• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • جنرل ایوب خاں اور جنرل مشرف کے دور میں ترقی کے دعوؤں کا تجزیہ ۔ غیور شاہ ترمذی

جنرل ایوب خاں اور جنرل مشرف کے دور میں ترقی کے دعوؤں کا تجزیہ ۔ غیور شاہ ترمذی

SHOPPING

جی اس میں کوئی انکار نہیں ہے کہ ہمارے یہاں جو بھی نام نہاد جمہوری حکومتوں کے مواقع آئے ہیں، اُن میں ہمارے سویلین حکمرانوں کی کارکردگی عوام کو ڈیلیور کرنے کے حوالہ سے ہرگز تسلی بخش نہیں رہی۔ اس کے مقابلہ میں بار بار جنرل ایوب خاں اور جنرل مشرف کے دور میں ہونے والی ’’ترقی‘‘ کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بہت ویژنری لیڈران تھے جنہوں نے اپنی کارکردگی سے ملک کی تقدیر سنوار دی اور ترقی کی وہ منازل طے کریں جو ہمارے ’’اوسط‘‘درجہ کے سیاستدانوں کے خواب و خیال میں بھی ممکن نہیں تھیں۔ اس تحریر میں ہم مل کر کوشش کرتے ہیں کہ اُس ترقی کا بغور جائزہ لے سکیں جس کو بیان کر کر کے ہمیں یہ احساس کروایا جاتا ہے کہ سیاستدان ہمیشہ کم عقل، بے ایمان اور غدار ہوتے ہیں جبکہ فوجی حکمران ’’نعمت خداوندی‘‘ ہوا کرتے ہیں۔

جنرل ایوب خاں کے دور میں ترقی کے دعووں کا تجزیہ:

جنرل ایوب خاں دور (1969ء – 1958ء) کے بارے میں عام خیال سننے کو ملتا ہے کہ اُن کے دور میں اقتصادی ترقی، خوشحالی پیدا ہوئی اور دنیا میں پاکستان کی ساکھ میں اضافہ ہوا۔جنرل ایوب خان کے حمایتیوں کی ایک بڑی تعداد اُس سنہری دور کے گن گاتی ہے جب ’جنرل صاحب‘ صاحبِ اقتدار تھے۔ وہ اُس درخشاں دور کو یاد کرتے ہیں جب دودھ اور شہد ملک بھر کی نہروں اور نالیوں میں بہتا تھا، اور جب اقتصادی ترقی جنوبی کوریا یا کسی اور ایشین ٹائیگر یا کیٹ کے برابر تھی۔ مگر اُس دور کے اقتصادی حقائق، اگر بھیانک نہ بھی ہوں تو بھی اتنے بہتر نہیں تھے جتنا بیان کئے جاتے ہیں۔ جنرل ایوب خان کی پالیسیوں اور اقدامات کا خصوصی جائزہ لیا جائے تو پائیں گے کہ اُن کا بنیادی مقصد اپنی حکومت کو بحال رکھنا اور طول دینا ہی تھا، یوں اُن کی حکومت نے ہی بنگلہ دیش کی علیحدگی کا بیج بویا اور اُس پودے کو بے تحاشہ پانی فراہم کیا گیا، پھر اگلے چند برسوں میں سقوطِ ڈھاکا کا واقعہ  پیش آگیا۔

کئی لوگ اقتصادی ترقی کو اُن کی غیر معمولی کامیابی گردانتے ہیں مگر اُس دوران آمدنی میں عدم مساوات کو فروغ ملنے سے ملک میں صرف 20 گھرانوں کو عروج نصیب ہوا جنہوں نے قومی وسائل پر اپنا اختیار جما لیا اور اپنے پاس کالا دھن جمع کیا، اِس طرح باقی لوگوں میں غربت، بھوک اور مایوسی پھیلی رہی۔ عالمی بینک کے سابق ماہرِ معاشیات، شاہد جاوید برکی نے عوام اور ایوب جنتا (Junta)، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) اور دیگر بڑی سطح پر ہونے والی معاشی ترقی کے اعداد و شمار کے ساتھ 10 سالہ اقتداری جشن منا رہی تھی، کے درمیان موجود بنیادی لاتعلقی کی درست انداز میں نشاندہی کی۔ تاہم عوام نے مجموعی شماریات کو زیادہ اہمیت نہیں دی کیونکہ وہ مہنگائی اور آمدنی میں موجود وسیع طور پر عدم مساوات کے خلاف جدوجہد میں زیادہ کامیاب نہیں ہو پائے تھے۔ برکی اِس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اِس نام نہاد معاشی ترقی کی جڑیں غیر مساوی آمدنی میں پیوست تھیں جوکہ کلیاتی معاشیات اور علاقوں اور لوگوں کے درمیان وقت کے ساتھ بدتر ہوتی گئی۔ اِس کا نتیجہ عیاں تھاکہ نصف صنعتی دولت پنجاب میں چنیوٹیوں اور ہجرت کرکے آنے والے میمنوں، بوہریوں اور کھوجوں کے حصے میں آگئی تھی۔ اِسی اثناء میں جنرل ایوب خان نے بیرونی ماہرین کے لئے دروازے کھول دئیے جو پاکستان کی معیشت سے لا علم اور اجنبی تھے۔ وہ اِن پالیسیوں سے لیس ہوکر آئے جو شاید کہیں اور تو کارآمد ثابت ہوتیں مگر پاکستان کو درپیش چیلنجز کے لئے بالکل بھی مناسب نہ تھیں۔

جنرل ایوب خاں کے اقتصادی فن کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے کی ضرورت نہیں۔ اُن کی مرکزی منصوبہ بندی کے لئے اُن کی ترجیحات دوسرے 5 سالہ پلان میں واضح نظر آتی ہیں۔ ہندوستان سے دوگنی بیرون ملک دولت کی آمد سے صنعتوں میں اضافہ ہوا جس سے اشیاء صَرف میں سہارا حاصل ہوا۔ آپ کو اِس بات کا بھی جائزہ لینا ہوگا کہ اِس ترقی میں اضافہ کس چیز سے آیا اور صنعتی شعبوں نے نتیجے  کے طور پر کون سے گل کھلائے۔ اس معاملے  کو تھوڑا  قریب سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ترقی میں کچھ بھی ملکی ساختہ حصہ داری شامل نہیں تھی۔ اس میں مرکزی حصہ بیرونِ ملک امداد کا تھا، بالکل ویسے ہی جیسے 9/11 کے بعد امریکی امداد کے ذریعہ جنرل مشرف کی حکومت کو مکھن لگایا گیا تھا۔دسمبر 1961ء تک، بیرونی امداد بیرونی قرضوں کے حجم سے دُگنے سے بھی زیادہ ہوگئی تھی۔ سنہ 1964ء میں دوسرے 5 سالہ پلان میں کُل سرمایہ کاری میں سے 40 فیصد حصہ بیرونی امداد پر منحصر تھا۔ اور صرف یہی نہیں۔ بیرونی امداد درآمدات کی رقم کا 66 فیصد کور کرتی تھی۔ آپ کو وہاں اِس چیز کا کریڈٹ دینا ہوگا جہاں دینا چاہیے، اور یہاں یہ کریڈٹ بیرونی امداد کو جاتا ہے۔

امداد اور قرضے کی صورت میں بیرونی سرمایہ کاری اور حکومت کی جانب سے نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کی خاطر عوامی ورکس پروگرام کے باوجود بے روزگاری اپنی جگہ قائم رہی اور اِس سے بھی بدتر بات دوسرے 5 سالہ پروگرام کے دوران ہوئی جب مشرقی پاکستان میں سنہ 1960ء سے سنہ 1961ء تک شہریوں کا بیروزگاری کا وقت 55 لاکھ افرادی سال تھا جو سنہ 1964ء سے سنہ 1965ء کے سالوں میں 58 لاکھ افرادی سال ہوگیا تھا۔ حکومت کی جانب سے ایٹمی قوت کے لئے مختص کی گئی رقم سے دوگنی رقم اُس کی ٹیکنیکل تربیت کے لئے مختص کی گئی۔ بیرونی امداد کے ذریعے ایوب حکومت میں تیزی سے ہونے والی صنعت کاری کا کیا ہوا؟۔ جیسے ہی صنعتوں نے ریونیو پیدا کرنا شروع کیا تھا کہ حکومت نے جلد ہی اُنہیں نجی سرمایہ کاروں کے حوالے کردیا۔ سنہ 1964ء سے سنہ 1965ء کے دوران نجی شعبوں میں حکومت کی جانب سے قرضوں اور ایڈوانسز کی مد میں صنعت کی جانب سے کی جانے والی براہِ راست سرمایہ کاری سے دوگنی ہوگئی۔ مگر منافع بخش یونٹس جوکہ اصل میں بنیادی طور پر صنعت کو ہی بنانے تھے، حکومت ایسے یونٹس بنا کر بغیر پیسوں کے صنعت کاروں کے حوالے نہیں کرنا چاہیے تھا۔

شاہد جاوید برکی نے رونق جہانگیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جن کے مطابق ایوب دور کے دوران اشتعال انگیزی میں خاص طور پر بنگلہ دیش (مشرقی پاکستان) کے اندر بے تحاشہ اضافہ ہوا۔ تو اگر 60ء کی دہائی میں اتنا ہی امن اور سکون تھا تو سنہ 1969ء – 1968ء میں پیدا ہونے والی بے چینی شدید اشتعال انگیزی میں کیسے تبدیل ہوئی؟۔ وہ اقتصادی ترقی نہیں تھی بلکہ چند افراد کے ہاتھوں میں بڑھتی ہوئی دولت اور طاقت کی بہتات تھی جس نے محرومیوں کو جنم دیا اور یوں اشتعال انگیزی کو فروغ ملا۔ منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین ڈاکٹر محبوب الحق کی ایک تنقیدی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا کہ صرف 20 گھرانے دو تہائی صنعت اور تین چوتھائی بینک کاری پر قابض تھیں۔ پاکستان کے انقلابی شاعر حبیب جالب اِس ناانصافی کو نظر انداز نہ کرسکے۔ اجتماعات میں جب وہ اُن 20 نو دولتیوں پر ملامت کرتے ہوئے اپنی شاعری سناتے، جو کروڑوں کو غربت میں چھوڑتے ہوئے خود اور بھی امیر بن گئے تھے، تو سننے والوں پر سکتہ طاری ہو جاتا تھا۔

جالب نے لکھا:

بیس گھرانے ہیں آباد

اور کروڑوں ہیں ناشاد

صدر ایوب زندہ باد

جنرل ایوب خان کے عالمی مداحوں میں بااثر شخصیات شامل تھیں۔ فرانس کے ڈی گال سے لے کر امریکی صدر جانسن تک مغربی لیڈران پاکستان میں اقتصادی ترقی کے گن گا رہے تھے۔ حتیٰ کہ اُس دور کے عالمی بینک کے صدر ربرٹ مک نمارا نے بھی ایوب خان کے زیرِ اہتمام پاکستان کو ’دنیا میں ترقی کے حصول کی ایک سب سے بڑی کامیابی‘ قرار دیا تھا۔ تاہم ماہرین نے جلد ہی اِس نکتے کو ظاہر کیا کہ ڈی گال، جانسن مک نمارا اور دیگر نے صرف اقتصادی ترقی پر غور کیا اور دولت کی تقسیم کو نظر انداز کردیا تھا جس کے نتیجے میں بے چینی، اشتعال انگیزی پیدا ہوئی اور جو بالآخر مشرقی اور مغربی پاکستان کا الحاق کی وجہ بنی۔

اکثر ایک تنقید سننے کو ملتی ہے کہ سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بنگلہ دیش کا الحاق اُن کی منصوبہ بندی تھی تاکہ وہ آبادی کے لحاظ سے غالب مشرقی پاکستان میں شریک اقتدار یا اُس سے بھی بدتر اقتدار کھونے سے بچ جائیں۔ مگر دراصل یہ جنرل ایوب خان کی جانب سے برسوں تک مغربی پاکستان پر ترجیحی بنیادوں پر کام کرنے کا ہی صلہ تھا، جس وجہ سے مشرقی پاکستانیوں میں غم و غصہ پیدا ہوا۔ وہ اِس مسلسل بے دھیانی کو نظر انداز نہیں کرسکتے تھے خاص طور پر جب جنرل ایوب خان نے تین بڑے منصوبوں، جن میں نئے دارالحکومت کی تعمیر (اسلام آباد) اور دو بڑے آبی منصوبے (منگلا اور تربیلا) صرف مغربی پاکستان تک ہی محدود رکھے۔ علاوہ ازیں جنرل ایوب خان نے کبھی بھی مشرقی پاکستان سے ایک بھی بھروسہ مند ساتھی نہیں رکھا کیونکہ اُن کے تمام خاص آدمیوں کا تعلق مغربی پاکستان سے تھا۔

جنرل مشرف کے دور میں ہونے والی ترقی کے دعوؤں کا تجزیہ:

اب ہم جنرل مشرف کے دور میں ہونے والی ’’ترقی‘‘ کا تجزیہ بھی کرتے ہیں تاکہ قومی دانشواران کے ان لیکچرز کے مقابلہ میں سمجھ سکیں کہ آیا یہ بھی ملکی ترقی کا سنہرا دور تھا یا ایویں ای گلاں بنیاں ہویاں نیں۔ جنرل مشرف دور کا سب سے بڑا کریڈٹ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اُن کے دور میں پاکستانی روپیہ 60 کی ویلیو ایک امریکی ڈالر کے برابر رہی تھی۔ اس ضمن میں گزارش ہے کہ پاکستانی روپے کا امریکی ڈالر کے مقابلہ میں ایک جگہ رُکے رہنا یا پاکستان میں اُن دنوں فارن ریزروز کا زیادہ ہونا بنیادی طور پر امریکہ کی امداد اور کولیشن سپورٹ فنڈ کا معجزہ تھا اور اس کا مشرف کی معاشی سکیم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اگر امریکہ میں القائدہ سپانسرڈ 9/11 کا سانحہ نہ ہوتا تو پاکستانی معیشت یقیناً  collapse کر جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ 9/11 سانحہ کے وقت امریکی مفادات کا تخفظ کرنے کے لئے لیٹتے وقت پاکستان میں بہت سے لوگوں نے شور مچایا کہ اس لامحدود تعاون پیش کرنے کے عوض کم از کم اپنا بیرونی قرضہ ہی ختم کروا لیا جائے مگر جنرل مشرف نے بقول امریکی عہدیداران امریکہ کو وہ سب کچھ دے دیا جو اس نے مانگا بھی نہیں تھا۔ اس لئے ڈالر کی قیمت یا ڈالر کے ریزروز کسی بھی طرح جنرل مشرف کا کارنامہ نہیں تھا۔ وزیر اعظم عمران خاں کی تقریروں کی روشنی میں یہ کہنے کی اجازت دیں کہ یہ کوئی کارنامہ نہیں تھا بلکہ اُلٹا امریکہ کی گودی میں چھلانگیں لگانے سے ہونے والے درد کا مداوا ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا۔ ویسے بھی ڈالر کی ویلیو پاکستانی روپیہ 60 کے برابر ہونا ہی ترقی کی نشانی ہے تو جناب عالی جنرل مشرف سے پہلے میاں نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں ڈالر 42 پاکستانی روپے کا تھا جسے جنرل مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز پہلے 60 اور بعد میں 68 تک لے گئے۔ بلکہ اس سے بھی پہلے پیپلز پارٹی کے دوسرے دور حکومت میں ڈالر پاکستانی 28 روپے کے برابر ہوا کرتا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ یہ جنرل مشرف ہی تھا جس کے دور میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ذریعے ہزاروں متوسط طبقہ کے لوگ باہر پڑھنے کے لئے گئے ورنہ یہ سکالرشپ سیاستدانوں کے بچے امریکہ، یورپ کے سیر سپاٹوں میں استعمال کر جاتے تھے۔ ماہرین تعلیم کے مطابق ایجوکیشن کو جتنا تباہ مشرف اور عطا الرحمان جیسے نان پروفیشنلز نے کیا ہے شاید ہی کوئی دوسرا ایسی تباہی دوبارہ لا سکے۔ اس دور میں پی ایچ ڈی کی ڈگریاں ریوڑیوں کی طرح نالائقوں میں بانٹی گئی تھیں- اس بندر بانٹ کی وجہ سے ہائیر ایجوکیشن کے سیکٹر کو جنرل مشرف اور عطاء الرحمان نے تباہ کر کے رکھ دیا۔ ماہرین کے مطابق جب تک بیرونی امداد کی وجہ سے پاکستان میں ہائر ایجوکیشن پر انویسٹ نہیں کیا گیا، تب تک ہمارے پی ایچ ڈی اور تحقیقی مقالوں کی کچھ حیثیت ہوا کرتی تھی۔ اس انویسٹمنٹ کے بعد ہم نے ایسے پی ایچ ڈی پیدا کئے جو لوکل ہونے کے باوجود فارن معیار کے مطابق تھے۔ ایچ ای سی کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے حال ہی میں پی ایچ ڈی کرنے والوں کو اب نوکریاں ہی نہیں مل رہیں۔ کئی کیسوں میں دیکھا گیا ہے کہ یونیورسٹیوں میں بیٹھے لوگ چوری کے مقالے اور پیپر چھاپتے ہیں۔ ایسی ہی ایک مثال وفاقی وزیر زرتاج گل کی بہن کی ایم فل کے تھیسز کو چوری شدہ ہونے کی میڈیا میں آنے کی وجہ سےملک کا مذاق بن چکا ہے۔

جنرل مشرف اور اب تحریک انصاف کے ’’ماہرین‘‘ کہتے ہیں کہ مشرف دور میں ہرطرف خوشحالی کا راج تھا۔ یہ کیسا خوشحالی کا دور تھا جو غبارہ کی طرح پھولا ہوا تھا اور جیسے ہی جنرل مشرف کا دور ختم ہوا تو یہ غبارہ پھٹ گیا۔ خبروں کے مطابق جنرل مشرف کے اکاؤنٹس 12 ارب ڈالر پائے گئے ہیں مگر وہ پیسہ کہاں سے آیا ، اس کے بارے میں سوال کرنا غداری کے مترادف قرار دے دیا جاتا ہے۔ (یاد رہے کہ 12 ارب ڈالر کے اکاؤنٹس وہ ہیں جو جنرل مشرف تسلیم کر چکے ہیں)۔ نیز یہ کہنا بھی غلط ہے کہ پاکستان کو خوشحالی مشرف کے دور میں نصیب ہوئی۔ سنہ 2005ء میں پاکستان میں آٹا۔ بجلی۔ پٹرول۔ ٹماٹر ۔چاول ہر چیز ختم ہو چکی تھی۔ اگر لوگوں کی یادداشت کام کرنا نہیں چھوڑی تو یہ تاریخ میں درج ہو چکا ہے کہ سنہ 2006ء میں آٹا لینے کے لئے لمبی لائنیں لگتی تھی اور جب باری آتی تھی تو ٹرک میں آٹا ختم ہوچکا ہوتا تھا۔ اسی طرح بجلی کیا چیز ہوتی ہے، یہ عوام بھول ہی گئے تھے۔ سنہ 2008 ء میں جب پیپلز پارٹی نے حکومت بنائی تو بیس ارب ڈالر سالانہ کا بجٹ پیش کیا جارہا تھا۔

ہمیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جنرل مشرف کے دور میں جائیدادوں (پراپرٹی) کی قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی تھیں۔ گزارش ہے کہ پراپرٹی مارکیٹ یا بنکنگ کو مستقل مزاجی سے آہستہ آہستہ بڑھانے کی بجائے یک دم آگے بڑھا کر جنرل مشرف یا شوکت عزیز نے پاکستان کے ساتھ ہر گز کی خیر خواہی نہیں کی۔ دنیا کا کوئی ملک بھی پراپرٹی کی قیمتیں یک دم بڑھنے سے ترقی نہیں کرتا۔ آپ کی یاد داشت کو تھوڑا گدگدی کرتے ہوئے عرض ہے کہ سانحہ 9/11 کے بعد بیرونی ملک سے اوورسیز پاکستانیوں نے خدشات کے پیش نظر اربوں ڈالر پاکستان واپس بھیجے۔ جتنی بھی یہ رقم باہر سے آئی وہ سب کی سب پراپرٹی مارکیٹ میں لگ گئی۔ یہاں رہنے والے کے لئے شہری علاقوں میں تین مرلے (725 مربع فٹ ۔ 80 گز)، پانچ مرلے (1125 مربع فٹ ۔ 120 گز) کے گھر بنانا نا ممکن ہو گیا۔ جو گھر اُس زمانہ میں پانچ مرلے (1125 مربع فٹ ۔ 120 گز) کا بنا ہوا گھر دس لاکھ سے بارہ لاکھ روپےتک کا مل جاتا تھا، جنرل مشرف کے دور کے بعد ویسا ہی گھر اب پچاس لاکھ روپے تک عام محلوں میں اور پوش علاقوں میں ایک کروڑ سے زیادہ کا ہو گیا ہے۔ یہ کوئی کارکردگی نہیں تھی بلکہ متوسط طبقہ کے لوگوں کو کرائے پر رلنے اور کبھی گھر نہ بنا سکنے کی صورتحال سے دوچار ہونے کے مترادف ہے۔

پاکستانی سیاسی و معاشرتی ماحول میں مشروم کی طرح اچانک نمودار ہونے والے یہ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ جنرل مشرف ہی تھا جس کے دور میں سینکڑوں ٹی وی چینلز کو آزاد کردیا گیا اور میڈیا کو نئی زندگی اور آزادی ملی۔ حیرت ہے کہ یہ لوگ اب بھی یہی سمجھتے ہیں کہ جنرل مشرف نے میڈیا کو اپنی خواہش اور دل سے آزادی دی۔ ایک عام آدمی کے لئے شاید یہی سچ ہو مگر اس کے ساتھ ساتھ لوگ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جنرل مشرف ہی نے اپنے دور میں میڈیا پر پابندی لگائی۔ اس لئے گزارش ہے کہ جذباتی ہونے کی بجائے تاریخ پر نظر رکھی جائے تو بہتر ہو گا۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ جنرل مشرف نے 21ویں صدی کے شروع میں ڈکٹیٹر شپ کا جو تجربہ دہرایا، عالمی سیاست میں اُسے کوئی تسلیم کو تیار نہیں تھا۔ سانحہ 9/11 کے بعد جب امریکہ بہادر کی خدمت میں پاکستان نے مفت میں نوکری کی پیش کش کی تو دیگر مطالبات کے ساتھ ساتھ یہ مطالبہ بھی امریکہ ہی کا تھا کہ لوگوں کو اظہار رائے کی آزادی دی جائے۔ اسی لئے جنرل مشرف بار ہا اپنی تقریروں میں جمہوریت کا درس دیتے وقت اظہار رائے کی آزادی کو اپنے کریڈٹ کے طور پر پیش کرتا تھا۔ یہ آزادی جنرل مشرف کی مجبوری تھی اور بیرونی قوتوں کے دباؤ کی وجہ سے تھی۔ ہرگز یہ جنرل مشرف کی خواہش نہیں تھی کیونکہ خواہش کا اندازہ لگانا ہو تو جنرل مشرف دور میں ہی میڈیا پر لگی پابندیوں پر غور کرنا ہو گا-

ایک اور کارنامہ جو ہمیں باور کروایا جاتا ہے کہ جنرل مشرف نے کارگل میں انڈیا کی شہ رگ کو پکڑ لیا تھا اور ہم کشمیر کو فتح کرنے کے نزدیک تھے کہ نواز شریف نے امریکہ جا کر صدر بل کلنٹن کے سامنے انڈیا کے ساتھ کارگل کا سودا کر دیا۔ یہ چورن یقیناً پاکستان میں ہماری نابالغ سیاسی پود کے سامنے بیچنے کے لئے اچھا ہے مگر خارجہ پالیسی، ڈپلومیسی کے ماہرین کے مطابق یہ کارگل مشن محض ایک مس ایڈوینچر ہی تھا۔ شاید آج کی نسل کو علم نہ ہو تو یہ تاریخی حقیقت سب جان لیں کہ سنہ 1947ء میں آزادی کے وقت سے لے کر سنہ 1965ء میں ستمبر جنگ سے پہلے ہمارے برپا کئے ہوئے اپریشن جبرالٹر کے وقت تک کارگل پاکستان کے زیر تسلط ہی تھا اور سنہ 1965ء کی جنگ کے بعد انڈیا کے قبضہ میں گیا تھا۔ جنرل مشرف کے اس مس ایڈونچر کے بارے میں اُن کے اپنے ساتھی جنرل عزیز خاں کی کتاب پڑھ لیں، جس کے مطابق کارگل کے ایڈونچر نے ناردرن لائیٹ انفنٹری کے تین سے چار ہزار جوانوں کو بے مقصد اس جنگ میں مروایا۔

’’وہ‘‘ کہتے ہیں کہ جنرل مشرف کے اندر یہ صلاحیت تھی کہ وہ ٹیبل ٹاک پر کسی کو جیتنے نہیں دیتا تھا۔ اُن کی بارگننگ کے نتیجہ میں اربوں ڈالرس امریکہ سے ملے اور یہ فارن ڈپلومیسی کی مہارت ہوتی ہے۔ ایک چھوٹا سا سوال ہے کہ اگر جنرل مشرف کی جگہ سانحہ 9/11 کے وقت کوئی سیاستدان پاکستان کا حکمران ہوتا تو کیا وہ امریکہ کے سامنے ٹارزن بن جاتا؟۔ ہر گز بھی نہیں۔ وہ بھی یقیناً یہی کچھ کرتا جو جنرل مشرف نے کیا کہ امریکہ سے تعاون ہی کرتا مگر نسبتاً    بہت  سی شرائط پر۔ جنرل مشرف کے پاس یہ ایک سنہری موقع تھا کہ سانحہ 9/11 کے بعد وہ پاکستان کے دیرینہ مسائل یعنی کشمیر کا تفصیہ، پاکستان پر قرضوں کی مکمل معافی، ہائیڈل پاور ڈیموں کی تعمیر، ریل اور روڈ نیٹ ورکس کی تعمیر جیسے مسائل حل کروا لیتے۔ آپ ان میں سے کسی ایک مسئلے کا نام بتائیں جوانہوں نے حل کیا ہو؟۔ اچھا چلیں یہ سب چھوڑیں، سفارتی محاذ پر ہی جنرل مشرف کی کوئی ایک کامیابی بتا دیں۔

گزارش ہے کہ دنیا بھر میں جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں، اُن کا جائزہ لے لیں۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ترقی کا واحد راستہ جمہوریت کے راستہ اور آئین کی پاسداری سے ہی نکلتا ہے۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ آمریت کے زیر اثر ملک یا کنٹرولڈ جمہوریت کے زیر اثر رہنے والے ملک نے دنیا میں ترقی کی ہو۔ ہمارے یہاں بھی عوامی حکومت اور جمہوریت کو کنٹرولڈ ڈیموکریسی سسٹم سے نکلانے کی سر توڑ کوششیں جاری ہیں۔ ان کوششوں کی مخالفت میں وہ تمام طاقتیں اکٹھی ہیں جو آمریت، مذہبی اجارہ داری، لسانیت کے ذریعہ معاشرہ کو اپنے قابو میں رکھنے کی خواہش مند ہیں۔ خصوصی عدالت کی طرف سے جنرل مشرف کو آئین کی خلاف ورزی کے جرم میں پھانسی کی سزا سنائے جانے کے ساتھ ہی ریٹائرڈ فوجی افسران کی طرف سے اس فیصلہ کی مخالفت کرنے اور اسے قبول نہ کرنے کے بیانات کا مطلب یہی ہے کہ آئین اور آرٹیکل 6 ابھی بھی کمزور ہیں۔ اگرچہ یہ بات یقینی ہے کہ آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی میں جنرل مشرف کو پھانسی نہیں چڑھایا جا سکے گا مگر اس علامتی سزا کی وجہ سے آئندہ کوئی جرنیل کسی بھٹو کو پھانسی نہیں چڑھا سکے گا، کسی طالع آزما جرنیل میں یہ ہمت نہیں ہو گی کہ وہ عوام کے ووٹوں سے منتخب جمہوری حکمرانوں کو ڈکٹیشن نہیں دے سکیں گے۔ ان کو آئین کا بھی ویسے ہی احترام کرنا پڑے گا جیسا وہ وردی کا کرتے ہیں۔ بھٹو کی قیادت میں جمہوریت پسندوں کی آمریت کے خلاف طویل جدوجہد کے بعد آمریت کی لعنت کو بحیرہ عرب میں غرقاب کرنے کے خواب کو اس دھرتی کی آئندہ نسل ضرور پورا ہوتا دیکھے گی۔ یاد رہے کہ جس لڑائی کی ابتداء ذوالفقار علی بھٹو نے کی تھی وہ لڑائی جنرل ایوب اور بھتو کے درمیان نہیں تھی، وہ لڑائی جنرل ضیاء اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بیچ بھی نہیں تھی، نہ ہی وہ لڑائی جنرل مشرف اور میاں نواز شریف کے درمیان تھی بلکہ یہ لڑائی آئین اور آمریت کے بیچ تھی اور ہے ۔ یہ لڑائی ووٹ اور بوٹ کے درمیان تھی اور ہے، جس کا انجام آئین اور عوامی حکمرانی کی فتح کی صورت میں ہی ہوگا۔

SHOPPING

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *