سورج گرہن۔۔۔۔ حافظ یاسر لاہوری

عجائباتِ_کائنات

سورج گرہن Sun eclipse

سورج گرہن (Solar eclipse) کب واقع ہوتا ہے؟ سورج گرہن لگنے کی وجہ چاند کا سورج اور زمین کے درمیان میں آ جانا ہے۔ چاند سورج سے حجم (Size) میں بہت چھوٹا ہونے کے باوجود سورج کو کیسے چھپا لیتا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ” جہاں چاند سورج کے حجم سے چار سو گنا چھوٹا ہے وہیں سورج چاند کی نسبت زمین سے چار سو گنا زیادہ دور ہے۔ اسی بنا پر چاند سورج سے انتہائی چھوٹا ہونے کے باوجود بھی سورج کو اپنی اوٹ میں چھپا لیتا ہے”

اس بات کو اگر آسانی سے سمجھنا ہو تو یوں سمجھیں کہ ایک بہت بڑی عمارت آپ سے پانچ سو میٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔ آپ اپنی آنکھ اور اس عمارت کے درمیان میں اپنے ہاتھ کو بطور آڑ لے آئے ہیں۔ اب پوری کی پوری عمارت نظر آنا بند ہو گئی ہے۔ حالانکہ وہ عمارت آپ کے ہاتھ سے ہزاروں گنا بڑی ہے۔ اس کی وجہ عمارت اور ہاتھ کا آپ سے مختلف فاصلہ ہے۔ اگر عمارت ہاتھ والی جگہ پر آ جائے یا ہاتھ عمارت والی جگہ پر چلا جائے تو آپ اس پانچ سات انچ لمبے ہاتھ سے ایک بہت بڑی عمارت کو کبھی بھی چھپا نہیں سکیں گے۔ اسی طرح چاند اور سورج کا حجم میں مختلف ہونا اور ان دونوں کا زمین سے فاصلے کے اعتبار سے دور اور نزدیک ہونا سورج گرہن کے لگنے اور سورج گرہن کے کم یا زیادہ ہونے کا سبب بنتا ہے۔

اوپر بیان کی گئی مثال کو آپ نے اس تحریر میں سورج گرہن کی تمام اقسام کے متعلق پڑھتے ہوئے یاد رکھنا ہے۔ تا کہ آپ کو ان اقسام کے فرق کو سمجھنے میں آسانی ہو سکے۔

سورج گرہن کی چار مختلف اقسام ہیں۔ جیسا کہ
جزوی سورج گرہن (Partial solar eclipse)
حلقی سورج گرہن (Annular solar eclipse)
مکمل سورج گرہن (Total solar eclipse)
مخلوط سورج گرہن (Haybird solar eclipse)

نمبر 1
جزوی سورج گرہن
جزوی یا Partial اس سورج گرہن کو کہتے ہیں کہ چاند سورج کے بالکل سامنے نا آئے بلکہ ایک طرف سے ہو کر آگے نکل جائے۔ جزوی سورج گرہن میں کبھی سورج کا بہت زیادہ حصہ تو کبھی بہت کم حصہ چاند کے پیچھے چھپتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ کسی ایک علاقے میں جزوی سورج گرہن واقع ہوا ہے تو ہر جگہ جزوی ہی ہو گا۔ یہ ممکن ہے کہ اگر کسی علاقے میں جزوی سورج گرہن ہے تو کسی دوسرے خطے میں مکمل سورج گرہن دکھ جائے۔ یہ ایسے ہی ہے کہ “آپ نے اپنے ہاتھ کو اپنی آنکھ کے سامنے سے اوپر نیچے یا دائیں بائیں کر لیا ہے لیکن آنکھ کے سامنے سے ہاتھ کو مکمل ہٹایا نہیں ہے، جس کی وجہ سے آپ عمارت کا کچھ حصہ دیکھ پا رہے ہیں اور کچھ حصہ نہیں”

نمبر 2
حلقی سورج گرہن
حلقی یا Annular سورج گرہن کا مطلب ہے کہ چاند زمین اور سورج کے درمیان میں تو آئے گا لیکن زمین کے گرد موجود اپنے بیضوی مدار پر زمین سے تھوڑا دور ہونے کی وجہ سے سورج کو پورا نہیں چھپا سکے گا (زمین کے گرد چاند کا مدار مکمل گول نہیں بلکہ بیضوی ہے، جس بنا پر کبھی تو چاند زمین کے قریب ہوتا ہے اور کبھی دور۔ اگر سورج گرہن کے وقت چاند زمین سے اتنا دور ہو کہ چاند زمین سے چھوٹا نظر آنے کی وجہ سے سورج کو ہماری نظروں سے مکمل اوجھل نا کر سکے تو پھر سورج گرہن حلقی یعنی Annular ہوتا ہے)

اس قسم کے سورج گرہن کے دوران چاند سورج کے بالکل درمیان میں آ تو جاتا ہے لیکن زمین اور چاند کا فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے چاند سورج کو مکمل طور پہ چھپا نہیں سکتا۔ جس بنا پر حلقی سورج گرہن کے دوران سورج چاند کے پیچھے چھپا تو مکمل ہوتا ہے لیکن اس کے روشن کنارے چاند کی اوٹ سے نظر آ رہے ہوتے ہیں۔ بالکل کسی چمکتے ہوئے سنہرے کڑے (Ring) کی طرح۔

یہ ایسے سمجھیں کہ “آپ نے اپنے ہاتھ کو اپنی آنکھ کے سامنے سے نا تو مکمل پرے ہٹایا ہے اور نا ہی اپنے ہاتھ کو آنکھ کے سامنے سے اوپر نیچے یا دائیں بائیں کیا ہے، بلکہ آپ نے اپنے ہاتھ کو اپنی آنکھ سے تھوڑا دور کر لیا ہے۔ جس بنا پر آپ سے پانچ سو میٹر دور اس بہت بڑی عمارت کا درمیان والا زیادہ تر حصہ آپ کی آنکھوں سے اوجھل ہے لیکن آنکھ سے ہاتھ دور جانے کی بنا پر ہاتھ کا سائز تھوڑا چھوٹا ہو گیا ہے، جس وجہ سے اس عمارت کے دائیں بائیں اور اوپر نیچے والے کنارے نظر آ رہے ہیں”

نمبر 3
مکمل سورج گرہن مخلوط
مکمل سورج گرہن(Total solar eclipse) تب لگتا ہے جب چاند اور زمین کا فاصلہ اتنا کم ہو جائے کہ چاند سورج کو مکمل طور پہ اپنے پیچھے چھپا لے۔ مکمل سورج گرہن کے دوران دن کے وقت آسمان پر ستارے دیکھے جا سکتے ہیں۔ جب چاند اور زمین قریب ہوتے ہیں تب چاند بڑا نظر آنے کی وجہ سے پورے سورج کو چھپا لیتا ہے۔ مکمل سورج گرہن کیسے لگتا ہے، اس کے لئے وہی مثال آپ دوہرا لیں کہ “آپ اپنے ہاتھ کو اپنی آنکھ کے نزدیک لے آئے ہیں، ہاتھ کا سائز قریب آنے کی وجہ سے اتنا بڑا ہو گیا ہے کہ عمارت پوری کی پوری چھپ گئی ہے”

نمبر 4
مخلوط سورج گرہن
مخلوط یا Hybird solar eclipse سورج گرہن در اصل سورج گرہن کی دو اقسام حلقی اور مکمل (جو کہ کہیں مکمل ہو اور کہیں حلقی) کو کہتے ہیں۔ اس قسم کا سورج گرہن بہت کم وقوع پذیر ہوتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے آپ اس بات پر توجہ دیں کہ “آنکھ، آنکھ پر رکھا ہاتھ اور وہ عمارت جسے آپ مختلف طریقوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ تمام چیزیں ایک جگہ ٹھہری ہوئی ہیں۔ لیکن یہاں معاملہ تھوڑا سا الگ ہے۔ فلکی اجسام جتنے بھی ہیں، یہ حرکت میں ہیں۔ تو اس لئے اگر سورج گرہن کے دوران زمین اور چاند کا آپس میں فاصلہ کم یا زیادہ ہوتا ہے تو پھر زمین کے کچھ خطوں میں مکمل سورج گرہن ہو گا اور کچھ حصوں میں حلقی (Annular) سورج گرہن ہو گا”

نوٹ:
سورج گرہن کی مختلف اقسام میں چاند اور زمین کے کم و زیادہ ہوتے فاصلے کے ساتھ ساتھ زمین کا سورج سے کم اور زیادہ ہوتا فاصلہ بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مکمل سورج گرہن(Total solar eclipse) کے متعلق یہ بات قابل غور ہے کہ “افزائش مدوجزر یعنی سمندروں کی طغیانی کی وجہ سے چاند ہر سال زمین سے تین اعشاریہ آٹھ سینٹی میٹر دور ہو رہا۔ اگر یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو آج سے ساٹھ کروڑ سال بعد (اگر سب کچھ ایسے ہی رہا تو) چاند زمین سے اتنا دور ہو جائے گا کہ پھر چاند کبھی بھی سورج کو مکمل طور پہ چھپا نہیں سکے گا (افزائش مدوجزر کا مطلب ہے کہ چاند کی کشش ثقل زمین کے سمندر میں طغیانی پیدا کرتی ہے، پھر سمندر کی یہی طغیانی ایک طرف زمین کی کشش ثقل پر اثر انداز ہوتی ہےتو دوسری طرف چاند کو مخالف سمت میں دھکیلتی ہے)

مکمل سورج گرہن کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ “مکمل سورج گرہن کسی ایک علاقے میں زیادہ سے زیادہ سات منٹس اور چالیس سیکنڈز تک نظر آ سکتا ہے، اس کے بعد وہ گھٹنا شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن عام طور پہ لگنے والا مکمل سورج گرہن اکثر کم دورانیے کا ہوتا ہے۔ زمین کے کسی ایک خطے میں مکمل سورج گرہن کم و بیش پونے چار صدیوں بعد دوبارہ نظر آتا ہے۔ یعنی اگر آج پاکستان کے کچھ علاقوں میں مکمل سورج گرہن نظر آتا ہے تو پھر آئندہ پونے چار صدیوں تک پاکستان کے ان علاقوں میں پونے چار صدیوں تک دوبارہ مکمل سورج گرہن نظر نہیں آ سکتا”

آج سے ایک سو چھیاسٹھ 166 سال بعد یعنی 2186 عیسیوںں میں سات منٹس اور انتیس سیکنڈ کا سورج گرہن لگے گا۔ جو کہ گزشتہ پانچ ہزار سال اور آئندہ کے تین ہزار سال میں لگنے والے تمام سورج گرہنوں میں سب سے لمبے دورانیے والا سورج گرہن ہو گا۔ یعنی اس قدر لمبے دورانیے والا سورج گرہن عیسی علیہ السلام کی بعثت سے بھی تین ہزار سال پہلے ہوا تھا۔ اور آئندہ بھی تیس صدیوں (5000 عیسویں) تک اتنے لمبے دورانیے والا سورج گرہن نہیں ہو گا سوائے 2186 والے سورج گرہن کے۔

سورج گرہن کی طرف دیکھنا آنکھوں کے لئے کیوں خطرناک ہے؟
ہماری یعنی انسانی آنکھ الیکٹرومیگنیٹک سپیکٹرم (Electromagnetic spectrum) میں سے صرف وزبل لائٹ(Visible light) کو ہی دیکھ سکتی ہے۔ وزبل لائٹ سپیکٹرم میں جو رنگ آتے ہیں، ان کی ویو لینگتھ Wavelength تین سو اسی 380 نینو میٹر سے لے کر سات سو 700 نینو میٹر تک ہے۔ سرخ رنگ کی ویو لینگتھ سب سے بڑی ہے جو کہ 700 نینو میٹر ہے۔ جبکہ جامنی رنگ (Purple color) کی ویو لینگتھ سب سے کم ہوتی ہے۔

الیکٹرومیگنیٹک سپیکٹرم کے بارے میں یہ بات یاد رکھیں کہ “ان میں بیان ہوئی ریڈی ایشنز کی ویو لینگتھ جیسے جیسے بڑھتی جائے گی، فریکوئنسی یعنی انرجی بڑھتی جائے گی۔ مثال کے طور پر سرخ رنگ کی ویو لینگتھ باقی تمام رنگوں کی ویو لینگتھ سے بڑی ہے، لیکن سرخ رنگ کی فریکوئنسی سب سے کم ہے۔ اسی طرح جامنی (جسے Violet بھی کہا جاتا ہے) کی ویو لینگتھ سب سے چھوٹی ہے لیکن اس کی فریکوئنسی(Frequency) سب سے زیادہ ہے”

سورج کی روشنی اور حرارت کے ساتھ انفرا ریڈ اور الٹرا وائلٹ(Infra red & ultra violet) شعائیں بھی آ رہی ہوتی ہیں۔ چونکہ انسانی آنکھ جامنی رنگ سے لے کر سرخ رنگ تک کے دائرے میں قید ہے اور ان سے کم یا زیادہ ویو لینگتھ والی شعاؤں کی ویو لینگتھس Wavelengths کو انسانی آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔ اس بنا پر ہمیں سورج کی طرف سے آتی انفرا ریڈ اور الٹرا وائلٹ نظر تو نہیں آتیں لیکن وہ ہماری آنکھوں کے لئے نقصان دہ ہوتی ہیں۔

لوگوں میں یہ عام غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ “عام دنوں مین سورج کی طرف دیکھنے سے آنکھوں کو نقصان نہیں پہنچتا۔ ایسا نہیں ہے، سورج گرہن لگا ہو یا نا لگا ہو، دونوں صورتوں میں سورج کو براہ راست نہیں دیکھنا چاہئے۔چونکہ عام دنوں م8ں سقرج کی طرف دیکھنے کا کوئی خاص مقصد نہیں ہوتا، اس لئے اگر کوئی دیکھے بھی تو سورج کی طرف سرسری سی نظر مار کر ہٹا لیتا ہے۔ لیکن سورج گرہن کے دوران موقع ہی ایسا ہوتا ہے کہ انسان ٹکٹکی باندھے سورج کی طرف دیکھ رہا ہوتا ہے، جس بنا پر آنکھ کے Damage ہونے کا خطرہ برابر رہتا ہے۔

سورج گرہن کو دیکھنے کے لئے مخصوص قسم کی عینکیں ملتی ہیں، جنہیں Solaglasses کہا جاتا ہے۔ اگر آپ سورج گرہن دیکھنے کا شوق رکھتے ہیں تو آنکھوں کی حفاظت کو ضرور یقینی بنائیں۔ اگر آپ دوربین سے سورج گرہن کا نظارہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ دوربین کے آگے سولر فلٹر Soler filter لگائے بغیر سورج کی طرف یا سورج گرہن کی طرف دیکھنا انتہائی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

26دسمبر2019کاسورج گرہن

26 دسمبر 2019 کو لگنے والا اس طرح کا سورج گرہن بیس سال بعد ہو رہا ہے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ سقرج کا چھپا ہوا حصہ سندھ اور بلوچستان کی ساحلی پٹیوں پر نظر آئے گا، جیسا کہ کراچی اور گوادر وغیرہ۔ پاکستان میں سورج گرہن کی ابتداء پاکستانی وقت کے مطابق 7 بج کر 34 منٹس پر کراچی میں سورج گرہن شروع گا اور 8 بج کر 46 منٹس پر سورج کا زیادہ سے زیادہ چھپا ہوا حصہ نظر آئے گا۔ اس کے بعد سورج گرہن کم ہوتے ہوتے بالآخر 10 بج کر 10 منٹس پر ختم ہو جائے گا۔

اس سورج گرہن کا مکمل دورانیہ دو گھنٹے 37 منٹس ہو گا۔ لاہور اور اسلام آباد کا بھی 10 سے پندرہ منٹس کے فرق کے ساتھ یہی شیڈول ہو گا۔ یعنی لاہور میں کراچی سے 13 منٹس بعد گرہن شروع گا، اسلام آباد میں کراچی سے 16 منٹس بعد گرہن شروع گا۔ اسی طرح اگر آپ مزید شمالی علاقوں کی طرف کا جاننا چاہیں تو پانچ سات منٹس کا فرق ڈالتے جائیں ہر ڈیڑھ سو سے دو سو کلومیٹر کے فاصلے پر، یعنی شمال کی طرف لیٹ شروع ہو گا بنسبت جنوبی علاقوں کے۔

یہ سورج گرہن ہمارے لئے جزوی ہے۔ کراچی میں سورج کا کم و بیش 80 فیصد حصہ چھپا ہو گا۔ لاہور میں تقریبا 40 فیصد اور اسلام آباد میں چالیس فیصد سے کچھ کم۔ البتہ سری لنکا، ملائشیا، انڈونیشیا، اومان اور سعودی عرب کے کچھ علاقوں میں پورے کا پورا سورج چاند کی اوٹ میں چھپ جائے گا۔ یعنی وہاں مکمل سورج گرہن ہو گا۔

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

Avatar
محمد یاسر لاہوری
محمد یاسر لاہوری صاحب لاہور شہر سے تعلق رکھتے ہیں۔ دینی و دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بہت عرصہ سے ٹیچنگ کے شعبہ سے منسلک ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سائنس، فلکیات، معاشرتی بگاڑ کا سبب بننے والے حقائق اور اسلام پر آرٹیکلز لکھتے رہتے ہیں۔ جس میں سے فلکیات اور معاشرے کی عکاسی کرنا ان کا بہترین کام ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”سورج گرہن۔۔۔۔ حافظ یاسر لاہوری

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *