دشمن،دروازے پر۔۔محمد اقبال دیوان/8

نوٹ: ہمارے محترم محمد اقبال دیوان نے یہ طویل مضمون کچھ دوستوں کے اصرار پر لکھا ہے۔ یہ در اصل چند گھنٹوں کا ایک طویل مکالمہ ہے جو مصنف اور بھارت نژاد، امریکہ میں مقیم ایک گجراتی خاتون کی بے لاگ اور بے باک سوچ پر مبنی تبادلہء خیالات سے کشید کیا گیا ہے ۔ اس سلسلے کا تفصیلی تعارف اسی مضمون کی پہلی قسط میں موجود ہے۔ انعام رانا۔(ایڈیٹر ان چیف)

ساتویں قسط کا آخری حصہ
دلی میں سکھ لوگ کے  قتل و غارت گری کی منڈی لگی اس کا فوکس ہندو بینک تھا۔ یہ سکھ سنگھ ڑے اپن کے ہندو لوگ کو اتنے اچھے نہیں لگتے جتنے آپ کے عمران بھائی کو لگتے ہیں ۔اس پروگرام کافوکس راجیو گاندھی کا ہندو بینک تھا۔۔ راجیو سے منسوب ایک فقرے نے بھی بہت آگ لگائی کہ”جب کوئی بڑا درخت آندھی سے گرتا ہے تو پاس کی زمین تو لازماً ہلتی ہے“ ماں کے دیہانت کے بعد راجیو جی کا پردھان منتری  بننا بھی ایک جوک جیسا ہے۔ایک سے ایک سینئر لیڈر کانگریس میں تھا مگر یہ تو سالا ہندوستان تو کوئی نانی واڑہ بن گیا۔نہرو خاندان سے جان ہی نہیں چھوٹتی۔

جناح کے نواسے

 

 

 

 

 

 

پریانکا چوپڑہ اپنے میاں کے ساتھ
بوفورز کی بندوق

آٹھویں قسط

راجیو گاندھی کے ٹائم میں چار پانچ بڑے بڑے کام ہوئے۔جب وہ پردھان منتری بنے تو سب کو لگا تھا تم لوگ کے مسٹر عمران خان کی طرح کا ایکPolished ویسٹرن نیتا (لیڈر) آگیا ہے مگر وہ تو بہت کمزور اور بکاؤ مال نکلا۔سب کو بہت مایوسی ہوئی کہ اس کے بولنے میں اس کے کام کرنے میں بہت بڑا گیپ ہے۔امبانی گروپ جن کی کمپنی کا نام ریلائنس ہے ان لوگ کا تم لوگ کے جناح صاحب کے نواسے نسلی واڈیا سے بڑا دھندہ۔ورودھ (کاروباری جھگڑا)ہوگیا۔واڈیا فیملی کا بمبے ڈائنگ گروپ کا سو سال سے ہندوستان کی ٹیکسٹائل میں بڑا نام ہے۔واڈیا والے ممبئی کی اولڈ منی اور پرانی کلاس ہیں مگر امبانی کے سامنے چھوٹا گروپ ہے۔ امبانی کادس پری ست (فی صد) بھی نہیں۔ یہ نسلی اپنے نانا جیسا ہے۔ ضدی اور اڑیل۔ بچپن کے دوست رتن ٹاٹا سے بھی کسی چکر میں اس کا ورودھ (جھگڑا)ہوا تھا۔اس کے بیٹے نیس واڈیا کا بھی اپنی گرل فرینڈ ایکٹریس پریتی زنٹا سے پھڈہ ہوا تھا۔اس وقت اس کو روی پجاری انڈرورلڈ والے نے بہت ڈرایا تھا مگر یہ بات ٹھیک نہیں واڈیے سالے چریے ہیں۔پریٹی زنٹا تو ایکلی چھوکری تھی جو بھرت شاہ اور چھوٹا شکیل سے لڑتی تھی۔کورٹ میں اس نے ان کے خلاف گواہی بھی دی تھی جب کہ شاہ رخ اور سلمان تو سالے ڈائی۔ پر چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔ ہندوستان میں اس بات پر بہت واہ واہ ہوئی تھی۔

سپریم کورٹ آف انڈیا
بابری مسجد،اور بابری مسجد کے گمنام جج
مافیا چیف محبوبہ ایکسنر اور عاشق محترم
صدر کینیڈی کے سکینڈل
زین ملک

ایک وقت الزام لگا کہ امبانی فیملی نسلی واڈیا کو انڈر ورلڈ کے ارجن بھڑ بھڑیا کے ذریعے ٹپکانا(قتل کرانا) چاہتی ہے۔دھیرو بھائی کے مسز اندرا گاندھی اور ان کے قریبی ساتھیوں پرناب مکرجی جو بعد میں بھارت کے صدر بنے ان سے بہت اچھے مراسم تھے۔مسز اندرا گاندھی کی انتخابی مہم میں دھیرو بھائی نے کافی رقم لگائی تھی۔راجیو گاندھی کے پردھان منتری بننے کے پہلے دو برس 1985-86 میں دھیرو بھائی کو لفٹ نہ تھی۔ بھارت کے ایک سابق وزیر اعظم وی پی سنگھ کی بھی ہمدردیاں نُسلی واڈیا کے ساتھ تھی جو راجیو کے وزیر خزانہ تھے۔راجیو گاندھی کی امیتابھ بچن کیساتھ  لڑکپن سے بہت دوستی تھی۔راہول اور پریانکا جو راجیو کے بچے ہیں امیتابھ کو ماموں بولتے تھے۔ اس مدعے کو سامنے رکھ کرمکیش امبانی نے راجیو سے دوستی گانٹھی۔ اس کی فلموں میں پیسہ لگایا تو امبانی فیملی پردھان منتری راجیو کے ہاں دوبارہ ان ہوگئی بوفورز کی خریداری میں امیت جی بھی لائن میں لگ گئے۔

سابق چیف جسٹس گوگوئی

کچھ دیر کو سکوت ہوا تو ہم نے پوچھ لیا کہ بابری مسجد میں تم لوگ کی سپریم کورٹ ایک دم ایسی کارپیٹ کیوں ہوگئی۔ہنس کہ کہنے لگی ”یہ دو حرامی جو مودی جی نے پالے ہیں اجیت ڈوال اور امیت شاہ۔ان کے پاس سب کی پورن ویڈیوز ہیں ۔تمہارے ہاں بھی تو ابھی کوئی نوی(نئی) کرکٹ ٹیم بنی ہے نا، پی پی ایل میں Kissing King جس کے چیئرمین کی چمی چمی۔ ٹھا ہ ٹھاہ ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔ہم نے اس کی ہنسی کے درمیان درستگی کا وقفہ یہ جتا کر شامل کردیا کہ۔۔ ارے Kissing King نہیں وہ ہمارے شہر کراچی کنگ کی ٹیم ہے۔۔
ہم نے کہا یہ ویڈیو فوٹوز نوی بات نہیں۔ ایف بی آئی کے چیف ہربرٹ ہور نے جان ایف کینیڈی کو ایک دن لنچ پر بولا تھا کہ آپ کا بھائی جیک کینیڈی ایک چھوکریJudith Campbell Exnerکے چکر میں ہےجس کا فرینک سناترا ایکٹر اور مافیا کے ٹاپ ڈان سیام جنکانا سے بھی ٹانکا چل رہا ہے۔ ہمارے ایجنٹ لوگ کو یہ بات ہالی وڈ سے ثبوت کے ساتھ ملی ہے۔ ہربرٹ ہوور نے اتنا نہیں بولا کہ صدر صاحب آپ کابھی اس سے چکر ہے۔ اس کے بھی ہمارے پاس ثبوت ہیں۔اوپر جاکر کرائم، پالیٹکس اور سیکس ایک ہی بستر میں سوتے ہیں۔

بپاشا اور سیاست کار امر سنگھ جن کی ویڈیو کے چرچے رہے
شاہد اور کرینہ کپور
گنگوتری مندر اتر کھنڈ

آنکھ مار کر کہنے لگی ہمارے کونسلیٹ میں نیویارک میں را کا ایک افسر بولتا تھا جرنل مشرف کا جھگڑا ان لوگ کے کسی جج سے چھوکری کے پیچھے ہوا تھا۔ یہ جج بہت ہینڈ سم تھا ایک دم زین ملک جیسا۔اس پر چھوکری لوگ بہت مرتی تھی۔مشرف کو کوئی لفٹ نہیں دیتی تھی۔ پر ابھی کیا ہے اس مشرف کے پاس جج سے جیادہ پاؤر تھا تو سالا چھوکری کو ہائی جیک کرلیتا تھا۔ جج نے کمپلین کی تو ماں بہن پر اتر آیا۔ہم لوگ کی ایشوریا کے پیچھے بھی چریا تھا۔ہم نے کہا کون زین ملک۔بولی نہیں مشرف جرنل، زین ملک کے پاس تو جی جی حدید ہے۔ وہ تو اپن کی طرف کے جرنیلوں اور جج لوگ کے کھواب میں آنا بھی اُپمان(ہتک) سمجھتی ہے۔ہم نے سمجھایا کہ یہ تو انٹیلی جینسٍ والے ہیں نا یہ سالے شیطان کے سالے ہوتے ہیں۔مجھے بہت من میں  دکھ ہوتا ہے جب تو ان کی بات کو سچا سمجھ کر کوٹ کرتی ہے۔

مجھے تم لوگ کے گو گوئی جج کی بات بتاؤ جو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس تھا جب بابری مسجدکا فیصلہ آیا۔
وہ بتانے لگی کہ ہمارے چیف صاحب پر ایک فیمل  سٹاف ممبر نے 22 جج صاحبان کو ایک شبدھ پتر (حلف نامہ) لکھ کرالزام لگا یا کہ10 October اور 11 اکتوبر 2018 کو چیف جسٹس رانجن گو گوئی صاحب نے اپنے گھر کے آفس میں مجھے بلاکر بہت ہات پیر چلا نے کی کوشش کی۔ گلے لگانے کے لیے بھی بہت بے تاب تھے۔میرے کو گوگوئی نے انکار کرنے پر  تین مہینے میں تین دفعہ ٹرانسفر کیا پھر نوکری سے نکال دیا۔ان کی بیگم نے بھی مجھے بلاکر کہا کہ پیر پکڑ کر ناک زمین پر نہیں رگڑے گی تو معافی نہیں ملنے کی ۔ہم تیرا پلواما بنادیں گے۔گوگوئی پر جب یہ آروپ(الزامات) لگے تو بولے کہ یہ سب destabilize the judiciary” کرنے کا چکر ہے۔ بھارت میں یہ بہت عام ہے کہ ذرا کسی بڑے آدمی پر الزام لگاؤ تو پورا Institution (ادارہ) بدنام ہوجاتا ہے۔ ابھی شاہد کپور اور قرینہ کپور کا کوئی (Lips-Lock) والا ایم۔ ایم۔ ایس لیک ہوجائے تو اس سے کیا سارا بالی ووڈ بدنام ہوجائے گا۔ کلنٹن کے لچے لچے جوکس اور مونیکا لیونسکی کے  سکینڈل کی وجہ سے وہائٹ ہاؤس کمزور نہیں ہوتا۔امریکہ میں سب سمجھتے ہیں کہ یہ امریکی  صدر کا Conduct Unbecoming (برے سبھاؤ) کا کیس ہے۔اس کا امریکہ کی نیشنل سکیورٹی اور پریزیڈینسی سے کوئی واسطہ نہیں۔ہالی ووڈ والے کہتے ہیں کہ ابھی کرینہ اور شاہد کپور یا پریانکا چوپڑہ بھیگی (ساتھ)بیٹھتے تھے تو کیا ایک دوسرے سے فزکس کی سٹرنگ تھیوری سمجھنے کی بات کرتے ہوں گے یا کشمیر میں امرناتھ یاترا اور وہاں سے اتر کھنڈ میں گنگوتری مندر جانے کے پلان بناتے ہوں گے۔ادھر ادھر ہات نہیں ڈالتے ہوں گے۔
ایک منٹ میرے کو شعر ٹھوکنا ہے عنبر وہ کیا شعر تھا انکل غالب کا ع۔۔کمال کرتے ہیں
عنبر نے آن کر کہا گدھیڑی وہ غالب کا شعرنہیں۔ الطاف بھائی کو پتہ چلے گا تو غلط گلط شعر ان کے چچا غالب کے کھاتے میں ڈالتی ہے تو تیری بوری بنادیں گے۔ بوری وہ ایسے بناتے ہیں کہ پہلے بوری میں بند کرتے ہیں پھر کرکٹ بیٹ اور سریوں سے مارتے ہیں۔شعر ہے ع
بٹھا کے یار کو پہلو میں رات بھر غالب
جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں

ابھی کیا ہوا کہ گوگوئی نے فٹا فٹ جسٹس بوبڈے کو ایک تین ممبر جج لوگ کی ان ہاؤس کمیٹی کا چیف بنا کر جانچ پڑتال کی ۔سب جج گوگوئی کے جونیئر تھے۔بھارت کے قانون میں چیف جسٹس کی انکوائری کا کوئی قانون نہیں وہ سب کی جانچ پڑتال کرسکتا ہے۔
(ہمیں افتخار چوہدری کے بیٹے ارسلان کے اوپر لگائے ہوئے بحریہ کے مالک ریاض ملک کے الزامات اور وہ ڈرامہ انکوائری یاد آگئی)۔ کمیٹی نے بولا گوگوئی جی تو گنگا نہائے لے ہیں۔معصوم۔بن دوش کے۔وہ کاتک کی کتیا، (کاتک نومبر دسمبر کے مہینے جب جانوروں کا افزائش نسل کا سیزن ہوتا ہے) چیپ۔ پبلسٹی کی بھوکی، غریب کی جورو، فیمیل کلرک سالی جھوٹ بولتی ہے۔ پھر بھی کیا ہے رپورٹ پبلک نہیں کرنے کا۔یہ نیشنل سکیورٹی اور ہائی آئیڈیلز کی بات ہے۔ پاکستان میں جو لوزرز بیٹھے ہیں وہ اس پر ٹچے ُنیچ جوک بنا کرہماری سپریم کورٹ کا اپمان (ہتک) کریں گے۔ ان لوگ کا آئی ایس پی آر فل ٹائم جوک مارنے اور گانے بنانے میں چیمپین ہوگیا ہے۔ یہ لوگ ہائی برڈ ۔وار ایسے لڑتے ہیں جیسے اپن پٹرول بچانے کے لیے ہائی برڈ گاڑی چلاتے ہیں۔سیونتھ جنریشن وار تک پہنچ گئے ہیں۔
بھارت میں وکیل گروپ بولے چیف جسٹس نے principles of natural justice کا اولن گھن(خلاف ورزی) کیا ہے۔ جسٹس رانجن گو گوئی نے ایک اور بھی زیادتی کی اس کیس کے بعد اس فیمیل کلرک کے میاں اور بہنوئی دونوں کو نوکری سے نکلوا دیا۔یہ دونوں دہلی پولیس میں ہیڈ کانسٹبل تھے۔

بھارت میں جس طرح فنانس منسٹر ارون جیٹلی نے جج گوگوئی کا ساتھ دیا اس سے لگا کہ یہ Good Cop, Bad Cop والاگیم تھا۔جیٹلی نے جج کو بولا ہوگا اے کیا بولتا تو۔۔ آتا کیا کھنڈالا۔ ہم لوگ کے کیس اب تیرے پاس دھڑا دھڑ آئیں گے۔امبانی کے کیس، شہریت بل کے کیس،بابری مسجد کا کیس، آڈی واسی کا کیس۔ عنبر وہ تیرا الطاف بھائی کی پارٹی والا کیا بولتا تھا سندھ میں اگر رہنا ہے تو جیئے مہاجر کہنا ہے۔بول سب فیصلے ہماری مرضی کے دے گا کہ نہیں۔ دیکھ ابھی کیا ہے کہ ہم نے پتر کار ایم جے اکبر جو ہمارے بدیش کے کیندریے منتری (یونین منسٹر برائے خارجہ امور) تھے۔ ان پر ان کی ایک جونیئر پریا رامانی سے آروپ لگوکر ان کا پاٹیا (بستر)گول کرچکے ہیں۔ سالے کو گھر میں بھی منہ  دکھانے جیسا نہیں چھوڑا۔ ابھی اور بھی بہت کچھ ہے۔ہمارے پاس ریکارڈ اور تجھے تو سب یاد ہوگا،کہ کس کے ساتھ کیا کیا تھا۔ ہم لوگ مانتے ہیں کہ جج لوگ بھی انسان ہوتے ہیں۔ کلنٹن ٹرمپ کو چھوکری اچھی لگتی ہے تو جج کا بھی کسی کو گلے لگانے کا من کرتا ہوگا۔۔

پروفیسر ڈائنا اور ان کی کتاب
مولانا وحید الدین دلائی لامہ کے ساتھ

 

گوگوئی سمجھ گیا کہ سالی وہ چھوکری ان لوگ کی Operative تھی۔ چپ چاپ مونڈی (گردن ) ڈال کر کہا ہوگا ،بولونا میرے کو کدھر کدھر سائین کرنا ہے ۔جو مودی اور شاہ جی بولیں گے میں سب ویسا ہج کروں گا قانون ، انصاف کی پہن دی سری مگر بھگوان کے واسطے یہ ویڈیو، ویڈیو مت کھیلو ہندوستان ابھی تک منی کی بدنامی سے باہر نہیں نکلا جج لوگ کی ننگی ننگی ویڈیو مت وائرل کرو۔بھگوان کے لیے ہم لوگ کو چھوڑ دو۔سنسار اور گھروالے ہم کو جندہ نہیں چھوڑیں  گے۔
کامیا بتانے لگی تھوڑے دن بعد وہ کلرک،اس کا میاں، اس کا بہنوئی سب واپس نوکری میں آگئے بلکہ کام ٹھیک سے کرنے پر اس کے کلرک چھوکری کے بھائی کو بھی سرکار کی جاب مل گئی۔کامیا کو ہم نے یہ نہیں سمجھایا کہ بہت ممکن ہے کہ وہ خاتون کلرک خفیہ ایجنسی کی پلانٹیڈ ہو۔اس کو یہ ٹاسک دیا گیا  ہو۔۔کہ جج گوگوئی کا مکو ٹھپنا ہے۔ مکو ٹھپنا ہمارے پنجاب میں گردن ناپنے کو بولتے ہیں

ہم نے کہا کامیا بائی(بائی گجراتی میں لیڈی کا ہم پلہ لفظ ہے) ابھی کیا ہے کہ گوگوئی سالا گھیلا تھا۔یہ تم لوگ کی سپریم کورٹ کی یہ بنچ بہت پک شپت (جانب دار) تھی۔مسلمان لوگ جو مدعی تھے ان سے ڈیمانڈ کرتے تھے کہ کوئی ایک کاغذ یا پروف دو کہ سن 1528سے -1856/7 کے درمیان میں یہاں نماز ہوتی تھی مگر رام للّا کے دونوں پجاری سے یہ نہیں پوچھا کہ بھائی جان رام یہاں پیدا ہوئے تھے اس کا آپ کے پاس کیا ثبوت ہے۔ سارے فیصلے میں ہندوؤں پر ایک کم تین سو جگہ بات ہوئی ہے اور مسلمانوں پر 174 دفعہ۔سپریم کورٹ نے رام للّا کے فکشن اور خوابوں کو کورٹ کے ریکارڈ سے زیادہ اہمیت دی۔یہ مسجد پاکستان بننے سے سو سال پہلے ڈپٹی کمشنر نے جھگڑے میں سیل کی تھی۔ اس شہادت کو لفٹ نہیں کرائی۔تب مندر کا کوئی چکر نہ تھا۔Archaeological Survey of India کو خود سپریم کورٹ نے روکا کہ جس جگہ سے پجاری منع کریں وہاں کھدائی نہیں کرنی۔ یہ ثبوت تو موجود ہے کہ سن 1992 تک اپنی بربادی سے پہلے یہاں ایک مسجد تھی۔یہ کسی ایک فریق کا کھوکھلا دعویٰ  نہیں بلکہ انگریز ڈپٹی کمشنر کےزمانے سے جو عدالتی کاروائی چلتی آرہی ہے اس کے حساب سے یہ ایکwell-documented fact of history. ہے
سوچنے کی بات یہ ہے کہ سب کو یہ پتہ ہے کہ رام پیدا کہاں ہوئے تھے مگر رام پیدا کب ہوئے یہ جواب سپریم کورٹ کو نہیں ملا۔ ہارورڈ کی پروفیسرDiana Eck جن کو بھارت میں بھی ہندو مذہب پر اتھارٹی مانا جاتا ہے وہ اپنی کتاب India: A Sacred Geography میں کہتی ہیں کہ سن اسّی تک ایودھیا کے دس کے قریب مندر اس بات کے دعوے دار تھے کہ رام للّا ان کے مندر میں پیدا ہوئے تھے۔یہ مال اور اہمیت کا چکر ہے۔ دھرم کا نہیں۔

شیخ رشید سگار والے
گردوارہ ہرمند صاحب میں دمدمی ٹکسال والے
آپریشن بلیو سٹار کے مرکزی سٹار
کمپنی جس پر جرمانہ کیا گیا

اس موقعے پر کامیا نے ایک عجب بات کی جو ذاکر نائیک کے پاکستانی مداحین کو شاید پسند نہ آئے اور وہ اسے خالصتاً متعصبانہ بات تصور کریں وہ کہنے لگیں ذاکرنائیک کی وجہ سے بھی ہندوستان میں نفرت کو بہت فروغ ملا۔بابری مسجد سے پہلے ایسا تھا کہ جمعہ کی نماز کے بعد ہندو عورتیں مسجد کے باہر بچے لے کر کھڑی ہوتی تھیں کہ نمازی ان پر پھونک ماردیں،دم کریں مگر پھر کچھ کچھاؤ آگیا۔میڈیا بھی کارپوریٹ گروپس کے ہاتھ چڑھ گیا جن کی سماجی ذمہ داری بہت کم تھی۔ذاکر نائیک نے دھرم کے نام پر مال بھی بہت بنایا۔
بابری مسجد کو لے کر مسلمانوں کے دو گروپ تھے۔ایک میں عارف محمد خان جو اب بی جے پی کی طرف سے کیرالہ کے گورنر ہیں اور دوسرے مولانا وحید الدین یہ لوگ Pacifistic (امن پسند)۔یہ دونوں بولتے تھے کہ بھائی کیا ہوا اگر پاس میں مندر بن جائے تو لڑائی مت بڑھاؤ۔
وحید الدین بشمول ڈاکٹر اسرار اور امین الدین اصلاحی ان چند جید علماء میں سے تھے جن کا مولانا مودودی صاحب سے اس وقت اختلاف ہوگیا تھا جب جماعت اسلامی نے سیاست کی چولی پہن لی اور آج تک رسوائی اور بے وقعتی کی پستیوں میں ڈولتی پھرتی ہے۔چار لوگ کمال الدین فاروقی، شہاب الدین، ظفر یاب جیلانی اور شاہد صدیقی یہ بولتے تھے کہ ایک دفعہ ہندولوگ کا کلیم مان لیا تو کوئی مسجد،مزار سلامت نہیں رہے گا۔یہ جگہ کا نہیں فیتھ کا مسئلہ ہے۔سب سے پرانے مدعی تو اس کیس کے ہاشم انصاری تھے جن کو مسجد کے معاملے پر جھگڑا کرنے پر پاکستان بننے کے فوراً بعد بند بھی کیا تھا۔آپ یہ جان کر بہت آش چاری(ہندی میں حیران) ہوں گے کہ اس کیس میں مسلمانوں کے وکیل کوئی دھاون جی بھی تھے مگر بعد میں یہ کیس سے نوکھے(جدا) ہوگئے۔بات سچی ہے آپس کا کوئی جھگڑا نہیں۔ یہ سب نیچ نیتی (ڈرٹی پالیٹکس) ہے کاشی وشواناتھ مندر کے ساتھ گیانپتی مسجد ہے ہمارے بنارس میں۔ تمہارے محمد بن قاسم سے بھی پہلے ہمارے بھارت میں مسجد بن گئی تھی۔دو سو سال پرانی جگہ پر جھگڑا کرنا۔ میں اودھر نیویارک میں بھی اپنے یہودی دوستوں کو سمجھاتی ہوں مگر وہ بولتے ہیں ہمارا تھرڈ ٹیمپل آف سلومن نہیں بنے گا تو ہمارا مسیحا نہیں آئے گا ہمارا کلینڈر  ختم ہونے میں اب بس دو سو اٹھرہ برس باقی ہیں۔سب یہودی لوگ نے اسرائیل میں پہنچنا ہے۔ساری دنیا پر یہودی لوگ کا راج ہونا ہے۔ میں بولتی ہوں سالے اور کتنا راج کروگے۔سب میڈیا، سب مال تمہارا ہے۔آکھی بالی ووڈ میلا کونس، سکارلیٹ جانسن۔ووڈی ایلن،نتالی پورٹ مین سب سالے تم لوگ کے یہودی ہیں ابھی وہ جوکر والا جوکن فی نکس بھی تم لوگ نے اپنے دھرم میں گھسیڑ لیا ہے۔کچھ ہم لوگ کے لیے بھی تو چھوڑ و۔ ہم نے بلا توقف جتایا کہ پریٹی زنٹا کو اور پریناکا کو تو گورے مل گئے۔آپ نے ٹرائی نہیں ماری۔اس پر عنبر صدیقی کہنے لگی اس کو شیخ رشید بہت پسند ہے۔ وہ بھی اس جیسا سدا کنوارا ہے۔ میرے کو نیٹ پر بتا یہ عرب۔ ہنک   ( انگر یزی میں مضبوط اور جنسی لبھاؤ والا مرد) کون ہے۔ عنبر نے شیخ رشید کی گھوڑے کے بالوں والی وگ اور شلوار قمیص میں سگار پیتے ہوئے تصویر دکھائی تو کامیا بولی نو۔ وے۔ مین شلوار قمیص میں کون سگار پیتاہے۔بابر بھائی بولتے تھے کہ سیالکوٹ میں ایک ایکسپورٹر ایسا بھی تھا جس کی فراری ڈرائیور چلاتا تھا اور وہ بھی پولیسٹر کا کرتا شلوار قمیص پہن کر برابر بیٹھتا تھا۔اس ہنستی بستی کھلواڑ میں کامیا کی جانب سے ہم سے ایک سوال ہوا کہ آپ کے نزدیک بابری مسجد کا مدعا کیا ہے؟
ہم نے کہا ہم تو تکفیری، سلفی،دیوبندی، غزنوی ہیں۔عنبر کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگی
We will hug you in the end for admitting all these so brazenly and fearlessly
(ہم اس بے خوف اور جرات مند اعتراف پر تمہیں آخرکار گلے لگائیں گے)
سو ہم نے وضاحت کی کہ ہمارے نزدیک بھارت سے نمٹنے کا ایک محمود غرنوی،شہاب الدین غوری اور بابر کی فوج کشی علاج ہے۔کچھ اور نہیں۔ایسی ہر مسجد کو ہمارے نزدیک ٹوٹ جانا چاہیے جسے بابر جیسا Gay اور شراب و افیم کا رسیا۔ کابل سے پندرہ سو کلومیٹر دور فیض آباد میں 1524 بھارت فتح کر کے ایک برگیڈ سے بھی کم فوج کی مدد سے تعمیر کرے اور جسے دنیا کا دو سو کروڑ اور بھارت کا پچیس کروڑ مسلمان ٹی وی پر ٹوٹتا دیکھے۔ اس کے بعد سے مسلسل مظالم سہے اور کچھ نہ کرے۔
مسلمانوں کے لیے سبق سیکھنے کا باب سکھوں نے آٹھ برس پہلے کھولا تھا جب بھارت کے ڈھائی کروڑ سکھوں نے اپنے مقدس ترین مقام گردوارہ ہرمندر صاحب کی توہین کا جی کھول کر بدلہ لیا۔ آپریشن بلیو اسٹار جون 1984 اندرا گاندھی کے حکم پر ہوا اس کے انتقام میں نہ صرف چار مہینے بعد سکھوں نے اندرا گاندھی کو اڑا دیا بلکہ بھارتی فوج کے چیف ارون کمار ودیاجنہوں نے اس آپریشن کو پلانا اور لیڈ کیا تھا اس کو بھی پونا میں دو سال بعد سکھا اور جندا نامی دو خالصتان کمانڈوز نے گولی مار کر ہلاک کردیا۔ ہمیں افسوس ہے کہ نرسما راؤ کی لاش کتوں نے خود کیوں کھائی۔ہمیں یہ بھی
افسوس ہے کہ آڈوانی اور دیگر زندہ کیوں ہیں۔ ان کو نشان عبرت کیوں نہیں بنایا۔ ہم ان گجراتیوں میں سے ہیں جو مانتے ہیں کہ بدلہ کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ جرم کتنا بھی پرانا ہو سزا لازماً ملنی چاہیے۔ہم یہودیوں کی اس بات کو بہت پسند کرتے ہیں کہ نازیوں کو سپورٹ کرنے والیReimann family سے انہوں نے ایک کروڑ تیرہ لاکھ ڈالر جرمانے کے وصول کیے جو مملکت اسرائیل میں کار خیر میں استعمال ہوں گے۔ہمیں اس بات کا بھی بہت دکھ ہے کہ وہ احتجاجی مظاہرے جو جان بوجھ کر عرب ممالک میں ”را“نے کرائے اس میں بھی سب سے زیادہ  نقصان پاکستانی مسلمان مزدوروں کو ہوا جو جذباتی پن میں عربوں کی نازک مزاجی کی پرواہ کیے بغیر اس جال میں آگئے تھے۔
کامیا نے یہ سب کچھ سن کر بے بسی کی دھند سے جھانک کر صرف اتناکہا۔۔ہائے پیار میں جو آری چلوائے ایسے گجراتی سے ڈریو!

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *