یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا۔۔۔۔۔۔۔ہارون الرشید

پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ مکمل آئینی اور قانونی ہے۔۔پیرا 66 میں تجویز کردہ سزا کا ذکر فیصلے میں نہ ہوتا تو اچھا ہوتا۔ یاد رکھنا چاہیے کہ پیرا 66 ایک جج کی رائے ہے, بنچ کا فیصلہ نہیں, بالکل ویسے ہی جیسے جسٹس نذر اکبر کا اختلافی نوٹ ان کی رائے ہے, فیصلہ نہیں۔۔۔فیصلہ وہی ہے جس پر بنچ کی اکثریت کا اتفاق ہے اور وہ ہے آئین کی دفعہ چھ کے تحت سنگین غداری ثابت ہونے پر سزائےموت۔۔
ہمارا نظام ابھی اتنا مضبوط نہیں ہے کہ برطانوی آمر کرامویل کی بعدازموت پھانسی جیسی نظیر برداشت کر سکے۔۔۔
فیصلہ ایک شاہکار ہے۔ پاکستان میں نظام کو دستور کے مطابق چلانا ہے تو یہ فیصلہ اس کی بنیاد بن سکتا ہے۔
فیصلے میں صرف پیرا 66 نہیں ہے۔۔۔
فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ فوج کے افسران کا ان کے حلف کے مطابق فرض تھا کہ وہ پرویز مشرف کا ساتھ دینے کی بجائے انہیں اس اقدام سے روکتے, انہوں نے ایسا نہیں کیا لہذا وہ شریک مجرم ہیں۔۔ وفاقی حکومت ان کے خلاف کسی بھی وقت تفتیش اور کارروائی شروع کر سکتی ہے۔۔
فیصلے میں اعلی عدلیہ کو بھی قصوروار ٹھہرایا گیا اور قرار دیا کہ اعلی عدلیہ نے شروع سے ہی نظریہ ضرورت کا کندھا غیر آئینی اقدامات کو فراہم کیا, اعلی عدلیہ ایسا نہ کرتی اور پہلے مارشل لا کے وقت ہی نظریہ ضرورت ایجاد نہ کرتی تو آج ہم یہ دن نہ دیکھ رہے ہوتے۔۔میرا خیال ہے کہ اس بات کی بنیاد پر وفاقی حکومت چاہے تو اعلی عدلیہ کے وہ ارکان جو ایسے غیر آئینی اقدامات کو تحفظ دیتے رہے ہیں، اُن  کے خلاف بھی  کارروائی شروع کر سکتی ہے۔۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ جنہوں نے پرویز مشرف کو فرار کروانے میں مدد کی وہ بھی جرم میں شریک ہیں۔۔یاد رہے کہ اس وقت مسلم لیگ ن کی حکومت تھی جس نے “عدالتی فیصلے” کی آڑ لیتے ہوئے پرویز مشرف کو جانے دیا۔۔۔ وفاقی حکومت چاہے تو موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلم لیگ کے خلاف ایک اور مقدمہ بھی قائم کر سکتی ہے۔
اب بتائیے اس فیصلے میں غلط کیا ہے؟؟ فیصلے نے ستر بہتر سالوں کی سیاہ کاریوں کو بے نقاب کیا ہے۔۔۔ ریاستی ادارے چاہیں تو اس فیصلے کے مطابق اپنے اپنے دائرہ کار میں لوٹ جائیں تو ملک پٹڑی پر چڑھ سکتا ہے۔
پیرا چھیاسٹھ کو لے کر میڈیا نے جو ہاہاکار مچائی ہے وہ تو اپنے “لفافے” حلال کر رہا ہے۔۔۔لفافے صرف نوازشریف دے تو حرام نہیں ہوتے بلکہ کوئی بھی دے لفافے حرام ہی ہوتے ہیں۔۔ وہ اینکر جس کی ایوانِ صدر میں پرویز مشرف کا انٹرویو لیتے ہوئے گھگی بندھی ہوئی تھی, اب منہ سے جھاگ اڑا رہا ہے کہ پوری قوم کو فیصلے پر تحفظات ہیں۔۔شاید وہ خود کو ہی پوری قوم سمجھتا ہے۔۔
فیصلے پر فوج کا بطور ادارہ ردعمل انتہائی افسوسناک ہے۔۔ یہ فیصلہ ایک فرد, ( فیصلے میں the accused alone کے الفاظ ہیں) جس نے ملکی آئین سے بغاوت کرتے ہوئے اقتدار پر ناجائز قبضہ کیا, کے خلاف تھا فوج نے اس میں بطور ادارہ خود کو گھسیٹ لیا۔۔ فوج اگر فیصلے میں اپنے ادارے کو گھسیٹے بغیر فیصلے کے احترام کا اعلان کرتی تو یقیناً اس کے وقار میں اضافہ ہوتا۔۔فوج کو اس فیصلےکے بعد یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ کسی کو غدار قرار دیا جائے تو یہ کس قدر تکلیف دہ بات ہوتی ہے, آپ کا جب جی چاہتا ہے کسی کو بھی غدار قرار دے دیتے ہیں حتی کہ آپ کے ایک سربراہ نے تو بانئ پاکستان کی بہن اور قوم کی ماں مادر ملت فاطمہ جناح تک کو غدار قرار دے دیا تھا, کاش اس وقت بھی بطور ادارہ کوئی ایسا ردِعمل دیا جاتا۔۔
سیاسی جماعتوں کو اپنے کارکنوں کی صورت میں جو “پٹواری” دستیاب ہوتے ہیں وہ تو شاید کسی درجے میں قابلِ اصلاح ہوتے ہوں گے لیکن فوج کو جو “پٹواری” مفت میں دستیاب ہیں وہ بالکل ناقابل اصلاح ہیں۔۔ او صاحبو! کیوں نہیں سمجھتے کہ یہ فیصلہ پرویز مشرف کے خلاف ہے, فوج کے خلاف نہیں۔۔ خود پرویز مشرف نے اپنے ویڈیو ردعمل میں  کہا کہ فیصلے میں ایک فردِواحد کو نشانہ بنایا گیا تو تسلیم کر لیجیے کہ فیصلہ ایک فرد کے خلاف ہے، ادارے کے خلاف نہیں۔۔ البتہ پرویز مشرف نے اپنے ردعمل میں ایک دلچسپ نکتہ بھی اٹھایا کہ اُن کو نشانہ اُن لوگوں نے بنایا جو اونچے عہدوں پر بیٹھے ہیں اور اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہیں، کوئی تو اُنہیں بتائے کہ مشرف صاحب! آپ نے بھی اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا تھا بلکہ آپ نے تو وہ کیا تھا جس کا آپ کو اختیار ہی حاصل نہیں تھا اور پھر ایک بار نہیں، دو بار آپ نے ایسا کیا تھا۔۔
اگر آج سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتیں اس فیصلے کو بنیاد بنا کر آئین کی بالادستی کے لیے جدوجہد نہیں کریں گی  تو قانون اور آئین کے مطابق اس ملک کو چلانا محض خواب ہی رہ جائے گا۔۔
اور خان صاحب کو چاہیے کہ وہ تو آئے ہی فوجی مینڈیٹ لے کر ہیں، جن کے وہ راج دلارے ہیں اُن کو سمجھائیں کہ ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرایا جائے اور ایک فرد کے خلاف فیصلے کو اداروں کی انا کا مسئلہ نہ بنایا جائے لیکن وزیراعظم بننے کے بعد انہوں نے اپنے قد سے بڑی باتیں کرنا چھوڑ دی ہیں۔۔اُن سے تو اب اتنی ہی گزارش ہے کہ حضور آپ تو گھر ہی چلے جائیے۔۔جو شخص اپنی کہی ہوئی ہزاروں باتوں میں سے کسی ایک بات پر بھی مردوں کی طرح قائم نہ رہ سکے, وہ اقتدار کے سنگھاسن پہ براجمان رہنے کا بھی کوئی جواز نہیں رکھتا۔۔خان صاحب شاید پہلے وزیراعظم ہیں جن کے بیانات کی مخالفت میں اپوزیشن بعد میں بولتی ہے, ان کے اپنے ماضی کے بیانات کی ویڈیوز پہلے ہی چلنے لگتی ہیں۔۔
اور آخر میں فیصلے کے آئینی اور قانونی اور سیاسی محرکات ایک طرف, پرویز مشرف اپنے مظالم اور جرائم کی طویل فہرست کی بدولت اس فیصلے سے پہلے بھی اور فیصلے کے بعد تو اور بھی زیادہ عبرت کا سامان بن چکے ہیں۔۔ وہ طنطنہ، وہ غرور اور رعونت جو اُن کی شخصیت کا خاصہ تھی، آج ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی۔۔  جسم پھول چکا ہے، چہرے کے نقوش پہچانے نہیں جاتے، بات کرتے ہیں توآواز کانپنے لگتی ہے۔۔ فیصلہ آنے کے بعد بسترِ علالت سے کانپتی ہوئی آواز میں جو پیغام موصوف نے جاری کیا کوئی اسے سنے۔۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔۔۔۔ کوئی ہے جو عبرت پکڑے؟؟

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا

یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں۔۔

ہارون الرشید
ہارون الرشید
میں جو محسوس کرتا ہوں، وہی تحریر کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *