وجدان کیا کہتا ہے؟(قسط2)۔۔۔۔ادریس آزاد

SHOPPING

جب جب کبھی وجدان کو عقلی سطح پر نیچے اُتار کر سمجھنے کی بات کی جاتی ہے تو زیادہ تر مثالیں جانوروں کی زندگیوں سے دی جاتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مثالیں آسان ہوتی ہیں۔ جوں جوں وجدان حیاتِ انسانی میں داخل ہوتا اور مختلف انسانوں کے ساتھ مختلف درجات میں ظاہر ہوتا چلاجاتاہے اس کی مثالیں پیش کرنا مشکل ہوتا جاتاہے۔ کیونکہ اس موقع پر عقل بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ حصولِ علم میں ہماری مدد گار ہوچکی ہوتی ہے چنانچہ پیچیدہ انسانی ڈھانچے میں آکر وجدان کی مثالیں عقل سے آلودہ ہوجاتی ہیں۔البتہ عقل کی یہ کوشش فطری اور عین نظریۂ ارتقأ کے اصولوں کے مطابق ہے کہ وہ ہماری رہنمائی وجدان کے مقابلے میں زیادہ جوش و خروش کے ساتھ کرے، اور کرنے کی کوشش بھی کرتی ہے۔

جس طرح عقل فردِ واحد کے پاس بھی ہوسکتی ہے اور پھر مختلف لوگوں کے گروہ مل کر بھی کسی عقلی نکتے پر تحقیق، اُس کی تصدیق یا غوروفکرکرسکتے ہیں بعینہ اسی طرح وجدان بھی فردِ واحد کے پاس ہوتا ہے تو انفرادی وجدان ہوتاہے لیکن جب معاشرے کا مشترکہ وجدان عمل پیرا ہوتاہے تو سماجی شعورکی صورت ظاہر ہوتاہے۔ کسی بھی سماج کی ثقافت اُسی مشترکہ وجدان کا نتیجہ ہے جو کسی اجتماعِ انسانی کا اجتماعی الہام تھا۔کسی بھی سماج کا ادب اس سماج کے مشترکہ وجدان کا سب سے مناسب نمائندہ ہوتاہے۔ادب گویا ایک مسلسل نازل ہوتا ہوا الہام ہے۔ ادب، فوک وزڈم، لوک ورثہ، شاعری، افسانے، ناول، خطوط، انشایے، یہ سب کچھ اور ہرزبان میں، کُل ملاجُلا کر کسی بھی سماج کا مشترکہ وجدان یا الہام ہوتاہے۔

سائنس اور آرٹ کا سب سے بنیادی فرق ہی یہی ہے کہ ادب وجدانی و روحانی جبکہ سائنس عقلی و حِسّی سرگرمی ہے۔البتہ ایک اور فرق جو عام طورپر نوٹ نہیں کیا جاتا وہ یہ ہے کہ سائنس چند لوگوں جبکہ آرٹ پورے سماج کی مشترکہ کاوش ہے۔دُور ملتان کے کسی گاؤں میں سرائیکی کا عامیانہ سا شعر کہنے والا مزدور بھی سماج کی اس اجتماعی وحی کا حصہ ہے۔ یہ اجتماعی وحی سماج کی اخلاقیات مرتب کرتی ہے اور اسی اخلاقیات کی بنا پر معاشرے آگے بڑھتے یا پیچھے ہٹتے رہتے ہیں۔ دراصل معاشرے کا اجتماعی وجدان کسی باغ میں پھوٹتے پھول پودوں جیسا ہے۔معاشرہ بذاتِ خود ایک زندہ وجود کی مانند ہے، جسے سوشیالوجی کی زبان میں شوشل آرگنزم کہتے ہیں۔ رسولِ اطہرصلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بھی سماج کو وجودِ زندہ قراردیاہے۔بایں ہمہ کسی معاشرے کا ادب اس سماج کی واحد اجتماعی وحی کا نمائندہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عقل ِ محض سے مرتب کیے گئے نظام ہائے معاشرت ، سماج کے حقیقی نباض نہیں ہوتے۔ ایسے نظاموں کی موجودگی میں فرداپنے مرکزی دھارے سے جدا ہوکر جینے لگتاہے کیونکہ وہ وجودِ زندہ کے، ایک عضؤ کے طورپر مزید باقی نہیں رہ پاتا۔وہ محض اپنے ہی وجود کےتحفظ کی تگ و دو میں جُت کر مشترکہ تخلیقی عمل سے دُور ہوتا چلاجاتاہے۔ایسے معاشرے سوسال سے زیادہ قائم نہیں رہ پاتے اور جلد ہی کسی اور طرح کے معاشرے میں تبدیل یا مکمل طورپرمعدوم ہوجاتے ہیں۔مثلاً جمہوریت کوئی تازہ نظام نہیں ہے۔ صدیوں پہلے بھی جمہوریت کے بہت سے تجربات کیے گئے ہیں ۔ پھر یہ خودبخود معدوم ہوئی ۔پھر یہ خودبخودظاہرہوئی۔دراصل بقول اقبال ’’عالمِ مشہودات کی آنکھ اپنی ضروریات کا مشاہدہ کرلیتی ہے‘‘۔چنانچہ جب جہاں جس طرح کی مداخلت درکار ہوتی ہے کائنات کا نظام، خود ہی وہ مداخلت کردیتاہے۔یہی وجہ ہے کہ معاشرے کی مشترکہ وحی یعنی ادب اور اس کی تمام شاخوں کو دراصل سماج کے جبر کے مترادف سمجھاجاتاہے۔

فلہذا یہ طے ہے کہ وجدان بھی عقل کی طرح فردِ واحد کا الگ اوراجتماع کا الگ الگ ہوسکتاہے۔ لیکن یہ ذریعۂ علم سوفیصد درست علم فراہم کرسکنے کا اہل ہونے کی وجہ سےعقل کے مقابلے میں بہت زیادہ برترہے۔ اقبال نے لکھاہے کہ برگسان کے بقول، ’’وجدان دراصل فکر(عقل) کی ہی ترقی یافتہ شکل ہے‘‘۔

جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ جب وجدان کو سمجھنے کے لیے عقل مثالیں پیش کرنے لگتی ہے تو ہم اپنی آسانی کے لیے زیادہ ترمثالیں جانوروں کی زندگیوں سے لیتے ہیں۔ مثلاً ’’پرندےکاعرفان‘‘ ایک مشہور مثال ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ پرندوں کی کئی انواع ایسی ہیں جو ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک سفرکرتی ہیں، لیکن وہ کبھی راستہ نہیں بھولتے۔ پرندوں کے اس وجدان پر سائنسدانوں نے حال ہی میں تحقیقات کی ہیں۔ کوانٹم بیالوجی کے ماہرین نے تجربات کے بعد بتایاہے کہ سائبیریا سے امریکہ تک اُڑ کرآنے والے پرندوں کو ’’کوانٹم اِنٹینگلمنٹ‘‘ کے ذریعے راستہ معلوم ہوتارہتاہے۔ ان کی آنکھوں کے کارنیا میں اِنٹینگلڈ فوٹان داخل ہوتے ہیں جو زمین کے مقناطیسی قطب (میگنیٹک پول) کے فوٹانز کے ساتھ اِنٹینگلڈ ہوتے ہیں۔اب چونکہ اِنٹینگلمنٹ میں کوئی خفیہ متغیرات موجود نہیں ہیں اس لیے خود فزکس کا یہ مانناہے کہ دواِنٹینگلڈ پارٹیکلز کے درمیان سپیسٹائم وجود نہیں رکھتا۔ اسے اِنٹینگلمنٹ کی نان لوکیلٹی (Non locality) کہاجاتاہے۔ چنانچہ ہم نہایت محفوظ طریقے پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ جس چیز کو پرندے کا عرفان یا وجدان کہاجاتاہے وہ دراصل پارٹیکلز کی اِنٹینگلمنٹ ہے اور اِس لیےپرندے کا وجدان بھی سپیسٹائم کے وجود سے ماورا ہے۔ بالفاظ ِ دگر پرندے کے عرفان میں بھی نان لوکل انفارمیشن کارفرماہے۔ کوانٹم بیالوجی کے اِن تجربات سے بہت اُمید کی جاسکتی ہے کہ شاید آنے والے دور کےا نسان وجدان کی ماہیت کو عقلی طورپر کسی حدتک سمجھنے کے قابل ہوجائیں۔

لیکن وجدان کی انسانی قسمیں پھر بھی شاید دیر تک کسی کی سمجھ میں نہ آئیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی وجدان درجات میں ان گنت اور بتدریج اُوپر کو اُٹھتاہوا یا یوں کہیے کہ کثیف سے لطیف کی طرف سفر کرتاہوا پایا جاتاہے۔ ایک نبی کی وحی کو سمجھنا کس قسم کی سائنس کے بس میں ہوگا یہ کہنا فقط کوانٹم بیالوجی کے تجربات کی رُو سے ابھی بے پناہ مشکل ہے۔

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

وجدان کیا کہتا ہے؟(قسط1)۔۔۔۔ادریس آزاد

SHOPPING

(جاری)

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *