جہاں کیلاشا بستے ہیں ۔۔جاوید خان/3

مشین چل رہی تھی اَور گنے کا رس نکالے جارہی تھی۔اسی کے پاس ایک چارپائی پر بیس،اکیس سال کانوجوان چرس کاسگریٹ بھر رہا تھا۔اُسے کوئی شرمندگی نہیں تھی کہ یہاں معزز لوگوں کاایک قافلہ اُسے دیکھ رہا ہے۔لیٹے لیٹے اُس نے سگریٹ بنایا اَور دُھواں چھوڑنے لگا۔رس فروش کانام اَفرالدین تھا۔اُس نے بتایا یہ وادی جبن ہے اَور وہ نیچے دریاے سوات بہتاہے۔یہ سڑک سوات روڈ ہے اَور یہ سارا علاقہ اصل میں مالاکنڈ میں ہی آتا ہے۔
گڈو،منصور اسماعیل،عرفان اَور شاہد حفیظ جو ایک ایک گلاس غٹاغٹ پینے کے بعد تروتازہ تھے۔اُٹھ کھڑے ہوئے۔ منصور اسماعیل نے میرے ساتھ نشست کا تبادلہ کیا۔کھڑکی کی طرف مجھے بٹھایا اَور خود درمیان میں براجمان ہوگئے۔ حدت کافی تھی گاڑی میں مصنوعی ٹھنڈک نے پسینہ خشک کیا۔”اِن وادیوں میں سورج واقعی آگ برساتا ہے“ زئی سردار نے چرچل والی فورس کو درست ہی لکھا تھا۔

پار سامنے دائیں ہاتھ ایک کنکریٹ کی لکیر نظر آرہی تھی۔جِس سے ایک پختہ سڑک کا شائبہ ہورہا تھا۔دراصل یہ پانی کی ایک کوہل تھی جو دریائ ے سوات سے منسلک تھی۔ اس کے زور سے پیدا شُدہ بجلی مقامی سطح پر مہیا کی گئی تھی۔شاید اس کا باقی ماندہ پانی کاشت کاری کے لیے استعمال میں آتا ہے۔ہم آگے بڑھتے ہوئے دائیں طرف اسے دیکھتے رہے۔مالاکنڈ مجسٹریٹ دفتر کے صحن میں پھلاہی اَور کہو کے قدیم درخت تھے۔اسی روکھی سوکھی زمین پر کھڑے کھڑے ان پر بڑھاپا آگیا تھا۔قدیم زندہ وجود، درخت ہوں یا کوئی اَور شے،ان   کی قدرکی جانی چاہیے۔یہ گزرے ہوئے زمانوں کی زندہ تاریخ ہوتے ہیں۔

مالاکنڈ سے ۱۱ کلومیٹر کے فاصلے پر بٹ خیلہ آتا ہے۔خیبر پختون خوا کا پورا مزاج اس چھوٹے سے قصباتی بازار میں نظر آتا ہے۔بھرے پُرے بازار میں ایک نہر بہتی ہے۔سڑک اِس کے دوطرفہ چلتی ہے۔جب کہ یہ دو سڑکوں کے بیچ ایک طرف کو۔جب ہم یہاں سے گزر رہے تھے تو یہ گدلی تھی۔کہیں دُور بارش ہونے کے آثار تھے۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس (نہر) کے منبع پر کسی نے شرارت کردی ہو۔یاپھر بہت دُور کہیں پر موسم خرا ب ہو گیاتھا۔آخر موسم ہے مزاج یار کی طرح بگڑ گیا ہو گا۔سائنس بڑی جدوجہد کے بعد اس کے مزاج کو کسی حد تک سمجھی ہے۔آج بھی جب موسم ناراض ہو جائے تو بڑی بڑی تجربہ گاہوں کے دیوہیکل اَور حساس آلات ہَواکی ایک پٹخنی سے زمین بوس ہوجاتے ہیں۔

بٹ خیلہ سے صرف پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر چکدرہ ہے۔ یہ دریائے سوات اَور پنج کوڑہ کے سنگم پر آباد ہے۔دریائے سوات سے ٹیوب کی دیسی کشتیوں پر ریت نکالی جارہی تھی۔یہاں دریا ایک ہموار وادی میں بہتا ہے۔اس کا پاٹ یہاں قدرے پھیل گیا تھا۔یوں اس کے کم گہرے پانیوں سے ریت نکالنا آسان ہو گیا تھا۔جگہ جگہ مچھلی فروخت ہورہی تھی۔یہ تازہ ہوئی ہو گی اور ضرور دریائے سوات کے پانیوں سے پکڑ کر لائی گئی ہو گی۔چکدرہ مرکز سے دائیں ہاتھ دو سڑکیں نکلتی ہیں۔ایک وادی سوات کو اَور پھروادی کمراٹ کے درمیان سے گزرتی ہوئی کالام تک جاتی ہے۔دوسری کئی شاخوں میں بٹتی ہوئی بشام میں شاہراہ قراقرم سے مِل جاتی ہے۔

چکدرہ کے اردگرد پہاڑ لاوے نے بنائے ہیں۔ یہ لاوہ یقیناً آج بھی ہندوکُش تلے،مچل مچل کر اَور تڑپ تڑپ کر باہر آنے کو لپکتا ہو گا۔قبریں نا پختہ اَور پتھروں کی بنی ہیں۔یہاں  گندھارا دور کی قبریں اَور آثار ملے ہیں اَور مل رہے ہیں۔اِس تہذیب کے وارث اَپنے مرنے والوں کو دفناتے تھے۔آگے پورے چترال میں جو قبریں ملی ہیں ماضی کی یہ گوریں ایک جیسی ہیں۔گندھارا لفظ اَبھی تک ایک معمہ  ہے۔موجودہ دور میں قبریں بنانے کا جو انداز چکدرہ میں ہے وہی چترال میں ہے۔ یہ انداز پاکستان کے باقی علاقوں سے مختلف ہے۔
گاڑی میں تھوڑی بہت  گفتگو ہوتی رہی۔زیادہ تر لوگ باہر کے مناظر سے لطف اَندوز ہو رہے تھے۔دیوسائی کے سفر میں منصور اسماعیل اَور شاہد حفیظ ہمارے ساتھ نہیں تھے۔ہم مناسب رفتار سے آگے بڑھ رہے تھے۔

اوسکی میں بائیں جانب لاوے کا بنا پہاڑ اَور بائیں طرف میدانی وادی ہے۔ جس پر کھیت پھیلے ہیں۔اِن کھیتوں کے پیچھے نو عمر چیڑ کے درخت ہیں۔اِن درختوں سے چند سو میٹر آگے بادلوں کا اک پہاڑ،پہاڑوں پر منڈلا رہا تھا۔گاڑی میں خاموشی تھی سواے عرفان کی بارانی گفتگو کے،باقیوں کا حصہ بھی اُنہی کے پاس تھا جس کو وہ بے دریغ خرچ کر رہے تھے۔

تالاش میں نالا تالاش سوکھاہوا تھا۔شاید موسمی بہاؤ کاعادی ہو گا۔ساون،چیت اس میں طغیانی لاتے ہوں گے۔موسمی حالات پر،جب بے موسمی چھاجاے تو زندگی کتنی بے بس ہو جاتی ہے۔نہ جانے یہ نالا کتنا عرصہ بے موسمی جبر کو جھیلے گا۔عرفان اشرف نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی تھی۔وقاص جمیل پیچھے ڈکی کی نشستو ں پر،بستوں کے تکیوں سے ٹیک لگا کر گہری نیند میں چلے گئے۔ایسی ہی غنودگی میرے اَور شاہد کے درمیان منصور اسماعیل لے رہے تھے۔

عرفان اشرف اچھے گاڑی بان ثابت ہور ہے تھے۔جاندگئی چیک پوسٹ سے چند سومیٹر کے فاصلے پر دریاے سوات بغیر کسی سرکشی کے بہتا ہے۔کچھ لوگ اس کے کناروں پر ڈبکیاں لگا رہے تھے۔دریا کے بائیں کنارے پر پار،اُوپر تک کچی مکئی کے کھیت لہلہارہے تھے۔سفیدے کی نسل کا کوئی درخت یہاں کثرت سے پایا جاتا ہے۔یا پھر اسے اس کی مرضی کے خلاف ہی بہ کثرت اُگایا گیا ہے۔

تیمر گرہ بازار سے گزرتے ہوئے بائیں طرف دریا کے پانیوں پر بگلے اَور کچھ نیم سیاہ رنگ کے پرندے اُڑ رہے تھے۔اس لیے کہ مٹیالے پانی میں شاید انھیں کوئی مچھلی نظر آ جائے۔گوفالم میں ہم رکے،ہماری مٹسو بشی کا پیٹ خالی ہو چکا تھا۔میں سڑک کے دائیں کنارے پرآیا جہاں دریا کامنظر واضح تھا۔لمبی چونچ والے پرندے اَور بگلے دریا پر اُڑ پھر رہے تھے۔یہ دریا پر اُڑانیں بھرتے،پھر غوطہ لگاتے یا کنارِ دریا اُتر جاتے۔ایک مقامی نوجوان خالد نے بتایا کہ یہ پرندہ حلال ہے اَور اس کا گوشت بہت لذیذ ہوتا ہے۔اس کا نام ”اِلییّ“ہے۔اِلیی یہاں دریا پر مچھلیوں کی تاک میں اُڑتے رہتے ہیں۔یہ پرندہ میں نے دریا ے پونچھ کے نیلگوں پانیوں پر منڈلاتے کبھی نہیں دیکھا۔پونچھ ایک اُجلا اَور دُھلا دُھلا دریا ہے۔

تیمرگرہ میں ہی دائیں طرف سڑک کنارے گرڈ سٹیشن اَور پار دریا پر،ہائیڈروپاور پراجیکٹ تعمیر کیا جارہا تھا۔ایک کوہُل دریا کے ساتھ ساتھ تعمیر کی جارہی تھی۔کچھ آگے چلنے کے بعد بائیں طرف دریا ایک کھلی جگہ میسر آنے پر چوڑے پاٹ میں بہنے لگتا ہے۔ایک مست روانی اس کی چال میں نظرآنے لگتی ہے۔دریا نیم گدلا تھا اَور میدانی وادی میں منزل کو سرک رہا تھا۔ایک نو عمر لڑکا اس کے کنارے،بہاؤ پر ٹیوب پر خود کو باندھے بہہ رہا تھا۔یہ ایک دیسی طرز کی اَور سستی رافٹرنگ تھی۔

رباط ایک چھوٹاسا بازار ہے۔ دریا یہاں مکمل معاشی ریڑھ کی ہڈی ہے۔خیبر پختون خواہ میں جہاں تک بھی سوات بہتا ہے۔اس کا پانی،پتھر اَور ریت معاشی ذرائع مہیا کرتے ہیں۔ ایک سوات یا پنچ کوڑہ ہی نہیں ہر دریا یہ ذرائع مہیا کرنے میں فراخ دل واقع ہوا ہے۔آخر نام جو،دریا ہے۔وہ دریا ہی کیا جس میں دریا دلی نہ ہو۔ بڑی آسانی سے آپ کسی بھی دریا کی جیب سے کریش،ریت یا پتھر اُٹھا لیجیے،مچھلیاں پکڑیے،نہریں اَور کوہلیں بہائیے،برقی روئیں کھینچ لا ئیے یا زمینیں سیراب کیجیے،مجال کہ یہ کہیں کنجوسی کا اظہار کرے۔ ہاں دریاوں کے خزانے لوٹنے والوں میں کوئی کوئی ہی فراخ دل ہوگا۔ ضروری نہیں کہ دریا ؤں کی صحبت میں رہنے والے بھی دریا دل ہوں۔انسانوں نے اپنی پہلے پہل کی بستیاں دریاوں کے کنارے ہی بسائیں تھیں۔رباط میں دریا کے اردگرد دیکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ زمینیں کبھی اس کی گزرگاہ رہی ہوں گی۔اب یہ زرخیز کھیتیاں ہیں۔

شیلفیلم چوکی:
شیلفیلم چوکی پر پڑتال ہوئی۔یہاں بھی ایک مختصر سا بازار ہے۔ ہم یہاں نماز کے لیے رُکے۔بازار کے دائیں طرف دریا بہتا ہے اَور لب دریا مسجد ہے۔دریا کے کنارے کھڑے ہوئے تو ایک دل چسپ نظارہ تھا۔ نیم گدلا دریا اَور اس کے اوپر ایک پُل۔جس علاقے کو دریا نے وادیِ شیلفیلم سے الگ کیاتھا یہ پل اس بستی کو شیلفیلم سے واپس ملا دیتا ہے۔پل کے سریوں پر لڑکے کھڑے ہوتے،سریوں پر اُچھلتے،پھر دریا میں کود جاتے۔ذرا دیر بعد روانی کی سمت کافی آگے جاکر سر نکالتے۔ یہ چھٹی کا دن تھا اَور یہاں دریا ایک تفریح گاہ تھی۔تیراکی کی سخت جاں ورزش،ہندوکُش کے ایک دریا میں،جو کبھی کبھی انسانوں کو تفریح کرتے ہوئے نگل بھی جاتا ہے۔سوات میں ہی سیر کے دوران کتنے ہی سیاح،دریاے سوات کی بھینٹ چڑھ گئے۔
اِنہی میں سے ایک لڑکا پل کے سریوں پر چڑھا،جھولا،اُچھلا اَور دریا میں چھلانگ لگا دی۔دوسرا آیا وہ اَندازاً چالیس سیکنڈ تک ایک سریے پر اُچھلتا،جھولتا رہا پھر وہ بھی کُود گیا۔ہم یہ تماشا کافی دیر تک دیکھتے رہے۔

نماز باجماعت اَداء کرنے کے بعد ہم گاڑی میں بیٹھے۔شیلفیلم سے آگے دائیں طرف سنتھے کی جھاڑیاں ہیں۔یہ وادی نیم گرم علاقہ ہے۔یہاں پھل وافر ہیں۔ہمارے گاڑی بان کو کوئی تھکاوٹ نہیں تھی۔گفتگو سے زیادہ علاقے کی اَجنبیت دُور کرنے کی کوشش تھی اَور یہ کوشش صرف نگاہیں کر رہی تھیں۔

واڑی:۔
واڑی بازار سے پہلے دَریا پار مکئی کے کھیت پھیلے تھے۔بائیں طرف پہاڑوں پر بادلوں کا ایک بڑا گالا تھا۔کھُلے اَور بند بھوسے کے ذخیرے سڑک کنارے پڑے تھے۔یہ ذخیرے یقیناً نزدیک ترین جگہوں سے لائی گئی گندم سے بنائے گئے تھے۔کہیں کہیں چھپر کے ہوٹل لب سڑک بنے تھے۔ان پر سنتھے کی سوکھی جھاڑیوں کی چھتیں پڑی تھیں۔بازار کوئی زیادہ بڑا نہیں ہے،بازار کے آخر پر گنے کارس بک رہا تھا۔ گاڑی ذرا فاصلے پر روکی،ایک ایک گلاس رس پیا تو طبعیت بشاش ہو گئی۔اَنجان راستے کو چھانتے مزید چھتیں کلومیٹر کا سفر کیا اَور دیر پہنچے۔

دیر:۔
دیر دو حصوں میں تقسیم ہے۔دیر زیریں اَور دیر بالا۔سڑک کنارے لگے کتبوں اَور دیگر تحریروں سے پتا لگ رہا تھا کہ ہم دیر بالا میں ہیں۔سڑک کنارے ریڑھی بان ٹماٹر َاَور پھل فروخت کر رہے تھے۔ایک طرح کی معاشی خود کفالت یہاں نظر آ رہی تھی۔محکمہ شاہرات کی طرف سے ایک کتبہ یہی کہیں لگا ہے۔

”ٹنل کھلنے کے اوقات کار“
اَور نیچے اوقات کار در ج ہیں۔ ساتھ یہ بھی لکھا ہے۔”ٹنل شام سات بجے بند ہو جاتی ہے“
اس سے مراد یہ ہے کہ چترال کو جانے والے راستے پر،یہ زیر زمین دروازہ(سرنگ) جو درّہ لواری کو چترال اَور کیلاش سے ملاتا ہے۔شام سات بجے بند ہو جاتا ہے۔راستے میں ہی وقاص جمیل اَور منصور اسماعیل کو خلش تھی کہ کہیں سرنگ ہمارے پہنچنے سے پہلے ہی بند نہ ہو جاے۔یوں چترال و کیلاش اُس طرف رہ جاتے اَور ہم اس طرف۔

دیر شہر میں خان لوگ تھے۔اُن کے سر پر ٹوپیاں تھیں اَور تقریباً سب کے پاس نسوار تھی۔ ایرانی سیاّح محمود دانشور نے کیلاش جاتے ہوئے یہاں رات گزاری تھی۔ایرانی ایک اعلیٰ سرکاری عہدے دار کے ہاں ٹھہرے۔پُر تکلف طعام کے بعد محفل جمی،ایک بڑی تھالی میں ہر ایک کو ایک ایک گولی پیش کی گئی۔جسے سب نے منہ  میں ڈال لیا۔مہمان کو خاص زور دے کر گولی منہ  میں رکھنے کو کہا گیا۔مہمان کو جب ہو ش آیا تو اپنے اردگرد ڈھیر سارے لوگوں کو گھومتے ہوئے پایا گیا۔دراصل نسوار کی پہلی تاثیر نے مہمان کا سر گھما دیا تھا۔ پورے بازار میں کھمبے لگے ہیں اَور ان پر شمسی تختیاں نصب ہیں۔ انہی تختیوں کے نیچے بلب لگے ہیں۔اَیسا ہی نظام دیر بالا ڈگری کالج کے اَحاطے میں ہے۔دن کو ان خاص تختیوں میں سورج کرنیں ڈال دیتا ہے اَور رات کو وہ بلبوں میں جگمگانے لگتی ہیں۔

پٹھان کو ٹ سے موسم تبدیل ہونا شروع ہو گیا تھا۔جوں جوں آگے بڑھ رہے تھے بلندی تھی اَورخنک ہو ا،جو زندگی بخش تھی، کہ جھونکے ہمیں پنکھا جھل رہے تھے۔ یہ سارا علاقہ سبزے سے مالا مال ہے۔پولیس چوکی سے دَرّہ لواری تک ۴۱ کلومیٹرکا فاصلہ ہے۔یہ سارے کا سار ا علاقہ پہاڑی ہے اَور خو ب صورت ہے۔بلند و بالا پہاڑوں کے نیچے ڈھلوانوں پر چھوٹے چھوٹے دیہات چمٹے ہیں۔ان کے عقب کے سارے پہاڑ دیودار اَور بیاڑ سے لدے ہیں۔دیار اَور بیاڑکے درخت اس بات کی علامت ہیں کہ آپ سطح سمندر سے اتنی بلندی پر ہیں کہ،جہاں برف پڑتی ہے اَور سخت جان ہوائیں چلتی ہیں۔

یہاں چھوٹے چھوٹے بازاروں میں لکڑی کا خُوب صورت کام ہوتا ہے۔چھوٹی چھوٹی دکانیں ہیں،جہاں اخروٹ،دیار اَور بیاڑ کی لکڑی سے کاریگر،کاری گری کے اعلیٰ نمونے تخلیق کرتے ہیں۔ یہ صنعت ملکی سطح پر کمزور ہو رہی ہے۔ایک وجہ دیار اَور اخروٹ کا کم ہوجانا ہے،دوسرا مزدور کو خاطر خواہ مزدوری نہیں مل رہی۔یوں یہاں لکڑی کا فن اَور فن کار دونوں مشکل میں ہیں۔
دَرّہ لواری تک سڑک کئی موڑ کاٹتی اُوپر اُٹھتی جاتی ہے۔یہ اُٹھنا زمین سے اُٹھنا بھی ہے اَور سطح سمندر سے بھی۔ہم موڑوں سے گزرتے آگے بڑھ رہے تھے۔ایک چڑھائی میں دائیں طرف پہاڑی اَور بائیں طرف نالے کے پار آبادی کا منظر تھا۔دو کوّے سڑک قریب سے گزرے اَور پار دیار کے درختوں پر جابیٹھے۔کچھ دیر بعد کسی اَور منزل کو اُڑان بھر دی۔

ہماری سڑک کے اِردگرد نوعمر دیاروں کا جنگل تھا۔دو مقامی نوجوانوں نے بتایا اسے حکومت نے دوسال قبل لگایا تھا۔یہ جھوٹ یا تو بہت ہی سفید تھا یا لاعلمی تھی۔یہ جنگل کم از کم پندرہ سے بیس سال پہلے لگایا گیا ہو گا۔بہ ہر حال یہ ایک اچھی کاوش تھی۔یہاں کی زمین اپنے اس ہرے نباتاتی سنگار سے خوش منظر تھی۔دیار بھلے انہی بلند جگہوں پر کیوں نہ ہوں۔اتنی جلدی نشونما نہیں پاتا وقت لیتا ہے۔

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

جاری ہے

Avatar
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *