ہم پیدائشی غدار ہیں۔۔رمشا تبسم

SHOPPING

سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو سزائے موت سنا کر تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔خصوصی عدالت کے بنچ میں جسٹس وقار سیٹھ اور شاہد کریم کے مطابق استغاثہ کے ثبوت کے مطابق پرویز مشرف مجرم ہے اور مثالی سزا کا مستحق ہے۔جبکہ جسٹس نذر اکبر کے مطابق نہ تو مشرف غدار ہے نہ ہی مجرم اور ان کو بَری بھی کیا جائے، جس پر بنچ کے دوسرے دونوں ججوں نے اختلاف کیا۔جسٹس شاہد کریم مشرف کو غدار ٹھہراتے ہیں اور سزائے موت پر متفق ہیں مگر جج وقار سیٹھ کی مثالی سزا دینے اور مرنے کے بعد  لاش ڈی۔چوک میں گھسیٹ کر لانے کے فیصلے سے باقی دونوں ججوں نے اختلاف کیا۔یہاں یہ فیصلہ ایک آئین توڑنے والے اور عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھانے والے شخص کے خلاف ہے۔اس فیصلے کا تعلق ہرگز کسی ادارے سے نہیں بلکہ ایک فردِ واحد سے ہے۔

یہ سزائے موت افواج پاکستان کو نہیں بلکہ ملکِ پاکستان میں بحیثیت صدر کئی سال حکمرانی کرنے والے حادثاتی سیاست دان پرویز مشرف کے لئے تھی مگر فوج سے پرویز مشرف کا تعلق یہ ہے کہ وہ فوج میں کام کر چکے ہیں اور فوج کے ایک ریٹائرڈ ملازم ہیں۔

اب یہ فیصلہ نہ تو ریاست پاکستان کے خلاف تھا نہ  ہی افواج پاکستان کے۔یہ سزا یا فیصلہ ایک ایسے شخص کے خلاف تھا جو فوج کا طویل عرصے ملازم رہا اور دورانِ ملازمت کوئی شک نہیں جس ملازمت پر پرویز مشرف کو رکھا گیا اس کو کافی حد تک بخوبی نبھایا بھی اور اس ملازمت کے عوض طے شدہ تنخواہ اور مراعات بھی وصول کیں، جیسے میں اور آپ اپنی ملازمت کے عوض وصول کرتے ہیں۔ پھر سنہ 1998 میں نواز شریف نے چیف آف آرمی سٹاف مقرر کیا مگر سنہ 1999 میں کچھ غلط پالیسوں کی بدولت افواج پاکستان اور حکومت دونوں کشمکش کا شکار رہیں، دونوں ہی ناکامی اور شرمندگی کا مکمل الزام اپنے سر نہیں لینا چاہتی تھیں، لہذا نواز شریف اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر فائز پرویز مشرف کو تبدیل کرتے اس سے پہلے پرویز مشرف نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا۔اور فوج میں نوکری کرنے کے ساتھ ساتھ پھر کئی سال ایک سیاستدان کا کردار ادا کرتے ہوئے صدر پاکستان کا عہدہ بھی سنبھالا, اسی عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے آئین کو کئی بار پامال کیا , 2007 میں جلا وطنی کاٹ کر نواز شریف اور مرحومہ محترمہ بینظیر بھٹو وطن واپس آئے تو جمہوریت میں دوبارہ جان آ گئی  ۔اور مشرف حکومت زوال کا شکارہونا شروع ہو گئی۔ پھر ایمرجنسی نافد کر کے آئین کو معطل کیا گیا اور ججوں کو کام کرنے سے  زبردستی روکا گیا تاکہ اپنے اقتدار کی مدت بڑھا سکیں۔مگر 2008 فروری میں پارلیمانی انتخابات ہارنے کی وجہ سے مشرف کے پاس کامیابی کی کوئی صورت نہ رہی لہذا کچھ عرصے بعد استعفی دے کر ملک سے فرار ہو گئے ۔یاد رہے یہ مکمل کاروائی کرنے والا ایک شخص پرویز مشرف تھا جو صرف فوج کا ایک ملازم تھا ناکہ افواج پاکستان کا بانی اور نہ ہی افواج پاکستان کا مالک۔ لہذا اس ایک شخص پر تنقید اور اسکے دور حکومت کی وجہ سے افواج پاکستان کو الزام دینا یا ان  پر طنز کرنا انتہائی غلط اقدام ہے اور ایسی گستاخی پاکستان کی عوام کبھی کر ہی نہیں سکتی اور اسی طرح اس شخص کے خلاف فیصلے پر فوج کا غم و غصہ بے معنی ہے۔مشرف کے خلاف فیصلہ حقائق پر مبنی ہے۔اور یہ فیصلہ خالصتاً پاکستان میں طویل عرصہ حکومت کرنے والے شخص پرویز مشرف کے خلاف آیا ہے۔پرویز مشرف کی فوج میں ملازمت کے دوران خدمات سے کسی کو انکار نہیں اور نہ ہی فوج کی ملازمت میں غدار ٹھہرتے ہیں اور نہ ہی ان پر فوج سے غداری کا کوئی مقدمہ تھا نے میں درج  ہے۔ان پر پاکستان کے آئین کی پامالی کا مقدمہ تھا جس پر ثبوتوں کی موجودگی میں فیصلہ سنایا گیا۔

اور اس سلسلے میں افواج پاکستان کا غم و غصہ سمجھ سے باہر ہے۔ڈی۔جی۔آئی  ایس پی آر کے مطابق فوج اپنا,ملک اور قوم کا دفاع جانتی ہے۔ایسے میں ایک شخص پرویز مشرف کا مجرم ثابت ہونا اور سزا پانے کو افواج پاکستان اپنی انا کا مسئلہ صرف اس لئے بناتی نظر آ رہی ہے کیونکہ وہ شخص ماضی میں فوج کا ایک ملازم رہ چکا ہے۔اس صورت میں صرف فوج اپنا دفاع کرتی نظر آتی ہے ملک اور قوم کا نہیں۔کیونکہ ملک اور قوم کا دفاع اسی صورت ممکن ہے جب آئین کو معطل کرنے والے اور  زبردستی حکمرانی کر کے ریاست میں جمہوریت کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی شخص کو خواہ وہ فوج کا پرانا ملازم ہو یا حالیہ ملازم یا کسی اور ادارے کا ملازم ہو ہر صورت اس کو مجرم ثابت ہونے پر مثالی سزا دی جائے اور اس سزا میں افواج پاکستان ملک اور عوام کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آئے۔مگر حالیہ فیصلے میں ملک اور عوام کے ساتھ کوئی نہیں۔افواج پاکستان اپنا وقار بحال کرنے کی جدو جہد میں ہے ۔حکومت پاکستان اپنی حکومت بچانے کے لئے ہر صحیح فیصلے کی مخالفت میں نظر آ رہی ہے اور عوام عجیب الجھن کا شکار ہے۔عوام عدالت کے فیصلے کو غلط کہے تو بھی پھنس جاتی ہے۔اور اگر فیصلے کو صحیح کہے اور صرف اور صرف مشرف کو مجرم مانے تو حکومت اور افواج پاکستان اسکو پاک آرمی کا دشمن قرار دیں گے۔

مگر یہ بات حکومت , عوام اور افواج پاکستان کو سمجھنی چاہیے کہ جس طرح کسی کرپٹ سیاست دان کی وجہ سے پارلیمنٹ ذلیل و رسوا نہیں ہوتی ایوانوں کی حرمت پامال نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی واحد کرپٹ حکمران پوری جمہوریت کو بدنام کرسکتا ہے اسی طرح ایک شخص افواج پاکستان کی بدنامی کا باعث نہیں بن سکتا وہ بھی تب جب اس پر فرد جرم بحیثیتِ چیف آف آرمی سٹاف یا فوج کے ملازم کے نہیں بلکہ بحیثیت صدر پاکستان یا سیاستدان پر  عائد کی گئی  ہو۔

رہی عوام تو ہمارے لئے یہ ممکن نہیں کہ ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف جائیں۔۔عدالت کا فیصلہ میرٹ پر ہے۔پیرا66 سے جسٹس شاہد کریم اور نذر اکرم نے اختلاف کیا ہے۔اور اس پر عمل کسی صورت نہیں کیا جا سکتا ہے۔جسٹس وقار سیٹھ کے الفاظ کچھ یوں ہوتے تو بہتر تھا کہ
“مشرف اگر پھانسی سے پہلے مر جائے تو کاش یہ ممکن ہوتا کہ اسکو ہم ڈی۔چوک میں لٹکائیں تاکہ کوئی دوبارہ پاکستان کے آئین اور فوج کی ملازمت کا ناجائز فائدہ نہ اٹھاتا مگر آئینِ پاکستان میں اسکی گنجائش نہیں”

اسکے علاوہ مکمل فیصلہ درست ہے اور اسکے لئے مشرف کو کئی بار بیان ریکارڈ کروانے کی درخواست کی گئی ۔وہ انڈین چینل پر صحت مند حالت میں بیان دیتے پائے گئے مگر پاکستان کی عدالت کو اہمیت نہ دیتے ہوئے بیان ریکارڈ کروانے سے گریزاں رہے اور مستقل  کئی  سالوں سے ملک سے فرار ہو کر شان و شوکت سے زندگی گزارتے رہے۔اور مشرف کا ملک سے فرار ہو کر مقدمے سے بھاگنا بھی یقیناً فوج کے لئے باعث شرمندگی بھی رہا ہو گا کہ عوام کو یہ پیغام ملا کہ احتساب صرف عوام اور سیاست دانوں کا ہو سکتا ہے مگر وہی سیاست دان اگر فوج کا ملازم رہ چکا ہو تو اسکا احتساب ممکن نہیں۔اور نہ ہی ایسے شخص کے لئے عدالتوں کی کوئی عزت اور اہمیت ہے۔لہذا کسی حد تک مشرف کا فرار ہونا فوج کی بدنامی کا باعث بنا مگر پھر بھی عوام افواجِ پاکستان کو الزام نہیں دے سکتی کیونکہ مشرف ایک فرد ہے نا کہ  ایک مکمل فوج کا دارہ یا محکمہ ہے۔

پاکستان کی عوام کے لئے ریاست سے غداری کرنا مطلب اپنے وجود سے غداری کرناہے۔عوام کبھی ریاست سے غداری کی مرتکب نہیں ہوتی ہاں سیاست میں موجود کچھ مخصوص سازشی کرداروں کےمخالف ضرور ہوتی ہے اور اسی وجہ سے وہ مخصوص کردار اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کی خاطر عوام کو ریاست کے غدار ٹھہراتی ہے۔کسی ایک سیاست دان کی حکمرانی کے دور میں کسی قسم کی مخالفت آپ کو ریاستی غدار بنا سکتی ہے۔حال ہی کی  مثال لے لیجیے۔موجودہ وزیراعظم اور ماضی کے انقلابی لیڈر عمران خان نے عوام کو شعور دیا کہ فوج کا ایک ملازم پرویز مشرف جو بیک وقت چیف آف آرمی سٹاف اور صدر پاکستان کے عہدے پر قائم رہا،بہر صورت غدار ہےاور مشرف کو سر عام پھانسی دی جائے۔ اور اگرمشرف کو رہائی ملتی ہے تو دس بار قتل کرنے والے مجرم کو بھی رہائی دی جائے۔اب اگر خصوصی عدالت کے فیصلے کو صحیح مانا جائے اور اس فیصلے کی تعریف کی جائےجس میں مشرف کو پھانسی کی سزا سنائی گئی  ہے تو آپ عمران خان کے موجودہ بیانیہ (کہ مشرف کسی صورت غدار نہیں اور حکومت اس فیصلے کو ہر صورت ماننے سے انکار کرتی ہے)کے مخالف ہیں تو موجودہ صورت میں آپ کو عمران خان کی مخالفت کی بدولت ریاست کا  غدار ٹھہرا دیا جائے گا۔

لہذا ہم ہر صورت ایک ادارے کے وفادار یا کسی ایک کردار کے وفادار اور دوسرے کے غدار ہی ٹھہرتے ہیں۔کیونکہ ہماری درحقیقت نہ کوئی حیثیت ہے نہ کوئی پہچان اور نہ ہی ضرورت۔
اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ ہم ہماری حفاظت پر معمور نوجوانوں کے خلاف بولیں۔وہ نوجوان جو بارڈر پر دن رات ہماری حفاظت کے لئے اپنوں سے دور رہتے ہیں اور ہماری ہی حفاظت کی خاطر اکثر جان کی بازی لگاتے ہیں۔ان نوجوانوں کی نہ تو بہادری سے انکار ہے نہ ہی ان کی وطن سے محبت پر شک ہے۔ اور نہ ہی انکے کردار کو فراموش کر کے اور ان پر الزام لگا کر ہم ان کی محبت اور بہادری سے آنکھ بند کر سکتے ہیں۔ مگر اکثر اسی دل و جان عزیز فوج کے محکمے میں سے کوئی نہ کوئی مخصوص کردار اٹھتا ہے اور ریاست کے آئین کو پامال کرتا ہے اور فوج پر بدنما داغ ثابت ہوتا ہے۔اور اس خاص کردار سے کسی صورت بھی فوج کا مکمل محکمہ نہ تو بدنام ہوتا ہے نہ ہی اس پر انگلی اٹھائی جا سکتی ہے کیونکہ یاد رہے فوجی بارڈر پر جاگتا ہے تو آپ گھروں میں سکون سے سوتے ہیں۔کسی ایک فوجی کی ریاست سے غداری کی وجہ سے کسی صورت فوج پر نہ تو الزام دیا جا سکتا ہے نہ ہی عوام اپنے فوجی جوانوں کے خلاف بولنے والوں کو کبھی برداشت کرے گی۔

تاریخ میں کئی مثالیں موجود ہیں جہاں غداروں کو عبرت ناک سزا دی گئی  اور ان کو آنے والے وقت میں سب کے لئے عبرت بنا دیا گیا۔لہذا جسٹس وقار سیٹھ نے مشرف کو تاریخی اور مثالی سزا دینے کا فیصلہ سنایا۔مگر آئین پاکستان میں اسکی گنجائش نہیں ہاں تاریخ میں اسکی گنجائش ہے اور ہم تاریخ کو نہ مانیں  اور مشرف کو گھسیٹ کر نہ لٹکائیں تو ہم تاریخ کے غدار بن جاتے ہیں۔

پاکستان کی عوام دنیا کی سب سے بے بس و لاچار عوام ہے۔عوام ہمیشہ سیاسی سازشوں کا شکار ہو کر اور آپس میں لڑ جھگڑ کر مرتی رہتی ہے۔اور ہمیشہ ہی ایک غدار کہلانے کی چکی میں پستی رہتی ہے۔ہم بے بس و مجبور و نادان و معصوم عوام جائیں تو کہاں جائیں ،بولیں تو کیا بولیں۔ نہ ہماری کوئی حیثیت نہ ہماری کوئی طاقت ،نہ ہماری کوئی اوقات اور نہ ہی ہماری کوئی سوچ۔ہمارے ذہنوں پر قفل ہیں ہماری زبانوں پر قفل ہیں ہماری سوچوں پر قفل ہیں۔ہمیں جو رٹایا جاتا ہے وہی بولنا پڑتا ہے وہی سوچنا پڑتا ہے۔وہی کرنا پڑتا ہے۔

عدالت کے کسی فیصلے کے خلاف جائیں تو توہین عدالت کے مجرم بنتے ہیں۔فوج میں موجود کسی سازشی شخصیت کے خلاف حق بات کریں تو فوج کے غدار ٹھہرتے ہیں، خواہ بات کسی ایک شخص یا ایک مخصوص کردار کی ہی کیوں نہ ہو ۔پورا محکمہ اس بات کو محکمے کی توہین سمجھتا ہے اور عوام اس شخص کے مخالف لوگوں کو ملک و فوج کا غدار ٹھہرانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔حکومت کی غلط پالیسیوں پر آواز بلند کرتے ہیں تو ریاست کے غدار کہلائے جاتے ہیں۔اور تاریخ میں موجود مثالوں سے آنکھ چراتے ہیں تو تاریخ کے غدار کہلائے جاتے ہیں۔

SHOPPING

لہذا یہ تو طے ہے کہ ہر وقت کسی نہ کسی صورت میں پاکستان کا ہر شخص غدار ہے خواہ فوج کا عدالت کا تاریخ کا یا ریاست کا۔ اور ہم سب درحقیقت پیدائشی غلام نہیں بلکہ پیدائشی غدار ہیں۔
لہذا ریاست پاکستان کے تمام اداروں سے درخواست ہے کہ کوئی قفلِ غداری بنا دیا جائے تاکہ اسے ہم استعمال کرنا شروع کر دیں اور یہ خاص قسم کا قفل ہم پیدائشی غداروں کی غداری کو اس طرح سے لاک کر دے کہ ہم خالصتاً محبِ فوج محبِ عدالت محبِ تاریخ اور محبِ ریاست بن جائیں۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *