی سی یہ ہے کہ سب مدعا ہمارے لوک سبھا(قومی اسمبلی) کے چناؤ سے پہلے اس لیے ہوا کہ بڑے کارپوریٹس گروپ کی نظریں آدی واسی لوگ کی زمینوں پر تھی۔ان لوگ نے چالاکی یہ کی کہ اب کی دفعہ ایک بہت بڑی وائلڈ لائف کی این جی او کو کھڑا کردیا۔اس کا فائدہ یہ ہوا کہ کورٹ کو لگا کہ کوئی بڑا انٹرنیشنل گروپ اس پر ناراض ہے۔انڈیا کا امیج خراب ہورہا ہے۔ون ادھیکاری (forest authorities) بھی اس میں بہت آگے تھے۔ وہ حرامی تیسری پارٹی تھے۔ ان لوگ کو ایم ایف پی سے بہت مال ملتا ہے۔ایم ایف پی بولے تو minor forest produce۔ ٹمبر لکڑی کو چرانا بہت مشکل ہوگیا ہے۔لوکل بھی نہیں چھوڑتے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں ناکے بہت ہوتے ہیں۔

لوک سبھاء کے چناؤ میں ان لوگ نے مودی جی پر بھاؤ لگانا تھا جیسے پہلے لگایا تھا۔یہ ہی چھ سات گجراتی بزنس گروپس تھے۔ٹاٹا، پریم جی،متل، جندل،آڈانی، امبانی۔ادھر جو بی جے پی میں واجپائی کے چیلے پردھان منتری بننے کے لیے آدھی روٹی پر دال (بے تاب ہونا) لیے بیٹھے تھے جیسے ایل کے اڈوانی،وشونت سنہا،سشما سوراج، اوما بھارتی ان پر پچھلے چناؤ (2014) میں ان گروپس نے داؤ نہیں لگایا تھا۔یہ گجرات سے اپنے خادم اعلیٰ کو لے آئے تھے۔اس نے اپنی چیف منسٹری کے ٹائم میں ان گروپس کا بہت لالن پالن کیا تھا۔ اب ہم لوگ کی ساری پارٹیاں بولیں کہ اس فیصلے سے مودی جی کا پاٹیا گول ہوگیا۔ بیس پچیس لاکھ لوگ بے گھر ہوں گے تومودی کو چناؤ میں بہت دھکا لگے گا۔ہم لوگ کی سپریم کورٹ بھی سال مال کی رکھیل تھی اس نے سب چیف سیکرٹریز کو بولا کہ پانچ مہینے بعد 27, جولائی کو سب آدی واسیوں سے زمین خالی کراکے رپورٹ کرو۔تب تک کیا تھا کہ معاملہ ٹھنڈا رہے گا۔

ہم نے یاد دہانی کرائی کہ پچھلے دنوں میں برازیل کے صدرJair Bolsonaro پر بھی بہت بڑا الزام یہ لگا کہ ایمزن کے جنگلات کو خالی کرکے صاف کرنے کے لیے جو بار بار آگ لگتی ہے۔ وہ سرکار کی کارستانی ہے کیوں کہ ان میں نئی سرکار کے آنے کے بعد لگ بھگ نوے فیصد اضافہ ہوا۔ ہمارے ہاں بھی مارگلہ کی پہاڑیوں پر جنگلات کو باقاعدہ جلایا جاتاہے۔صدر صاحب نے کہا تھا کہ ڈنمارک کے سائز کا جنگل کا یہ ٹکڑا اور اس میں آباد چند ہزار انڈین قبائل ملک میں معدنیات کے خزانے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔پہلے بھی سن 2008 میں جو علاقہ خالی ہوا تھا اس میں ٹاٹا والوں کے لیے
لوہانڈی گڈا۔ ضلع بستر،چھتیس گڑھ میں  سٹیل مل بنانی تھی۔اس وقت لاٹھی گولی کی مدد سے 1,707 فیملی سے پانچ ہزار ایکڑ زمین خالی کرائی تھی۔بے چارے لوگ در بدر ہوگئے۔خااندان ٹوٹ گئے تو اس کامیا نے ٹاٹا کو انگریزی میں بڑی سی گالی دی اور کہنے لگی سالا 2016 میں بولتا ہے ہم کو  سٹیل مل نہیں بنانی۔

مہندراکمار
نیل گری کے ٹوڈاس
ایک عورت کے کئی شوہر
دہلی میں آدی واسیوں کا نومبر میں مظاہرہ

ہم نے پوچھا اور یہ نکسلائیٹ گوریلا تحریک کیا ہے؟۔بولی ہمارا ایک علاقہRed Corridor کہلاتا ہے۔پیچھے چین اور نیپال آجاتے ہیں۔ابھی کیا ہے کہ ہمارے سیاست دان اور بیورکریٹ جو تھوڑے ٹیم کے لیے آتے ہیں۔ ان کو بڑے بزنس ہاؤسز بہت مال کھلاتے ہیں۔یہ لوگ اس چکر میں ہوتے ہیں کہ مال پکڑ کر قانون کو موڑ توڑ کر ان آدی واسیوں سے معاشی ترقی کے نام پر زمین خالی کرائیں۔اس وجہ سے یہ آدی واسی لوگ کے گاؤں میں نکسال باڑیوں کی  بہت آؤ بھگت ہوتی ہے۔ہر جگہ دیوار پر نعرے لکھے ہوتے ہیں ”نکسل باڑی ہم کو بچاؤ“ (یاد رہے کہ نکسل باڑی مغربی بنگال کا گاؤں ہے جہاں سے ماؤزے تنگ کی کمیونسٹ پارٹی سے متاثر ہوکر سن ستر میں تحریک شروع کی تھی۔ پہلے یہ سب ایک تھے۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ گروپ اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ماؤزے تنگ گروپ۔ اب یہ آندھرا پردیش، اترا کھنڈ، چھتیس گڑھ،جھاڑکھنڈ،مہاشٹررا،اوڑیسہ، تلنگانہ میں بہت زور رکھتے ہیں

ہمارا ایک سوال سلوا جدوم پر بھی تھا۔ اس تحریک پر کچھ برس پہلے بھارتی سپریم کورٹ نے پابند  فورس تیار کی تھی۔اس کو کویا کمانڈو اور سلوا جدوم بھی بولتے تھے۔بات سپریم کورٹ کی بالکل ٹھیک تھی کہ وہ چھوکرے چھوکری لوگ جنہوں  نے پانچویں جماعت پاس کی ہو، اس کو بندوق اور پولیس کے پاؤر دے دیے تھے۔ یہ کدھر کی عقل کی بات ہے۔

سلوا جدوم کا بنانے والا مہندرا کمار تھا۔ جب سن دوہزار میں ہمارے مدھیا پردیش(دارالحکومت بھوپال) کو توڑ کر چھتیس گڑھ کی ریاست(صوبہ) بنی توسلوا جدوم کی لاٹری لگ گئی۔پہلے بھی یہ وزیر تھا مگر اب اس کو سرکار سے بہت مال ملا۔ چھتیس گڑھ میں فارسٹ کا علاقہ بہت بڑا ہے۔نکسال باڑی ماؤسٹ گروپس لوگ کی بدمعاشی اور بھتہ خوری سے بیوپاری لوگ بہت تنگ تھے اس نے جن جاگرن ابھی یان شروع کیا۔ یہ کچھ برس بعد ختم ہوگئی تو اس نے سلوا جدوم بنالی۔ ابھی آدی واسی لوگ کو یہ مشکل ہوگئی کہ یا تو ادھر سلوا جدوم میں گھسو یا نکسل باڑی کمیونسٹوں کا ساتھ دو۔اس کو سرکار کی طرف سے زیڈ لیول کی سکیورٹی ملی تھی جو آج کل ہمارے اجیت، امیت شاہ اور مودی جی کو ملے لی ہے۔ اس کے باوجود مہندرا کو سات سال پہلے ایک حملے میں ماردیا اور نند اور دبیس کو نکسل باڑی والے اٹھا کر لے گئے۔ان لوگ کو بعد میں مار کے پھینک دیا۔

SHOPPING

ہم نے پوچھ لیا کہ یہ آدی واسی لوگ کیا ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں کامیا کہنے لگی جس ملک کے بیس کروڑ دلت لوگ جس میں اسی پری ست ہمارے دھرم کے ہیں ان کو ہندو ماننے میں آر ایس ایس اور آریہ سماج کو سن۔ کوچ(ہچکچاہٹ) ہو وہاں آدی واسی جیسے Marginal Groups (حاشیہ برداروں) کو کون ہندو مانے گا۔ ویسے اگر ویدک حساب سے مانو تو نہیں ان کے ہاں چاند سورج جانے کس کس کو پوجا جاتا ہے۔ان لوگ میں ہمارا ہندو ذات پات کا نظام نہیں۔ان میں شادی بھی بہت چھوٹی عمر میں ہوتی ہے۔لڑکا لڑکی کو بولتا ہے چلو ساتھ رہتے ہیں۔ لو شادی ہوگئی۔دیٹ سمپل۔سو۔ لونگ۔ تامل ناڈو میں جو نل گری ہلز ہیں اودھر میں ٹوداس میں لڑکی لوگ کم ہے۔ سوچتی ہوں اودھر میں بھی چلی جاؤں۔ عنبر کہنے لگی اس میں کیا خاص بات ہے۔ بتانے لگی ہر ایک عورت کے کئی ہسبینڈز ہوتے ہیں۔ آلوئیز ان ڈیمانڈ۔
کہنے لگی میرے آنے سے کچھ دن بعد ایک مظاہرہ تھا دہلی میں آدی واسی لوگ کا نعرہ ہے جل۔جنگل۔ زمین(پانی جنگل اور زمین)۔
ہم نے کہا بس اب ایک آخری موضوع سائیں شردھی والوں کا رہ گیا ہے۔کہنے لگی میں دس منٹ کا بریک مانگتی ہوں میڈی ٹیٹ (مراقبہ) کرکے آتی ہوں۔
جاری ہے

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *