بھلکڑ۔۔مسکین جی

تیری بچپن کی یہ عادت اب تک گئی نہیں؟ کتنی بار سمجھایا ہے کہ تہذیب یافتہ گھرانے میں تجھے بیاہا ہے، میری ناک مت کٹوانا لیکن تمہیں کچھ پلّے پڑے تو نا، ارے اتنی بھلکڑ کیوں ہے تو؟ کچھ تو یاد رکھ لیا کر!

منہ میں ایک طرف دوپٹہ دبائے دیکھ کر شہناز کی والدہ نے اسے ڈانٹ پلائی تو وہ ہنس دی اور بولی۔۔ جانے دو امی! عادت بن چکی ہے اب تو۔ اور عادتیں قبروں تک ساتھ نہیں چھوڑتیں۔
ہاں ہاں جواب تو تمہارے پاس ہزاروں تیار ہوتے ہیں۔

شہناز کی والدہ مہینے میں ایک آدھ بار شہناز کی خیر خبر لینے آ جایا کرتی تھیں ۔ کچھ دیر بیٹھ کر وہ رخصت ہوئیں تو شہناز اپنے کمرے میں  آ کر آئینے کے سامنے بیٹھ گئی۔ دوپٹے کا کنارہ دانتوں کے چنگل سے ذرا سا آزاد ہوا تو اپنے ہی گال پر ثبت شدہ پانچ انگلیاں دیکھ کر یک دم سے ٹھٹھر کر رہ گئی۔ صبح کا منظر نامہ جب اس کی نظروں کے سامنے منڈلانے لگا تو اس کی روح تک کانپ اٹھی۔

شہناز نے سویرے اٹھ کر ناشتہ تیار کر لیا تھا۔ کچن میں ہی چار سالہ بیٹی کو ناشتہ کراتے ہوئے کچھ ادھورا ہوم ورک بھی کروا رہی تھی۔ الیاس ڈیوٹی پر جانے کی تیاری میں مصروف تھا۔ کچھ ہی دیر میں وہ بھی کچن میں آ دھمکا ۔
شہناز پراٹھا توے پر ڈال کر بیٹی کو بولی، یہ پھر سے غلط لکھ دیا تم نے۔ اسے ٹھیک سے لکھو!
پھر خود سے ہی بڑبڑاتے ہوئے بولی: تم تو پڑھ لکھ کر کچھ بن جاو! میں تو اس گھر میں آ کر اپنی پڑھائی بھی پوری نہ کرسکی۔ ایک ہی آرزو تھی کہ نرسنگ کمپلیٹ کرکے مزید پڑھائی کروں اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر لوں۔ اب بس ایک ہی تمنا ہے کہ اپنی بیٹی کو پڑھا کر ڈاکٹر بناؤں۔ میری آرزوؤں کا گلا تو گھونٹ دیا گیا لیکن اپنی بیٹی کے ساتھ میں ایسا نہیں ہونے دوں گی۔۔
ابھی شہناز کے دل کی فریاد باقی تھی کہ ایک زور دار طمانچہ اس کے سفید چہرے کو سرخ کر گیا۔
“تمہیں کتنی بار منع کیا ہے کہ میرے سامنے اپنی ادھوری پڑھائی کے نوحے مت پڑھا کرو! تمہاری سمجھ میں کوئی بات کیوں نہیں آتی؟ تم کیوں بھول جاتی ہو کہ طعنے سننا پسند نہیں مجھے
” یہ شہناز کا شوہر تھا جو ابھی بھی شہناز کی طرف سے کسی کلامی مزاحمت کے انتظار میں تھا کہ ایک اور تھپڑ مار سکے۔ لیکن شہناز اس کی طبعیت سے واقف تھی سو خاموشی سے صبر کے کڑوے گھونٹ پی گئی”۔

آئینے کے سامنے بیٹھی شہناز یہ سب سوچ کر سہم گئی۔ اسے پہلے کی بے وجہ مار پیٹ یاد آنے لگی۔ تھپڑوں کے بعد نہ رکنے والا گھونسوں اور لاتوں کا سلسلہ یاد آنے لگا۔ اس نے دوپٹے کا کنارہ دانتوں میں دبایا اور سوچنے لگی: کیا میں سچ میں بھلکڑ ہوں؟

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *