• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • بینک کا کون سا منافع جائز ہے اور کون سا ناجائز؟۔۔حفظ صفوان محمد

بینک کا کون سا منافع جائز ہے اور کون سا ناجائز؟۔۔حفظ صفوان محمد

بینک میں جمع کرائی گئی رقم سے ملنے والا ہر منافع سود نہیں ہے۔ اس بات کو اچھی طرح سے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بینک میں رکھوائی ہوئی رقم پر ملنے والا کون سا منافع جائز ہے اور کون سا ناجائز۔

پہلے ایک اصولی بات سمجھ لیجیے کہ مال (capital) کا مالک جسے عربی میں رب المال (مونث: ربۃ المال) کہتے ہیں، یہ اس کا حق ہے کہ جہاں چاہے اپنا مال لگائے اور جتنے منافع پر چاہے لگائے۔ اسلام رب المال کے حقِ مکیت کو تسلیم کرتا ہے چنانچہ اسلام نے منافع کی شرح (percentage کہہ لیجیے) کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا۔ منافع اور مال کے لگانے کے بارے میں صرف دو موٹی موٹی باتوں کا خیال رکھا جائے: (1) منافع کی شرح اتنی نہ ہو کہ کوئی طبقہ یا شخص بالکل پس کر رہ جائے یعنی اس کا استحصال ہوتا ہو۔ اور (2) حرام جنس یا شے کا کاروبار نہ ہو۔

یہ خیال بالکل غلط ہے کہ مال میں ایک بھی مشکوک پیسہ شامل ہو جائے تو سارا مال اس طرح ناپاک ہو جاتا ہے جیسے دودھ میں پیشاب کا ایک قطرہ گرنے سے سارا دودھ ناپاک ہو جاتا ہے۔ مال میں جتنا حصہ مشکوک شامل ہوگیا ہے اسے نکال دیا جائے تو باقی سارا مال جائز اور پاک ہوتا ہے۔

اس ضروری وضاحت کے بعد اب دیکھتے ہیں کہ بینک میں رکھوائی ہوئی رقم پر ملنے والا کون سا منافع جائز ہے اور کون سا ناجائز۔ اس آسان سی بات کو سمجھنے کے لیے میڈیکل سٹور کی مثال لے لیجیے۔ میڈیکل سٹور والا بہت سی دوائیں بیچتا ہے اور ان سے منافع کماتا ہے۔ یہ منافع جائز ہے اگر اس پر ٹیکس دیا جا رہا ہے اور صرف منظور شدہ دوائیں بیچی جا رہی ہیں۔ فرض کریں کہ انہی دواؤں کی آڑ میں ایک ایسی نشہ آور چیز بھی بیچی گئی ہے جس کا خریدنا بیچنا قانونًا منع ہے، تو واضح ہے کہ اس نشہ آور چیز کا منافع بھی ناجائز (شرع کی اصطلاح میں حرام) ہے۔ چنانچہ میڈیکل سٹور کی ساری آمدن اور منافع میں صرف اس مخصوص نشہ آور چیز سے آنے والی آمدن اور منافع ناجائز ہے۔ یہی مثال بینک میں رکھوائے گئے پیسے پر ملنے والے منافع پر لاگو کیجیے۔ بینک سے ملنے والا ہر منافع جائز ہے بشرطیکہ بینک نے جہاں آپ کا مال لگایا اور منافع کمایا ہے اس میں کسی حرام چیز (منشیات، بردہ فروشی، جسم فروشی، ذخیرہ اندوزی، دہشت گردوں کی سہولت کاری، وغیرہ وغیرہ) پر انویسٹمنٹ نہ کی گئی ہو۔

اگلی بات یہ ہے کہ آپ کو کس طرح معلوم ہو کہ بینک نے آپ کا مال کہاں لگایا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بینک سے پوچھ لیجیے۔ وہ آپ کو بتانے کا پابند ہے۔ اصولی طور پر قومی اور نجی بینکوں کو کاروبار کے لیے ہدایات دی گئی ہیں اور وہ منظور شدہ جگہوں ہی پر انویسٹمنٹ کرتے ہیں۔

فقہ کا یہ اصول یاد رکھیے کہ دھوبی سے دھل کر آنے والا کپڑا پاک ہے بشرطیکہ آپ نے دھلائی سے پہلے پاک کرنے کو کہہ دیا ہو یا آپ نے دھوبی کو دینے سے پہلے کپڑا خود پاک کرلیا ہو۔ اگر آپ نے دھوبی کو کپڑا پاک کرنے کو نہیں کہا تو کپڑا صاف ضرور ہے، پاک نہیں۔ سادہ لفظوں میں یوں کہیں کہ اگر کپڑا پاک تھا تو دھوبی سے دھل کر آنے کے بعد بھی پاک ہے ورنہ ناپاک ہے۔ بینک میں جمع کرائی گئی رقم پر بھی اگر یہ احتیاط کی گئی ہے (یعنی کہا گیا ہے کہ اسے حلال کاروبار میں لگایا جائے) تو اس سے ملنے والا منافع جائز اور حلال ہے۔ چنانچہ نتیجہ یہ نکلا کہ اگر آپ کا مال (capital) حلال ہے تو اس پر ملنے والا منافع بھی حلال اور جائز ہے خواہ آپ یہ منافع اپنا مال بینک میں جمع کروا کے لیں یا کسی ساہوکار کو دے کر اس سے لیں۔ اور اگر آپ کا مال حرام ہے تو خواہ آپ اسے قرآن کی اشاعت کے کاروبار میں کیوں نہ لگا لیں یا اسلامی بینک میں کیوں نہ جمع کرا دیں تب بھی اس سے ملنے والا منافع حرام ہے۔

آخری بات یہ یاد رکھیے کہ سود حرام ہے خواہ وہ بینک سے ملے یا ساہوکار سے، اور سودی کاروبار حرام ہے خواہ بینک کرے یا ساہوکار کرے۔ اس پر کوئی اشکال نہیں ہونا چاہیے۔

ہٰذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم

نوٹ: بینکوں سے منافع کے بارے میں علما کی آرا میں بے حد اختلاف ہے، یہاں تک کہ ایک ہی چیز ایک گروہ کے نزدیک حلال ہے تو دوسرے گروہ کے نزدیک حرام۔ سب کے پاس اپنے اپنے دلائل ہیں۔ یاد رکھیے کہ یہ سب علما ٹھیک کہتے ہیں کیونکہ یہ اپنے اپنے علم کی روشنی میں ایسا کہتے ہیں۔ آپ کو جس کے نقطہ نظر سے اتفاق ہو اس پر عمل کیجیے۔ بحث نہ کیجیے اور اپنے سے مختلف نظریہ رکھنے والے پر حرام اور کفر کے فتوے مت لگائیے۔ ساری دنیا کے مسلمان صرف آپ والے نقطہ نظر سے اتفاق کریں، یہ کسی صورت ممکن نہیں ہے۔ شکریہ۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *