چوہے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے۔۔عامر عثمان عادل

آج ایک مہینہ ہونے کو آیا گھر ہو یا دفتر چوہوں نے ناک میں دم کر رکھا ہے ۔ دفتر میں یوں سرپٹ دوڑتے پھرتے ہیں جیسے میراتھن ریس کی پریکٹس کررہے ہون ۔ ظالم اتنے ہیں کہ قیمتی اشیاء کترنا ان کا مرغوب مشغلہ ہے ۔ حیرت ہے انہیں مشینری میں گھستے اپنے انجام کا خوف بھی لاحق نہیں ہوتا ۔ فوٹو سٹیٹ مشین کے اس اس کونے میں ان کے نشان ملتے ہیں جہاں مکینک کا ہاتھ بھی پہنچنے سے قاصر ہو ۔ کچن میں پڑے ڈسپنسر میں گھس کر اس کے کمپریسر کے گرد لپٹی تھرموپول شیٹ کتر ڈالی ۔

واٹر پمپ اچانک کام چھوڑ گیا ۔ الیکٹریشن کو بلایا تو پتہ چلا کہ یہ جل چکا ہے۔ پلمبر نے آ کر کھولا تو اندر ایک عدد چوہا آنکھیں موندے ابدی نیند سو رہا تھا۔ لگتا ہے اسے بھی کسی نے انقلاب کے خواب دکھا کے اس راہ پر ڈال دیا کہ یہ اسٹیٹس کو سے ٹکرا کے منطقی انجام سے دوچار ہو گیا ۔ بیچارہ ! لیکن سسٹم سے چھیڑا چھاڑی کا یہ ایڈونچر ہمیں بہت مہنگا پڑا اور بیٹھے بٹھائے دس بارہ ہزار کی پھکی مل گئی ۔
اب سکت نہیں تھی کہ انقلاب کی نذر ہو کر صدمے پہ صدمہ سہتے ۔ سو ان سے دو دو ہاتھ کرنے کی ٹھانی ۔
یاد آیا مین بازار لالہ موسی میں اکثر ایک شخص آواز لگاتا
چوہا کھائے اندر تے مرے باہر

tripako tours pakistan

فطری تجسس سے مجبور ایک روز اسے پوچھ ہی لیا کہ اس کا مطلب کیا ہے
کہنے لگا چوہا یہ دوائی  کھائے گا تو اس کے دل میں گھبراہٹ پیدا ہو گی اور وہ باہر کی جانب دوڑے گا اور باہر جا کے مرے گا۔
سو ہم نے جھٹ پٹ وہ دوائی  منگوائی ، سیب اور آلو کے قتلے کاٹے ان پر چھڑکی اور مختلف ٹھکانوں پر رکھ کر شانت ہو کر بیٹھ گئے ۔ بمشکل ایک روز دفتر میں پڑے گلدان سے مردار چوہا ملا ،فتح کا نعرہ لگایا لیکن اگلے روز ہی یہ خوشی کافور ہو گئی جب کئی قیمتی کاغذات کترے ہوئے ملے گویا یہ ایک پیغام تھا چوہا فورس کی جانب سے کہ۔۔
پکچر ابھی باقی ہے مرے دوست

دوا کے بے اثر ہونے کا ذکر ایک سیانے سے کیا تو مشورہ ملا کہ بازار سے Morten کی گولیاں  ملتی ہیں جو اس قدر سریع الاثر ہیں کہ انہیں کھا کر تو وہ دیوانہ وار مریں گے خیر اس نسخے کو بھی آزمانے میں کیا حرج تھا ۔ گولیاں بھی خرید لائے۔ کچن کے کونے کونے میں یہ گولیاں اس اہتمام سے پھیلائیں جیسے فوج دشمن کی پیشقدمی روکنے کو بارودی سرنگیں بچھاتی ہے ۔
اب ہم تھے کہ ہر روز علی الصبح اس آس پر کچن میں جھانکتے کہ چوہوں کے لاشے بکھرے ملیں گے ۔ لیکن یا حیرت گولیاں بھی غائب تھیں اور شکار بھی ۔ دل ناداں کو سمجھاتے ہوئے پھر نئے عزم سے نیا پیکٹ خریدا اور کونے کونے میں پھیلا دیا ۔ اگلی صبح ایک اور حیرت منتظر تھی ۔ وہ گولیاں جن پر ہمیں بڑا مان تھا وہ بری طرح کتری پڑی تھیں ۔ غور کیا تو ساتھ ایک نوٹ لکھا پڑا تھا
TOUCH ME IF U CAN
یہ وار بھی اکارت گیا۔۔

یقیناً  چوہے انسانوں پر ہنستے ہوں گے کہ جس دیس میں انسانوں کی جان بچانے والی دوائیاں بھی جعلی ہوں اس دیس کے باسی کتنے بھولے ہیں کہ چوہے مار گولیوں کو اصل سمجھ بیٹھے۔آج کے دور میں گوگل ہر مسئلے کا حل پیش کرتا ہے ہم نے گوگل سے استفادہ بھی کر کے دیکھ لیا خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوا تو پھر اسی سیانے کے پاس گئے جس نے آخری حربے کے طور پر ایک خاص چوہے دان خریدنے کا مشورہ دیا سو جناب ہم مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق وہ چوہے دان بھی خرید لائے ہیں
اب دیکھیے جو نیا دام ہم لے آئے ہیں اس میں کوئی  چوہا پھنستا ہے یا نہیں
کیونکہ
چوہے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے ہیں
لیکن صاحب ہم نے بھی قسم کھائی  ہے بس ایک بار یہ ہاتھ آ جائے اسے نزدیکی چوک میں لے جا کر پھانسی نہ دی تو ہمارا بھی نام نہیں
اور اگر یہ ہمیں پہلے ہی مرا ہوا ملا تو آپ سے وعدہ ہے اس کی لاش کو گھسیٹ کر چوک میں تین دن تک لٹکا کے چھوڑیں گے!

عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل ،کھاریاں سے سابق ایم پی اے رہ چکے ہیں تین پشتوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں لکھنے پڑھنے سے خاص شغف ہے استاد کالم نگار تجزیہ کار اینکر پرسن سوشل ایکٹوسٹ رائٹرز کلب کھاریاں کے صدر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *