جہاں کیلاشا بستے ہیں ۔۔جاوید خان/7

SHOPPING
SHOPPING

زمین کھاگئی آسماں کیسے کیسے۔
درمیانی اور تیسری تصویر جو سادگی اور حسن کا منفرد پیکر تھی،کے بارے میں مجھے کوئی خبر نہیں ملی۔میں ان تصاویر کو دیر تک دیکھتا رہا۔تصویریں بولتی ہیں۔کچی مٹی کی چھت والی اس سراہے میں لگی یہ تصاویر یہاں آنے والوں کو ہر دم تکتی رہتی ہیں۔جو انھیں دیکھے وہ اسے برابر دیکھتی ہیں۔جوان سے باتیں کرنا چاہے یہ گفتگو کرتی ہیں۔ خاص کر بے نظیر اور ڈیانہ کی تصویروں کا زاویہ ایسا ہے کہ آپ کو دیکھ کر مسکرا نے لگیں گی،آپ میں محو ہوجائیں گی۔جب کہ درمیانی تصویر میں آپ محو ہو جائیں گے۔ دوستوں میں سے کچھ برآمدے میں ٹہلنے لگے اور کچھ کرسیوں پر براجمان باہر کے مناظر،جو سامنے آ کر کھڑے ہو گئے تھے، دیکھنے لگے۔
برآمدے کے فرش پر جو قالین پڑا تھا،معیار اَور قیمت میں کم تھا۔اِس اَندرونی یو شکل سرائے میں،جس کے برآمدے کے ایک طرف کمرہ نمبر۱۰تھا تو اِسی کے سامنے کمرہ نمبر ۳۰ اَور پیچھے کمرہ نمبر ۲۰ تھا۔کمرہ نمبر ۲۰ کے دروازے کے ساتھ ایک تین دری کھڑکی تھی۔اِس پر روشن دان،اِسی کھڑکی کاحصہ تھا۔لکڑی کی باڑ سرائے کے باہر کے کچھ خوب صورت مناظر کو روکے ہوئے تھی۔ سرائے کے پار سامنے پہاڑ پر،دیوردار،بیاڑ،اَور تُنگ کا جنگل تھا۔
جنگلی اِنجیر کا ایک درخت لکڑی کی باڑ سے لگ کر کھڑا تھا۔اِسی کے ساتھ اَخروٹ کا ایک نوخیز پودا تھا۔مگر پھلوں سے بھرا ہوا۔سیاہ گول گول پھل پکے ہوئے تھے۔وقاص جمیل اٹھے اَور باڑ کے ساتھ ساتھ چکر لگانے لگے۔اِن کی بے تابی سمجھنے کی تھی۔ انھیں کھانے کا انتظار تھا۔جو تیار ہو رہاتھا۔
شفقت،وقاص جمیل،منصور اسماعیل اَور عرفان اَشرف اُٹھے اورسرائے نمبر ایک کی طرف چل دئیے۔انھیں لگ رہا تھا وہ آرام کے لیے ایک بہتر جگہ ہوگی۔مگر کچھ ہی دیر بعد مسترد کرکے واپس آگئے۔شاہد حفیظ میرے پاس ہی رُک گئے تھے۔
دوست میرے آس پاس بیٹھ گئے۔ایک دوستانہ مجلس میرے اردگرد آباد ہوگئی۔سورج پار پہاڑ پر ڈھلتے دن کی تمازت دکھا رہا تھا۔بہتے پانی کی آوازیں اس سرائے (نمبر دو)کے چاروں طرف پھیلی ہوئی تھیں ۔

عمر رسیدہ دیودار:
سامنے کا منظر ایک پہاڑ اَور اُس پر دیوداروں کی شکل میں پھیلا تھا۔دیوداروں کے اِس کم گنجان جنگل میں ایک عمررسیدہ دیودار کھڑا تھا جوصاف اَور واضح نظر آرہا تھا۔اِس جنگل میں حد نظر جتنے بھی دیودار ہیں اِن میں یہ سب سے قدیم تھا۔شاید اس کے ہم عصر اَور بھی ہوں مگر وہ بہت ہی تلاش کے بعد ملیں گے۔
اِس کے تنے سے مزید تین چار درخت نکل کر اُوپر کو بلند ہوگئے تھے۔جیسے اِس کے ساتھ ساتھ جوان ہونا چاہتے ہوں۔مگر انھیں ابھی بہت وقت لگے گا۔یہ بزرگ درخت اپنے تنے میں ہی پورا خاندان آباد کیے ہوئے تھا۔یہ انفرادیت بھی پورے جنگل میں کسی اَور کے پاس نہیں تھی۔ایک پھسلواں ڈھلوان اس کے نیچے سے پھلستے ہوئے کافی نیچے تک آگئی تھی۔باورچی عبدالسلام نے سات مختلف نقشے ہمارے سامنے لا کر رکھ دئیے۔تاکہ ہم یہاں سے معلومات حاصل کر سکیں اَور مزید سےسیاحتی جگہوں تک جاسکیں۔عبدالسلام اَپنے ہر سیاح کو یہ نقشے پیش کرتا ہے۔دُوسرا اس کا مقصد تھا کہ جب تک وہ ہمارے لیے کھانا تیار کرتا ہم مصروف رہیں گے۔
عرفان اَشرف اَور شفقت میرے ساتھ بیٹھ کر نقشوں کا مطالعہ کرنے لگے۔منصور اسماعیل کمرہ نمبر ۲۰ میں سستانے کی غرض سے لیٹ گئے۔شاہد حفیظ اَور وقاص جمیل کمرہ نمبر ۱۰میں گپ شپ میں مگن تھے۔جب ہم آئے تھے تو ایک خاندان کمرہ نمبر ۱۰ میں پڑاو کیے ہوئے تھا۔ہمارے آتے ہی انھوں نے خروج کر لیا۔ہم سے کوئی ناراضی نہیں تھی۔انھوں نے کیلاش گھوم لیا تھا۔جو بچا تھاہمارے لیے چھوڑ دیا۔

کہنار اور کو نر کا مغالطہ:
محکمہ سیاحت خیبر پختون خوا کے جاری کردہ،ایک نقشے میں کہنار نامی دریا کو دروش،اَیون اَور چترال سے گزرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ہم نے اسے محکمہ کی سخت غلطی سمجھا۔کیوں کہ کنہار ہندوکش کادریا ہے اَور وہ بابو سر ندی سے شروع ہو کر بالاکوٹ سے ہوتا ہوا دریا ئے جہلم میں گرتا ہے۔دوسرا اس کا پانی نیلگوں اَور دودھیا ہے۔لیکن ہندوکُش اَور ترچ میر کی برفوں سے بنا یہ دریا نیلگوں نہیں، دودھیا بھی نہیں، بلکہ بہت مٹیالا ہے۔مگر بعد میں  غلط فہمی دُور ہوگئی۔ترچ میر کے قدموں سے گزرنے والا دریا کنہار نہیں کُونَر ہے۔ بوسیدہ نقشوں پر مٹے ہوئے نام ٹھیک نہ پڑھ سکنے کی وجہ سے غلط فہمی نے جنم لیا تھا۔اَگر یہ دو دریا ہم نام ہو بھی جاتے تو کون سا طوفان آجاتا۔طوفان اَور طغیان تو اِنھوں نے ہی سنبھال رکھے ہیں۔
سیاحتی نقشوں میں اِملا کی اَوردیگر طرح کی غلطیاں پائی جاتی ہیں۔پاکستان وسائل سے مالا مال ملک ہے۔اس کی بلندیوں پر ہواسے بجلی بنائی جاسکتی ہے۔اَیسے ہزاروں ندی نالے اَورآبشاریں ہیں جو آبی توانائی مہیا کر سکتی ہیں۔مگر اس ملک کے سیاست دانوں نے اَپنے نعروں اَور تقریروں میں اَپنی زمین کے بارے میں کم،پرائی وادیوں کے چرچے زیادہ کیے اَور اِن پر ہی سیاست کی۔نصابی کتابوں میں چیدہ چیدہ معلومات کے علاوہ اس ملک کے بازار جنات سے مسائل حل کروانے کے مواد سے بھرے پڑے ہیں۔یہاں مسائل پر توجہ دینے کے بجائے،طبقاتی اَور مسلکی ناہمواریاں پھیلائی جاتی رہی ہیں۔
محروم ظفرحیات پال کہا کرتے تھے۔اَگر گورے برصغیر میں اَور خصوصاً گلگت میں نہ آتے تو بہت سی مشکلات عوام کو آج جھیلنی پڑتیں۔متحدہ برصغیر میں سانحہ جلیانوالہ باغ،1857 ؁ ء کی خونی جنگ بھی ہے،مگر دوسری طرف فورٹ ولیم کالج،تاربرقی،لارنس کالج مری،شملہ کا سےّاحتی مرکز،ڈاک بنگلے، کشمیر میں جھیل ڈل کے شکارے اَور ریلوے نظام کے ساتھ ساتھ پنجاب یونی ورسٹی اَور سب سے بڑا نہری نظام بھی اِن ہی کامرہون منت ہے۔
ترچ میر،گشربروم،کے۔ٹو،مونٹ اَیورسٹ،ایبٹ آباد اَور لیڈی فنگر یہ سب نام مقامی کیوں نہیں؟ اِن سب جگہوں کا شجرہ کسی گورے کھوجی کے ساتھ ہی کیوں جڑاہے۔؟

رسیلے پھول،آڑواور منظر اک پہاڑ کا:
ہماری سرائے کے بائیں ہاتھ باغیچے میں پیلے پھول کھلے تھے۔اُونچی اُونچی شاخوں پر ریشہ دار پیلے پھول،جن پر شہدکی مکھیاں اَور بھنورے پھر رہے تھے۔یہ ان کاکڑو ارس چوس رہے تھے۔جو ان کے معدے کی فیکٹری میں شہد میں بدل جاتا ہے۔باہر ُاگلے جانے پر کارکن اس میں مزید بہتری لائیں گی۔
دیسی آڑو ابھی کچے تھے۔میں نے ایک درخت کی جھکی ٹہنی سے پھل توڑ کر کھایا،مگر فطرت نے ابھی کافی کام کرنا تھا۔پھل سخت تھا او ر کچا تھا۔پھل اس وقت ہی پھل ہے،جب و ہ پکاہوا،رسیلا اور میٹھاس سے بھر پور ہو۔دولمبے سفیدے کے درخت اونچائی میں بغیر پھیلے بلند ہوئے جارہے تھے۔
خربانی کا درخت پھلوں سے خالی ہوچکا تھا۔سرائے کے پیچھے گھنے درختوں میں گھر تھے۔وہاں سے اَجنبی کیلاشا زبان میں بولنے کی آوازیں آرہی تھیں۔گھروں کے آگے اَخروٹ کاایک قدیم درخت،سایہ فگن تھا۔کسی اَخروٹ کے قدیم درخت سے مراد ہے،وہ درخت جو قدامت و طوالت میں بہت ہی پھیلا ہوا ہو۔زمانوں نے اِس کی آب یاری کی ہو۔اَور کسی ایک گھر یا خاندان نہیں کئی نسلوں نے اس کے پھل کھائے ہوں اَو ر اس کی چھاوں میں بیٹھ کر سستائے ہوں۔میری پشت پراَیسا ہی قدیم درخت تھا۔
باغ کے اس حصے میں ایک سرخ پلاسٹک کی کرسی پڑی تھی۔جس کی ایک ٹانگ کسی حادثے میں گم ہوگئی تھی۔مَیں نے اسے تین ٹانگوں کے سہارے کھڑا کیا۔اَپنا وزن دوٹانگوں پر رکھا اَور توازن کو برقرار رکھتے ہوئے بیٹھ گیا۔کرسی نے جواباً کوئی اَحتجاج نہ کیا نہ ہی شرارت کی۔توازن ہی اَصل چیز ہے جو توازن پا گیا وہ فلاح پا گیا۔
شفقت کہیں سے نکل کر سامنے کھڑے ہوگئے۔
پوچھا یہ کرسی کہاں سے ملی۔؟
بولا یہی سے ملی۔
پوچھا مجھے کیوں نظر نہ آئی۔؟
اس بات کا بھلا کیا جواب۔؟
وہ واپس چلے گئے۔کرسی کی پشت سے لگ کر پاردیکھا،تو سامنے وہی پہاڑ تھا۔اِس کامنظر اَب پہلے سے بھی واضح تھا۔دیاروں کا جنگل اَور اِس کی نوک پرٹکا نیلا آسمان۔آوازیں ایک آدھ ابھی بھی آرہی تھی۔باقی خاموشی تھی۔حالانکہ یہاں کی سرائیں سیاحوں سے بھری ہوئیں تھیں۔ہوا چل رہی تھی، پھول جھوم رہے تھے،پھل دار درخت تھے،پار جنگل اس پر آسمان اَور مَیں تھا۔پھر بہت دیر تک میں رہا اَور میرے ساتھ یہ ماحول رہا۔
جناح گیسٹ ہاوس کے اصل مالک آئے،ہماراحال احوال پوچھا۔
کہاں سے آئے ہیں۔؟
راولاکوٹ سے۔
آپ تو بہت خوب صورت علاقے سے آئے ہیں۔ہمارے یہاں بَس کلچر ہے جو دیکھنے کی چیز ہے باقی کچھ نہیں۔کشمیر تو بہت خوب صورت ہے۔یہ لوگ ضیاالدین صاحب جو چترال نادرہ کے سپروائزر تھے،کے بھائی تھے۔جناح گیسٹ ہاوس کے علاوہ،کیلاش پورے میں کیبل کی سہولت یہی مہیا کرتے ہیں۔
شفقت نے سوال پوچھا جو وہ ضاالدین صاحب سے بھی پوچھ چکے تھے۔یہاں سے شادی کرنی ہوتو کیاطریقہ کار ہے۔؟جواب ملا۔یہاں لوگ باہر شادیاں کرتے تھے آج بھی کرتے ہیں۔پہلے کوئی خاص پوچھ نہیں کرتا تھا۔اس آڑ میں چترال کی صنف نازک کے ساتھ،گھناؤنا کھیل کھیلا گیا۔لوگ آتے،اعلیٰ گھروں اَو ر کوٹھیوں کے فوٹو دکھاتے اَو رشادی کرجاتے۔بعد والدین اِس گھر جاتے جہاں اِن کی بیٹی بیاہی گئی تھی تو وہاں متعلقہ شخص کا نام و نشان تک نہ ہوتا۔اَیسے ہی کئی لڑکیوں کو شادی کرکے کوٹھوں پر بٹھا دیا گیا۔اَیسے کئی واقعات ہیں۔بعض والدین کو لڑکیاں ملی ہی نہیں۔کچھ کی خبرملی کے اُنھوں نے خودکشی کرلی ہے۔شادیاں اَب بھی ہوتی ہیں۔مگر حالات کو دیکھ کر ضلعی سطح پر کمیٹیاں بنا دی گئی ہیں۔حلقے کاایم۔این۔اے،کمیٹی جانچ کروائے گی۔تسلی ہونے پر رشتہ ہوجاتاہے۔
کوئی چار بجے کے بعد ہم نے دن کا کھانا کھایا۔بھنڈی،دال ماش،ٹنڈے اَور پتلی گرم چپاتیاں۔میزکے گرد ایک آدھ مرتبہ خودمنظری ہوئی۔تھکن اَور بھوک نے مل کر کھانے میں مزید لذت ڈال دی تھی۔سیرہوکر کھانے کے بعد کوئی کام رہ نہیں گیا تھا۔آوارگی تھی یا آرام،سو آوارگی کو ترجیح دی۔وقاص نے کہا چلو پاؤں میں جوگرز ڈال لو۔امکان ہے ہمیں کسی ُدشوار رستے پر چلنا پڑے۔ہلکے پھلکے لباس،جامے زیب تن کیے َاور سیر کو چل دیے۔
سڑک سے اُتر کر ایک نالے کے پاس جاکھڑے ہوئے۔بچے اِس کے شفاف پانی میں تیر رہے تھے۔ڈُبکیاں لگارہے تھے۔اِنھیں دیکھ کراپنا زمانہ یادآرہا تھا۔جب اتنے نہ سہی اس سے کم پانی والے ندی نالوں میں ہم بھی تیراکی کرتے تھے۔
شیر حسن کیلا ش کامسلم نوجوان ہے۔مَیں شیر حسن کے ساتھ ایک گول پتھر پر بیٹھ گیا۔یہ نالا کئی ہائیڈروپروجیکٹس کا منتظر ہے۔یہ پروجیکٹس بڑے بڑے جبوں اَو ر دستاروں کی ہیبت سے سرنہیں اُٹھا رہے۔کیلاش کے عاشق تین طرح کے ہیں۔ایک جو یہاں کے کافروں کے پیچھے پڑے ہیں،انھیں ہر صورت جنت میں لے جانے کے درپے ہیں۔ایک یہاں کے نسوانی حسن پر فریفتہ ہیں اور یہاں کی دیومالائی داستانوں سے متاثر کھِنچے چلے آتے ہیں۔تیسرے جو یہاں کے فطری حسن اَور قدیم ثقافت کے دل دادہ ہیں۔
2014؁ ء میں ایک سیلا ب نے ایک وسیع رقبے کو تباہ کردیا تھا۔دراصل پیچھے کسی جگہ ایک گلیشر پگھلا اَور ٹوٹ کر نالے میں آن گرا۔اِس کی برف نے پگھل کر طغیانی برپا کردی۔اتنی طغیانی کہ اَہل بمبوریت نے اِس کاتصور بھی نہ کیا تھا۔بابل و نینوا، موہنجو ڈورو اَورہڑپہ پر جیسے دریاے فرات اَور سندھ چڑ دوڑے تھے۔اَیسے ہی دریاے بمبوریت اہل بمبوریت اَور اَپنی قریبی زمینوں پر چڑ ھ گیا۔بڑے بڑے خوب صورت مکانات اس نے بہادئیے۔اب ان کی جگہ بڑے بڑے پہاڑ تھے،مٹی تھی یا پتھریلی آبی گزرگاہ۔بستیوں کا نام و نشان ہی نہیں تھا۔
”ہمارا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا“شیر حسن نے کہا پانی آہستہ آہستہ بڑھ تھا۔ہمیں اَندازہ ہو گیا تھاکہ َاب طوفان آئے گا۔لِہٰذا ہم نے گھر خالی کرلیے تھے۔وقاص جمیل منصوراِسماعیل،شاہد حفیط اَور عرفان تیرنے کی غرض سے نالے میں اُتر گئے تھے۔جہاں پانی اِن کی ناف تک تھا۔چھوٹے چھوٹے بچے ہمارے اِردگرد آکر کھڑ ے ہوگئے۔
سورج دیوتا وادی کی مغربی سمت ہو گیا تھا۔تمازت بھی اسی کے ساتھ ساتھ ڈوبنے لگی تھی۔دو پہاڑوں کے درمیان سورج جیسے کھڑا ہو گیا ہو۔جہاں سے ندی پھوٹنے کے آثار ہو سکتے ہیں یاجس طرف سے ندی آتی ہے دُورنظروں کی سرحد پرآگے آسمان اَور اِس کے بیچ سورج تھا۔شعاعیں دودھیا پانی پر پڑ رہی تھیں۔اِن شعاعوں سے گہرا پانی،جہاں دوست تیر رہے تھے،نیلگوں چمکیلا ہو رہاتھا۔ندی کاپانی بہتا چاندی تھااَور تالاب گہرا نیلا۔
آپ صحافی لوگ یہاں کے اصل حالات بیرونی دنیا تک کیوں نہیں پہنچاتے۔ ۴۱۰۲؁ ء کاطوفان آیا تو حکومت نے ہماری کوئی مد دنہیں کی۔؟
شیر حسن نے شکوہ کیا۔؟
وادی میں کافی دور تک،اَب بھی ۴۱۰۲؁ ء کے طوفان کے آثار بکھرے ہوئے تھے۔طوفان ہو کر گزر گیا تھا۔مگر نشان باقی تھے،طغیانی نے دریا بمبوریت میں اس کی حدود سے باہر دوسو فٹ کے رقبے پر قبضہ کیا تھا۔یوں میلوں دُور علاقے پر تباہی مچائی تھی۔کنکریٹ کا یہاں رواج نہیں مگر ایک دو منزلہ گھر کی دیواریں اَور سریے،بڑے بڑے پتھروں کے نیچے سے جھانک رہے تھے۔بعض مکان اَب بھی اِن پتھروں تلے دبے مدد کے منتظر ہیں۔
بچے تجسس سے ہماری طرف دیکھ رہے تھے۔اِن سب کو اُردو نہیں آتی۔نالے پار ایک گاؤں تھا۔جہاں اَخرو ٹ،خوبانی،شہتوت کے باغات تھے۔جنگلی اَنگور کی بیلیں درختوں پرچڑھی ہوئیں تھیں۔یہاں اَنگوروں کی بہتات ہے۔کہتے ہیں کئی زمانے پہلے کیلاش کے نزدیک کی کسی وادی پر َانگوروں کے باغات تھے۔وہ اِس قدر گھنے تھے کہ کسی بلند چٹان سے ایک ٹوکری لڑھک کر گری تو اَنگورو ں کی چھت پر گری۔
یہاں کی بڑی معیشت آج بھی پھل ہیں۔جنگلی اَنگور کو”چیر غستان“ اَور چلغوزہ کو ”ےُو“ کہا جاتا ہے۔یہ کیلاشا زبان کے الفاظ ہیں۔وسط ایشیا میں نو عمر لڑکیاں اَپنے حسین چمپئی پیروں سے اَنگوروں کارَس نکالتی ہیں۔ کیلاش میں مرد وخواتین دونوں نکالتے ہیں۔گاوں میں کسی کھیت کے کنارے پتھر کی بڑی سل کو ماہر پتھر تراش ایک برتن کی شکل میں ڈھال دیتا ہے۔اِس کے آگے ایک چھوٹا پَرنالہ رکھا جاتا ہے۔اَنگوروں کے شگوفوں سے پتھر کا یہ برتن بھر لیا جاتاہے۔ خاندان کا بزرگ آدمی نہا دھو کر برتن میں داخل ہو جاتا ہے۔ اَور پاؤں سے رگڑتا ہے۔رس پَرنالے سے گزر کر مٹی کے برتنوں میں جاتا رہتا ہے۔یہی رس بعد میں سوم رس میں بد ل جاتا ہے۔ یہ پرانا طریقہ ہے۔ اَب کافی حد تک مشینیں یہ کام کرتی ہیں۔
پوڑ (تہوار) کے موقعے پر َانگور اُتارے جاتے ہیں۔یہ ستمبر میں ہو تا ہے۔چرواہے جو بکریاں لے کر،پہاڑوں پرچراگاہوں میں گئے ہوتے ہیں،واپس آتے ہیں۔اِس عرصے میں دودھ و پنیر خوب کھایا اَور کھلایا جاتا ہے۔اَور اَنگوروں کا پرانا رس نکال کر پیااَور پلایا جاتاہے۔
شیر حسن سے گفتگو جاری تھی۔
کیلاش لوگو ں سے آپ کے تعلقات کیسے ہیں۔؟ میں نے پوچھا۔
جی! اچھے ہیں۔بلکہ بہت اچھے ہیں۔ہم ان کی رسومات میں شامل ہوتے ہیں اَور وہ ہماری رسومات میں۔ہم ایک دوسرے کی شادی بیاہ کی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔
ہمارے کیلاش بھائیوں کی اتنی پیدائش مہنگی نہیں،جتنی موت مہنگی ہے۔ایک شخص کی وفات پر 120 یا130 بکریاں ذبح کی جاتی ہیں۔بڑے جانور کم از کم تین ذبح کیے جاتے ہیں۔ایک بڑے ہال میں مردے کوتین دن تک رکھا جاتا ہے۔جب کہ عورت کو دودن رکھاجاتاہے۔ان دنوں میں مردے کے اردگرد رقص کیا جاتا ہے۔روشنی ہوتی ہے۔اداس گیت گائے جاتے ہیں۔یہ سب مذ ہبی تقریبات ہیں۔

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

SHOPPING

جاری ہے

SHOPPING
speciaal sale

Avatar
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *