افلا یتدبرون القرآن۔۔اسد امتیاز

کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟

اس نے تمہارے لئے آسمان کو چھت اور زمین کو فرش بنایا اور آسمان سے پانی اتار کر تمہارے لئے “پھل”پیدا کیے اور ان سے روزی دی،خبردار باوجود جاننے کے اللہ کے  ساتھ شریک مت ٹھہراو۔
سورہ بقرہ آیت نمبر ۲۲

اور وہ ایسا ہے کہ جس نے آسمان سے پانی برسایا،پھر ہم نے اس کے ذریعے سے ہر قسم کی نباتات کو نکالا،پھر ہم نے اس سے سبز شاخ نکالی،کہ ہم اس سے اوپر تلے دانے چڑھے ہوئے نکالتے ہیں،اور کھجور کے درختوں میں ان کے گچھے سے خوشے ہیں جو نیچے کو لٹک جاتے ہیں،اور انگوروں کے باغ،زیتون اور انار کے،بعض ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوتے ہیں،اور کچھ ایک دوسرے سے ملتے جلتے نہیں  ہوتے،ہر ایک کے پھل کو دیکھو،جب وہ پکتا ہے اسکے پکنے کو دیکھو،ان میں دلائل ہیں ان لوگوں کیلئے جو ایمان رکھتے ہیں-
سورہ الانعام آیت نمبر ۹۹

اور زمین میں مختلف ٹکڑے آپس میں لگتے لگاتے ہیں اور انگوروں کے باغات ہیں اور کھیت ہیں اور کھجوروں کے درخت ہیں شاندار اور بعض ایسے ہیں جو بے شاخ ہیں،سب ایک ہی پانی پلائے جاتے ہیں،پھر بھی ہم ایک کو ایک پر پھلوں میں برتری دیتے ہیں اس میں عقلمندوں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیں۔
سورہ رعد آیت نمبر ۴

انسان کو چاہیے  کے وہ اپنے کھانے کو دیکھے :
کہ ہم نے خوب پانی برسایا :
پھر پھاڑا زمین کو اچھی طرح :
پھر اس میں سے اناج اُگائے :
اور انگور اور ترکاری :
اور زیتون اور کھجور :
اور گنجان باغات :
اور میوہ اور چارہ:
تمہارے استعمال و فائدے کیلئے اور تمہارے چوپایوں کیلئے :
سورہ عبس آیات ۲۴ تا ۳۲

ہم دیکھتے ہیں کہ ان بیان کردہ آیات میں اللہ تعالی پھلوں اور اشیاے خوردونوش جیسی اپنی عطا کردہ نعمتوں جن کو انسان بعض دفعہ فار گرانٹڈ لے لیتا ہے،کی یاد دہانی کراتے ہوے ہمیں ان نعمتوں کے تواتر سے نزول پر غور و فکر کرنے کا ارشاد کرتے ہیں کہ اے بنی نوع انسان نہ صرف تجھے پیدا کیا بلکہ تیری نسل کے چلنے کا پورا پورا اور اندازے سے اہتمام کیا ،رزق کے یہ تمام وسائل مہیا کر کے۔۔

آپ دیکھ لیں،جناب مفکر انسان پچھلی صدی سے یہ دہائیاں دے کر ڈرا رہا ہے کہ بڑھتی ہوی آبادی کی عفریت سے آنے والی صدی میں خوراک ناکافی و ناپید ہو جائے گی،قحط سالی آ سکتی ہے،کیا آج دنیا کے رزق میں کمی آ گئی  ہے؟؟
گو ہماری اپنی ہی نا اہلی اور رزق ضرورت سے زیادہ جمع کرنے کی لالچ اور اللہ کی طرف سے وسائل کی منصافانہ تقسیم کی رہنمائی  سے رو گردانی کرنے سے دنیا میں بہت سے لوگ خوراک سے محروم ہو جاتے ہیں نہ کہ وسائل کی کمی کی وجہ سے۔

(وہ پوچھتے ہیں کہ اللہ کی راہ کیا خرچ کریں؟انہیں بتا دیں کہ جو بھی ضرورت سے زیادہ ہو : سورہ بقرہ آیت نمبر ۲۰۹)

مزید براں اللہ تعالی ہمیں ایکو سسٹم پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں ۔۔
کہ کیسے اس پروردگار نے لاز آف نیچر وضع کیے جس کے تحت وہ ہواؤں اور بارشوں کو بھیجتا ہے،پھر تم دیکھتے ہو کہ کیسے مردہ زمین جس کو ایک ہی جیسا پانی پلایا جاتا ہے،پھر وہ زندہ ہو جاتی ہے اور انواع و اقسام و رنگ و ذائقہ کے پھل دیتی ہے۔۔

لیکن چونکہ یہ صبح شام ہمارے سامنے ہو رہا ہے اس لئے ہم اسے فار گرانٹڈ لے لیتے ہیں،جیسا کہ ماں کا پیٹ سے بچے کا جنا جانا،یہ اتنا بڑا معجزہ ہے اس خالق کا لیکن ہمیں احساس ہی نہیں  ہوتا ۔۔۔

ایسے ہی وہ تمہیں مرنے کے بعد اس زمین سے دوبارہ زندہ کر کے  نکالے گا ،جب وہ چاہے گا اور یہ اس پر بہت آسان ہے ۔

کبھی ایک چھوٹے سے بیج کے اندر محفوظ اَن لمیٹڈ انفارمیشن پر غور کیا ہے؟؟
کون سی چیز ایک پودے یا درخت کے مختلف سائز،اشکال اور حجم کو متعین کرتی ہے؟
حتی کہ فیوربل ماحول اور زمینی ساخت کے ساتھ مطابقت بھی متعین ہوتی ہے۔

کھجور کے درخت اور پھل کو ہی لے لیں،گرم ماحول میں بہترین اُگتا ہے،ایک مخصوص ہائیٹ تک پہنچتا ہے جو کہ بہترین پھل کیلئے ضروری ہے،کھجوروں کے خوشوں کی پیکنگ کو چیک کریں کیسے ایک خوشے  میں اوپر سے نیچے آتے کھجوروں کا سائز ویری کرتا ہے جس سے ایک پرفیکٹ خوشہ بنتا ہے،انار کے دانوں اور دانے کے فیسیٹس بھی اسکی معجزانہ پیکنگ کو ممکن بناتے ہیں۔

فبای الا ربی کما تکذبن
اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ سب میں نے تمہارے لئے کیا ہے پس میرا شکر ادا کرو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *