“صوبہ ہندوستان” کی بولیاں اور زبانیں۔۔حافظ صفوان محمد

صوبہ کا لفظ عربی “صوب” سے بنا ہے جس کا مطلب سمت ہے۔ یہ اتنا بابرکت لفظ ہے کہ انگریز نے بھی اسی کو برتا اور آج ہندی بھی اسی کو استعمالتی ہے۔ انگریز نے ہمارا بندوبست کرنے کے لیے ہمیں تحصیل، ڈسٹرکٹ، ضلع اور ڈویژن کے شناختی لفظ دیے جن کے لیے ہم اس کے شکرگزار ہیں۔ میں تو اس مصنف کا خصوصًا شکر گزار ہوں جس نے اپنی تحریر میں “صوبہ ہندوستان” کا ذکر کرکے اس لفظ کی اصل (etymological boundaries) مجھے سمجھا دیں۔

میں صوبے کی گفتگو بہت مزے سے یعنی دونوں کان کھول کر سنتا ہوں۔ ہری پور میں ایک مدت رہا۔ وہاں صوبہ ہزارہ کی تحریک اور اس کے لیے خون بہتا دیکھا۔ ان لوگوں کو پٹھانوں سے الگ صوبہ درکار تھا۔ پٹھانوں کو اٹک تک صوبہ چاہیے۔ مزے کی بات ہے کہ اٹک تک پھیلا ہوا صوبہ افغانوں کو بھی درکار ہے۔

کئی سال پہلے اسلام آباد سے ملتان آتے وقت ایم ایس کا ایک طالب علم ہمسفر تھا جس نے سرائیکی صوبہ کی ہزار دانہ تسبیح سیکڑوں بار پڑھی۔ عرض کیا کہ اس صوبے کا صدر مقام بہاول پور کو ہونا چاہیے کیونکہ سلطنتِ عباسیہ کا پائے تخت و راجدھان وہاں تھا اور ملتان اس کی شمالی سرحد و بندرگاہ تھا۔ اس بے چارے کا بلڈ پریشر آسمان کو چھونے لگا۔ پوچھا کہ کبھی بہاول پور دیکھا؟ جواب ملا کہ تیسری جماعت میں ایک بار چڑیا گھر دیکھنے گیا تھا۔

تو جناب یہ اوقات ہے ہماری معلومات و علمیت کی۔ باتیں جتنی مرضی کرالیں۔

اب ہوتا یہ ہے کہ کچھ دوست اوکاڑہ تا ٹھٹھہ اور بنوں تا سبی کو سرائیکستان بتاتے ہیں تو کچھ میانوالی تا صادق آباد ہی کو سرائیکی صوبہ سمجھتے ہیں اور ساتھ ہی احتیاطًا بتاتے ہیں کہ اس سے آگے سندھی صوبہ ہے۔کچھ افلاطون بتاتے ہیں کہ رنجیت سنگھ کے 1818 میں فتح کیے گئے صوبہ ملتان سے قبل والی حدود پر سرائیکستان کا جھنڈا لہرانا ہے۔ صوبہ ملتان کا ذکر کرتے ایک پرجوش دوست کو میں نے چھیڑا کہ عزیزم رنجیت سنگھ والا پنجاب تو پشاور تا دلی اور لاہور تا کشمیر تک وسیع تھا اور دہلی بھی اسی صوبہ پنجاب میں شامل تھا تو موصوف پہلے تو وات پٹ کے مجھے دیکھا کیے اور جب اوسان بحال ہوئے تو ناملائم گفتگو شروع فرما دی۔

“ریاستی سلینگ ڈکشنری” کے لیے data acquisition کے واسطے ادھر ادھر پھرتے پھراتے اکثر ایسے لطیفے ہوتے رہتے ہیں۔ سوچتا ہوں کہ گرئیرسن غریب نے کیسے زندہ لطیفے دیکھے ہوں گے۔

بات “صوبہ ہندوستان” سے شروع ہوئی تھی۔ تو جناب، بچے کھچے پاکستان میں انتظامی بندوبست کے لیے آپ بے شک صوبہ ہنوں کا چھجہ اور صوبہ کانا کاچھا بھی بنالیں، سب کو خوشی ہوگی۔ بس یہ دھیان میں رکھیں کہ ہر صوبے میں عزیزم رنجیت سنگھ والے صوبہ پنجاب اور صوبہ ہندوستان ہی کی کوئی نہ کوئی زبان و بولی بولی جا رہی ہوگی۔ اور ذرا بچ کے، بلوچوں نے صوبہ بلوچستان کے لیے ڈیرہ غازی خان مانگ لیا ہے!

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *