• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کراچی میں مقیم پاکستانی شناخت سے محروم بنگالی کمیونٹی۔۔فرید الحسن

کراچی میں مقیم پاکستانی شناخت سے محروم بنگالی کمیونٹی۔۔فرید الحسن

” کیا میں پاکستانی نہیں ہوں؟ میں پاکستان میں پیدا ہوئی، میرے والدین یہاں پیدا ہوئے، وہ ہمیں شناختی کارڈز دینے سے انکار کیوں کر رہے ہیں اور ہمیں بنگالی کیوں بلاتے ہیں؟ مجھے اس حوالے سے بہت برا محسوس ہوتا ہے۔ یہ بہت تکلیف دہ لیکن ہم بے بس ہیں اور اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتے۔”

دکھ بھرے لہجے میں اپنی پریشانیوں کا اظہار کرنے والی یہ عمارہ یوسف ہے۔جوکراچی میں مچھیروں کی سب سے بڑی بستی ابراہیم حیدری میں رہتی ہے اور اپنے علاقے میں  سکول چلاتی ہے۔ یہ ان 25 لاکھ بنگالیوں میں سے ہے جو تین نسلوں سے کراچی میں مقیم تو ہیں مگر پاکستانی شناخت سے محروم ہیں۔ یہ بنیادی اور ضروری تعلیم اور اس کے بعد مناسب نوکری سے محروم رہ جاتے ہیں کہ ہر سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں شناختی کارڈ کی عدم موجودگی ان رکاوٹوں کا ذریعہ بنتی ہے۔جس کے نتیجے میں وہ چھوٹی چھوٹی صنعتوں اور گھروں میں آدھے سے بھی کم اجرت پر نوکری کرنے پر مجبور ہیں۔عزت ِ نفس الگ مجروح ہوتی ہے ۔عمارہ یوسف اس حوالے سے اس قدر ناامیدی کا اظہار کرتی ہیں کہ پاکستان میں رہنے والے بنگالیوں کی قسمت میں لکھا ہے کہ وہ ہمیشہ غربت اور استحصال کی زندگی گزارتے رہیں، جو بہر حال پوری بنگالی کمیونٹی کی  ایک عمومی سوچ کا اظہار ہے۔

پاکستان کے قیام کے بعد ہی ہندوستان کے مختلف حصوں سے مسلمان آبادی نے پاکستان کی طرف ہجرت کرنا شروع کردیا تھا ۔چنانچہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے قبل اندرونیِ ملک نقل مکانی کی صورت میں اور علیحدگی کےبعد مسلمان بنگالیوں اور بہاریوں کی ایک مخصوص تعداد نے پاکستان کی طرف ہجرت اختیار کی۔ہجرت کا یہ عمل 1980ء تک جاری رہا۔ صنعتیں، روزگار کے مواقعوں کی فراوانی اور خوشگوار موسم کی وجہ سے ان کی پہلی ترجیح کراچی رہی۔تاہم مشرقی پاکستان کا مرکز سے الگ ہوکر بنگلہ دیش بن جانے کے بعد پاکستان میں قیام پذیر بنگالی کمیونٹی شناختی، تعلیمی، معاشی اورمعاشرتی مسائل کا شکار ہیں۔جن میں سے پاکستانی شناخت سے محرومی ان جیسے تمام مسائل کو جنم دے رہی  ہے ۔چنانچہ گذشتہ سال جب پاکستان تحریکِ انصاف نے اقتدارسنبھالا اور ستمبر 2018ء میں وزیراعظم عمران خان نے کراچی کا دورہ کیا تو جہاں انہوں نےکراچی کے دیگر مسائل کا ذکر کیا وہیں انہوں نے بنگالی اور افغان مہاجرین کو شہریت دینے کے حوالے سے بات کی۔اس اعلان نے کراچی میں مقیم بنگالیوں کو اچھے دنوں کی امید دلائی جس کا نظارہ ان دنوں کے مختلف ٹی وی چینلز کی نیوز کوریج میں دکھایا گیا کہ اس اعلان سے بنگالی برادری کس طرح خوشی سے نہال ہورہی  تھی۔چنانچہ تحریک پاکستان کے رہنما خواجہ خیرالدین کے فرزند اور بنگالی شہریوں کے نمائندے خواجہ سلمان نے اس خبر پر یہ ردعمل دیا کہ عمران خان نے یہ اعلان کر کے 25 لاکھ بنگالیوں کا دل جیت لیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ 40 برسوں کے علاوہ جو 1985ء سے یہاں رہتے ہیں، ان کو بھی شہریت ملنی چاہیے۔تاہم اس اعلان کے ردعمل میں قوم پرست لسانی پارٹیوں کی مخالفت کے بعد حکومت نے اس اعلان سے رجوع کرتے ہوئے یہ کہا کہ دراصل اس اعلان سےمقصد اس مسئلے پر بحث کا آغاز کرنا تھا۔ چنانچہ ماضی کی دیگر حکمران سیاسی جماعتوں کی طرح موجودہ حکمران جماعت نے بھی اس مسئلے کا ذکر کرکے بعد میں اپنے اعلان سے پیچھے ہٹنے کی روایت کو برقرا رکھا۔

یہاں یہ بات پیشِ نظر رہے کہ قومی رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا کی گائیڈ لائینز میں بنگلہ دیش سے آنے والے لوگوں کو شہریت دینے کا طریقہ کار موجود ہے۔بنگالیوں کے بارے میں پالیسی کے مطابق وہ بنگالی جنہوں نے بنگلہ دیش کی آزادی کے وقت پاکستان میں رہنے کو ترجیح دی، وہ پاکستانی جو اس وقت بنگلہ دیش میں موجود تھے اور پھر واپس آئے یا وہ بنگالی جنہوں نے رضاکارانہ طور پر پاکستان آنے کی خواہش کا اظہار کیا، انہیں شہریت دی جائے گی لیکن اس کے لیے انہیں دستاویزات پیش کرنا ہوں گے۔ تاہم یہ پالیسی ان بنگالی مہاجرین کو سخت مسائل کا شکار کررہے ہیں جو اگرچہ چار دہائیوں سے بھی زائد عرصے سے پاکستان میں قیام پذیر مگر وہ دستاویزات یا تو اپنے ہجرت کے دوران کھو بیٹھے یا دستاویزات کی عدم موجودگی کا سبب ان کی  غربت رہی  ہے۔ جیسا کہ ایک جرمن نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک میں آج بھی کئی ملین انسانوں کے پاس ایسی قانونی دستاویزات موجود ہی نہیں، جن کے ذریعے وہ اپنی مقامی شہریت ثابت کر سکیں۔ وہ جنہیں بے وطن سمجھا یا قرار دیا جاتا ہے، زیادہ تر ترک وطن یا نقل مکانی کے پس منظر والے ایسے غریب انسان ہوتے ہیں، جن کی اپنی کوئی زمینیں یا دیگر املاک بھی نہیں ہوتیں۔

شہریت کے قانون اور پالیسیز کے حوالے سے ایک اور پہلو یہ ہے کہ پاکستان شہریت ایکٹ 1951 کے سیکشن 4 کے تحت پاکستان میں پیدا ہونے والا کوئی بھی فرد اپنی پیدائش سے پاکستان کا شہری تصور ہوگا۔ اس اصول سے واحد استثنیٰ یہ ہے کہ اگر بچے کے والدین غیر ملکی سفیر ہوں یا ان کا تعلق ریاست کے اعلانیہ دشمن سے ہو اور بچے کی پیدائش ایسی جگہ ہو جو اس وقت ریاست کے اعلانیہ دشمن کے قبضے میں ہو۔ چنانچہ پارلیمنٹ کی  اس بحث میں جو وزیرِ اعظم کے افغان مہاجرین اور بنگالیوں کی شہریت کے اعلان کےحوالے سے جاری تھی، وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق محترمہ شیریں مزاری نے آئین کی اسی شِق کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ چاہے آپ یہ بات پسند کریں یا نہیں مگر یہ قانون میں موجود ہے کہ جو پاکستان میں پیدا ہوا وہ پاکستانی شہری ہے۔ اگرچہ اس قانون کی رو سے بنگالی کمیونٹی کے دوسری پشت کے افراد جو پاکستان ہی میں پیدا ہوئے ،وہ پاکستانی شہری ہی قرار پاتے ہیں تاہم عملاََ نادرا کی طرف سے پاکستان میں پیدا ہونے والی بنگالیوں سے بھی ان دستاویزات کا مطالبہ کیا جاتا ہے جو کہ ان افراد کی پیدائش سے دہائیوں پہلے کی تاریخ کے حامل ہوں۔ اس طرح عملاََ یہ قانو ن بنگالیوں کے لئے غیر مؤثر ہوتا نظر آتا ہے۔ چنانچہ نادرا کی اس روش کے نتیجے میں بنگالی کمیونٹی کے افراد نے اس بات کا ذکر کیا کہ اکثر اوقات شناختی کارڈ کے حصول کو ممکن بنانے کے لئے رشوت کا مطالبہ ان ایجنٹوں کی طرف سے کیا جاتا ہے جو نادرا کے دفتر کے باہر موجود ہوتے ہیں۔ دوسری طرف شناخت کے حصول کے لئے قانون کا راستہ ایک تھکا دینے والے سفر پر مشتمل ہوتا ہے۔ایک پاکستانی بنگالی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ شاہد شاہ جو اکثر بنگالی کمیونٹی کو پیش آنے والے مسائل کو سوشل میڈیا کے ذریعے اجاگر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق انہیں اپنے شناختی کارڈ کے حصول کے لئے تین سال کا تھکن سے بھرپور قانونی سفر کرنا پڑا جس میں انہیں کراچی سے اسلام آباد کا سفر کرنا، سپریم کورٹ، محستب اعلیٰ اور نادرا ہیڈ کوارٹر جیسے اداروں کی خاک چھاننا پڑی تب جا کے انہیں قومی شناختی کارڈ ملا۔

المیہ یہ ہے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان جو پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال کے بارے میں ہر سال اپنی سالانہ تجزیاتی  رپورٹ پیش کرتی ہے ، ان کے پچھلے چند سالوں کی سالانہ رپورٹس کی ورق گردانی کی گئی تو یہ پتا چلا کہ افغان مہاجرین جو کہ افغانستان جنگ کے بطورِ ایک ہاٹ ایشو ، کے بارے میں، ان کی نقل مکانی اور دیگر مسائل، نیز اندرونِ ملک نقل مکانی سے متعلقہ تفصیلات تو ملیں تاہم بنگالی کمیونٹی جو کہ پچھلی چار دہائیوں سے شناختی بحران کا شکار ہیں جس سے جڑے دوسرے معاشی و معاشرتی مسائل کا یہ کمیونٹی شکار ہے ، ان کا نہ تو ذکر ہے  اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی سفارشات کی گئیں۔

کراچی میں سو سے زائد بنگالی بستیاں جہاں اس کمیونٹی کی ایک اکثریت شناختی کارڈ کی عدم موجودگی سے بنیادی اور ضروری حقوق سے محروم ہوتی  جارہی  ہے  اور انتہائی کسمپرسی اور غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ شناختی کارڈ کی عدم موجودگی کا ایک مطلب یہ ہے کہ ان کی ایک مخصوص تعداد اپنے حقِ رائے دہی سے محروم رہ جاتی ہے جس کی بناء پر صوبائی اور قومی اسمبلیوں میں ان سے متعلقہ کوئی نمائندہ بھی موجود نہیں ہے، جو اس کمیونٹی کو پیش آمدہ مسائل کا ذکر اور ان کے حل کے لئے کسی قسم کی پیش رفت کو ممکن بنا سکیں۔ یہی وجہ ہے مختلف سیاسی اور لسانی جماعتیں انہیں ان کے حقوق دلانے کا فریب دلا کر اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتی رہی  ہیں۔

کراچی کے تعلیمی نظام میں میٹرک بورڈ کے امتحان میں شریک ہونے کے لئے ب فارم کی ضرورت ہوتی ہے اور ب  فارم کے بغیر کوئی امیدوار امتحان میں شرکت نہیں کرسکتا۔ چنانچہ بنگالی کمیونٹی کے بچوں کی ایک کثیر تعداد اپنے والدین کے شناختی دستاویز اور اپنے ب  فارم نہ ہونے کی وجہ سے سکولز میں مڈل پڑھنے کے بعد اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے۔ پھرآگے کالج اور جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جس کے نتیجے میں بچے بارہ اور تیرہ سال کی عمر میں اپنی تعلیم کو ادھورا چھوڑ کر مختلف چھوٹی چھوٹی صنعتوں ، فیکٹریوں ، اور دکانوں میں نوکری کرنے لگ جاتے ہیں۔

مرد ٹھیلوں، چھکڑوں یا دوسری چھوٹی موٹی ملازمتوں سے وابستہ ہوجاتے ہیں۔ خواتین بھی ضرورتِ معاش کی وجہ سے مختلف فیکٹریوں اور گھروںمیں ملازمت کرنے پر مجبور ہیں۔ چنانچہ ایک برطانوی نشریاتی ادارے نے پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن (سندھ)کے چیئرمین اسد اقبال بٹ سےجب اس بابت دریافت کیا تو ان کا جواب تھا کہ ایک عام ورکر 10 سے 12 ہزار پاکستانی روپے تنخواہ لے رہا ہے جبکہ ایک بنگالی ورکر اس کا نصف وصول کر رہا ہے۔انہوں نے اس نشریاتی ادارے کو یہ بھی کہا کہ خواتین فیکٹریوں اور گھروں میں کام کرتی ہیں۔ انھیں نا صرف کم اجرت دی جاتی ہے بلکہ  ان کے ساتھ جنسی زیادتی بھی کی جاتی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ایسا کچی آبادی کے باہر ہوتا ہے۔

اسی طرح اگر کوئی اپنی  محنت کی کمائی کو محفوظ کرنا چاہتا ہو  یا سرکاری و غیر سرکاری اداروں کی طرف سے نقدی امدا د حاصل کرنا چاہتا ہو  تو اسے بینک کی سہولت استعمال کرنی پڑتی ہے اور بینک کے لئے قانو نی دستاویزات کی موجود گی،اور ان دستاویزات کی عدم موجودگی دراصل اس  امداد سے محرومی کا باعث بنتی ہے۔ ہم میں سے اکثر کو یاد ہوگا کہ 2012ء میں بلدیہ ٹاؤن میں ایک فیکٹری میں آگ لگنے سے کئی خاندانوں کے   چراغ بجھ  گئے  تھے اور اس قیامتِ صغریٰ نے سینکڑوں گھروں میں صفِ ماتم بچھا دی تھی۔ انہی متاثرین میں ایک شمس الاسلام تھے۔ ایک نشریاتی ادارے کے مطابق شمس الاسلام مچھر کالونی کے رہائشی ہیں جن کا بیٹا بھی ان بد نصیبوں میں شامل تھا جو اس فیکڑی کی  آتش زدگی میں لقمہء اجل بنا۔ سانحے کے بعد متاثرین کو حکومت کی طرف سے چیک ملے۔ انہیں جو چیک ملا وہ ایک مقامی اہلکار کی مدد سے کیش ہوسکا جبکہ عدالت سے ملنے والے چیک پڑے پڑے بیکار ہوگئے۔ شمس اسلام نے اس نشریاتی ادارے کو بتایا کہ “85، 85 ہزار کے دو چیک ملے ہیں لیکن شناختی کارڈ کی مدت میعاد ختم ہونے کی وجہ سے اسے کیش نہیں کرا پایا اور اب تو چیک کیش کرانے کا وقت بھی نکل چکا ہے۔”

یہاں یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ بنگالی کمیونٹی کے لئے پاکستانی شناخت کا حصول ہی صرف مشکل نہیں ہوتا بلکہ ایسے افراد جنہیں شناختی کارڈ مل بھی جائے تو اس کی مدتِ معیاد ختم ہونے کے بعد اپنے شناختی کارڈ کی تجدیدکروانا خودان کے لئے ایک کٹھن عمل بن جاتا ہے۔نیز نادرا سے منسلک افراد کا تحقیر آمیز اور ہتک آمیز رویہ اس کے علاوہ ہے۔

پاکستان میں سیاسی جماعتیں تقاریر میں تو تاریخ کا ذکر کرتی ہیں اور ان کو بنیاد بنا کر بنگالیوں کے قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں حصے تو زور و شور سے ذکر کرتی ہیں۔ مثلاَََ وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نواز شریف کا عوامی خطاب ہوں جس میں وہ بنگالیوں کو پاکستان کا معمار قرار دے رہے ہیں، چاہے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریکِ چیئر مین آصف زرداری کا پارلیمنٹ میں اعترافی بیان ہو کہ پاکستان بنانے میں سب سے بڑا کردار بنگال اور سندھ سے وابستہ لوگوں کا تھا اور چاہے وہ پاکستان تحریکِ پاکستان کے عمران خان کا بطورِ وزیرِ اعظم پارلیمنٹ ہی میں بنگالیوں کے مسائل کو انسانی حقوق کا مسئلہ قرار دینا ہو، سب زبانی جنگ کر لیتے ہیں اور عمل کرنے کا وقت آنے پر اسے ٹال مٹول کرکے غیر معینہ مدت تک کے لئے ٹال دیا جاتا ہے۔
کیا یہ ضروری ہے کہ ہم ہرمسئلے کی طرف توجہ اس وقت دیں جب معاملہ پیچیدگی اختیار کرجائے؟ ہم نے وطن ٹوٹنے کے زبانی نوحے پڑھے تو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس غم کو خود جھیلا ہے۔۔یہ پاکستانی لوگ بھلا پاکستان ہی میں کیوں مایوسی کا شکار ہیں؟ اگر 1947ء کی  ہجرت قابلِ تحسین تھی  تو محض دو سے تین دہائیوں بعد کے ہجرت کرنے والے کیوں ناقابلِ التفات ٹھہرے؟ فیض صاحب مرحوم نے تو یہ ڈھاکہ سے واپسی پر کہا تھا مگر وہی ڈھاکہ والے اب پاکستان میں قیام کرتے ہوئے اپنے ہم وطنوں اور صاحبانِ اقتدار سے بذبانِ حال پوچھ رہے ہیں کہ
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد
بنگالی کمیونٹی کو مادرِ وطن میں ہی کیوں اپنا مستقبل تاریک اور اپنا وجود بے مقصد محسوس ہورہا ہے، یہ سوال اہم ہے!

یہ شناختی مسائل صرف اس برادری سے وابستہ افراد ہی کے مستقبل کا تعین نہیں کررہے بلکہ پاکستان کے آنے والے کل پر بھی کسی نہ کسی طور اثر ضرور مرتب کر رہے ہیں۔ کیونکہ جب یہ اس ارضِ مقدس میں آئے تھے تواپنے پیچھے ساری کشتیاں جلا کر آئے تھے، انہوں نے یہیں  رہنا ہے کیونکہ وہ اپنے وطن میں واپس آرہے تھے۔ آج نہیں تو کل اس مسئلے کو بھی حل کرنا ہی ہوگا ، تو کیوں نہ آج ہی اس مسئلے کے حل کے لئے آواز اٹھائی جائے۔

لہٰذا بنگالی کمیونٹی جو چار رہائیوں سے پاکستان میں مقیم ہیں، ان کے شناختی مسائل کے حل کے لئے ، تاکہ اس سے جڑے دوسرے مسائل  حل ہوں، کو پارلیمنٹ میں زیرِ بحث لایا جائے تاکہ دیگر قوم پرست اور سیاسی جماعتوں کے  تحفظات کا جائزہ لیتے ہوئے بنگالی کمیونٹی کے مسائل کا ازالہ کیا جائے، نیز سیاسی جماعتیں محض اپنی سیاست چمکانے کے لئے اس کی موافقت و مخالفت سے گریز کریں ، ورنہ ملک کی آبادی کے ایک مخصوص حصے اپنے بنیادی اور ضروری    مسائل حل کرنے میں ناکامی ہوگی جو ان کے اور ان کی اگلی نسلوں کے مستقبل کو تاریک کرنے کے مترادف ہوگا۔ نیز بنگالی کمیونٹی کی شناخت کا مسئلہ چونکہ قانونی نوعیت کا حامل ہے، تو غیر سرکاری رفاہی ادارے اس کمیونٹی سے وابستہ افراد کی قانونی رہنمائی اور مد د فراہم کرکے ان کو حالات کی چکی میں مزید پسنے سے بچا سکتے ہیں۔

فرید الحسن
فرید الحسن
جامعہ کراچی کے شعبہ سماجی بہبود کا طالب علم!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *