دشمن،دروازے پر۔۔محمد اقبال دیوان/7

SHOPPING

گزشتہ قسط

پرانے اسلحہ کا Junk- Pile(پرانے اسلحے کا ڈھیر) ختم ہوگیا ہے۔اب سب جگہ اس کا کارپوریٹ کنٹرول ہے۔سی پیک میں دیکھنا وہ تم لوگ کی کیسی چکن حلیم بناتا ہے۔چین کچھ نہیں کرنے کا۔جو لوگ سانپ اور کتے نہیں چھوڑتے وہ تو تم لوگ کی ہنزہ گلگت کی چھوکری بھی کھاجائیں گے۔ مت کرو۔

ساتویں قسط
ہمارے ذہن میں خیالات کے دو متوازی دھارے بہہ رہے تھے ایک خیال یہ تھا کہ کامیا کو بابری مسجد پر زیادہ نہ کریدیں۔ ممکن ہے وہ خود کو ذہنی طور پر غیر محفوظ سمجھے اور ہمیں raven, سمجھ کر بالکل ہی چپ ہوجائے۔اینجل کمپنی کا پالیسی ساز افسر عالی مقام۔ریون بڑے سائز کے بلا کے ذہین کوئے کو کہتے ہیں لیکن جاسوسی کی اصطلاح میں یہ وہ خوبرو ایجنٹ ہوتے ہیں جن کو خفیہ ایجنسی ان اہم خواتین افسروں کو گھیرنے کے لیے پیچھے لگاتی ہے جو معلومات کے ڈھیر تک رسائی کے دروازے پر براجمان ہونے کے باوجود برہا کی اگنی میں سلگ  رہی ہوتی ہیں ا ورجن کو اکثر صبح آئینہ بھی دھکا دے کر پرے کردیتا ہے۔آپ کو جیمز بانڈ تو یاد ہے نا۔ وہ پکے پکے ریون تھے ۔جیمز بانڈ دنیا کے مشہور ترین جاسوس ہیں۔یہ بات اگر ہماری جگہ مریم اورنگ زیب کرتیں تو فردوس عاشق ایوان نے
سر پر دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے کہنا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان صاحب کہتے ہیں اوئے نواز شریف   جیہڑا مشہور ہوگیا، وہ جاسوس کہاں سے ہوگیا ۔

کونڈا لیزا رائس

ویسے ہمارے شوکت عزیز صاحب بھی خود کو بہت کلر قسم کا ریون سمجھتے تھے مگر جب امریکہ کی وزیر خارجہ کونڈالیزا رائس نے ایک بے ہودہ جسارت پر طبیعت صاف کی تو کئی دن تک بیگم کو بھی آپا جی کہہ کر پکارتے تھے۔
آپ کے ذہن سے پچاس برس سے کچھ اوپر کی بھارتی سفارت کار مادھوری گپتا کا قصہ اتر گیا ہوگا۔وہ انڈین فارن سروس کی Group Bکی افسر تھیں۔ امراؤ جان جیسی سے اردو لکھ پڑھ اور بول سکتی تھیں۔ یہ آج سے گیارہ برس پہلے کا قصہ ہے۔ وہ اسلام آباد میں تعینات تھیں۔ان کے ذمے اردو اخبارت و رسائل کے مٹیالے، میلے سمندر میں جاسوسی کے موتی کھوجنا تھا۔اسی کھوجنا میں انہیں ایک ڈراپ۔ ڈیڈ ہینڈ سم در نایاب پاکستانی نوجوان جمشید ہاتھ لگ گیا ۔دیکھنے میں راجیش کھنا جیسا۔بولنے میں گلزار اور شرافت اور لگاوٹ میں اپنائیت بھرا والہانہ پن تھا۔پنجاب کے چھوٹے اسٹیشنوں پر جب لیٹ ہونے کی وجہ سے تیز گام اور خیبر میل قسم کی ایکسپریس ٹرینز منتظر مسافروں کی بے بسی کا مذاق اڑاتی ہوئی گزر جائے تو اسے دیہاتی مسافر لیٹ کاٹنا کہتے ہیں۔مادھوری جی نے بھی عمر میں بیس سال کم جمشید جی کی رفاقت میں لیٹ کاٹنے کی سوچی۔ہندوستانی خفیہ ایجنسی کے مطابق وہ اسلام آباد کی Angel Company (آئی ایس آئی) کا پلانٹیڈ ریون تھا۔مادھوری جی کی پیار کی پینگیں اتنی بڑھیں کہ وہ اسے JIM پکارنے لگیں۔

سی آئی اے کی عمارت کی عبارت اور لوگو

مادھوری جی اس رفاقت پر جناح سپر مارکیٹ میں گاتی پھرتی تھیں کہ ع نہ جانے کیا ہوا، جو تو نے چھولیا، کھلا گلا ب کی طرح میرا بدن۔ قسمت کو جدائی منظور تھی۔بھارتی ایجنسی ”را“ کو لگا کے ان کے کچھ راز جو ان کے اسلام آباد کے اسٹیشن چیف   آر۔ کے۔شرما کے پاس تھے ان کے حوالے سے پاکستان کو غیر معمولی کامیابی ملی۔تفتیش ہوئی تو معلوم ہوا کہ مادھوری جی کے شرما جی سے بھی قریبی مراسم تھے یوں وہ بہت زیادہ لیٹ کاٹنے لگ گئی تھیں۔

خلیفہ-عبدالمجید،داماد-اعظم-جاہ-اور-بیٹی-درشہوار
مختار عباس نقوی،نائب صدر بی جے پی

یوگی ادتا ناتھ سی ایم یوپی

دوسرا دھارا سر ا سر خود غرضی پر مبنی تھا۔ من مانتا تھا کامیا کی یہ عنایت بار بار نہیں ہونی۔شراب، عنبرکا گھر، گجراتی، وکیل، پر اعتماد،پر از معلومات، ہندو، امریکی۔ اتنا Rich-Mix ایسی فراغت۔یہ سب پھر یکجا نہ ہوپائے گا۔کامیا بہت Rooted -Individual(اپنے وجود سے پیوستہ) ہے۔اسی لیے یہ مکالمہ بہت اوپری سطح کا ہے۔کامیا کے سچ بہت اندر کا معاملہ ہیں۔۔یوں اس سے سنی گئی باتوں کا لکھنا ایک مشن ہوگا کہ اردو صحافت نے سہل پسندی کی وجہ سے اس سے دامن بچائے رکھا ہے۔ہمارے سامنے ورجینا میں جنگلوں میں گھری سی آئی اے کی عمارت میں فرش پر لکھی بائبل کی وہ عبارت بھی تھی جو ان کے علامتی نشان یعنی لوگو سے ہٹ کر کندہ ہے کہ
And ye shall know the truth, and the truth shall make you free.
(سچ کو جان لے  تاکہ یہ تیرے لیے آزادی کا سبب بن جائے)
رات گھر لوٹنے کی عجلت یوں نہ تھی کہ نہ وہ ہمارے وہ درو دیوار سلامت ہیں کہ جو بھٹکے ہوئے عالی سے پوچھتے پھریں کہ کب گھر واپس آؤ گے ۔اہل خانہ امریکہ، پرتگال اور ایمسٹرڈیم و ترکی میں زندگی کے تانے بانے بنتے تھے۔کامیا اگر الرٹ ہوتی تو ہم نے اپنے سوالات کی ترتیب بدل دینی تھی۔
اس کے باوجود ہم نے بہت دھیمے سے اجازت مانگی کہ اگر وہ مناسب سمجھے تو بابری مسجد اور سپریم کورٹ آف انڈیا کے علاوہ کسی اور موضوع پر بات ہوسکتی مگر ہم چاہتے ہیں کہ ایک تو رام لّلا کا قصہ کیا ہے وہ ٹھیک سے سمجھادے دوسرے ہندوؤں میں مسلمانوں کے خلاف اتنی نفرت ایک دم کہاں سے آئی یہ بات بھی کھول دے
No it is not ek-dum. It was always been there
More so after the break-up of Ottoman Empire. For some reasons it remained overtly regional.But lets do it later..

اس کو ایک دم کہنا تو ٹھیک نہیں۔خلافت عثمانیہ کی بربادی کے بعد یہ نفرت و حقارت بہت واضح ہوگئی تھی۔البتہ چند وجوہات کی بنیاد پر اس کا مظاہرہ بہت حد تک مقامی رہا۔ اس پر بعد میں بات کریں گے۔ (یاد رہے کہ ہندوؤں کی القاعدہ، ہندوتوا کی مادر افکار راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (قومی خدمت کار تنظیم) کا جنم 27 , ستمبر1925 کو ہوا۔ جب کہ خلافت عثمانیہ کا باقاعدہ خاتمہ سن 1924, میں ہوا۔اس کے آخری خلیفہ سلطان عبدالمجید ثانی تھے۔ جن کی صاحب زادی شہزادی در شہوار نظام آف حیدرآباد کی اعظم جاہ کی اہلیہ تھیں)۔

نپولین

دیوان صاحب رام للّا وراج۔مان، کا قصہ یوں ہے ۔ سب سے پہلے ادھر دوسرے ٹائپ کی مارا ماری ہوئی تھی۔جھگڑا سنی اور شیعہ لوگ کا مسجد کی اونر شپ کا تھا۔بابر کے جرنل میر باقی کو لکھنؤ کے لوگ شیعہ بولتے تھے۔ان کا کہنا تھا اس نے یہ مسجد شیعہ کی مسجد کرکے بنائی تھی۔اس جھگڑے میں کچھ برس یہ مسجد سیل بھی رہی۔تم لوگ کے شیعہ اور بوہری لوگ کی مودی جی سے  بہت دوستی ہے۔ بھارتی جنتا پارٹی کے یونین منسٹر مختار عباس نقوی ہیں۔ وہ بی جے پی کے نائب صدر بھی رہے ہیں۔1853 میں ادھر دنگے کا کارن یہ تھا کہ مسجد بننے کے لگ بھگتین سو برس بعد ایک مہانت رگھوبیر نے سپنا دیکھا کہ رام جی لّلے (بچہ)بن کر ان کے سپنے میں آئے اور ان سے کہہ رہے ہیں  اچھے پجاری ہو۔ میرے پالنے میرے ورجمان پر مسلمان مسجد بنا کر بیٹھ گئے ہیں۔ میری سیتا کی رسوئی (کچن) بھی وہ دیکھو سامنے ہے۔ یہ جگہ ان ملیچھ (منحوس)مسلوں سے واپس کیوں نہیں لیتے۔بس کیا تھا۔ان نے فیض آباد کے انگریز ڈپٹی کمشنر کے پاس مقدمہ ٹھوک دیااس نے یہ کلیم رد کردیاتو اس کو لگا کہ سالے بدمعاش لوگ جھگڑا کرین گے۔دنگے فساد کو روکنے کے لیے انگریز ڈی سی نے 1859 میں ایک باڑ کھینچ دی   ۔آرڈر دیا کہ ہندو لوگ مسجد کے باہر پوجا کریں گے اور مسلمان کمپاؤنڈ کے اندر ۔پاکستان بننے کے دو سال بعد رام کے للّا کے پچیس پجاری مسجد کے اندر گھس گئے اور رات رات میں بڑے گنبد کے نیچے رام جی کی للّا والی مورتی رکھ دی مسلمان ایک طرف ہوگئے۔ نماز بندکردی۔ اس وجہ سے ادھر باقاعدہ پوجا پاٹ شروع ہوگئی ۔

ایودھیا کا رام مندر جو بنے گا
بابری مسجد کے گمنام وکیل


آج کل یہ چندہ جمع کرنے کا سب سے بڑا دھندہ ہے۔دھرم ورودھ (مذہب کی لڑائی میں) جو سالے ٹپوڑی قسم کے پنڈت مہاشے مولوی، پادری ہوتے ہیں ان کی لاٹری نکل آتی ہے۔ یہ سب کچھ نہیں ہوتا تو ہمارا وہ لو لائف ادتیا ناتھ یوگی اسی اتھل پتھل میں اتر پردیش کا مکھیہ منتری نہیں بنتا۔ میں تم کو دو ٹپس دوں۔
ابھی تم کو کیا لگتا ہوگا کہ مودی اور یوگی دونوں مسلمان لوگ کے کھون کے پیاسے ہیں۔ہم دونوں طرف کے دیش واسیوں کا مسئلہ کیا ہے کہ ہم کامیاب انسان کو اچھا انسان بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔
ٹرمپ، مودی، واجپائی، بے نظیر،عمران خان،اوباما،کلنٹن۔خامنائی یہ لوگ سب دنیا کی نظر میں کامیاب تو سمجھے جاسکتے ہیں مگر یہ اچھے لوگ نہیں۔یہ سب اپنے مطلب کے پجاری ہیں۔جب بھی کوئی بڑا پولی ٹکل آئیڈیا مارکیٹ میں آتا ہے تو جو سوسائٹی کے نیچ لوگ ہوتے ہیں وہ اونچے ہونے کے چکر میں اس آیڈیا کو چونٹ (گجراتی میں چمٹ)جاتے ہیں۔ نپولین بولتا تھا نا کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ اخلاقیات مڈل کلاس عورتوں کا جو تم لوگ کی حسینہ معین کے ڈرامے کی چوسنی منہ  میں لے کر جوان ہوئی ہوں یہ ان کا مسئلہ ہے،راج نیتی والوں کا نہیں۔

روس کے صدر بریزنوف
راجیو اور سونیا گاندھی
بوفورز کی بندوق

اب دیکھو اپنا الو سیدھا کرنا تھا تو ہماری سپریم کورٹ کے پاس سنی وقف اور شیعہ وقف تو Jurist Person تھے۔انگریز کے زمانے سے یہ رجسڑڈ بورڈز اور ٹرسٹ تھے ۔باقاعدہ ممبرز کے ناموں کے ساتھ۔رام للے یتیم اور لا وار ث تھے رام للا جی کا والی وارث Jurist Person چندے کے بھکاری  پنڈتوں نے پیدا کیا۔
یہ لوگ بولے رام جی، للا ہیں۔بچے کے ہم وارث ہیں۔ہمارے رام جی سدا جیوت ہیں۔ کھاتے پیتے، نہاتے دھوتے ہیں۔ سیتا ماں ان کی پتنی ہیں۔ یہ دھام اور یہ مندر ان کا گھر ہے سو ان کا حق تو یہ گھسس بیٹھیے مسلوں سے زیادہ بنتا ہے۔کامیا کو اس بات پر بہت حیرت تھی کہ بابری مسجد اور ہندوتوا کی بحث میں بہت سے اہم کردار مسلمانوں کی نگاہوں سے اوجھل ہیں وہ محض علامات پر رنجور ہیں،اسباب پر غور نہیں کرتے۔

دمدمی ٹکسال
ولو پلائے پربھاکرن تامل ایلام والے
راجیو ماں کے ساتھ بھائی کی آخری رسومات کے موقعے پر
ریلائنس گروپ اور بھارت کے مالدار ترین شخص کے والد دھیرو بھائی امبانی
مکیش امبانی

میں نے جتنے مسلمانوں سے بات کی وہ آڈوانی اور مودی کے علاوہ کسی کردار کے رول سے، اس بڑے سیاسی بہاؤ سے ناواقف ہیں جس کی آندھی مغرب سے چلی۔امریکہ یونی پولر پاؤر بن کر ابھرنا چاہتا تھا۔دھرم کو اوپر لانے کی ایک Wave چلی۔اس دھرم کو یہ ریل گاڑی بنا کر پہلے پولینڈ پہنچے۔ اب کوئی ان سے پوچھے کہ بھئی پولینڈ کا لیبر لیڈر لیخ ویلسا کو پوپ کیوں سپورٹ کرتا ہے۔ پوپ بھی یہ پولینڈ سے امپورٹ کرکے لائے تھے۔

امریکہ نے فیصلہ کیا کہ ابھی کولڈ وار کی بجائے یورپ میں روس کو د ھرم کی مار مارو۔پہلے یورپ سے اس کا پاٹیا گول کیا(بستر لپیٹنا)۔دونوں طرف یعنی روس میں اور بھارت میں لیڈر بہت کمزور تھے۔اندرا گاندھی کو ایمرجنسی کی غلطی کی وجہ سے مار پڑی۔سچ پوچھو تو روس میں برزینف کی موت کے بعد کوئی مضبوط لیڈر پیوٹن کے آنے تک سامنے نہیں آیا۔روس کا افغانستا ن آنا غلطی تھی۔ اس وجہ سے ان کو یورپ چھوڑنا پڑا۔امریکہ نے مسلمان کو دو طرف سے ماموں بنایا۔ایران میں خمینی کو لانچ کیا اور پاکستان میں ضیا کو جہاد کا پروگرام منیجر بنایا۔ہر طرف گڑ بڑ چل رہی تھی۔
ہماری طرف ان لوگ نے اندرا گاندھی کو ٹپکا دیا تو راجیو جی پردھان منتری بنے۔تمہاری اور ہماری طرف ویسٹرن پاؤرز کو حکومت کرنے کے لیے مختلف طرح کے پاؤر گروپس پسند ہیں۔پاکستان میں پاؤر کی فرینچائز ایوب، ضیا، مشرف جیسے لوگوں کے پاس ہے۔ دو چار ڈیل میں ان لوگ کو لمبا کمیشن دے دو تو یہ لوگ چریے ہوجاتے ہیں جیسے ہمارے بھارت میں پہلے بوفورز کی گن والے  سکینڈل میں ہوا۔US$1.4-billion کا کک بیک سوئیڈن سے ملا۔راجیو گاندھی بہت گندے ہوئے۔وی پی سنگھ اس کی ہنس مکھ پرسنالٹی کو چناؤ میں دیکھ کر ایسے بولتے تھے۔’پردھان منتری راجیو جی جب دور درشن کھولو ہنستے ہی دکھائی پڑتے ہیں۔سمجھ نہیں آتا کہ راجیو جی اپنی چال پر ہنستے ہیں کہ جنتا کے حال پر ہنستے ہیں کہ بوفورز کے مال پر ہنستے ہیں‘۔

ہمارے ہاں بدیشی طاقتیں اپنا چورن چھوٹی پارٹیز کو پاور میں لا کر بیچتی ہیں۔ایسا کرنے میں گیم یہ ہوتا ہے کہ یہ چھوٹی پارٹی والے کتورے چوبیس کلاک پردھان منتری کی دھوتی کھینچتے رہتے ہیں
بھارت میں ہماری فوج ایک علاقے کی نہیں اس لیے کسی بونا پارٹ جرنل کو لانچ کرنا آسان نہیں۔ہمارے ہاں ان کو پاور کی بارہ مسالے جیسی چاٹ۔ جس میں علاقائی اور ہر طرح کے چھولے بھٹورے آلو،پیاز گھسی ہو وہ چاہیے۔

اندرا نے اپنی چتا دو طرح سے سلگائی تھی۔ ہر جگہ پاور کے چکر میں علاقائی پارٹیوں کو پروموٹ کرتی تھی۔ بھنڈراں والے دمدمی ٹکسال پنجاب میں۔ کشمیر،تامل ناڈو میں تامل ایلام والوں کو سر پر چڑھا کر سری لنکا میں پریما داسا کو کمزور کیا۔ممبئی میں شیو سینا کو اوپر لائی۔ ایک نے ماں کو ماردیا اور تاملز نے بیٹے کو۔اندرا کو short-term حل پسند تھے۔ذہین بہت تھی۔مال کمانے کے معاملے میں صاف تھی۔ بیٹا راجیو مسٹر کلین نہیں تھا راجیو کو امبانی کے باپ دھیرو بھائی سے ایک کروڑ روپے خود گھوس(رشوت) دی تھی۔
راجیو کی مرضی سیاست میں آنے کی نہیں تھی مگر چھوٹا بھائی سنجے جو ماں کا رائٹ ہینڈ مین بن کے ساتھ تھا وہ ائیر کریش میں سورگ باش(جنت میں جانا) ہوا تو شریمتی اندرا گاندھی راجیو کو پائلٹ کی نوکری چھڑا کر راج نیتی (سیاست) میں لے آئی۔اندرا گاندھی کا بطور پردھان منتری 31 اکتوبر 1984 کو قتل ہوگیا۔دو سکھ باڈی گارڈز، بینت سنگھ اور ستونت سنگھ نے انہیں گولیاں ماریں تھیں۔ اس کے نتیجے میں دہلی میں کانگریس کے ہندو لیڈرز کے آٹھ ہزار سکھ عورتیں مرد قتل کیے گئے۔

وجہ یہ تھی کہ قاتل سکھ تھے۔ مگر اس کے علاوہ کانگریس میں بھی ایک جتھا ایسا تھا جو نہرو فیملی کی بجائے اولڈ گارڈز کو نیتا بنانا چاہتا تھا۔ واجپائی ایڈوانی ،گجرال، وی پی سنگھ۔ نرسما راؤ سب لوگ لائن میں تھے ان کی عمر گزر رہی تھی اور چانس نہیں مل رہا تھا۔ ابھی کوئی میرے کو بولے کہ  بڈھے لوگ کو پردھان منتری نہیں بننا ہوتا یہ مستی صرف کینیڈا کے ہائے ہینڈسم جسٹن ٹروڈو اور فن لینڈ والی ثنا مارن باجی کو ہے تو یہ ایک دم بکواس ہے ہمارے ڈیسائی جی اسی برس کے، مہاتر پلس نائینٹی کے ہیں،منڈیلا نیلسن ستر سے اوپر کے تھے۔ جب یہ تینوں پرائم منسٹر بنے ۔اپن کے عمران اور مودی جی بھی ستر برس کے  گیڈھے(گجراتی میں بوڑھے) ہوکر ادھر سے اُدھر ٹھیکڑے(گجراتی میں جمپ کرنا) مارتے ہیں۔ابھی کیا ہے مرد لوگ کو ساٹھ سال کی عمر کے بعدخود کو نمبر ون ثابت کرنے اور کھانے، سیکس، باتیں کرنے کا شوق بڑھ جاتا ہے۔

Are you with me؟
(کیا آپ مجھ سے متفق ہیں؟)
I didn’t try to prove one -up,eat anything, there was no indecent advance and we both are talking as Gujrati
ہم نے تو طاقت کا شو بھی نہیں مارا،کچھ کھایا بھی نہیں،کسی ناپسندیدہ پیش قدمی کا بھی مظاہر ہ نہیں کیا، گفتگو بھی اس لیے کھل کر کی کہ تم اور ہم گجراتی ہیں )۔اپنے جارحانہ تجزیے کو چالاکی سے تجسس میں بدل کر پوچھنے لگی What is your take?
آپ کیا سوچتے ہیں۔؟

ہم نے سرگوشی کی کہ ’معاملہ یوں ہے کہ سیکس اور پیار میں معاملہ کچھ اُلٹ ہے۔ مرد تھک جاتا ہے تو عورت شروع ہوتی ہے لیکن جب کی بات ہو تو پیار میں چالیس کے بعد عورت کو پیار آ تو سکتا ہے،پیار ہوتا نہیں۔اس کی پیار کرنے کی Capacity ختم ہوجاتی ہے۔وہ consolidate کرنے کے چکر میں ہوتی ہے۔پیار کے نام پر جو لٹایا ہوتا ہے اس کی فصل کاٹنے کے چکر میں۔مرد کی تو بوائی ہی چالیس کے بعد شروع ہوتی ہے۔
مرد کو پیار ہوتا ہی چالیس کے بعد ہے۔ اس سے پہلے تو سب Lust ہے۔
ایک آنکھ میچ کر پوچھنے لگی۔
Are you in love right now?
کیا تم پربھی اس وقت عشق طاری ہے۔؟
I am serving my sentence
ہم تو اپنی سزا بھگت رہے ہیں
I can apply for your parole from Begum Saheba. pro bono publico. No charges to gentleman in distress
میں بیگم صاحبہ کو پرول کی درخواست دے سکتی ہوں۔عوامی مفاد کی وکیل کے طور پر۔مشکل میں گرفتار ایک شریف مرد سے کیا اجرت مانگنا

قاتل اور قتل کا منظر

اتنے میں عنبر آگئی۔ بتانے لگی کہ بڑی بھابھی کو مہندی والیوں سے نمٹنے پر لگایا ہے۔ مجھے سے بھاؤ تاؤ نہیں ہوتا۔ یہ مہندی والیاں تو کھال کھینچنے پر اتر آتی ہیں۔۔
دیوان صاحب عنبر بولتی ہے میں اس کے منہ  پر کوٹ کرتی ہوں کہ آپ پیور سلک کے بلاؤز جیسے ہو۔ ہمارا ارادہ اس میں اندرونی لباس مختصر کو مائنس کرنے کا تھا مگر کرکٹ کی اصطلاح ہے ویل لیفٹ۔ سو وکٹ سے باہر جاتی آؤٹ سو ئنگ ڈیلوری کو جانے دیا۔عورتوں سے گفتگو میں مرد کو کب خاموش رہنا ہے یہی جیت ہے۔ بعد کی گفتگو محض ایک بے معنی Banter ہے لہذا اس سے یہاں اجتناب۔
تھوڑے کو بہت سمجھیں۔

دلی میں جو اتنا بڑی قتل و غارت گری کی منڈی لگی اس کا فوکس ہندو بینک تھا اور سکھ ان لوگ کو اتنے اچھے نہیں لگتے جتنے آپ کے عمران بھائی کو لگتے ہیں,نرسما راؤ جو سات سال بعد بھارت کے وزیر اعظم بنے اور جن کی لاش کو کتے کھانے کا معاملہ’ہاف۔ لائن‘ نامی کتاب کے حوالے سے پچھلی قسط میں بیان ہوا ہے۔ وہ اس پوگروم (بلوے اور قتل و غارت گری)کے ٹائم ہوم منسٹر تھے اور انہوں نے سکھوں کی ہندو بلوائیوں سے حفاظت سے ویسے ہی دامن چرایا تھا جیسے بابری مسجد پر آٹھ برس بعد چرایا۔
اندرا گاندھی کی ہلاکت کے وقت راجیو گاندھی کونٹائی۔ بنگال میں انتخابی دورے پر تھے جو کلکتہ سے ڈیڑھ سو میل دور ہے۔کامیا نے انکشاف کیا سی آئی اے کی ایک عجب رپورٹ ہے جو پانچ جنوری سن1983 سے سن 2003میں ڈی کلاسی فائی کردیا گیا تھا۔بھارت میں اس رپورٹ پر مدعے بھی اٹھے تھے۔سامنے مائی باپ سی آئی اے تھی تو دم دبا کر بیٹھ گئے۔ابھی مرنے والے کے پیچھے کون جائے۔Give a good name to dog and hang him.(کتوروں کو پیار سے پچکار کر سالوں کو پھندے پر لٹکادو۔)۔ تم لوگ کے ہاں بھی تو ان لوگ نے جرنل جیا الحق لوگ ٹپکائے۔
ہم نے تحقیق کی تو بات درست نکلی۔ ایسی رپورٹ موجود ہے ۔اس رپورٹ کا یہ حصہ بہت چونکا دینے والا  ہے کہ ”اگر اندرا گاندھی کا قتل لوک سبھا کے چناؤ سے پہلے سن 1985 میں ہوجاتا ہے تو بھارت کے پاس کوئی متبادل قیادت موجود نہیں ان کا بیٹا راجیو بھی کسی قسم کی سیاسی خلا پُر کرنے سے قاصر ہوگا۔یہ دل چسپ بات ہے کہ شریمتی اندرا گاندھی اکیس مہینے اور اٹھائیس دن پہلے 31 اکتوبر 1984 کو ہلاک کردی گئیں۔ان کی ہلاکت پر قتل و غارت گری کا ایک بازار دہلی میں گرم ہوا تو کانگریس کی قیادت اس میں بلواسطہ اور بلا واسطہ دونوں طریقے سے ملوث تھی۔ راجیو سے منسوب ایک فقرے نے بھی بہت آگ لگائی کہ”جب کوئی بڑا درخت آندھی سے گرتا ہے تو پاس کی زمین تو لازماً ہلتی ہے“ماں کے دیہانت کے بعد راجیو جی کا پردھان منتری   بننا بھی ایک جوک جیسا ہے۔ایک سے ایک سینئر لیڈر کانگریس میں تھا مگر یہ تو سالا ہندوستان تو کوئی نانی واڑہ بن گیا۔نہرو خاندان سے جان ہی نہیں چھوٹتی۔

SHOPPING

جاری ہے

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *