وفا جن کی وراثت ہو۔۔۔(قسط4)سید شازل شاہ گیلانی

گزشتہ قسط

وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگے مگر ٹانگیں اب جواب دے چکی تھیں وہ ایک دم سے زمین پہ گرے۔ دل سے دعا نکلی” یا اللہ ہم سب کو اتنی ہمت دےکہ آج ان میں سے کوئی بچ کر نہ جاسکے۔ میرے مالک مجھے حوصلہ عطا کر کہ میں اپنا فرض ادا کر سکوں , یا اللہ بس ایک بار”

“صاحب لگتا ہے سر علیم گرے ہیں اللہ کرے یہ میرا وہم ہی ہو” زین نے عصمت صاحب کو مخاطب کیا۔
” سر آپ درے پہ توجہ دیں میں انکو دیکھتا ہوں” یہ کہہ کر انہوں نے LMG ہاتھ میں اٹھائی اور فائر کرتے ہوئے نیچے کی طرف اترنے لگے ۔
چوتھی قسط

دشمن کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اس نے اپنا ٹارگٹ انگیج کر لیا ہے وہ ابھی بھی اسی سمت نظریں جمائے بیٹھا تھا ۔ سر علیم ہمت جمع کر کے اٹھے جیسے ہی وہ زمین سے تھوڑا اوپر ہوئے ایک گولی ان کے دائیں گال سے رگڑ کھاتی ہوئی گزر گئی۔ ایک لمحے کو ایسا لگا کہ جیسے کسی نے دہکتی ہوئی سلاخ ان کے گال سے مٙس کردی ہو۔ رگ و پے میں آگ سی بھر گئی ، وہ پھر سے گرے ۔ درد بھری سِسکی ان کے لبوں سے برآمد ہوئی۔

ذہن میں خیال آیا کہ “دو دِن بعد عید ہے۔ لوگ اللہ کے حضور جانوروں کی قربانی پیش کریں گے اور میں کتنا خوش نصیب کہ اپنی جان اس پاک وطن کے نام پہ قربان کر رہا ہوں ۔ سعدیہ اور اماں جان کے چہرے آنکھوں کے سامنے آ گئے کہ جو لوگ میرے معمولی سر درد پہ تڑپ جاتے ہیں جب میری نعش دیکھیں گے تو کیا کریں گے ؟ ” ایک لحظے کے بعد دوبارہ اٹھنے لگے جوں ہی سیدھے ہوئے گولیوں کی بوچھاڑ نے ا  ن کا سینہ چھلنی کر دیا۔ ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اتنے میں زین اس آدمی کو دیکھ چکا تھا جو سر علیم کو نشانہ بنا رہا تھا اس نے ہیڈ شاٹ فوکس کیا اور ٹرائیگر دبا دیا گولی ٹارگٹ کا سر اڑاتی ہوئی نکل گئی اور وہ بنا کوئی آواز نکالے اوندھے منہ نیچے جا گرا

“جوانو! دشمن کے اب دو چار لوگ ہی رہ گئے ہیں کوئی بھاگنے نہ پائے مجھے وہ ہر حال میں چاہئیں زندہ یا مردہ، یہ کہتے ہوئے اس نے اپنا ہتھیار اٹھایا اور اندھا دھند اس سمت بھاگا جہاں اس نے سر علیم کو گرتے دیکھا تھا۔ اس کے پہنچنے سے قبل عصمت صاحب وہاں پہنچ چکے تھے اور باقی گنے چنے لوگوں کو نشانہ بنا رہے تھے ۔ اس نے ہتھیار ایک طرف پھینکا اور سر علیم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ ان کا ہاتھ برف کی مانند سرد ہو رہا تھا, وہ مسکرائے ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک در آئی تھی ، جیسے انہوں نے کسی ایسی منزل کو پالیا ہو جس کا نعم البدل اس دنیا کی کوئی دوسری چیز نہیں ہو سکتی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زین کے کانوں میں ان کے وہ الفاظ گونج رہے تھے جو کچھ عرصہ پہلے انہوں نے کہے تھے۔

“زین ، فوجی جب وردی پہنتا ہے نا ۔ تو اپنی جان اپنے رب اور اپنے وطن کو سونپ دیتا ہے تب سب سے پہلے اپنے جذبات کو مارنا سیکھتا ہے۔ اس کی وردی اس سے قربانی مانگتی ہے۔ پہلی قربانی ماں باپ ، بہن بھائی اور بیوی بچوں سے دور ہونا ہوتی ہے ۔ دوسری قربانی، چوٹ روح پر لگے مگر آنکھ میں آنسو نہ آئیں ، فوجی بھی انسان ہوتا ہے زین ، اس جذباتی کشمکش میں وہ جذبات سے عاری ہونے لگتا ہے اسے وطن کا سوچنا ہوتا ہے ،اس کے دل میں صرف شہادت کی تمنا ہوتی ہے ، دنیا کی محبت کو دل سے نکال پھینکتا ہے، روتا بھی ہے تو پہلے سے زیادہ مضبوط ہونے کے لیے،
ایسا نہیں کہ انسان پتھر ہوجاتا ہے، وہ خوشی قربان کرنا سیکھ چکا ہوتا ہے جو کسی اور کے بس میں نہیں ہوتا ،یوں وہ ایک مکمل فوجی بن جاتا ہے ۔ پھر ایسا ہوتا ہے کہ ایک لڑکی اس کی زندگی میں اس کا ہم سفر بن کر آتی ہے وہ لڑکی اپنی خوشیاں ،اپنا ساتھ اس فوجی کے نام کرتی ہے, وہ کبھی نہ ٹوٹنے والا فوجی جب اس لڑکی کی آنکھوں میں آنسو دیکھتا ہے تو پھر وہ موم بن جاتا ہے وہ اس کے دُکھ کے احساس سے ٹوٹنے لگتا ہے۔ ۔ ۔ ” زین نے ان سے مضبوط ہونا سیکھا تھا۔ وہ حال میں پلٹ آیا۔ وہ کچھ کہنے کی کوشش کر رہے تھے۔
” زین نے محسوس کیا کہ ان کی سانس اکھڑ رہی ہے۔ اس کے لیے ان لمحات کو برداشت کرنا مشکل ترین ہو گیا تھا۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اپنی زندگی کے بدلے ان کی موت کو اپنے گلے لگا لے۔

” زین میری ماں اور میری سعدیہ کو سلام کہنا اور کہنا۔ ۔ ۔۔ کہ اپنے آخری وقت میں بھی میں۔ ۔ ۔ ۔ ان لوگوں کو یاد کر رہا تھا۔ ۔ ۔ انہیں بتانا کہ میں ان سے بہت محبت کرتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ہاں میں نے کبھی اظہار نہیں کیا ، شاید میں انہیں کبھی نہیں بتا سکاکہ وہ میرے لیے کیا ہیں۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی اثناء میں تمام لڑکے دشمنوں کا صفایا کر کے ان کے پاس پہنچ چکے تھے۔فضاء دکھ اور تکلیف کے احساس سے بوجھل ہو رہی تھی۔ان کے  بہت پیارے ، ان کے سر علیم انہیں چھوڑ کر جا رہے تھے اور وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ اپنوں کو خدا حافظ کہنا کہاں آسان ہوتا ہے۔ ان کے حوصلوں سے پہاڑ بھی ٹکرائیں تو پاش ہاش ہوجائیں مگر اس لمحے وہ سب خود کو ریت کی دیوار جیسا کمزور محسوس کر رہے تھے۔ ضبط سے آنکھیں اور کانوں کی لوئیں سرخ ہورہی تھیں۔

“سر ! خدا کے لیے ایسا مت کہیں, آپ کو کچھ نہیں ہوگا” امدادی ہیلی کاپٹر آتے ہی ہوں گے , زین روہانسا ہوگیا مگر اس کی امید نے ابھی دم نہیں توڑا تھا۔
“نہیں یار میں جانتا ہوں میرے پاس اب وقت نہیں ہے مجھے خوشی ہے کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔ ہم نے دشمن کو بتا دیا ہے کہ ہم جاگ رہے ہیں وہ اب ہمارے وطن کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے سے قبل ہزار بار سوچے گا , تم نے ابھی بہت کچھ دیکھنا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے بابا کو میرا سلام دینا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں سنو۔ ۔ کوئی بھی روئے گا نہیں۔ ۔ روتے ہمیشہ بزدل ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ہم بزدل نہیں ہیں ہمیں فخر ہے کہ ہم پاسبانِ وطن ہیں اس وطن کی مٹی سے وفا ہماری وراثت ہے, اور ہاں میری موت کی اطلاع عید کے بعد میرے گھر دینا, سعدیہ کی شادی کے بعد پہلی عید ہے ۔ ۔ ۔ ۔ میں نہیں چاہتا کہ اس کی عید خراب ہو جائے۔ اتنا کہہ کر انکی سانس اکھڑنے لگی اور وہ کلمہ طیبہ کا ورد کرنے لگے

اَشہَدُ اَن لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَشہَدُ اَنَّ مُحَمَّدَا عَبدُہُ وَ رَسُوُلُہُ”

’اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

اور زین کے کانوں میں اپنے بابا سے سنے چند اشعار گونجنے لگے

جہد ان کی وراثت ہے سخا انکی وراثت ہے وطن کے ہیں یہ رکھوالے وفا انکی وراثت ہے

وطن کے دشمنوں کو یہ کبھی چھوڑا نہیں کرتے کفر کے بت گرا دینا سدا انکی وراثت ہے

بہت معصوم ہیں دِکھتے ، مگر کردار کے غازی ہے جنت منتظر انکی حیا ان کی وراثت ہے

یہ شب ہے خادمہ انکی سویرا ان کا نوکر ہے یہ جب چاہیں اثر کردیں ضیا انکی وراثت ہے

لگا کر حیدری نعرہ جھپٹ پڑتے یہ دشمن پر مقدر کے سکندر ہیں بقا ان کی وراثت ہے

وفا جن کی وراثت ہو۔۔۔(قسط3)سید شازل شاہ گیلانی

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

سید شازل شاہ گیلانی
سید شازل شاہ گیلانی
پاسبان وطن سے تعلق , وطن سے محبت کا جذبہ اور شہادت کی تڑپ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *