فوری انصاف۔۔۔عزیز خان/قسط5

ملک یٰسین میرا دوست تھا اوراحمد پور شرقیہ کا رہنے والا تھا ملازمت سے قبل میرے اس سے اچھے تعلقات تھے غلط صحبت کی وجہ سے ملک یٰسین نے ہیروئن پینا شروع کردی تھی۔ایک دن ملک یٰسین میرے پاس کوٹ سبزل ملنے آیاہیروئن پینے کی وجہ سے اس کی حالت کافی خراب تھی باتوں ہی باتوں میں اس نے مجھے بتایا کہ یہ ہیروئن وہ طاہر خان بلوچ نامی شخص سے لیتا ہے جو محلہ بخاری اُ چ شریف کا رہنے والا ہے اسلحہ اور منشیات کا کاروباربھی کرتا ہے۔کوئی اسے پکڑنے کی ہمت نہیں کرتا۔میرے اصرار پر ملک یٰسین نے مجھ سے وعدہ کیا کہ وہ بھاری مقدارمیں منشیات اس سے لے کر دے سکتا ہے ایک ہفتہ بعد پروگرام کے مطابق میں نے ملک یٰسین سے رابطہ کیا اس دوران میں نے اپنے ASPاللہ ڈینو خواجہ اور SSPذوالفقار چیمہ کو بھی اس ریڈ کے بارے میں اعتماد میں لیا۔یکم اگست 1992کو میں اس ریڈ کے لیے احمد پور شرقیہ روانہ ہو گیا۔میرے ساتھ رانا ریاض ASI، اکرم لکو، لیاقت علی اورغلام قاسم کانسٹیبلان بھی ہمراہ تھے۔

میں پرائیویٹ کار پر تھا۔دس بجے دن ہم احمد پور شرقیہ پہنچ گئے جہاں ملک یٰسین سے ملاقات ہوئی جس نے بتایا کہ طاہر بلوچ سے پانچ کلو ہیروئن کا 30,000روپے فی کلو کے حساب سے سودا ہوا ہے,000/- 1,50روپے اسکو دینا ہے جسکے بدلے وہ پانچ کلو ہیروئن دے گا۔اکرم لکو کانسٹیبل(جوکہ بعد میں انسپکٹرچوہدری صادق (شہید) کے ساتھ بہاولپور میں دہشت گردوں کی فائرنگ میں شہید ہوا تھا)شکل وصورت سے نشائی لگتا تھا اس لیے میں نے رقم مبلغ ایک لاکھ پچاس ہزار روپے اس کے حوالے کردی۔ان سے یہ بات طے ہوئی کہ جب تک طاہر بلوچ ان کو ہیروئن نہ دے اس وقت تک اسے پیسے نہ دیں۔کوشش کریں کہ وہ ہیروئن کی ڈلیوری احمد پور شرقیہ میں کسی مقام پرکرے۔ملک یٰسین اور اکرم لکو دونوں موٹرسائیکل پر روانہ ہو گئے۔میں سفید پار چات میں تھا کیونکہ احمد پور شرقیہ میں اکثر لوگ مجھے جانتے تھے میں اپنے بڑے بھائی کے دوست شبیر احمد افغانی ایڈوکیٹ کی بیٹھک میں بیٹھ گیا۔کیونکہ موبائل فونز نہیں ہوا کرتے تھے اس لیے اب ملک یٰسین سے رابطہ ممکن نہ تھا۔ ملک یٰسین کا یہ کہنا تھا کہ وہ طاہر بلوچ کو منشیات سمیت اُچ شریف سے احمد پور شرقیہ لائے گا اور یہیں آپ اسے گرفتار کر سکتے ہیں۔

سہ پہر کے تین بج چکے تھے ملک یٰسین اور اکرم لکو کا کچھ پتہ نہ تھا۔ہم سخت پریشان تھے کہ ان دونوں کے ساتھ کیا ہوا۔دوستوں سے مانگے ہوئے ڈیڑھ لاکھ بھی ان کے پاس تھے تقریباََ چار بجے ملک یٰسین اور اکرم واپس آگئے انھوں نے بتایا کہ طاہر بلوچ بہت عیار اور چالاک آدمی ہے وہ احمد پور شرقیہ میں مال دینے کو تیار نہیں ہے شاید اسے ہم پر شک ہوگیا ہے۔لیکن اب اس نے کہا ہے کہ آپ نور پور نورنگا آجائیں وہاں میں ہیروئن آپکو دوں گا۔ہم دونوں نورپور جارہے ہیں آپ بھی نور پور اڈے پر پہنچیں ہم کوشش کریں گے کے طاہر بلوچ کو کسی طریقہ سے اڈے پر لے آئیں تاکہ اسے قابو کیا جاسکے۔ دونوں دوبارہ موٹر سائیکل پر روانہ ہوگئے میں اپنی پرائیویٹ کار جبکہ رانا ریاض اور باقی ملازمین سرکاری گاڑی میں نور پور نورنگا کی طرف روانہ ہوگئے۔ نور پورنورنگا احمد پور شرقیہ سے بہاولپور جانے والی روڈپر تقریباََ15 کلومیٹر دور ہے سرکاری گاڑی کو اڈے سے کافی دور کھڑا کردیا میرے پاس چھوٹا وائرلیس سیٹ بھی تھا جس سے میرا راناریاض ASIسے رابطہ تھا۔

کافی دیر ہوگئی تھی مغرب کا وقت بھی قریب تھا مگر ملک یٰسین کا کوئی پتہ نہ تھا۔میں دل ہی دل میں اللہ سے اپنی کامیابی کی دعا کررہا تھا کہ اگر ناکامی ہو گئی تو بہت سُبکی ہوگی۔اچانک ملک یٰسین اور اکرم لکو موٹر سائیکل پر مجھے نظر آئے ان کے پیچھے ایک سوزوکی کار نمبری BRD/4654 جس میں ایک شخص بیٹھا ہوا تھاگزری ملک یٰسین میرے پاس سے گزرگیا۔جبکہ اکرم لکو نے مجھے اشارہ کیا کہ پیچھے آجائیں۔میں نے بھی اپنی کار ان کے پیچھے لگا لی۔جوں ہی اڈا سے احمدپور شرقیہ کی طرف تھوڑی دورپہنچے توسوزوکی کار رک گئی ملک یٰسین موٹر سائیکل سے اتر کر اس کے ساتھ کارمیں بیٹھ گیا۔اکرم لکو نے اپنی موٹر سائیکل کار کے سامنے اس طرح کھڑی کردی کہ اگر وہ کار بھگانے کی کوشش کرے تو موٹر سائیکل سامنے موجود ہو۔میں نے بھی اپنی کار سوزوکی کار کے سامنے ترچھی لگادی۔میرے ساتھ بیٹھے لیاقت اور غلام قاسم کانسٹیبلان تیزی سے اترے اور سوزوکی کارمیں بیٹھے شخص کو قابو کرلیا۔جس نے اپنا نام عبدالعزیز ولد سردار احمد قوم داد پوترہ بتایاطاہر بلوچ اسکے ساتھ نہ تھا۔عبدالعزیزجو ڈائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا نے اپنے پاؤں میں ایک تھیلہ رکھا ہوا تھا میں نے اٹھایا تو اس میں سے تین پیکٹ ہیروئن برآمد ہوئی ہرپیکٹ ایک،ایک کلو کا تھاملک یٰسین نے بتایا کہ طاہر بلوچ نے ان سے ڈیڑھ لاکھ روپے عبدالعزیز دادپوترہ کی فیکٹری میں لے لیے تھے اور ہمیں کہا کہ ہیروئن آپکو نور پور اڈا پر مل جائے گی ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا چنانچہ ہم نے پیسے طاہر بلوچ کو دے دیے تھے۔اب وہ خود نہیں آیا بلکہ عبدالعزیز کو بھیج دیا۔عبدالعزیزملزم کو سرکاری گاڑی میں بیٹھا دیا سوزوکی کار کو بھی ساتھ لے لیااور احمد پور شرقیہ پہنچ گئے۔ میں نے SSPذوالفقار چیمہ صاحب کو ٹیلی فون کیا اورانھیں بتایا کہ تین کلو ہیروئن تھانہ مسافر خانہ کے علاقہ نور پور نورنگا سے برآمد کرلی ہے یہ مقدمہ ہمیں تھانہ مسافر خانہ درج کرانا پڑے گا۔مگر چیمہ صاحب نے حکم دیا کہ آپ ملزم اور منشیات لے کر رحیم یار خان پہنچ جائیں اور اپنے تھانہ کے علاقہ میں مقدمہ درج کریں۔

رات کو ہم واپس کوٹ سبزل پہنچ گئے منشیات اور ملزم ASPاللہ ڈینوخواجہ کے پیش کیا جنھوں نے اس امر کی تصدیق کی کہ واقعی عبدالعزیز داد پوترہ سے ہیروئن برآمد ہوئی ہے۔میں تھانہ پر پہنچ گیا میرے پہنچنے سے قبل میرے ایک قریبی عزیز اورعبدالعزیزداد پوترہ کا بھائی اللہ دتہ گرداورآئے ہوئے تھے۔میرے عزیر نے مجھے کہا کہ آپ ان سے مل لیں اگر ہوسکے تو عبدالعزیز کو چھوڑ دیں۔مجھے عبدالعزیز کے رشتہ داروں نے آفر بھی کی کہ پانچ لاکھ لے کر عبدالعزیز کو چھوڑ دیں۔میں نے انھیں انکار کردیا کیونکہ عبدالعزیز کو چھوڑنے کا مطلب اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا تھا۔اگلے دن میں نے چیک پوسٹ کوٹ سبزل کا وقوعہ بنایا اور مقدمہ درج کردیا۔ملزم کا ریمانڈ جسمانی لیا اسی دوران طاہر بلوچ کا بھی پتہ کیا جس کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ اسی روز سے غائب ہے البتہ اس نے ملک یٰسین کو یہ دھمکی پہنچائی کہ وہ اسے جان سے مار دے گا۔ملک یٰسین ڈر کے مارے میرے پاس کوٹ سبزل آگیا۔ملزم کا تین یوم ریمانڈ جسمانی ختم ہوا تو جج صاحب نے مزید ریمانڈ جسمانی نہ دیا اور اسے جوڈیشل حوالات بھجوادیا۔اگلے روز میں تھانہ پر موجود تھا کہ مجھے وائرلیس پر اطلاع ملی کہ مقدمہ نمبر110/92کی تفتیش DIGبہاولپور رینج کے حکم سے DSPعلی اکبرگجرکو دے دی گئی ہے اور کل انھوں نے مجھے فائل سمیت بہاولپور بلوایاہے۔گجر صاحب کی شہرت بہاولپور رینج میں ایماندار اور سخت گیر آفیسر کی تھی وہ اپنی تفتیش یا انکوائری میں کسی ایسے ملازم کو معاف نہیں کرتے تھے جس نے تفتیش میں تھوڑی سی بھی غفلت یا لاپرواہی کی ہو۔

اگلے روز میں رینج کرائم آفس بہاولپور پہنچ گیا مقدمہ کی فائل DSPعلی اکبرگجر صاحب کے حوالے کی مجھے سے مقدمہ کے حالات پوچھے تو میں نے انھیں FIRکی تائید کرتے ہوئے بتایا کہ ہیروئن میں نے کوٹ سبزل چیک پوسٹ سے برآمد کی ہے۔ DSPصاحب نے مجھے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ یہ ہیروئن تم نے اپنی طرف سے عبدالعزیز داد پوترہ پر ڈالی ہے میں یہاں یہ بھی بتادوں کہ عبدالعزیز داد پوترہ بہاولپور کی مشہور شخصیت اللہ دتہ گرداور کا سگا بھائی تھا کیونکہ وہ محکمہ مال میں ملازمت کرتا تھااس لیے اس نے جعلی دستاویزات پر زمینوں پر قبضے کیے اور بہت جائیداد بنائی۔میں علی اکبر گجر کی دھمکی سے بہت پریشان تھا واپسی پر میں سیدھا SSPآفس پہنچا اور چیمہ صاحب کو علی اکبر گجر کی دھمکی کے بارے میں بتایا چیمہ صاحب نے مجھے حوصلہ دیا میرے سامنے ہی انھوں نے IGصاحب کو ٹیلی فون کیا اور انھیں بتایا کہ میرے SHOنے بالکل صحیح برآمدگی کی ہے اگر چہ یہ برآمدگی ضلع بہاولپور سے ہوئی ہے مگر اسکو رحیم یار خان میں مقد مہ درج کرنے کا میں نے کہا تھا اس میں SHOکا کوئی قصور نہ ہے۔ان کے اس فون کرنے سے میری تسلی ہو گئی دو دن بعد علی اکبر گجر رحیم یار خان آئے انھوں نے عزیز داد پوترہ سے بیانا ت لیے میری بھی ان سے ملاقات ہوئی مجھے کہنے لگے اس دفعہ تو میرے ہاتھ سے بچ گئے ہو آئندہ نہیں بچو گے۔میری تسلی اس وقت ہوئی جب انھوں نے اپنی تفتیش میں میری تفتیش سے اتفاق کیا۔

میرے ڈیڑھ لاکھ روپے طاہر بلوچ کے پاس تھے جو میں نے وصول کرنے تھے جن دوستوں سے میں نے یہ ادھار لیے ہوئے تھے وہ اب اسکا تقاضہ کررہے تھے۔اسی دوران مجھے معلوم ہوا کہ یہ کیس آصف خان ترین (مرحوم) ایڈوکیٹ نے لے لیا ہے ایک مہینہ کے اندر ہی عبدالعزیز دادپوترہ کی ضمانت ہوگئی اور دوسرے مہینے جج صاحب نے ملزم کو بری کردیا۔معلوم ہوا کہ جج صاحب نے بھی” نامعلوم وجوہات” کی بناپرملزم کو بری کردیا تھا۔

ذوالفقار چیمہ صاحب کا تبادلہ ہوگیا اور ان کی جگہ ملک اعجاز SSPتعینات ہوگئے۔میں ہر میٹنگ میں کھڑا ہو جا تا اور ملک اعجاز صاحب سے اپنے پیسوں کی وصولی کی درخواست کرتا۔آخر میں۔۔۔۔ انھیں یہ بات سمجھانے میں کامیاب ہوگیا کہ واقعی میرے ڈیڑھ لاکھ روپے طاہر بلوچ کے پاس ہیں جو میں نے وصول کرنے ہیں۔SSPکی اجازت کے بعد میں نے قتل کے ایک عدم پتہ مقدمہ میں طاہر بلوچ کے خلاف ثبوت گزارا اور اس کے وارنٹ گرفتاری حاصل کرلیے ایک دن مجھے اطلاع ملی کہ طاہر بلوچ نے کسی آدمی کو فائر مار کر ذخمی کردیا ہے اس کے خلاف تھانہ اُچ میں اقدام قتل کا مقدمہ درج ہو گیا جس میں وہ گرفتار ہوکرحوالات جوڈیشل احمد پور شرقیہ میں بند ہے۔میں فوری طورپر احمد پور شرقیہ روانہ ہوگیا اور تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے طاہر بلوچ کو اپنے تھانہ پر منتقل کرالیا۔دوسرے دن ہی اُوچشریف سے مخدوم صاحباََن آگئے میں نے انھیں تما م حالات بتائے تو انھوں نے میرے پیسے واپس کرنے کا وعدہ کیا اگلے روز میرے ڈیڑھ لاکھ روپے مجھے واپس مل گئے اور میں نے طاہر بلوچ کوقتل کے مقدمہ میں ڈسچارج کروادیامنشیات کے مقدمہ میں وہ پہلے ہی بری ہوچکا تھا۔

عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ افسران حکم تو کردیتے ہیں مگر جب کوئی مسئلہ درپیش ہوتاہے تو وہ اپنے اس حکم سے منحرف ہوجاتے ہیں کہ ہم نے تو کبھی ایسا نہیں کہا تھا۔نئے پولیس افسران کو میں صرف یہی کہوں گا کہ آپ جو بھی کام کریں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کریں اگر انھیں لگے کہ افسر کوئی غلط حکم انھیں دے رہا ہے یا غلط کام کروانا چاہ رہا ہے تو اس سے انکار کریں۔میری اس مقدمہ میں ہیروئن کی برآمدگی ٹھیک تھی لیکن مقدمہ بہاولپور کی بجائے رحیم یار خان میں درج کیا گیا جوکہ ناجائز نہ تھااب شاید ذوالفقار چیمہ جیسے افسران بھی نہیں ہیں جو ماتحت کو حکم دینے کے بعداپنی زبان کو بھرم رکھیں۔منشیات بیچنے والے موت کے سوداگر آج بھی اسی طرح نئی نسل کی رگوں میں زہر اُنڈیل رہے ہیں مگر ہمارے قانون اور عدالتی نظام میں اتنی خامیاں ہیں کہ وہ بڑے آرام سے سزا سے بچ جاتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *