• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • بُک ریویو:/کیا آپ محبت کی پانچ زبانوں سے واقف ہیں؟۔۔نعیم اشرف

بُک ریویو:/کیا آپ محبت کی پانچ زبانوں سے واقف ہیں؟۔۔نعیم اشرف

کیا آپ شادی شدہ ہیں؟کیا آپ کی شادی محبت کے نتیجے میں ہوئی تھی؟ کیا آپ دونوں ایک دوسرے سے اب بھی محبت کرتے ہیں یا آپ کی محبت شادی کے بعد ماند پڑ گئی ہے؟اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ شادی شدہ جوڑے شادی سے قبل والی محبت کو قائم رکھنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ماہرین ازدواجی نفسیات اس کی متعدّد وجوہات بیان کرتے ہیں:
شادی کے بعد فیملی کی ذمّہ داریوں کو نبھانے کے لئے عورت یا مرد یا دونوں کا فکرِ معاش میں کھو جانا۔
عورت کا اپنی کشش اور حسن برقرار رکھنے کے لئے خوراک، نیند اور ایکسر سائز کے بارے میں لا پرواہی برتنا۔
شادی شدہ زندگی کی مصروفیات کے جھمیلوں میں شادی شدہ جوڑے کا ایک دوسرے کے لئے محبت کے جذبات کا اظہار نہ کر پانا۔
بچّہ پیدا ہونے پر خاتون کا اپنی ساری توجّہ شوہر سے ہٹا کر بچے پر مرکوز کر لینا۔
ہر دو جانب سے اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنا۔
یکسانیت، اکتاہٹ اور بوریت کا سدّ باب کرنے کی بجائے گھر سے باہر تفریح طبع، تبدیلی اور محبت تلاش کرنا۔
ایسی صورتِ حال میں یا تو شادیاں ٹوٹ جاتی ہیں یا پھر محبت سے تہی دامن، نفرت انگیز سنگت (Hateful Union) میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔

ہمارے جیسے پسماندہ اور قدامت پسند سماج میں نفرت انگیز سنگت کا تناسب قدرے زیادہ ہے۔ کیونکہ ہمارے ہاں عورت معاشی طور پر آزاد نہیں ہے۔ لہٰذا وہ اپنے لئے بہتر فیصلہ کرنے کی بجائے ازدواجی رشتے کی گاڑی پنکچر ٹائر کے ساتھ آگے چلاتی رہتی ہے۔ اور مرد جو بذاتِ خود”سر گشتۂ رسوم و قیود“ ہے ”لوگ کیا کہیں گے“ کے سماجی دباؤ کے تحت نفرت انگیز سنگت میں کُڑھتا رہتا ہے۔ ترقّی یافتہ اور مہذّب معاشروں میں نفرت انگیز سنگت کا تناسب بہت کم ہے کیونکہ وہاں لوگ کسی صورت بھی نفرت زدہ ماحول میں رہنا پسند نہیں کرتے۔ اگر کسی رشتے میں چاشنی اور محبت ختم ہو جائے تو اس کو خیر باد کہہ دیا جاتا ہے۔ مشرقی ہو یا مغربی معاشرے، سوال یہ ہے کہ کون سے طریقے استعمال کیے جائیں کہ شادی کے بعد کی زندگی میں بھی محبت قائم و دائم رہے؟ اس سوال کے جواب کے لئے جدید ترین کلیے موجو د ہیں۔

گیری چیمپئن (Gary Chapman) ایک مصنّف اور شادی کی نفسیات کے ماہر ہیں۔ انہوں نے”محبت کی پانچ زبانیں“(5 love languages) کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔ جس کو مغرب میں بہت زیادہ پذیرائی ملی ہے۔ گیری پوری دنیا میں گھوم کر سیمینار اور ورکشاپ کرتے ہیں۔ان کی کونسلنگ کی وجہ سے ہزاروں شادیاں ٹوٹنے سے بچ گئی ہیں۔گیری ، شادی کے بعد محبت کو قائم رکھنے کے لئے پانچ طریقے بتاتے ہیں۔ جن کو وہ محبت کی پانچ زبانیں کہتے ہیں۔ ان زبانوں میں سے جو نتیجہ خیز ثابت ہو وہی آپ کی محبت کی بنیادی(Primary) زبان ہے۔ اس کا استعمال آپ کی محبت کو زندہ جاوید رکھ سکتا ہے۔ ٓپ گیری چیپمین کی ویب سائٹ5lovelanguages.com پر ایک کوئز کر کے اپنے ساتھی کی محبت کی زبان معلوم بھی کر سکتے ہیں۔ گیری، کی لکھی کتاب کے مطابق ، محبت کی پانچ زبانیں یہ ہیں۔

1۔ شکر گزاری اور تہنیّتی کے الفاظ کا استعمال: ”آپ کا بہت شکریہ“ ، ”سوری! یہ میری غلطی تھی۔“ ”آپ اس لباس میں آج بہت اچھّے لگ رہے ہیں۔“ ”آپ کو دوسرے کو محظوظ کرنے کا فن آتا ہے۔“ ”کام کے بعد آپ جس طرح بروقت مجھے پِک (Pick) کرتے ہیں مجھے بہت بھلا لگتا ہے۔“ ”ملازم رکھ کر دینے کا شکریہ۔مگر ساتھ یہ بھی کہنا تھا کہ میں اس کو مستقل بندو بست نہیں سمجھوں گی۔“ ان میں سے کوئی ایک یا سب محبت کی اہم بولیاں ہیں۔

2۔ گھر کے کاموں میں حصّہ لینا یا ہاتھ بٹانا: وہ کام جو آپ کے جیون ساتھی کے لئے مشکل اور وقت لیوا ہیں ان میں اس کا ہاتھ بٹائیں۔ مثلاً اپنے لباس اور جُوتے خود تیار کرنا۔ سودا سلف لینے میں مدد کرنا۔ بچّوں کو سکول چھوڑنا اور لینا وغیرہ۔ یہ چند مثالیں ہیں. اس کا کوئی مخصوص کلیہ نہیں۔ البتہ ہر دو جانب سے مدد لینے اور مدد دینے کا احساس محبت کی اہم زبان ہے۔اور یہ زبان بہت جگہوں پر کار گر ثابت ہوئی ہے۔

3۔ تحائف کا تبادلہ: اپنے جیون ساتھی کو اس کی سالگرہ اور شادی کی سالگرہ (Marriage Anniversary) پر تحفہ دیں اور وصول بھی کریں۔ کوشش کریں کہ وہ تحفہ ایسا ہو جس میں آپ کی ذاتی توجّہ اور کاوش شامل ہو اور تحفہ لیتے وقت اپنے جیون ساتھی کی ضرورت اور پسند کا خیال رہے۔ ایک دوسرے کو بہانے بہانے سے تحفے دینے شروع کریں۔ یہ ایک اثر انگیز زبان ہے۔

4۔جسمانی لمس کا ستعمال: محبت کے اظہار کے لئے جسمانی لمس (Physical Touch) کا ستعمال زمانہ قدیم سے چلا آ رہا ہے۔ جدید سائنسی اور نفسیاتی تحقیقاتی پراجیکٹ اس نتیجے پر بھی پہنچے ہیں کہ وہ بچے جن کو شیر خواری کی عمر میں اُٹھا یا جاتا ہے، بوسہ لیا جاتا ہے اور پچکارا جاتا ہے،اُن بچوں سے ذہنی طور پرزیادہ صحت مند ہوتے ہیں جو شیر خواری میں جسمانی لمس کے بغیر اکیلے رکھّے جاتے ہیں۔ یہی کلیہ بڑوں پر بھی موزوں آتا ہے۔ ہر اچھا لمس محبت کا پیغام چھُونے والے تک پہنچاتا ہے۔ جسم کے کچھ حصے باقیوں سے زیادہ حسّاس ہوتے ہیں مگر ضروری نہیں کہ جسم کے جس حصّے سے آپ کو محبت کا پیغام ملتا ہے۔ آپ کا جیون ساتھی بھی اس سے تحریک لیتا ہو۔ اس کے لئے نہایت ذاتی نوعیّت کی رابطہ کاری ضروری ہے۔ عام طور پر ہاتھوں میں ہاتھ لینا، بوس و کنار ا کرنا، صبح جدا ہوتے وقت اور شام کو دوبارہ ملتے وقت ہاتھ ملانا یا گلے ملنا اور بوسہ لینا، نہایت کارگر زبان ثابت ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ بہترین انتظام ، پوری توجہ اور بھرپور اور انہماک سے کی گئی ہمبستری محبت میں بے پناہ اضافہ کرتی ہے اور محبت کی ایک آزمودہ زبان ہے۔

5۔ ایک دوسرے کو اپنا بہترین وقت دینا: یہ محبت کی بہت اہم زبان ہے۔ جیون ساتھی کو وہ وقت دیں جو آپ اپنے لئے استعمال میں لا سکتے ہیں۔ اس دوران اپنے ساتھی کو بھر پُور توجّہ دیں۔ یاد رکھّیں دنیا کا بہترین تحفہ کسی دوسرے انسان کو اپنی توجّہ دینا ہے۔بقول فیض احمد فیض:
؎ وہ خود لئے بیٹھے تھے آغوش توجّہ میں
مدہوش ہی اچھّا تھا ، ناحق مجھے ہوش آیا!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *