سونا، گہرا ترین مقام، بھوت اور آفاقی تصادم۔۔۔وہارا امباکر

انسان کی سونے کی چاہت پرانی ہے اور اس کا سب سے بڑا گڑھ جنوبی افریقہ کا شہر جوہانسبرگ ہے۔ اس شہر کا دوسرا نام ایگولی ہے، جس کے معنی سونے کے شہر کے ہیں۔ اس کے ساتھ وٹواٹرسٹرینڈ آرک ہے جہاں سے پچھلے 130 برس میں چالیس ہزار ٹن سونا نکالا جا چکا ہے۔ یہ دنیا میں آج تک نکالے جانے والے سونے کا نصف ہے۔ جوہانسبرگ سے ساٹھ کلومیٹر مغرب میں ایمپونینگ ہے جو دنیا کی سب سے گہری کان ہے۔
ہر روز چار ہزار مزدور زیرِ زمین شہر میں اترتے ہیں۔ یہاں پر ایک تندور میں کام کرنے جیسا ماحول ہے۔ اس کے سب سے گہرے مقام میں درجہ حرارت 60 درجے سینٹی گریڈ ہے۔ اتنا گرم کہ یہاں ہاتھ نہیں لگایا جا سکتا۔ درجہ حرارت کو قابلِ برداشت حد میں رکھنے کے لئے سرد ہوا کے لئے بڑے پائپ لگے ہیں۔ روزانہ چھ ہزار ٹن برف لائی جاتی ہے۔ اس کو نمک سے مکس کر کے ایک مکسچر تیار کیا جاتا ہے۔ اس کو کان میں پمپ کیا جاتا ہے۔ اس کے اوپر سے گزاری جانے والی تیز ہوا اس کا درجہ حرارت کم کرتی ہے۔ یہ دنیا کی واحد کان ہے جس میں یہ سسٹم استعمال ہوتا ہے۔ یہاں کے پتھر کو پیسا جائے تو ایک ٹن پتھر میں سے چینی کے کیوب کے برابر سونا حاصل ہو جاتا ہے۔ لیکن سونا یہاں پر کیوں ہے۔ کیا وجہ ہے کہ دنیا کی یہ جگہ سونے کا خزانہ رکھتی ہے؟ اس کیلئے ہمیں کچھ ارب سال پہلے جانا پڑے گا۔
جب زمین کا بچپن تھا، آج سے چار ارب دس کروڑ سال پہلے زمین پر شہابیوں کی ایک بھاری بمباری کا دور تھا جو تیس کروڑ سال تک رہا۔ اس وقت سیاروں سے بچی باقیات سیاروں میں ضم ہو رہی تھیں۔ اس بمباری سے پہلے زمین کا سونا زمین میں اتنی گہرائی میں جا چکا تھا کہ وہ انسان کی پہنچ میں نہیں آ سکتا تھا۔ یہ نئی بمباری زمین کی سطح کے قریب اس کا ذخیرہ لے کر آئی۔
یہ زمین کا آرکین دور تھا۔ خیال ہے کہ اس وقت زمین پر برِاعظم نہ تھے۔ آٹش فشانوں سے مل کر بننے والا چھوٹا برِاعظم کاپوال کریٹن آسمان سے آئے ان پتھروں سے پہنچنے والے سونے کے ذخائر رکھتا تھا۔ تین ارب سال پہلے دریاوٴں نے پتھروں کو کاٹ دیا تھا۔ اور یہ سونا وسیع ڈیلٹا تک لے کر جا رہے تھے۔اگر ایسا ہی چلتا رہتا تو پانی اور وقت اس سونے کو دور تک بکھیر دیتے اور یہاں سونا اکٹھا نہ ہو پاتا، لیکن جوہانسبرگ کی سونے کا شہر بننے کی وجہ اس وقت گرنا والا ایک بڑا شہابیہ تھا۔ اس بمباری کے ختم ہونے کے ایک ارب سال کے بعد پانچ سے دس کلومیٹر کے درمیان کے قطر کا شہابیہ اس جگہ پر گرا جو آج وریڈیفورٹ کا علاقہ ہے۔ اس سے تین سو کلومیٹر کے دہانے کا گڑھا آج بھی یہاں پر ہے۔ اس نے زمین کی سطح کو الٹا دیا۔ اس جگہ سے زمین دھنس گئی، جبکہ جوہانسبرگ کے قریب زمین کی گہرائی سے سونے سے بھرا ہوا سٹریٹا سطح کے قریب آ گیا۔ 1886 میں ہاتھ میں چھلنی پکڑے کچھ لوگوں کو اس کے آثار یہاں کی ندیوں سے مل گئے۔ زمین اور کاسموس آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کان میں آج سے کچھ سال پہلے سونے کے ذخائر کم ہونا شروع ہو گئے۔ جیولوجسٹس نے اس کان سے آگے اسے تلاش کرنا شروع کر دیا۔ ایک جگہ پر یہ مل گئے۔ لیکن یہ کان سے دور تھے۔ کئی برسوں کی ڈرلنگ اور چھ سو دھماکوں کے بعد اس گہرائی تک پہنچا گیا۔ یہاں پر ایک سائن لگا ہے، “اب آپ انسان کی پہنچ کے گہرے ترین مقام پر ہیں۔ سطح سے 3612 میٹر اور سطحِ سمندر سے 2059 میٹر نیچے”۔ اس جگہ پر یہ زمین کی کرسٹ کا ایک تہائی حصہ گہرا ہے۔
ایمپوننگ کان میں چار سو کلومیٹر سرنگیں ہیں۔ کئی متروکہ ہیں۔ ان میں سے کچھ میں غیرقانونی مہمان گھر کر چکے ہیں۔ انہیں “ایمپونینگ کے بھوت کان کن” کہا جاتا ہے۔ تاریک دنیا کی عجیب اور خفیہ ہستیاں۔ انہیں یہاں نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن یہ لفٹ آپریٹر کو رشوت دے کر یہاں پہنچ جاتے ہیں اور ان پتھروں کو ڈھونڈتے رہتے ہیں جن کو مِس کر دیا گیا ہو۔ ان سے سونا نکالتے ہیں۔ خطرناک طریقے استعمال کرتے ہیں۔ اپنے آپ کو زہریلے کیمیکلز کا نشانہ بھی بنا لیتے ہیں۔ کئی مہینے یہاں پر رہنے سے، بغیر دھوپ میں نکلنے سے ان کی جلد گرے رنگ ہو جاتی ہے اور آنکھیں زرد پڑ جاتی ہیں۔ پورے خاندان یہاں آ بستے ہیں۔ سیکورٹی گارڈ کئی بار ان کو پکڑ کر نکال دیتے ہیں لیکن کئی اپنے ساتھ مشین گن بھی لائے ہوتے ہیں۔ گارڈ ان کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوئفٹ مانیٹرنگ سیٹلائیٹ نے 3 جون 2013 کو ایک ڈرامائی فلیش ڈیٹکٹ کیا۔ یہ ہائی انرجی ریڈی ایشن لیو کے جھرمٹ سے آئی تھی۔ ایک سینکڈ کے پانچویں حصے تک جاری رہنے والا یہ گاما رے برسٹ ہماری کہکشاں کے بہت دور سے آیا تھا۔ اگلے تین گھنٹے میں ایریزونا کی بڑی ٹیلی سکوپس اس طرف رخ کر چکی تھی۔ نو گھنٹے بعد نیو میکسیکو کی بہت بڑی ریڈیو ٹیلی سکوپ ایرے اور اس کے بعد ہبل ٹیلی سکوپ۔ اور چلی کی جیمینائی ٹیلی سکوپ بھی یہی دیکھ رہی تھیں۔
یہ دو کثیف اور مردہ نیوٹران ستاروں کا تصادم تھا۔ ایسے ستارے جن کے چائے کے ایک چمچ بھر مادے کا وزن پانچ ارب ٹن ہوتا ہے۔ ایسے آبجیکٹ جب ٹکراتے ہیں تو خبر بڑی دور تک جاتی ہے۔ ان سے نکلنے والا ملبہ اس قدر گرم ہوتا ہے کہ ایٹم مل جاتے ہیں۔ سونا بھی بن جاتا ہے۔ اس والے تصادم سے بننے والے سونے کی مقدار زمین کے سائز کے سیارے سے بیس گنا زیادہ ہو گی۔ ایسے نایاب واقعے ہماری اپنی کہکشاں میں دس ہزار سال سے ایک لاکھ سال میں ایک بار ہوتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمین پر سونا ستاروں کا تحفہ ہے۔ مردہ ستاروں کے تصادم، سپرنووا کے دھماکے جو مادے کائنات میں بکھیر دیتے ہیں۔ ایمپونینگ کی گہرائی میں کان کن، قانونی ہوں یا بھوت، جب پتھروں کے بیچ میں سونے کی چمک دیکھتے ہیں تو وہ آفاق میں ہونے والے ایسے واقعات کی ہی باقیات دیکھ رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کان کے بارے میں
جون 2013 کو ڈیٹکٹ ہونے والے آفاقی تصادم پر
بھوت کان کنوں پر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *